دنیا کا جنگی جنون
دنیا بھر میں ہر سال دو ہزار سات سو بلین کرونا اسلحہ اور جنگوں پر صرف کیا جاتا ہے حالانکہ اس خطیر رقم سے بھوک و افلاس کا خاتمہ کرتے ہوئے کئی ملین افراد کو ایک پُر امن اور بہتر معیاری زندگی مہیا کی جا سکتی ۔
پچھلے سال دنیا بھر میں مجموعی طور پر اسلحہ کی خرید و فروخت میں قدرے کمی رہی لیکن اس کے باوجود ’’ عالمی جنگی بجٹ‘‘ مجموعی اعتبار سے ابھی اُتنا ہی ہے جتنا کہ ’’ سرد جنگ ‘‘ کے زمانے میں ہؤا کرتا تھا ۔ یہ انکشاف سٹاک ہولم میں سویڈش پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ( سپری) کی ایک تازہ ترین رپورٹ میں کیا گیا ہے ۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں اسلحہ کی فروخت کے اسّی عشاریہ تین فیصد حصے پر نیٹو کے رکن ممالک کی اجارہ داری ہے ۔ صرف امریکہ کو دیکھا جائے تو وہ دنیا بھر میں فروخت ہونے والے اسلحہ کا نصف سے زیادہ حصہ خود فروخت کرتا ہے۔ دنیا بھر میں فوجی مقاصد کے لئے استعمال ہونے والے پیسوں میں سے چونتیس فیصد امریکہ اپنے فوجی سازو سامان اور عسکری نقل و حمل پر صرف کرتا ہے ۔ سپری کی رپورٹ کے مطابق اسلحہ اور دیگر فوجی مقاصد کے لئے استعمال کئے جانے والے یہ امریکی دولت اُس رقم سے چھ گنا زیادہ ہے جو روس استعمال کرتا ہے اور چین کے ڈیفنس بجٹ سے تین گنا زیادہ ہیں۔
سویڈش پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ عشرے میں سعودی عرب اور اس کی اتحادی رجعتی عرب ریاستیں اسلحہ کی خریداری میں پیش پیش رہی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے اتحادی سعودی عرب کا ’’ جنگی بجٹ ‘‘ اب روس جیسے ملک کے فوجی بجٹ سے بھی تجاوز کر چکا ہے ۔ شام، یمن ، عراق اور لیبیا میں سعودی عرب کی عسکری دخل اندازی اور خلیج فارس کی عرب ریاستوں میں حکمرانوں کے اقتدار کے تحفظ کے لئے سعودی جنگی حکمت عملی پر اٹھنے والے اخراجات کا تخمینہ لگانا اس لئے قدرے مشکل ہے کہ ریاض اور اِس کے اتحادی اس بارے میں بڑی رازداری سے کام لیتے ہیں ’’سپری‘‘ نے اپنی رپورٹ میں مزید بتایا ہے کہ اسلحہ کی خریداری اور درآمد میں سعودی عرب اس وقت دنیا میں چوتھا بڑا ملک ہے اور خطے میں اب ایک بڑی عسکری قوت بننے کے خواب دیکھ رہا ہے ۔ امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک سے خریدا ہؤا یہ اسلحہ سعودی عرب خطے میں امریکی اور خود اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے استعمال کرتا ہے۔
امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے عراق کو تباہ و برباد کرنے کے بعد تنہا چھوڑ دیا گیا۔ اس طرح اب مشرق وسطیٰ میں ایک طرف شام و یمن میں جنگ کی آگ بھڑکی ہوئی ہے تو دوسری طرف در پردہ امریکی شہ پر سعودی عرب، ایران کے خلاف تند و تیز بیانات دیتے ہوئے اسے امریکہ اور نیٹو کے رکن ممالک سے خریدے ہوئے اپنے اسلحے، گولہ بارود اور جنگی جہازوں سے مرعوب کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ امریکہ کی سربراہی میں دیگر یورپی استعماری قوتیں علاقے میں تیل اور قدرتی گیس کے بڑے بڑے ذخائر پر قبضہ جمانے کی کوشش میں ہیں ۔
سعودی عرب اور تیل و گیس کے ذخیروں سے مالا مال دیگر رجعتی عرب ریاستیں اپنے ہاں جدید اسلحہ کے انبار لگا کر علاقے میں پہلے سے جاری جنگوں اور مسلح تصادموں کو باقاعدہ ایک ’’ بڑی جنگ ‘‘ میں بدلنے دینے کے درپے ہیں ۔ اس جنگ میں اُن کا اصل نشانہ ایران ہے ۔ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی ریاستیں امریکہ اور نیٹو کے رکن ممالک سے خریدے ہوئے جدید اسلحہ کے جو انبار اپنے ہاں لگا چکی ہیں، وہ محض اس لئے نہیں کہ اُن پر صحرائی ریت جمتی رہے۔ وہ اسلحہ استعمال کئے جانے کے لئے ہے۔ اب سعودی عرب ایران کو کھلم کھلا دھمکیاں دے رہا ہے اور اس کے خلاف دیگر اسلامی ممالک کو بھی متحرک کرنے میں مصروف عمل ہے۔ اسلحہ کے ان ڈھیروں کو استعمال کرنے کا وقت اس سے بہتر کب میسر ہو سکتا ہے ۔ عراق، شام اور یمن میں تو یہ اسلحہ کھلے عام تمام بین الاقوامی قوانین و کنونشنوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پہلے ہی استعمال کیا جا رہا ہے ۔
سٹاک ہولم میں جاری کی گئی سویڈش پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ ، افریقہ اور ایشیا کے کئی ممالک میں بھی اسلحہ کی درآمد جاری ہے اور بعض ملکوں میں تو اس کے لئے سالانہ جنگی و دفاعی بجٹ قومی بجٹ کے کل حصے کے نصف سے بھی زیادہ ہوتا ہے ۔ رپورٹ میں پیش کئے گئے شواہد اور ماہرین کی تحقیق کے نتائج کی بنیادوں پر بتایا گیا ہے کہ جنگوں کی وجہ سے ان ملکوں و علاقوں سے ہجرت کرنے والے ہر ایک مہاجر کی نقل مکانی کا اصل سبب یہی ’’ اسلحہ کے سوداگر‘‘ ہیں ۔ اور وہ خود امریکہ اور اس کے اتحادی نیٹو ممالک ہیں ۔
سویڈش پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی متذکرہ رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ مہاجرین کی آمد نئی بلندیوں کو چھونے وای ہے اور مہاجرین کے اس سیلاب کو روکنے کا واحد ذریعہ یہی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری موجودہ جنگوں کو ختم کیا جائے اور سعودی عرب اور اس کی اتحادی عرب ریاستوں کو ان جنگوں کو مزید بھڑکانے سے باز رکھا جائے ۔ امریکہ و نیٹو کے رکن ممالک سمیت اسلحہ کے منافع خور عالمی سوداگروں کو اسلحہ فروخت کرنے سے روکا جائے۔ کیونکہ یہی وہ عناصر میں جو جنگوں کو ہوا دیتے، بھڑکاتے اور نتیجتاً مہاجرین پیدا کرتے ہیں ۔
(نصر ملک کوپن ہیگن سے شائع ہونے والے انٹرنیٹ اخبار www.urduhamasr.dk کے ایڈیٹر ہیں)