نیند کیوں رات بھر نہیں آتی !
- تحریر محمد آصف اقبال
- منگل 05 / جنوری / 2016
- 5306
انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کی روشنی میں سال 2015میں جن تین ممالک میں سب سے زیادہ صحافی قتل ہوئے ان میں ہندوستان سر فہر ست ہے۔رپورٹرز وِدآوٹ بارڈرز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے مقابلے میں ہندوستان میں گزشتہ سال سب سے زیادہ صحافی ہلاکت کا شکار ہوئے ہیں۔ہلاک شدہ صحافیوں کے پس پشت ہندوستانی سیاست اور جرائم سے وابستہ افراد کا ہاتھ ہے ۔ یہ خبر نہ صرف حد درجہ افسوس ناک ہے بلکہ سیاست اور جرائم کے رشتہ کو بھی اچھی طرح واضح کرتی ہے۔ یہ ہلاکتیں ملک کے نظم و نسق پر بھی سوالات کھڑے کرتی ہیں۔واقعہ بہت بڑا اور اہم ہے اس لحاظ سے صحافیوں کا منظم قتل ، سال کے اختتام پر ایک بڑی خبر بننا چاہیے لیکن ایسا نہیں ہوا۔
گزشتہ سال میں ہندوستان میں جس طرح عدم رواداری کے معاملات سامنے آئے ہیں، وہ ایک تشویشناک پہلو ہے۔اور یہی وہ پہلو بھی ہے جو دنیا میں ہندوستان کی رسوائی کا سبب بنتا رہا ہے۔ان حالات میں جن عزائم کے ساتھ ملک کو آگے بڑھنا چاہیے تھا وہ دیکھنے میں نہیں آئے ۔ غربت و افلاس کو دور کرنے کے منصوبہ پر اُس درجہ عمل نہیں کیا جاسکا جو ضروری تھا۔اور یہ ہوتا بھی کیسے ؟ جبکہ ایک طبقہ مسائل پیدا کرنے میں ہی مصروف ہے۔اس موقع پر اہل اقتدار اور ملک کی ترقی و فلاح و بہبود کے نام پر وٹ مانگنے والوں کو سوچنا چاہیے کہ مل جل کر ملک کی ترقی و فلاح بہبود کے لئے کام کیسے کیا جائے۔ کیا یکساں ترقی کا راز یہی ہے کہ ملک کا ایک مخصوص طبقہ تو اس کام میں ہاتھ بٹائے لیکن ایک دوسرے بڑے طبقہ کو مسلسل نظر انداز کیا جائے۔
ہندوستان اپنے جغرافیہ کے لحاظ سے بہت بڑا ملک ہے۔یہاں بے شمار تہذیبیں پائی جاتی ہیں۔جن کے اپنے رسم و رواج اور طور طریق ہیں۔پھر ہندوستان میں ریاستوں کی ایک بڑی تعداد ہے،جہاں آئے دن مختلف سطح کے سیاسی انتخابات عمل میں آتے ہیں۔اس کے باوجود سیاسی لیڈران کے پیدا کردہ مسئل پر ہی بات ہوتی ہے۔ عوام کے حقیقی مسائل پس پشت نظر آتے ہیں۔اس کی ایک بڑی وجہ عوام میں سیاسی بیداری کا فقدان ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی یہ بھی اہم ہے کہ مسائل کے بارے میں عوام کا کوئی پختہ موقف نہیں ہوتا۔ گزشتہ دنوں دہلی سے قریب دادری میں ایک شخص کے گھر میں چند لوگ چڑھ دوڑے ۔ شکایت یہ تھی کہ اُس گھر میں گوشت کا استعمال کیا جا رہا تھا۔کہا گیا کہ وہ گائے کا گوشت ہے ،لہذا اس کی جان لینی چاہیے،کیونکہ وہ "مقدس گائے"سے اپنی بھوک مٹا رہا ہے۔لیکن جب رپورٹ سامنے آئی تو معلوم ہوا کہ وہ گوشت"مقدس گائے"کا نہیں بلکہ بکرے کا تھا۔اب عوام و خواص سب خاموش تماشائی بنے ہیں۔شاید وہ کنفیوژن کا شکار ہیں یا پھر تذبذب میں مبتلا ہیں یا یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اپنے کئے پر پشیمان ہوں۔ ایسے بے شمار وقتی مسائل ہیں ،جن پر سوچنا چاہیے کہ ہم جو کچھ کرنے کاارادہ رکھتے ہیں یا جن لوگوں کے کہنے پر مخصوص ردّعمل کا اظہار ہوتا ہے ،اس کے دور رس نتائج کیا نکلیں گے۔ لہذا عوام کو صرف اسکول اور کالج میں ہی تعلیم یافتہ بنادینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ اُن تعلیمات سے بھی آشنا کیا جائے جس کے ذریعہ نفرتیں کم ہوں اور آپسی رشتے مضبوط بنیادوں پر استوار کئے جا سکیں۔
ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ہندوستان میں متشدد تنظیموں نے گزشتہ دنوں گھر واپسی کے نام پر تبدیلی مذہب پر سوالات اٹھائے تھے۔ مسئلہ کا حقیقی رخ یہ ہے کہ اِن متشدد تنظیموں وسربراہان کو مخصوص مذہب سے نفرت و کراہیت ہے۔لہذا وہ چاہتے ہیں کہ جس طرح نفرت کی آگ میں وہ جل رہے ہیں ،اسی طرح دیگر اہل ملک بھی نفرت کی آگ میں جھلس جائیں ۔اس کے باوجود تبدیلی مذہب آج بھی اُن کی انا کا مسئلہ بنا ہوا ہے۔
سال کے آخری دن جس طرح جانے مانے IASافسر امراؤ سلودیا نے دلتوں کے ساتھ(وہ خود بھی ہیں)بھید بھاؤ کا رویہ اپنانے کی بات کہی اور ناراضگی کے اظہار میں مذہب تبدیل کیا،وہ خود ان لوگوں کے لئے سوچنے کا اہم موقع فراہم کرتا ہے۔خصوصاً ان لوگوں کے لیے جو تبدیلی مذہب پر روک لگانا چاہتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ آخر کوئی کیوں بلا روک ٹوک ایک ہی مذہب کو اختیار کئے رہے جبکہ اُس مخصوص مذہب میں متعلقہ شخص کو اطمینان بھی نہ حاصل ہوتا ہو۔اسی واقعہ میں ایک دوسرا پہلو بھی سامنے آتا ہے ۔ خصوصاً ان لوگوں کے لیے جن کا اختیار شدہ مذہب امراؤ سلودیا نے قبول کیا ہے۔ اور وہ یہ کہ اس مذہب میں درحقیقت اِس قدر جاذبیت ہے کہ ہر طرح کے مسائل پیدا کئے جانے کے باوجود لوگ بلا خوف و ہراس بڑے پیمانہ پر اختیار کرنا چاہتے ہیں۔بشرطیکہ مذہب کے ٹھیکدار اپنے مذہب پر عمل پیرا ہو تے ہوئے وہ تمام اوصاف حمیدہ اپنے اندر پیدا کر لیں،جن سے اُن کا مذہب تقاضہ کرتا ہے۔
اگرچہ سال 2015میں وطن عزیز میں اچھے واقعات کم اور برے زیادہ سامنے آئے۔اس کے باوجود دن بھی گزر گئے،واقعات بھی اور وہ لمحات بھی جن سے ہم اور آپ افسردہ ہوئے ہیں۔اور یہ دن ،مہینہ اور سال ایسے ہی گزرتے رہیں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہم نے اپنے دن جبکہ ہمیں ہر طرح کی پریشانی ،آزمائش اور مسائل سے بچا لیا گیا،کیسے گزارے؟کیا ہم نے اپنے وقت ،صلاحیتوں اور وسائل کا صحیح استعمال کیا؟ اگر کیا تو بہت خوب لیکن اگر نہیں کیاتو اب اپنے طرز عمل میں بہتری کی کوشش کرنا چاہئے۔ ہماری اور آپ کی زندگی میں کچھ کام ایسے لازماً ہونے چاہئیں جو مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے مثبت بنیادوں پر مستقل جاری رہیں۔کیونکہ نہیں معلوم کہ موت کا فرشتہ کب آدھمکے۔اس کے باوجود کہ موت کا ایک دن معین ہے،نیند کیوں رات بھر نہیں آتی!