یورپ میں سرحدی کنٹرول کا مسلہ
ڈنمارک میں سیاسی پناہ کے متلاشیوں کے حوالے سے نئے سال کی آمد پر سیاسی رہنماؤں، میڈیا اور سیاسی پنڈتوں نے شور و غوغا مچاتے ہوئے مہاجرین کے کو رواں صدی کا بدترین بحران قرار دیتے ہوئے خطرہ ظاہر کیا کہ یہ یورپ کے مستقبل پر بری طرح اثر انداز ہو سکتا ہے۔ ڈنمارک کے پڑوسی ملک سویڈن نے بھی اپنے ہاں آنے والے مہاجرین کو روکنے اور ان کی تعداد محدود رکھنے کے لیے ڈنمارک کے ساتھ اپنی سرحدوں پر ’’ کنٹرول ‘‘کرنا شروع کر دیا ہے۔ اب یہ ممکن ہی نہیں رہا کہ کوئی شخص خواہ وہ ریل گاڑی، موٹر کار، یا کشتی کے ذریعے ڈنمارک سے سویڈن جارہا ہو، اپنی شناخت کرائے بغیر اور اپنا با تصویر کارآمد شناختی کارڈ دکھائے بغیر سویڈن میں داخل ہو سکے۔
ڈینش وزیر اعظم، دائیں بازو وینسٹرا پارٹی کے لارس لکے راسموسن نے سالِ نو کے موقع پر اپنی تقریر کا بیشتر حصہ ڈینش سرحدوں پر پہنچنے والے مہاجرین اور ان کی وجہ سے پیدا ہونے والے اس بحران کی وضاحت کرنے پر صرف کیا جو بقول اُن کے نہ صرف ڈنمارک بلکہ یورپ بھر کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے ۔
سویڈن اپنے ہاں ’’ سرحدی کنٹرول ‘‘ سخت کر چکا ہے اور ڈنمارک سے کسی بھی راستے سویڈن جانے والے مسافروں کے لئے، اُن کے پاس با تصویر شناختی دستاویزات کا ہونا لازمی قرار دے چکا ہے۔ اِس عمل سے ڈنمارک اور سویڈن کے درمیان بسلسلہ روزگار، تعلیم اور رہائش روزانہ سفر کرنے والے ہزاروں ڈینش شہریوں اور تجارتی سامان لے جانے والے ٹرکوں اور لاریوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور کئی ملین کرونا کا نقصان ہو رہا ہے ۔ جرمنی سےڈنمارک کے راستے سویڈن جانے والے پناہ کے متلاشیوں کو اپنے ہاں داخل ہونے سے روکنے کے لئے سویڈن کے ان غیر معمولی اور میثاق شنگن سے متضاد اقدامات پر ڈنمارک نے اگرچہ احتجاج تو کیا ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ ڈنمارک سویڈن کے اِن اقدامات کی وجوہات کو بخوبی سمجھتا ہے ۔
ڈنمارک، سویڈن کے اِن اقدامات کو سمجھنے کی جو تشریح پہلے کرنے سے ہچکچا رہا تھا، وہ اب دور ہو گئی ہے اور ڈنمارک نے جرمنی سے اپنے ہاں آنے اور پھر یہاں سے آگے سویڈن جانے والے پناہ کے متلاشیوں کو اپنے ہاں سے گزرگاہ مہیا نہ کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات لیتے ہوئے جرمنی سے ملحقہ اپنی سرحدوں پر نگرانی سخت کردی ہے۔ اس مقصد کے لئے پولیس کے دو سو سپاہیوں کو خصوصی اختیارات کے ساتھ نگرانی کرنے پر مامور کای گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کہا گیا ہے کہ ضرورت محسوس ہوئی تو اس مقصد کے لئے چار سو فوجی بھی سرحدوں پر متعین کر دئے جائیں گے ۔ اب جرمنی سے ڈینش سرحدوں پر پہنچنے والے کسی بھی فرد کو ڈنمارک میں اس وقت تک داخل نہیں ہونے دیا جائے گا جب تک وہ اپنا باتصویر شناختی کارڈ اور متعلقہ سفری دستاویزات پیش نہیں کرے گا ۔ ڈینش وزارت داخلہ کے مطابق یہ سرحدی کنٹرول عارضی ہے۔ یہ کارروائی مہاجرین کے بحران کو حل کرنے کے ان اقدامات کا حصہ ہے جو ڈنمارک اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کر رہا ہے ۔
