مہناز رفیع کی آپ بیتی

قدرت نے کچھ لوگوں کو زبان بیان، صورت وسیرت دونوں طرح کی خوب صورتی سے مالامال کیا ہوتا ہے۔ وہ اپنے ظاہری اور باطنی حُسن سے لوگوں کے دلوں میں گھر کر لیتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ اپنے کردار سے لوگوں کو مداح اور کارناموں سے سماج میں اپنا مقام بنا لیتے ہیں۔ کتنے خوش نصیب ہوتے ہیں ایسے لوگ ۔ ایسی شخصیات اب ہمارے ہاں ناپید ہوتی جا رہی ہیں جن کی شخصیت میں بیک وقت یہ خوبیاں میسر ہوں۔

جب وہ ٹیلی ویژن پر اپنے فن کا مظاہرہ کررہی تھیں، لگتا تھا کہ ان سے زیادہ خوب صورت کوئی نہیں، اپنے ظاہری حسن اور فن کے حوالے سے۔ پاکستان ٹیلی ویژن، پاکستان کے ان چند اداروں میں سے ایک ہے جو ہمیں کلونیل وراثت میں نہیں ملے۔ اسے نئی ریاست کے لوگوں نے بنایا، چلایا اور کامیاب ترین ادارہ ثابت کردیا۔ ادارے افراد بناتے ہیں اور اس ادارے میں اس خاتون کا ایک اداکارہ کے طور پر جو کردار سامنے آیا، اس نے اس ادارے کی ساکھ بنانے میں اپنا حصہ ڈالا۔ چمکتا دمکتا مسکراتا چہرہ اور جب وہ سیاست کے میدان میں آئیں تو انہوں نے بہادری اور جرأت کی مثالیں قائم کیں۔ اب وہ اپنی کتاب ’’مجھے کہنا ہے کچھ اپنی زباں میں‘‘ کے ذریعے طویل عملی زندگی، سیاسی جدوجہد کو چند صفحات میں بیان کر گئی ہیں۔ مہناز رفیع۔ ایک ایسی شخصیت ہیں کہ جو زندگی کے سفر میں کبھی تھکتی نہیں۔ سماج، معاشرے اور وطن کو اپنے عمل سے بدلنا چاہتی ہیں۔ ایک شفاف شخصیت۔

اُن کی کتاب ان کے دستخط کے ساتھ ملی تو خوشی کی انتہا نہ رہی۔ چوں کہ مجھے لوگوں کی زندگی کی داستانیں پڑھنے کا جنون ہے۔ تقریباً چار دہائیوں سے عملی جدوجہد کے مختلف گوشوں میں ایسے کاروانوں کا حصہ رہا ہوں جن میں وہ بھی شامل ہیں۔ لیکن کتاب آپ کو کاررواں میں شامل مسافر کی زندگی کے ان چھپے پہلوؤں سے بھی آگاہ کردیتی ہے جن سے آپ واقف نہیں ہوتے۔ مہناز رفیع آپا کی کتاب ’’مجھے کہنا ہے کچھ اپنی زباں میں‘‘ جتنی شیریں زبان میں ہے اتنے ہی شیریں بیان بھی ہے۔ سیاسی جدوجہد کے سخت ایام کو انہوں نے جن الفاظ میں بیان کیا ہے، وہی کر سکتی ہیں۔ چوں کہ انسان کی تربیت میں خاندانی روایات بنیاد ہوتی ہیں، ایک تعلیم یافتہ خاندان کی یہ لڑکی جدوجہد کرتے کرتے اس ملک میں عورتوں کے حقوق اور پھر انسانی حقوق کی علمبردار بن گئیں اور سب سے بڑھ کر سیاست کے کٹھن ادوار میں ہیروئن کے طور پر جانی گئیں۔

ان کی کتاب پاکستان کی سیاسی تاریخ کے پس و پیش منظر سے آگاہی دیتی ہے۔ تحریک استقلال پاکستان کی سیاست جس طرح ابھری، اس حقیقت کو کوئی نہیں مٹا سکتا۔ درمیانے طبقے کی اس جماعت نے ایک وقت سیاست میں اپنی دھاک قائم کردی اور اس دھاک قائم کرنے والوں کے ہراول دستے میں مہناز رفیع شامل تھیں۔ آج کے بڑے بڑے سیاست دان اس سفر میں شامل ہونے کے لئے درخواستیں لئے کھڑے تھے جن میں وزیراعظم نوازشریف بھی شامل ہیں۔ انہوں نے عملی سیاست کے لئے تحریک استقلال کے پلیٹ فارم کو ہی استعمال کیا۔ افسوس، یہ جماعت اپنا کردار ادا کرنے کے باوجود اس منزل کو نہ چھو پائی جس تک پہنچنے کی اس میں صلاحیت تھی۔ انہوں نے اپنی کتاب میں ایسے سیاسی واقعات کو ضبط تحریر کیا ہے کہ اگر اخبارات میں خبریں نکالنے کا فن جاننے والے صحافی چاہیں تو ایسی لائنیں آج بھی اخبارات کی سرخیاں بن سکتی ہیں۔ ایک معاملہ 1988ء میں جنرل ضیاالحق کا طیارہ گرنے کے بعد کے اہم ترین واقعات ہیں کہ جنرل مرزا اسلم بیگ نے کیسے طے کیا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے خلاف ایک سیاسی انتخابی اتحاد قائم کیا جائے۔ کتاب کے صفحہ 114 سے 122 تک اس حوالے سے چونکا دینے والے واقعات تحریر ہیں۔ کیسے آرمی چیف، اصغر خان کو نئے بننے والے اتحاد آئی جے آئی کی قیادت سونپ کر پاکستان پیپلزپارٹی کو شکست دینا چاہتے تھے اور اس میں اس جرنیل کا کلیدی کردار ہے جو افغانستان میں ’’خاموش جہاد‘‘ کا دعوے دار تھا۔

