بے شرم ایم پی

کبھی کبھی آدمی اپنی کمزوری اور غلطی کی وجہ سے ذلیل تو ہوتا ہی ہے اور بدنام بھی ہوتا ہے۔ ایسا ہی ایک معاملہ برطانیہ میں لیبر پارٹی کے ایک ایم پی (Simon Danczuk)سائمن ڈینشوک کے ساتھ پیش آیا۔ انہیں ایک کم عمر لڑکی سے واہیات ٹیکسٹ کرتے ہوئے پایا گیا۔ ایم پی اس کم عمر لڑکی سے صرف حال چال نہیں پوچھ رہے تھے، بلکہ وہ اس کے ساتھ فحش گفتگو کر رہے تھے ۔

(The Sun) دی سن اخبار نے یہ رپورٹ شائع کی ہے۔ اخبار نے لکھا کہ (Rochdale) روچڈیل کے ایم پی کے خلاف اس بات کا ثبوت ہے کہ انہوں نے چند مہینے پہلے ایک 17 سالہ لڑکی سے فحش باتیں ٹیکسٹ کے ذریعہ کی تھیں۔اس رپورٹنگ کے فوراً بعد ایم پی نے ٹویٹر پیغام جاری کرتے ہوئے لکھا کہ انہوں نے ایک بہت ہی احمقانہ حرکت کی ہے جس کے لئے وہ کافی شرمندہ ہیں۔  اس کے بعد لیبر پارٹی نے انہیں فوراً برخاست کردیا اور ان کی اس حرکت کے خلاف ایک گروپ نے احتجاج بھی کیا ہے۔ اس کے علاوہ ایم پی کے برادر نسبتی نے بھی ان کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ایم پی کے اس برادر نسبتی کو پچھلے سال اکتوبر میں پولیس عصمت دری اور مار دھاڑ کے جرم میں گرفتار کر چکی ہے۔

ان تمام باتوں کے باجود ایم پی بجائے منہ چھپانے کے اب بھی بے شرموں کی طرح گھوم رہے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ ایم پی کافی زمانے سے بچوں کے ساتھ جنسی تعلقات رکھنے والے مردوں کے خلاف مہم بھی چلا رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ مجھے روچڈیل کا ایم پی بنے رہنے کافیصلہ میری سابق بیوی اور میری گرل فرینڈ نہیں کر سکتی ۔ایم پی نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے میں اپوزیشن میرے خلاف کیچڑ اچھال رہی ہے اور میں اپنے عہدے سے استعفیٰ نہیں دوں گا۔ایم پی نے اپنے بچاؤ میں یہ بھی کہا کہ ’میں ایک ورکنگ کلاس آدمی ہوں اور میں قومی اخبار میں لکھتا ہوں ۔ میرے ورکنگ کلاس کے ساتھ میری ایک رنگین زندگی بھی ہے‘۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’اگر آپ لندن کے مئیر بورس جونسن کی مثال لیں تو وہ اِس کے بر عکس ہے کیونکہ ان کا تعلق اَپر کلاس سے ہے اور انہوں نے ایسا جو کچھ بھی کیا ہے لوگ اس کی پرواہ نہیں کرتے ہیں۔مجھے لگتا ہے کہ برطانیہ میں لوگ اب بھی کلاس سسٹم میں بٹے ہوئے ہیں‘۔

جب سے ایم پی کے خلاف (sexting scandal)سیکسٹنگ اسکینڈل کا معاملہ سامنے آیا ہے انہوں نے فوراً معافی مانگ لی ہے۔ لیکن ان کی پہلی بیوی ان کے خلاف بیان بازی سے باز نہیں آرہی ہیں۔ ایم پی کی پہلی بیوی نے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ خود ان واہیات کاموں میں ملوث ہیں۔ انہوں نے رپورٹر کو بتا یا کہ وہ خود پولیس کو یہ بتائین گی کہ کس طرح ان کے شوہر ان پر منشیات اور نشیلی عادتوں کے جھوٹے الزامات لگا کر انہیں تھیراپی کے لئے لے جاتے تھے۔ان کی پہلی بیوی نے ایم پی پر تنقید کرتے ہوئے یہ الزام بھی لگایا کہ ان کی اس حرکت سے ہمارے بچوں کو ذلّت کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں چاہتی ہوں کہ میرے بچے میرے سابق شوہر کی ذلیل حرکتوں کے بعد اپنا نام بدل لیں تا کہ ہمارے بچوں کو کوئی بھی ان کے باپ کے نام سے پہچان نہ پائے۔