ڈنمارک کا یہ بیان مہاجرین کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے کتنی ہی نیک نیتی پر مبنی کیوں نہ ہو اس سے ’’منافقت کی بو‘‘ کو آتی ہے۔ کیونکہ ڈنمارک یہ بات چھپا رہا ہے کہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر وہ خود مہاجرین کا بحران پیدا کرنے کا مرتکب ہؤا ہے اور آج مہاجرین کے حوالے سے یورپ کو جن شدید مسائل کا سامنا ہے وہ ڈنمارک اور اِس کے اتحادیوں ہی کے پیدا کردہ ہیں ۔ افغانستان، عراق، شام اور لیبیا کی جنگ میں ڈنمارک ایک جنگی قوت کے طور پر اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر علاقے کو غیر مستحکم کرنے اور شہریوں کے لئے پر امن حالات کو خطرناک حد تک بد ترین بنانے میں مصروف رہا ہے ۔ شام کی خانہ جنگی کی وجہ سے لاکھوں افراد ملک چھوڑ چکے ہیں اور اتنے ہی اپنے ملک کے اندر بے سروسان در بدر ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ شام کے اندر یہ جنگ باغیوں نے سعودی سرمائے اور نیٹو اور یورپی یونین کی حمایت سے شروع کی۔ اور اس کو امریکہ کی سرپرستی اب تک ہوا دے رہی ہے ۔ شام سے آنے والے بے سروسامان مہاجرین کے قافلے بے وجہ نہیں آرہے ہیں۔ انہیں بے گھر کرنے میں ’’ اسلامی دہشت گردوں ‘‘ کے ساتھ ساتھ امریکہ اور اس کی سامراجی جنگجو مغربی قوتیں بھی برابر کی ذمہ دار ہیں ۔
مہاجرین کے حوالے سے نئے سال کے موقع پر اپنی تقریر میں ڈینش وزیر اعظم لارس لکے راسموسن نے کہا کہ وہ جو کچھ کررہےہیں وہ ڈنمارک کے تحفظ کے لئے ہے ۔ لیکن وہ یہ بتانا بھول گئے ہیں کہ ’’ جنگی سیاست‘‘ اِس کے خلاف ہے اور یہ ڈنمارک کو محفوظ بنانے اور شہریوں کو تحفظ مہیا کرنے کے بالکل متضاد ہے۔ کیونکہ وزیر اعظم نے یہ نہیں بتایا کہ جنگ کی لپیٹ میں آئے ہوئے متذکرہ بالا ممالک میں ڈنمارک کی فضائی بمباری سے کتنے لوگ مارے جا چکے ہیں، کتنے گھر تباہ ہو چکے ہیں اور شہری انفرا اسٹرکچر کتنا بتاہ ہو چکا ہے ۔ اور ان سب عوامل ہی نے اُن پُرامن شہریوں کو اپنی جان اور بال بچوں کو بچانے کے لئے ہجرت پر مجبور کیا ہے۔ یہ لوگ آج جرمنی، ڈنمارک اور سویڈن کے دروازوں پر دستک دے رہے ہیں ۔ اور جنہیں ڈنمارک بڑی بے شرمی ہے ’’ ڈنمارک پر مہاجرین کی یلغار‘‘ سے تعبیر کر رہا ہے ۔ اُنہیں ڈینش اقتصادیات، بلدیات اور سماجی ویلفیئر پر بوجھ قرار دیتے ہوئے اُن کی آمد سے پیدا ہوجانے والے ممکنہ سماجی مسائل کو مفروضوں کی بنیاد پر بڑھا چڑھا کریوں پیش کر رہا ہے کہ ملکی بلدیات اُن کی آڑ میں شہریوں کے لیے ویلفیئر گرانٹس میں ابھی سے کٹوتیاں کرہی ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وینسٹرا پارٹی کے وزیر اعظم لارس لکے راسموسن کی حکومت، مہاجرین اور تارکین وطن مخالف انتہائی قومیت پرست ڈینش پیپلز پارٹی کی پارلیمانی حمایت سے اپنا اقتدار محفوظ رکھنے کے لیے خود یہی چاہتی ہے کہ بلدیات ایسا کریں ۔
