نظام چلتا رہے گا

عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف نے 2013ء کے انتخابات سے قبل لاہور میں اپنے ایک جلسے میں اپنی مقبولیت کا لوہا منوایا۔ اس کے بعد 2013ء کے انتخابات میں وہ پاکستان تحریک انصاف کو ایک بڑی پارٹی کی حیثیت سے منوانے میں بھی کامیاب ہوگئے۔ اس کے نتیجے میں پی ٹی آئی صوبہ خیبرپختونخوا میں حکومت، پنجاب میں اپوزیشن جماعت اور مرکزی ایوان میں عملی طور پرحزبِ اختلاف کی جماعت بن گئی۔

یہ کسی بھی سیاسی جماعت کے لئے ایک بڑی کامیابی قرار دی جا سکتی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کا 2013کے انتخابات میں ابھرنا پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کوئی کم حیثیت نہیں رکھتا۔ لیکن دلچسپ اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ 2013ء کے انتخابات کے بعد عمران خان کو جس سیاسی تدبر کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا، وہ اس میں بری طرح ناکام ہوئے۔ انہوں نے سیاسی عمل میں اپنی جماعت کو Confrontation میں ڈال کر یہ یقین کیا کہ وہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو الٹ کر ایک نیا نظام قائم کر دیں گے، جس کو انہوں نے ’’تبدیلی‘‘ سے تعبیر کیا۔ اسی لئے انہوں نے 2014ء میں دھرنے کا فیصلہ کیا۔ اسلام آباد میں دھرنا جو درحقیقت یوکرائن، جارجیا اور دیگر ممالک میں امریکی سی آئی اے کے ڈیزائن کردہ ’’ انقلابات ‘‘ کی عکاسی کرتا تھا، پر عمل کرکے سیاسی کامیابی کی بجائے سیاسی شکست کا آغاز کیا۔ امریکیوں نے چند سابق سوویت ریاستوں میں سی آئی اے کی سرپرستی میں ایسے انقلابات منظم کئے تھے۔ اس طرح طے کردہ ممالک کے دارالحکومتوں میں لوگوں کے احتجاج کے ذریعے حکومت کو گرایا گیا۔ ان میں یوکرائن کا پہلا نام نہاد انقلاب2004ء میں Orange Revolution، پھر 2014ء میں Revolution of Honor، اور جارجیا میں2004ء ایڈورڈ شیورڈز ناڈزے کی حکومت کا تختہ الٹنے والا نام نہاد انقلاب Rose Revolution سرفہرست ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف نے بھی اس سے ملتی جلتی حکمت عملی پر عمل کرتے ہوئے اسلام آباد میں لوگوں کو اس وقت تک اکٹھا کرنے کا فیصلہ کیا کہ جب تک مسلم لیگ (ن) کی حکومت ختم نہ ہوجائے۔  اس کے لئے انہوں نے خود ایسے اشارے دیئے کہ پسِ منظر کی قوتیں ان کے ساتھ ہیں۔ جمہوریہ چین کے صدر کا دورہ پاکستان بھی اسی دھرنے کی نذر ہؤا۔

پاکستان تحریک انصاف کا دھرنا126دن تک جاری رہنے کے بعد پسپا ہؤا۔ بدلتے علاقائی اور عالمی حالات درحقیقت اس دھرنے کے لئے سازگار ثابت نہ ہو سکے۔ میری ذاتی اطلاع کے مطابق دھرنے کے دوران ایک وقت پاکستان کی اعلیٰ شخصیت نے ایک دوست ملک کے سربراہِ حکومت کو تیس منٹ فون کال کرکے وزیراعظم پاکستان میاں نوازشریف کی طویل رخصت کے بارے میں گفتگو بھی کی۔ لیکن بدلے ہوئے علاقائی حالات نے ان منصوبوں کو خاک میں ملا دیا۔  اس منصوبے کی ڈیرائٹنگ ان طاقتوں نے کی تھی جو اسلام آباد میں یوکرائن، کرغیزستان اور جارجیا جیسی تبدیلی کے خواہاں تھے۔ عوامی جمہوریہ چین کا خطے میں بڑھتا ہؤا معاشی پھیلاؤ یقیناً اس کے سٹرٹیجک مفادات سے بھی جڑا ہؤا ہے اور پاکستان سفارتی حوالے سے عوامی جمہوریہ چین کے لئے دنیا کے پندرہ اہم ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ مستقبل میں عوامی جمہوریہ چین، مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے سنگم پر واقع اس ملک میں اہم معاشی اور سٹرٹیجک Investments کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ لہٰذا پاکستان تحریک انصاف، اسلام آباد میں دھرنے کے بعد جس پسپائی کا شکار ہوئی، اس میں آئے روز تیزی آرہی ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل نصیر خان جنجوعہ کی بحیثیت وزیراعظم پاکستان مشیر قومی سلامتی کی نامزدگی خطے کی بدلتی صورتِ حال اور پاکستان میں چین کے مفادات کے حوالے سے ہی ہوئی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ عملی سیاست کے تقاضوں کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے انتخابات کے ذریعے لوگوں کے ووٹ سے بننے والی اسمبلیاں پاکستان میں نظام کو انقلابی طرز پر بدل سکتی ہیں، وہ لوگ پاکستان میں رائج کالونیل ڈیموکریسی اور کالونیل ریاستی ڈھانچے کا ادراک نہیں رکھتے۔ ’’جاری جمہوریت‘‘ انقلابی تبدیلی تو نہیں لا سکتی لیکن معروضی حالات میں ایک مناسب نظامِ سیاست ہے۔ یہ پاکستان کی سات دہائیوں کا سیاسی تجربہ ہے۔ پاکستان تحریک انصاف آج جس مقام پر کھڑی ہے، اگر وہ لوگ ان معروضی حقائق کا ادراک رکھتے اور سیاسی عمل کے اندر اپنا کردار طے کرتے تو یقیناً وہ پاکستان کے سیاسی عمل اور عوامی خدمت میں بہتر کارکردگی کرسکتے تھے۔ آج کل پاکستان تحریک انصاف اکھڑی اکھڑی اور مایوسی کاشکار نظرآتی ہے اور اگر حالات اسی طرح جاری رہے تو آئندہ انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف فیصلہ کن قوت حاصل کرنے والے ووٹ حاصل نہ کر پائے گی۔ لیکن یہ یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ وہ مسلم لیگ (ن) کو Tough time دے گی۔

البتہ یہ نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان پیپلزپارٹی آئندہ انتخابات میں انتخابی کارکردگی میں اضافہ کرپائے گی یا نہیں۔ لیکن ایک چیز صاف نظر آرہی ہے کہ موجودہ نظام اپنی خامیوں اور خوبیوں کے ساتھ چلتا رہے گا۔ میاں نوازشریف نے بھی اقتدار کی سیاست کے کئی سبق سیکھے ہیں۔ تیسری بار وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے بارے میں ان کی حکومت جس قدر متحرک نظر آئی تھی، اس میں بھی بہت کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے بھی Given Situation میں اپنا کردار طے کرلیا ہے۔