ایم پی کی سابق بیوی نے ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے ایم پی پر یہ الزام بھی لگایا کہ ان کے سابق شوہر نے اسے ہمیشہ ڈرا یا دھمکایا اور بعض دفعہ نیند میں ان کے ساتھ جنسی ذیادتی کرنے کی کوشش کی تھی۔اس کے علا وہ اُن میں کئی اور بھی بُری عادتیں تھیں ۔ایم پی کی سابق بیوی نے یہ بھی بتایا کہ لیبر پارٹی کی انکوائری میں وہ ان تمام باتوں کا راز فاش کریں گی، جس کو انہوں نے اب تک چھپا رکھا تھا۔

اس سے قبل ایم پی کی سابق بیوی نے اس الزام کی تردید کی تھی جس میں ان کے سابق شوہر کو اس بات کا انکشاف کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا کہ شادی کے دوران وہ مباشرت کر رہی تھیں۔انہوں نے کہا کہ یہ بہت آسان ہے کہ وہ میری ایسی بیہودہ تصاویر ویب سائٹ پر لگا دیں تا کہ اس سے لوگ مجھے غلط سمجھنے لگیں۔اس کے جواب میں ایم پی نے اپنی سابق بیوی پر الزام لگایا کہ وہ مجھ پر بے جا الزام لگا کر میرا سیاسی کیرئیر ختم کرنا چاہتی ہیں۔ وہ مجھے جان سے مارنا چاہتی ہیں، میرے خلاف ایسے بیانات جاری کر کے میرے ایم پی ہونے کی صلاحیت کو بگاڑنا چاہتی ہیں اور میری زندگی کو برباد کرنا چاہتی ہیں۔

یہ سارا معاملہ اس وقت شروع ہوا جب (Sophena Houlihan)سوفینا ہولیہان جن کی عمر اب اٹھارہ سال ہے انہوں نے ایم پی کو ایک نوکری کے سلسلے میں رابطہ کیا تھا۔جس کے دوران ٹیکسٹ میں ایم پی نے لڑکی کو کچھ ایسے جملے لکھے تھے جن کی وجہ سے ان پر آفت آئی ہوئی ہے۔مثلاً ایم پی نے لڑکی کو لکھا کہ تم بہت سیکسی، جان لیوا اور وغیرہ وغیرہ ہو ۔

بی بی سی کے ایک انٹرویو میں ایم پی نے اس بات کی تردید کی کہ انہوں نے اس لڑکی کے ساتھ کسی قسم کا جنسی رشتہ قائم کرنے کا سوچا یا چاہا تھا۔ ایم پی نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے دورانِ ٹیکسٹ چند جملے ایسے لکھے ہیں جس سے انہیں شرمندگی ہے اور وہ اس کے لئے معافی کے طلبگار ہیں۔انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ یہ باتیں انہوں نے شراب کے نشے میں کی تھیں اور اِن دنوں انہیں شراب زیادہ پینے کی لت لگ گئی ہے۔ دریں اثنا ا یم پی نے اپنی دوسری سابق بیوی کے سا تھ اتوار کی شام اپنے علاقے کے چرچ میں حاضر ہوکر خدا سے معافی مانگنے کی ایک خاص تقریب میں شرکت کی۔ایم پی کی دوسری سابق بیوی نے ایل بی سی ریڈیو پر کہا کہ’ ان کے سابق شوہر ایک محنتی انسان ہیں اور وہ بطور ایم پی بہت عمدہ کام کررہے ہیں۔ سیاست ان کی زندگی ہے اور اس کے ساتھ انہیں خطرہ بھی ہے۔میں خوش ہوں کہ ان کو معطل کیا گیا ہے کیونکہ اس سے ان کو ایک وقفہ مل جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مجھے اس بات کا بھی یقین ہے کہ ایم پی دوبارہ واپس آئینگے‘ ۔

