ایران کا پیغام آشنا
پیغام آشناایک تحقیقی و تنقیدی اردومجلہ ہے۔ یہ اسلام آباد میں متعین ایرانی ثقافتی قونصلیٹ کی زیر نگرانی شائع ہوتا ہے۔ پاکستان میں ایران کا ثقافتی قونصلیٹ ا س کا مدیر اعلی ہوتا ہے۔ اس مجلے کا نام نامور اسلامی سکالرز شیخ سعدی اور شاعر مشرق علامہ اقبال کی سوچ و فکر سے اخذ کیا گیا ہے۔
پیغام آشنا پندرہ سال سے شائع ہو رہاہے ۔ اس کا مقصد پاکستان اور دیگر اردو بولنے والے خطوں کے ساتھ علمی، ادبی، ثقافتی و تاریخی رشتوں کو محفوظ اور مضبوط و مستحکم کرنا ہے۔ اس سلسلے میں ایرانی ثقافتی قونصلیٹ کا کردار قابل تحسین ہے۔ اردو کے وہ قلمکار بھی مبارک باد کے مستحق ہیں جنہوں نے اس ادبی مجلے کی آبیاری میں اہم کردار ادا کیا۔ آج یہ مجلہ صرف فارسی زبان و ادب کی ترویج ہی کو مد نظر نہیں رکھتا بلکہ دنیا کے ہر خطے میں موجود مسلمانوں کے مشترکہ ادب و ثقافت کو بھی روشناس کرواتا ہے۔ اس کے لکھاری دنیا ئے اسلام کے مختلف خطوں سے تعلق رکھنے والی نامور علمی شخصیات ہیں۔ ایرانی ادب نے فلسطینی مزاحمت کو بھی جگہ دی ہے۔ فلسطین کی تحریک کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے سیاسی ، عسکری اور سفارتی محاذ پر اپنا لوہا منوایا اور اس کے ساتھ ہی تحریک آذادی کے ذریعے مزاحمتی ادب کا بھی اضافہ کیا ہے۔ فلسطینی قلمکاروں نے ادبی محاذ پر جو کارنامے سرانجام دئے، ان کے سامنے اسرائیل کے میزائل اور ٹینک بے بس ہیں۔ عالمی ادب میں مزاحمتی فلسطینی ادب کو ملنے والی جگہ کی وجہ سے دنیا آج فلسطینیوں کے دکھ و درد اور حقوق کی جد و جہد کو بہتر طریقے سے سمجھتی ہے۔ اور قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
فلسطین کے مزاحمتی ادب کو اجاگر کرنے میں ایران کا انتہائی اہم کردار ہے۔ اسلام آباد میں ایران کے سابق ثقافتی قونصلر جناب تقی صادق لکھتے ہیں کہ: ’جس طرح فلسطین باطل کے دل میں میں کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے اسی طرح فلسطینی مزاحمتی شعراء کی صدا بھی عالمی ادب میں مجموعی طور پر مظلومین کی توانا آواز کی صورت میں ظلم کے ایوانوں میں گونجتی ہے۔ اگرچہ ان شعراء کو جلاوطنی اور صعوبتوں بلکہ موت کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن ان کی آواز کو دبانے کی تمام کوششیں ناکام رہیں۔ محمود رویش، معین بسیسو، نزار قبانی سمیع القاسم، راشد حسین، حنا ابو حنا اور ایسے کئی دیگر نام ہیں جو شاخ زیتون کی تازگی کی جنگ قلم جیسے طاقتور ہتھیار سے لڑتے رہے ہیں۔ ایرانی ادب میں صرف فلسطینی شعراء کو ہی اہمیت نہیں دی گئی بلکہ ایران کے فارسی شعراء نے بھی فلسطین کے موضوع پر وسیع تر زاویوں سے طبع آزمائی کی ہے۔ ایران سیاسی و سفارتی محاذ پر بھی فلسطین کے بارے میں ایک اہم رائے و پالیسی رکھتا ہے۔ جس کی وجہ سے ایران کو عالمی مخالفت کا سامنا رہتا ہے لیکن ایران اپنے اصولی موقف سے پیچھے نہیں ہٹا۔ دنیا میں انہی قوموں کو اہمیت دی جاتی ہے جن کا کوئی موقف ہو اور اپنے اصولوں پر کبھی سودے بازی نہ کریں‘۔