مہاجرین کی بہتری اور معاشرے میں انضمام کے لئے اپنے کھوکھلے نعروں میں وزیر اعظم اور ان کے مشیران باتدبیر نے ایک اور نعرے کا اضافہ کر دیا ہے ۔ اس سے مہاجرین کو کوئی فائدہ ہو یا نہ ہو، اس پر عمل درآمد سے ڈینش آجروں کی چاندی ہو جائے گی۔ اور ’’ سستی افرادی قوت یا پھر کم اجرت پر ’’ غلامی‘‘ کی راہیں کھل جائیں گی ۔ حکومت کا ارداہ ہے کہ مہاجرین کو ایک طرح کی ’’ انضمامی آمدن ‘‘ یعنی کم اجرت پر روزگار مہیا کئے جائیں تاکہ وہ روزگار کی منڈی میں آگے بڑھ کر سماج میں انٹگریٹ ہوں۔ لیکن ایسا کہتے ہوئے حکومت یہ بات بھول رہی ہے کہ ڈینش آجر خواہ ایسا کرنے پر تیار ہی ہوں، وہ یہ نہیں بھول سکتے کہ روزگار اور تنخواہوں سے متعلق قوانین و ضوابط کی خلاف ورزی ڈنمارک کے لیے اندرون ملک اور بیرون ملک بدنامی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ڈنمارک کو اپنا اصل منافقانہ چہرہ چھپانا کتنا مشکل ہو سکتا ہے ۔ فی الوقت صنعت کاراور آجر حکومت کی اِس تجویز پر خوش دکھائی دیتے ہیں کہ مہاجرین کو ’’ دکھاوے کی ایک انضمامی اجرت ‘‘ پر روزگار مہیا کر کے انہیں معاشرے میں انٹگریٹ ہونے میں مدد دی جائے۔ لیکن یہ ایک ایسا منافقانہ اقدام ہے جو لوگوں کو غلام بنانے کے زمرے میں نہ سہی ان کا استحصال کرنے کے بہت قریب ہوگا۔
لوگوں پر لازم ہے کہ اپنی آنکھیں کھلی رکھیں اور حکومت کے لمحہ بہ لمحہ بدلتے بیانات پر کڑی نگاہ رکھتے ہوئے اسے ہر موقع پر یہ باور کرائیں کہ ڈنمارک میں آئین مملکت سبھی شہریوں کے لئے مساوی حقوق کی ضمانت مہیا کرتا ہے۔ یہ حقوق سب کے لئے ہیں۔ مہاجرین یا تارکین وطن کے نام پر اُن حقوق کو کسی ایک طبقے تک محدود نہیں رکھا جا سکتا اور نہ ہی اُن سے بڑھ کر کسی دوسرے کو نوازا جا سکتا ہے ۔پارلیمانی سیاست دانوں، حکومتی ٹولے اور بلدیات کو یہ باور کرنا ہوگا کہ ڈنمارک ہی نہیں پورے مغربی یورپ کو جن حالات کا سامنا ہے اُن کو کنٹرول کرنے اور سماجی بہتری اور ویلفیئر کے نظام کو بحال رکھنے کے لئے ’’ جنگ و جدل ‘‘ ختم کی جائے ۔ وہ جنگ جو افغانستان، عراق، شام اور لیبیا میں لڑی جا رہی ہے اور جس میں خود امریکہ اور اس کے یورپی اتحادی بشمول ڈنمارک شامل ہیں۔ جس کے لئے سعودی عرب اور اس کی اتحادی خلیج فارس کی عرب ریاستیں سرمایہ مہیا کر رہی ہیں ۔ اسے فی الفور ختم ہونا چاہیے
اگر ایسا ممکن نہ ہوا تو خدشہ ہے کہ ڈنمارک اور سویڈن مہاجرین کے لئے بے شک اپنی سرحدیں بند کردیں اور یورپی یونین کے دیگر ممالک بھی ایسی ہی پابندیاں لگا دیں، یہ اقدامات مہاجرین کے مسئلے کا کسی بھی طرح کوئی ٹھوس حل نہیں ہو سکتے۔ البتہ اِن سے یورپی اتحاد کے بکھر جانے اور میثاق شنگن کے تحت یورپی یونین کے ممالک میں شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت کی آزادی ختم ہو جائے گی۔ یہ ایک ایسا بڑا نقصان ہو گا جو یورپی یونین کا کوئی بھی رکن ملک برداشت نہیں کر سکے گا ۔
(نصر ملک کوپن ہیگن سے شائع ہونے والے انٹرنیٹ اخبار www.urduhamasr.dk کے ایڈیٹر ہیں)