لیبر پارٹی کے ایک ترجمان نے بتایا کہ پارٹی کے جنرل سیکریٹری نے ایم پی سائمن ڈینشوک کو لیبر پارٹی سے معطل کر دیا ہے۔ وہیں لیبر پارٹی اس پورے معاملے کی جانچ کر رہی ہے اور جلد ہی اس کی رپورٹ منظر عام پر آئیگی۔ ایم پی نے لیبر پارٹی کے سیکریٹری کو ایک خط لکھ کر اس بات کا مشورہ دیا ہے کہ سابق لندن مئیر کین لیوِنگ اسٹون کو اس کمیٹی میں شامل نہ کیا جائے جو ان کے کے خلاف لگے الزام کی انکوائیری کرے گی۔اس سے قبل کین لیوِنگ اسٹون نے ایم پی کی حرکتوں پر سخت تنقید کی تھی۔

سائمن ڈینشوک حاضر جواب اور ایک قابل ایم پی مانے جاتے ہیں جنہوں نے لیبر پارٹی کے سابق لیڈر (Ed Miliband)ایڈ ملیِ بینڈ اورموجودہ لیڈر (Jeremy Corbyn)جریمی کوربین کی پالیسی کے خلاف متعدد بار آوازیں اٹھائی تھیں۔اس کے علاوہ روچ ڈیل میں کچھ سال پہلے کم عمر لڑکیوں کے ساتھ ناجائز تعلقات رکھنے والے مردوں کے سلسلے میں انہوں نے ایک مہم چلائی تھی جس سے ان کی مقبولیت کافی بڑھ گئی تھی۔ ایم پی سا ئمن ڈینشوک کی لیبر پارٹی سے معطلی کا مطلب یہ ہے کہ اب یہ پارلیمنٹ میں بطور آزاد ایم پی کے طور پر شریک ہوں گے۔بی بی سی کے رپورٹر کرس میسن نے کہا کہ ایم پی سا ئمن ڈینشوک کے خلاف ایسے الزام لگنا ایک حیران کن بات ہے کیونکہ یہ روچ ڈیل کے کم عمر کی لڑکیوں کے سیکس معاملے میں ملوث لوگوں کے خلاف ایک مہم چلا رہے تھے اور وہ لوگ جو ان کی حمایت میں تھے ان کو اس خبر سے شدید صدمہ پہنچا ہے۔
اب ایم پی سا ئمن ڈینشوک چاہے جتنی اپنی صفائی دیں لیکن اخبار کی رپورٹنگ اور (sexting scandal)نے ان کی تمام صفائی پر پانی پھیر دیاہے جو کہ ایک ذمہّ دار ایم پی کو ایسی بات زیب نہیں دیتی ۔

ایم پی سا ئمن ڈینشوک کی اس بات کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا ان سے یہ غلطی ہوئی ہے۔ غلطی چاہے چھوٹی ہو یا بڑی غلطی ہی ہوتی ہے۔ پھر ایک ایم پی جس کوہزاروں لوگوں نے اپنا نمائندہ چن کر پارلیمنٹ بھیجا ہے، اگر وہ ایسی بیہودہ حرکت کرے گا تو لوگوں کا یقین اور اعتبار ایسے شخص سے اُٹھ جاتا ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ انکوائری کا کیا نتیجہ آتا ہے۔ نتیجہ چاہے کچھ بھی ہو ایم پی سا ئمن ڈینشوک کی بیہودہ حرکت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ ایک بے شرم ایم پی ہیں جو سماج اور ملک دونوں کے لئے ایک دھبہّ ہے۔