ترکی اور پاکستان ۔۔۔ لازم و ملزوم
- تحریر ڈاکٹر خلیل طوقار
- اتوار 10 / جنوری / 2016
- 5758
ترکی اور پاکستان، دو دوست اور برادر ملک۔ دو ایسے ملک جن کے تعلقات مفادات کی وقتی ضروریات پر نہیں، دلی بندھن سے جڑےہوئےہیں جنہیں توڑنا کافی مشکل ہے۔ اِن دو برادر ملکوں کے لوگ خود اپنی تاریخ کے مشکل مراحل سے کیوں نہ گزرتے ہوں لیکن جب اپنے بھائی کے سر پر ناگہانی مصیبت آن پڑی تو وہ اپنے بھائیوں کا ہر ممکن تعاون کرنے پر تیار ہوئے ہیں۔ پھر یہ دیکھ کر انسان کے ذہن میں یہ سوال اُٹھتا ہے کہ اِن دونوں ملکوں کے باشندے ایک دوسرے سے اِتنا پیار کیوں کرتے اور ایک دوسرے پر اِس قدر مہربان کیوں ہیں؟
اِس سوال کا جواب ایک لحاظ سے بہت آسان ہے اور ساتھ ساتھ بہت مشکل بھی۔ کیونکہ عام طور پر بھائی چارہ کے تعلقات کی تشریح کرتے وقت محققین اِن تعلقات کے مذہبی، تاریخی ، تہذیبی، ثقافتی، لسانی اور سماجی اسباب پر زور دیتے ہیں ۔ مگر اِس طرح کی تشریحات پیش کرتے ہوئے ہم شاید غور ہی نہیں کرتے کہ دونوں ملکوں کے باشندوں کے تحت الشعور کچھ ایسے سیاسی، ملٹری، جغرافیائی اور اقتصادی انکوڈز encodes ہیں جنھیں بخوبی سمجھے بغیر اِن تعلقات کے تاریخی پس منظر کا اور بالخصوص دنیا کی سیاست میں اِن کی موجودہ صورتحال کا تجزیہ کرنا ناممکن ہوجاتاہے۔ در اصل جن انکوڈز یا انکوڈنگ کے تجزیہ پر ہم دونوں ملک، پاکستان اور ترکی کے تجزیہ کار، دانشور اور صحافی غور نہیں کرتے اور بلکہ لاشعوری کے عالم میں جنہیں ہم نظرانداز کرتے ہیں وہ انکوڈز اُن طاقتوں کی سمجھ میں کب کے آچکے ہیں جو عالم اسلام کو اپنا نشانہ بناکر اُس کی قطع و برید کرکے مسلمان ملکوں کے نقشے بدلنے میں مصروف ہیں۔ ایک اعلان شدہ سازشی آپریشن جو شروع کرایا گیا ہے اُس کونہ دیکھنے کی خاطر ہم مسلمان مصر رہتے ہیں۔ یعنی ہم اپنی آنکھوں میں پٹیاں باندھ کر مختلف مسلمان ممالک کو جلتے ہوئے اور برباد ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں اور یہ انتظار کرتے ہیں کہ ہماری باری کب آئے گی ۔
بہر کیف سب سے پہلے ہم آتے ہیں اِن انکوڈز ، انکوڈنگ یا ہماری ڈی این اے DNAمیں مرقوم شدہ رموزوں کی تصویر کی جانب جو ترکی اور پاکستان کےبھائی چارہ کو مضبوط بنانے میں کارآمد ہیں اور اِن دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم قرار دیتے ہیں:
سب سے پہلے قارئین کرام سے گزارش ہے کہ وہ دنیا کا نقشہ کھول کر دیکھیں۔
تاریخی واقعات کا نتیجہ کہئے یا اللہ تعالیٰ کی پلاننگ کی تجلّی ، ترکی اور پاکستان کو دنیا کے نقشے میں ایسی جگہوں پر پائیں گے جس کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔ ترکی عالم اسلام کے مغربی سرحد پر اور پاکستان عالم اسلام کے مشرق پر۔ یہ ایک ایسا کوڈ ہے جس کی وجہ سے ہم سیکولر یا غیراسلامی خیالات کے مالک کیوں نہ ہوں پھر بھی ضرورت کے وقت یہ انکوڈ ہمیں ہم مذہب بھائیوں کی حفاظت یا دفاع پر لاشعوری طور پر تیار کرتا ہے۔ اِسی وجہ سے ترکی اور پاکستانی قوموں میں مسلمانوں کی ہمدردی بدرجہ اتم موجود ہے جو دوسری مسلمان قوموں میں نسبتًا کم ہے۔