یوں تو کشمیر کی تحریک آزادی بھی اتنی ہی پرانی ہے جتنی تحریک فلسطین مگر جس طرح سیاسی و سفارتی محاذ پر کشمیر کی تحریک فلسطین کی تحریک سے بہت پیچھے ہے اسی طرح ادبی محاذ پر بھی بہت کمزور ہے ۔ اس کی وجہ بھی تحریک سے وابستہ عناصراچھی طرح جانتے ہیں۔منقسم کشمیر میں تین حکومتیں ہیں اور ایک بھی کشمیر ی تحریک کی نمائندگی کا دعوی نہیں کر سکتی ۔ جبکہ فلسطین کی طرح کسی بھی جگہ سفارتی مشن تو درکنار کشمیر یوں کی تحریک کا کوئی مشترکہ رابط دفتر تک نہیں ہے۔ اس کے برعکس فلسطین کا اقوام متحدہ کے علاوہ دنیا کے ہر سیاسی و اقتصادی فورم پر نمائندگی ہے اور دنیا کے بیشتر ممالک میں اس کے سفارت خانے بھی ہیں جو کسی بھی ملک کے سفارتی معیار سے کم نہیں۔
’پیغام آشنا‘ ہر شمارے میں انتہائی معلوماتی تحقیقی مقالے شائع کرتا ہے۔اس میں علامہ اقبال کے افکار وخطبات کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ سن 2000 میں اس کے اجراء سے لے کر تادم تحریر تمام شماروں میں اقبال کی شخصیت و فکر و فن پر ایک سو سے زائد مضامین و مقالات شائع ہوئے ہیں۔ ان کے علاوہ نظموں کی ایک کثیر تعداد بھی ہے جن میں شعراء نے اقبال کی شخصیت اور فکر و فن کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ پیغام آشنا نے اردو کے ہر مضمون کا فارسی ترجمہ بھی پیش کیا ہے۔ اس کے علاوہ ایسے مقالات بھی ہوتے ہیں جن سے تاریخ کے طالب علموں کوخطے کے تاریخی پس منظر سے آگاہی ہوتی ہے پر ایک حالیہ شمارے میں کراچی کی اوائلی تاریخ پر مبنی ایک مقالہ شائع کیا گیا ہے جسے پر وفیسر ڈاکٹرغلام محمد لاکھو نے لکھا ۔ اس کا ترجمہ ڈاکٹر حمیرا باز نے کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ کراچی کی تاریخ عہد کلہوڑا سے شروع ہوئی۔ اس وقت مغلوں کی حکومت رو بہ زوال تھی اور کلہوڑوں کی حکومت شمالی سندھ سے بحیرہ عرب تک وسعت اختیار کر چکی تھی۔ بانیان کراچی کے متعلق سیٹھ ناؤ نمل کے مطابق ایک پانی کا چشمہ تھا جسکو کلاچی کا کن کہتے تھے۔ کن کے معنی ہیں ایک گہرا پانی کا گڑھا اور کلاچی ایک میر بحر کا نام تھا۔ گڑھے کے اطراف تمر کے درخت تھے۔ آخر جگہ پسند کر کے وہاں گھر بنایا گیا۔ کلاچی کے تمام گاؤں جو اس وقت کراچی کہلاتے تھے وہ یہاں آ کر آباد ہو ئے۔ ڈاکٹر نبی بخش نے ایک اور رائے پیش کرتے ہوئے دعوی کیا کہ یہ شہر کلمتی قبیلے کے لوگوں نے آباد کیا جو مختلف ناموں سے پکارا گیا۔ اس دعوے کے مطابق کلاچی ایک مچھیرن تھی جو اپنے نمایاں طبقے کے سبب اہمیت رکھتی تھی۔ اسی کے نام سے یہ شہر وجود میں آیا ۔ یہ ’پیغام آشنا‘ کے تحقیقی سفر کی چند ایک مثالیں تھیں۔