اصغر خان نے اس سازش کو مسترد کردیا جس میں میاں نوزشریف بڑھ چڑھ کر اپنا حصہ ڈال رہے تھے اور انہوں نے اپنے فیصلے کے مطابق انتخابات میں اترنے کا فیصلہ کیا۔ ائرمارشل اصغرخان جن کے ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ تلخ تعلقات تھے جس کا اظہار 1977ء کی انتخابی مہم میں دیکھنے کو ملا۔ لیکن اسی اصغر خان نے جہاں ایم آر ڈی میں بیگم نصرت بھٹو کے ساتھ شامل ہونے کا فیصلہ کیا، وہیں 1988ء میں جرنیلی سازش کو مسترد کردیا۔

ذرا غور کریں تاریخ کے لمحات پر کہ راقم کی ہی کوششوں سے ائرمارشل اصغر خان بائیں بازو کے ایک اتحاد پاکستان نیشنل کانفرنس میں شامل ہوئے جس میں ہمارا ایک سیاسی گروپ پاکستان پیپلزپارٹی (زیڈ اے بی) بنیادی رکن تھا۔ 1998ء میں یہ پاکستان پیپلز پارٹی شہید بھٹو میں ضم کیا گیا تو راقم نے ہی یہ شرط رکھی کہ پاکستان پیپلزپارٹی (شہید بھٹو) میں ضم ہونے کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی (شہید بھٹو) بائیں بازو کے اس سیاسی اتحاد پاکستان نیشنل کانفرنس کا حصہ بن جائے گی۔ ڈاکٹر غلام حسین اس اتحاد کے نئے سیکریٹری جنرل ٹھہرے اور راقم کی ہی کوششوں سے ائرمارشل اصغر خان، زوالفقار علی بھتو کی معروفِ زمانہ رہائش گاہ 70کلفٹن میں غنویٰ بھٹو سے ملنے گئے۔

جیلوں کی یاترا کرنے والی محترمہ مہناز رفیع کے چہرے پر میں نے کبھی ملال نہیں دیکھا لیکن یہ ملال اس وقت ضرور دیکھتا ہوں جب وہ پاکستان کے حالات پر کڑھتی ہیں، خصوصاً دہشت گردی اور انتہا پسندی پر۔ اس کتاب میں لاتعداد سیاسی رازوں سے بھی پردہ اٹھتا ہے کہ کیسے محترمہ بے نظیر بھٹو نے ائرمارشل اصغر خان کو پاکستان کا صدر بنانے کا سراب دکھایا۔ جنرل ضیاالحق کے تضادات اور منافقت۔ تاریخ کے فیصلے دیکھیں کہ کبھی میاں نوازشریف، مہناز رفیع اور خورشید قصوری کی تحریک استقلال میں شریک ہونے کے متمنی تھے اور ایک وقت آیا کے سیاست کے یہ دونوں ساتھی 1994ء میں میاں نوازشریف کی مسلم لیگ میں شامل ہوگئے۔

یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اداروں کے بل پر جنم لینے اور پھلنے پھولنے والے لوگ اور سیاسی جماعتیں کیسے مقام پر پہنچا دی جاتی ہیں۔ جدوجہد، شفافیت اور قابلیت، اسٹیبلشمنٹ کی تیارکردہ جماعتوں کے سامنے کچھ حیثیت نہیں رکھتیں۔ اس حوالے سے کتاب میں ایک سبق بھی ہے کہ اقتدار کی سیاست میں وہ لوگ بھی کامیاب ہوئے جنہوں نے ’’ طاقت کے مراکز‘‘ سے طاقت حاصل کی نہ کہ عوام کی طاقت سے۔ مہناز رفیع کی یہ کتاب قارئین سیاست کے لئے دلچسپ بھی ہے اور معلومات سے لبریز بھی۔ سب سے بڑھ کر چھپے رازوں سے پردہ بھی اٹھاتی ہے۔ انہوں نے اپنی شیریں زبانی سے وہ سب کچھ کہہ دیا جو جوشیلے مقرر، جذباتی خطیب اور جوشیلے تجزیہ نگاروں کے قلم بھی نہیں کہہ سکتے۔