دوسرا کوڈ اِن دونوں ملکوں کا ملٹری پس منظر ہے۔ دونوں ملکوں کے باشندے فاتح قوموں کی نسلوں سے ہیں۔ ہرچند آخری صدیوں میں اُنھیں اندرونی چپقلشوں اور نالائق سلاطین اور حکمرانوں کی وجہ سے شکست و ریخت سے دوچار ہونا پڑا ہے مگر پھر بھی اُن کی DNA ڈی این اےمیں اب تک موجود ہے۔ یعنی باہری حملوں سے مقابلہ کرنے، جد و جہد جاری رکھنے اور شکست کھانے کے باوجود پھر سے سنبھلنے کی صلاحیت کا کوڈ۔ اِس انکوڈ کی وجہ سے دونوں ملکوں کی فوجیں اندرونی سیاسی صورتحال جو بھی ہو، محکم اور مضبوط ہیں۔ ترکی اور پاکستان کے ساتھ ساتھ جنگی صلاحیت کا حامل ایک اورمسلم ملک ایران ہے۔ مگر ایران کی ترجیحات اور وفاداریاں وہ نہیں جو ترکی اور پاکستان کی ہیں۔ در اصل ترکی اور پاکستان کی فوجی طاقت اور صلاحیت عالم اسلام کے لئے خوش آیند بات ہے۔مگر عالم اسلام کے نقشے کو اپنے مفادات اور خواہشات کے مطابق نئے سرے سے بنانے کی خواہشمند طاقتوں کے لئے یہ ناقابل قبول امر ہے۔ اِس لئے اِس انکوڈنگ کی ڈسکوڈنگ discoding کرنے کی غرض سے وہ مسلسل بر سر پیکار ہیں۔
تیسرا کوڈ یہ ہے کہ اِن دونوں ملکوں کو کبھی بھی اپنی بیک سائیڈ کو مضبوط اور محفوظ محسوس کرنے کی فرصت نہیں ملی ہے۔ اگر ہم ترکی اورپاکستان کو عالم اسلام کے دو سرحدی ملک مانتے ہیں تو ظاہر ہے کہ اِن کے درمیان میں موجود ملک یعنی ایران کو اِن دونوں ملکوں کی پیٹھ پر موجود سمجھنا ناگزیر ہوتا ہے۔ کیونکہ اِن دونوں ملکوں کے درمیان میں ایران ہے اور ایران شاہ اسماعیل صفوی سے لے کر آج تک اپنی سیاسی، تجارتی اور ملٹری ترجیحات میں سنّی اکثریتی ممالک جن میں ترکی اور پاکستان بھی شامل ہیں، کو ہمیشہ نظراندازکرکے اِن ملکوں کے مخاصموں میں اضافہ چاہتا ہے۔ اِس امر کا ثبوت تو اِن تینوں ملکوں کی تاریخ کے ہر مرحلے اور ہر اہم موڑ پر آپ کو دکھائی دے گا اور تاریخ تو چھوڑئیےآج کی صورتحال مشاہدہ کیجئے۔ سب کچھ ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ یہ کہنا کافی ہے کہ امریکن ناکہ بندیوں کے دوران امریکہ کی دھمکیوں کے باوجود ترکی حکومت نے ایران کا ساتھ نہیں چھوڑا ، نہ ہی اُس نے ایران سے اقتصادی تعلقات کو ختم کیا۔ مزید بر آں ترکی حکومت نے امریکہ اور ایران کے درمیان برازیل کے ساتھ مل کر ثالثیت کی کوششیں جاری رکھیں۔ مگر اِس کے باوجود ایران نے روس سے مل کر شام میں رضاکار بھیجنے میں اور سنّی عرب اور ترکمن شامی مخالفوں کو اسد اور روس کی فوج کے ساتھ مل کر نیست و نابود کرنے میں ایک پل بھی تامل نہیں کیا۔ اور جب روسی لڑاکا طیارہ ترکی فضائی حدود کے اندرگرایا گیا تو ایران نے روس کا ہمنوا بن کر جو قدرتی گیس ترکی بھیج رہا تھا اُس کی مقدار کو کم کردیا ۔ حالانکہ روسی قدرتی گیس اتھارٹی Gazprom نے خود اعلان کردیا تھا کہ وہ ترکی کو جو گیس کی سپلائی کرتی ہے اُس میں کسی طرح کی کمی نہیں کرے گی۔ کیونکہ اِس میں روس کا فائدہ ہے جس کے اقتصادی حالات کافی خراب ہیں۔
ایران کی ترجیحات کو دیکھنے کے لیے اگر پاکستانی تجزیہ کار اپنی سیاسی تاریخ کو ذرا تحقیقی نظر سے مطالعہ کریں تو اُن کو اِس سلسلے میں کافی معلومات ملیں گی۔ مختصر اپنے آپ کو پیچھے کی جانب سے محفوظ محسوس نہ کرنا بھی ایک ایسا کوڈ ہے جو دونوں ملکوں کے لوگوں کے تحت الشعور میں کارفرما ہے۔
