قابل تحسین اقدام

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جوں جوں عمر بڑھی توں توں تلخ تجربات نے شیرینی حیات میں نفسانفسی کا وہ زہر گھولا کہ الامان و الحفیظ!  آج یوں لگتا ہے کہ خود غرضی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں انسانیت، ہمدردی اور پیار جیسی روشنی بخش کرنیں عنقا نہ سہی تومفقود ضرور ہیں۔  وکالت کا پیشہ اختیار کرنے کے بعد جن تلخ گوشہ ہائے حیات سے ہمیں آشنا ہونا پڑا، یقین مانئے اس سے ہماری پر سکون نیندیں بے خوابی کے مرض میں بدل گئیں۔ کبھی کبھار تو ہم اس گھڑی کو کوسنے لگے جب ہم نے لوگوں کو حصول انصاف میں ممدومعاون ہونے کے لیے کوچہ وکالت کی راہ اختیار کی تھی۔

بھائی بھائی کا گلہ کاٹتا ہے۔ زبر دست کمزور کو دباتا ہے اور ظلم سر اٹھا کرچلتا ہے۔ لیکن  ہمیں ہمیشہ انجانی سمتوں سے حوصلے اور تقویت کی ایسی توانائی نصیب ہوتی ہےجس کی وجہ سے اس ماحول میں بھی زندگی کی رمق محسوس کرتے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ جس طرح بنیاد کے پتھر اورتپتی دھرتی پر بارش کے پہلے قطرے کسی کی نظر میں نہیں ہوتے مگر ان کے وجود کی قربانی عمارت کو بلندی اور دھرتی کو سیراب کرتی ہے، اسی طرح  تاریخ کے اوراق میں دیکھیں تو مصر کے بازار میں یوسف کو خریدنے کیلئے بڑی بڑی نامی گرامی شخصیات ملک بھر سے آئیں مگر تاریخ نے صرف سوت کی اٹی والی بڑھیا کو  یاد رکھا باقی نام نظرطاق نسیاں ہوگئے۔

پچھلے کچھ عرصہ سے ایواں ہائے انصاف میں انصاف کی تلاش میں دربدر خاک بسر خواتین کی معاونت کے لئے ایک باقاعدہ نظام کے تحت ادارہ قائم کرنے کے لئے رابطہ کیا گیا تھا جس پرفکری طور پر احباب کی معاونت سے منصوبے کو عملی شکل دے کر بالآخر ویمن لیگل انفارمیشن سنٹر کے نام سے ایک ادارے کا قیام ممکن ہؤا۔  یو ایس ایڈ کے تعاون سے اور عورت فاؤنڈیشن کی معاونت سے ان سینٹرز کا قیام ممکن ہؤا۔ یہ سنٹرز دو اضلاع میں قائم کئے گئے ہیں۔ ضلع مظفرآباد کی تحصیل پٹہکہ اور ضلع ہٹیاں کی تحصیل لیپہ میں فیملی کورٹس کے ساتھ یہ سنٹرز قائم کئے گئے ہیں۔ ان کا مقصد خواتین کو حقوق سے آگاہی اور ان کو قانونی رہنمائی مہیا کرنا ہے۔ ہمارے معاشرے کا یہ المیہ ہے کہ قانون تو موجود ہیں مگر ان تک رسائی اور دادرسی کا طریقہ کار عوامی شعور سے ہم آہنگ نہ ہونے کی وجہ سے خواتین ظلم سہتی رہتی ہیں ۔  اور  بوجوہ خاموش رہتی ہیں۔

ان وجوہات میں ان کی اپنے حقوق سے آگاہی نہ ہونا، خاندانی عزت و قار کی بنیاد بناکر انہیں چپ رہنے پر مجبور کیا جانا اور خواتین کی تھانے اورکچہری تک رسائی میں عدم تحفظ اور نا پسندیدگی،  انصاف کے حصول کی راہوں کا بے حد پیچیدہ ہونا شامل ہے ۔ انہی مسائل کے حل کے لئے خواتین کو شعور، آگاہی اور قانونی مشاورت دینے کے حوالے سے ان سنٹرز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ جن میں موجود وکلاء خواتین بہت محنت ، لگن اور پیشہ وارانہ مہارت کے ساتھ کسی بھی ظلم یا زیادتی کا شکار خاتون کو رہنمائی مہیا کرنے کے لئے موجود ہوتی ہیں۔ ان مسائل میں  گھریلو تشدد ، خاوند کی طرف سے نان و نفقہ کی ادائیگی نہ ہونا وراثتی حقوق سے محرومی، کام کی جگہوں پر خواتین کو ہراساں کرنا، مہر کی عدم ادائیگی اور بچوں کی گارڈین شب سے متعلقہ معاملات کے علاوہ تنسیخ نکاح، عزت کے نام پر قتل ، جسمانی و ذہنی تشدد ، جائیداد سے متعلق معاملات اور سول اور فوجداری معاملات سے متعلق رہنمائی فراہم کرنا شامل ہے۔ 

ان سینٹرز کا قیام نہایت ہی حوصلہ افزا اقدام ہے اس فیلڈ میں ابھی مزید بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ان سنٹرز میں جو مقدمات یا مسائل سامنے آئے ان میں اس کمی کو شدت سے محسوس کیا جارہا ہے۔ ایسی خواتین کو کورٹس میں سروسز مہیا کرنے کے ساتھ بے سہارا خواتین کو عارضی پناہ گاہ مہیا کرنے  کے لئے شیلٹرز ہومز اور ذہنی طور پرکرب میں مبتلا خواتین کو ماہرین نفسیات کی خدمات بھی مہیا ہونی چاہئیں۔ اس کے علاوہ خواتین کو  کسی ہنر مندی کی طرف مائل کرکے ان کی شخصیت کو سوسائٹی کے لئے مفید بنایا جائے۔ اس طرح وہ  پراعتماد شہری بن کر مالی طور پر مستحکم ہو سکتی ہیں۔  اس حوالے سے سرکاری ادارے اور غیر سرکاری تنظیموں، دونوں کی جانب سے مزید اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

کسی بھی معاشرے کا نظام بدلنے اور اس میں تبدیلی  انفرادی سطح پر کوششوں سے ہی ممکن ہوتی ہے کیونکہ بالآخر قطرہ قطرہ مل کر ہی دریا بنتا ہے۔ امید واثق ہے کہ اس منصوبے سے زیادہ سے زیادہ لوگ مستفید ہوں گے اور یہ خواتین کے حقوق کے حوالے سے معاشرے میں مفید اور مثبت تبدیلی کا آغاز ثابت ہوگا:
میں اکیلا ہی چلا تھا سوئے منزل
لوگ آتے گئے کارواں بنتا گیا