یہاں تک جو انکوڈنگ کی بات ہورہی ہے اِس کی فہرست میں بہت سی شقوں کا اضافہ کیا جاسکتا ہے مگر یہاں اِس کی گنجائش نہیں۔
مختصر یہ انکوڈنگ، یعنی مختلف اسباب اور عناصر کو جو ہمارے تحت الشعور میں نقش ہے، لیکن ہم انہیں سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں یا شاید اِس سے متعلق ہم " تجاہلِ عارفانہ" (یعنی ایک حقیقت کو جانتے اور سمجھتے ہوئے بھی نہ سمجھ بننے کی کوشش) اختیار کرتے ہیں۔ یہ ہمارے اپنے ملکوں کے لئے بہت ہی خطرناک نتائج کا حامل ہوسکتا ہے۔ کیونکہ ہمارے بر عکس جو ملک عالم اسلام کے نقشے کو تبدیل کررہے ہیں، اُن کو اِس انکوڈنگ یا اسرار و رموز کی تصویر کا بخوبی علم ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ:
دونوں ملکوں کی سرحدوں میں خطرناک آتش فشاں پیدا کئے گئے ہیں، جن کے لاوا سے دونوں ملک اب تک جل کر راکھ بنے نہیں مگر ضروری احتیاطی تدبیریں نہیں کی گئیں تو بننے کا امکان ہے۔ پاکستان کے شمال میں افغانستان اور ترکی کے جنوب میں عراق اور اب شام کے آتش فشاں ہیں۔ افغانستان، عراق اور شام میں موجود غیریقینی کی حالت، پُرتشدد ماحول اور عسکریت پسند گروہوں اور دہشت گردوں کے لئے زرخیرزمینیں نہ صرف اُن ملکوں کے لئے بلکہ ترکی اور پاکستان کے لئے بھی بہت نازک صورتحال پیدا کرتی ہیں۔ اسی وجہ سے اِن دونوں ملکوں کے ارباب اقتدارکے ذہن اپنے اندرونی مسائل، اقتصادی اور تجارتی ترقی اور اپنے اپنے ملکوں کی بہتری اور بہبود میں مصروف عمل رہنے کے ساتھ ساتھ اِن باہری مصیبتوں سے اپنے ملکوں کو محفوظ رکھنے کی تلاش میں اُلجھے رہتے ہیں۔ یعنی آگے چل کر عالم اسلام کی قیادت کرنے کی صلاحیت رکھنے والے دونوں ملکوں کے چار اطراف سے محاصرہ کیا گیاہے۔
غیر یقینی کی حالت سے اپنے اپنے ملکوں سے فرار کرکے ترکی اور پاکستان آنے والے بے چارے مہاجرین نہ چاہتے ہوئے بھی اِن دونوں ملکوں کے اقتصادی توازن میں خرابی پیدا کرتے ہیں۔ وہ بے چارے مہاجر کیا کریں؟ ظاہر ہے کہ وہ اپنے گھر بار اور شہر و ملک خوشی خوشی چھوڑکر ہمارے ملکوں میں پناہ گزیں نہیں ہوتے اور اُن کا یہ مقصد ہرگز نہیں ہوتا ہے کہ وہ ہمارے ملکوں کے اقتصاد کو خراب کریں۔ لیکن جوبڑی طاقتیں اُن کے ملکوں کا نظام اُلٹ کر اُن میں جنگ کی صورتحال پیدا کرچکی ہوتی ہیں اُن کا ایک مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ ہمارے ملکوں کو بھی اِس لحاظ سے کمزور کریں۔ ورنہ ترکی کو تمام شامی مہاجروں کو ترکی میں پناہ دینے کا صلاح و مشورہ دینے والے مغربی ممالک اپنی سرحدوں پر مہاجروں کو روکنے کے لئے خاردار تار کیوں لگاتے ہیں اور اپنی فوج اور پولیس مہاجروں کو روکنے کے لئے تعینات کیوں کرتے ہیں؟
علاوہ برین یہ مبینہ طاقتیں ترکی اور پاکستان کے اندر دہشتگردی کو ذریعہ معاش بنانے والے مسلح گروپوں کوآلہ کار بناکر دونوں ملکوں کی فوج کو ملک سے باہر کے واقعات سے دُور رکھتے ہیں اور اُن کی طاقت اور تجربہ کار یونٹوں کو اندرونی تصادم سے نقصان پہنچاتے ہیں۔ جس سے ایک تو ہمارے ملکوں کو بہت بھاری مالی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے اور دوسرا فوج کے آپریشنز کے دوران اپنے اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہونے والی علاقائی آبادی کے اندر بے چینی اور ناراضگی کے احساسات جنم لیتے ہیں، جن کے سبب سے مستقبل میں ملک کے اتحاد کے لیے خطرات جنم لے سکتے ہیں۔ اِس کام کے لئے تو مبینہ طاقتوں کو مناسب آلہ کار ملے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں طالبان جو اسلام کا نام لے کر حملہ کرکے مسلمانوں کو مارتے ہیں اور ترکی میں پی کےکے والے جو کُردوں کے حقوق کا نعرہ لگاکر اکثر کُرد باشندوں کو قتل کرتے اور کُرد اکثریتی علاقوں کو خالی کرواتے ہیں۔
اِس انکوڈنگ کے اسرار سے واقف مبینہ طاقتیں صرف اِن دونوں ملکوں کے اپنے اپنے اندرونی حالات بگاڑنے میں مگن نہیں ہیں بلکہ وہ اِس سے بھی آگے چل کر اِن دونوں ملکوں کے اتحاد اور اتفاق سے جومثبت نتائج حاصل ہوسکتے ہیں اُن سے بھی واقف ہیں۔ وہ اِن دونوں ملکوں کو ایک دوسرے سے دُور کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ پاکستان میں ہر آئے دن ترکی، ترکی کے صدر رجب طیب ایردوغان اور ترکی کی حکمران پارٹی آق پارٹی کے خلاف ٹی وی چینلز اور اخباروں میں جو افواہوں اور الزامات پر مبنی خبریں شائع ہوتی رہتی ہیں وہ اِس ڈسکوڈنگ کی کوشش کا اظہر من الشّمس ثبوت ہیں۔ یہ لوگ کبھی ترکی کے صدر کو خلافت کے خواب دیکھنے والے ایک ایڈونچررکی صورت میں، کبھی اُن کے بیٹے کو چوری چکاری کرنے والے ایک مفادپرست کی صورت میں پیش کرتے ہیں۔ اور کبھی ترکی حکومت کو امریکہ کی غلام، کبھی داعش سے تیل خرید کر بیچنے والے غنڈے کی طرح پیش کرتے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے ایک لمحہ عقل کے ناخن استعمال کرکے تحقیق کرنے کی سعی نہیں کرتے۔ کیا یہ مغربی مڈیا میں یا ترکی کے کچھ غیر ذمہ دار اور سو فی صد جانبدار میڈیا گروپس کے اخباروں میں شائع ہونے والی خبریں صحیح بھی ہیں کہ نہیں؟
ترکی میں وہ میڈیا گروپس اور اسلام دشمنی میں کمال تک پہنچے ہوئے خاص خیالات کے لوگ جو ترکی کی موجودہ حکومت اور صدر سے اِس قدر نفرت کرتے ہیں کہ بلا سوچے سمجھے وہ بھاگے بھاگے روس جاکر روسی سرکاری ٹی وی میں یہ بیان دیتے ہیں کہ ترکی حکومت داعش کو سارن گیس بیچتی ہے ۔ در حقیقت وہ خود کو بھی ذلیل کرتے ہیں۔ مخالف پارٹی کے ممبر نے جب روس میں یہی بیان دیا تھا تو اِس بیان کو سن کر روسی بھی حیران تھے۔ روسیوں کو یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ یہ کیا بکواس کررہا ہے۔ پھر اُن میڈیا گروپس میں ایسے صحافی بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ اگر ترکی اور ایران کے درمیان جنگ ہو تو ہم ایرانی فوج میں شامل ہوکر ترکی کے خلاف جنگ لڑیں گے۔ اب نفرت اور بغض کی سرحدوں کو بھی پارکرکے گزرنے والے اِن جیسے صحافیوں، سیاستدانوں یا تجزیہ کاروں کے کالموں کو اردو میں ترجمہ کرکے اخباروں میں شائع کرانےکو معروضی عقلیت کے کس حصے میں رکھ سکتے ہیں؟ یہ ذرا غور طلب ہے۔
یعنی ایک ناپید ہاتھ کے ذریعے پاکستان میں ترکی کے خلاف برین واشنگ کا سلسلہ جارہی ہے اور یہ ہاتھ کبھی سیکولر طبقوں کو ترکی صدر اور حکومت کو ترکی میں سیکولرزم کو ختم کرنے اور خلافت کو قائم کرنے کے الزامات سے برانگیخت کرتا ہے اور کبھی پاکستان میں ترکی نجکاری کو ہدف بناکر غیرسنجیدہ اعداد و شمار پیش کرکے پاکستانی حکومت اور ترکی حکومت کےاقتصادی اور تجارتی ہمکاری اور مشترکہ اقدامات کو مشتبہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اِس کے بر عکس ترکی میں پاکستان کے خلاف منفی تنقید کی زبان استعمال کرنے والی کسی طرح کی تحریر یا کالم دیکھنا بہت مشکل ہے۔ کیونکہ ترکی کا اسلامی میڈیا جو کہلا تاہے اُس میں شامل اخبار وں اور ٹی وی چینلز میں پاکستان کے خلاف خبریں ویسے بھی نشر نہیں ہوتیں۔ اوپر سے آق پارٹی حکومت کے بر سر اقتدار آنے سے پہلے سیکولر میڈیا میں پاکستان کی اسلامی تحریکوں کو مدنظر رکھ کر جو منفی انداز کی خبریں شائع ہورہی تھیں وہ بھی اب تقریباً ختم ہوگئی ہیں۔
میں اپنے پاکستانی صحافی دوستوں کوملاقات کے دوران یہ مشورہ دیتا ہوں کہ آج کل دنیا میں جو خطرناک صورتحال ہے اور ترکی اور پاکستان جس طرح محاصرے میں لئے گئے ہیں، اِس محاصرے کو توڑکر باہر نکلنے کے لئے اِن دونوں دوست اور برادر ملکوں کو ایک دوسرے سے مل کر، ہمکاری اور تعاون کے امکانات کو تلاش کرنا اور تسلسل کے ساتھ یکجہتی سے جد و جہد کرنا ہے۔ اب زمانہ سیکولرازم یا مذہبیت، فرقہ یا طریقت اور دائیں بائیں بازو کی لڑائی کا نہیں رہا ہے۔ کیونکہ اب ہم جس آگ کے دائرے میں پھنسے ہوئے ہیں، اگر ہم اندرونی تصادم کو جاری رکھیں گے اور اپنے سیاسی خیالات کی بنیاد پر اپنے دوستوں کو دشمن سمجھیں گے تو وہ آگ ایک دن ہم سب کو اپنی گرفت میں لے لے گی۔ اور اِس سے کسی بھی طرح کے سیاسی خیالات کے مالک لوگ نہیں بچ سکیں گے۔ عراق میں دیکھئے، شام میں دیکھئے اور افغانستان میں دیکھئے۔ اُن ملکوں میں مذہبی بھی، سیکولر بھی، بے سبب مارے جاتے ہیں ۔ لہٰذا ہزار دفعہ سوچ اور ایک دفعہ بول تاکہ بعد میں پچھتاہٹ کا سامنا نہ ہو۔
ترکی اور پاکستان، دو دوست اور برادر ملک ہیں۔ ہماری تاریخ، مذہب، تہذیب اور ثقافت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور پھر ہمارے تحت الشعور میں انکوڈنگ بالکل ایک جیسی ہے۔ یعنی در اصل ہم دو الگ جسم نہیں واحد جسم کے دو عضو ہیں۔ اِس حقیقت کو جانتے ہوئے دونوں ملکوں کے سیاستدانوں سے لے کر عام باشندوں تک کو اس اتحاد کے شعور کو تقویت دینا لازمی ہے۔ اِس سے بھی بڑھ کر اقتصادی، تجارتی، عسکری اور تعلیمی مختصر یہ کہ ہر ممکن میدان میں ایک اتحاد اور ہمکاری کو پھیلانا ہم سب کا فرض ہے۔ کیونکہ اِسی میں دونوں ملکوں کے لئے بے شمار مفادات موجود ہیں۔ لہٰذا میں کہتا ہوں کہ ترکی اور پاکستان ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ اِن دونوں ملکوں میں ایک دوسرے کی کمزوریوں کو پورا کرنے کی صلاحیت اور طاقت ہے اور اِس صلاحیت اور طاقت کی قدر و قیمت جاننا لازم ہے۔
(ڈاکٹر خلیل طوقار استنبول یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے سربراہ ہیں۔ وہ پاکستان اور مسلم امہ سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔ اس مضمون میں ظاہر کئے گئےخیالات سے ادارہ کاروان کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے)