جرمنی میں نئے سال پرجنسی حملے
- تحریر منور علی شاہد
- سوموار 11 / جنوری / 2016
- 4386
جب کہ پوری دنیا میں سال نو کی تقریبات عروج پر تھیں جرمنی کے چوتھے بڑے شہرکولون کے مرکزی ریلوے اسٹیشن پر خواتین پر اجتماعی جنسی حملوں نے سب کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا۔ جرمنی ایسی سوسائٹی میں جہاں قانون کی بالا ستی ہے وہاں ایسے کسی ایک واقعہ کا ہونا بہت ہی حیرانی اور دکھ کا باعث ہوتا ہے۔
بیک وقت کئی سو خواتین کے ساتھ جنسی بدسلوکی کے واقعہ کا ہو جانا یقینی طور پر ایک غیر معمولی واقع ہے۔ یہ حرکت ان لوگوں کی طرف سے کی گئی ہے جن کو جرمنی نے مشکل وقت میں پناہ دی تھی۔ یہ ایسی احسان فراموشی ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ یقینی طور پر اس قسم کے غیر قانونی اور غیر اخلاقی حرکات کی کسی بھی مہذب معاشرے میں کوئی گنجائش نہیں ہوتی اور اس گھناؤنے جرم کا ارتکاب کرنے والے سخت سزا کے مستحق ہیں۔اب جب کہ اس واقعے کو دو ہفتے ہونے کو ہیں عالمی میڈیا میں اس واقعہ پر ابھی بھی بہت کچھ کہا جا رہا ہے۔ جرمنی کے اندر بھی اس پر شدید ردعمل دیکھنے میں آرہا ہے۔ تازہ ترین واقعہ یہ ہے کہ کولون کی پولیس کے سربراہ وولف گانگ البیرز کو قبل ازوقت ریٹائرڈ کر دیا گیا ہے۔
اخباری اطلاعات کے مطابق جرمن صوبے نارتھ لائن ویسٹ فیلیا کے وزیر داخلہ نے جمعہ کی شام میڈیا کو بتایا کہ سال نو کے موقع پر کولون کے مرکزی ریلوے اسٹیشن کے ارد گر سینکڑوں خواتین کو جنسی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے اور چھیڑ چھاڑ کی گئی۔ ان سے قیمتی اشیاء چھین لی گئیں۔
حالات حاضرہ کے حوالے ڈی ڈبلیو کی شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق پولیس کو اب تک500 کے قریب شکایات وصول ہو چکی ہیں۔ ان جنسی حملوں کا شکار ہونے والی بعض خواتین نے تفصیلات بتاتے ہو ئے حکام کو بتایا کہ ہم پر حملے کرنے والا ایک ہزار کے قریب مردوں پر مشتمل گروپ تھا . ان مردوں کی شناخت کے بارے میں بتاتے ہوئے متاثرہ خواتین کا کہنا تھا کہ یہ حملہ آور عرب یا شمالی افریقی خطے کے تھے ۔ یہ سب چھوٹے چھوٹے گروپوں کی صورت میں آتے تھے اور کسی لڑکی کے گرد گھیرا ڈال کر ان پر جنسی حملے کے ساتھ ساتھ ان سے قیمتی چیزیں چھیننے کی بھی واردتیں کرتے رہے۔ اس موقع پر کولون کی خاتون مئیر کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ شہری انتظامیہ کسی بھی صورت کسی بھی علاقے کو لاقانونیت کا شکار نہیں ہونے دے گی۔ اس واقعہ کے فوری بعد خاتون مئیر نے شہر کے پولیس حکام کے ساتھ ہنگامی بات چیت بھی کی تھی۔ یاد رہے کہ کولون کی موجودہ خاتون مئیر کو اکتوبر2015میں اس وقت عالمی شہرت ملی تھی ، جب انتخابی مہم کے دوران مہاجرین مخالف نظریات رکھنے والے ایک شخص نے ان پر چاقو سے حملہ کرکے ان کو زخمی کردیا تھا۔
جنسی بدسلوکی کے ان اجتماعی واقعات نے ہر خاص و عام کو غم زدہ کر دیا ہے ۔ ایک مرتبہ پھر پورے جرمنی میں تارکین وطن موضوع گفتگو بنے ہوئے ہیں۔ اسلام مخالف تنظیموں کو ایک بار پھر موقع ملا ہے اور وہ اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ مختلف جگہوں پر مظاہرے کئے جا رہے ہیں۔انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعت کے سربراہ نے اس واقعہ پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے یہ حملے پناہ گزینوں کو جانچ کے بغیر جرمنی آنے کی اجازت دینے کے باعث رونما ہوئے ہیں ۔ یہ سب کچھ تارکین وطن کے بارے میں اختیار کی گئی پالیسی کا نتیجہ ہے۔ جرمنی کے علاوہ پورے یورپ میں اس واقعہ کی مذمت کی جا رہی ہے۔ یورپی ملک سلوواکیہ کے سربراہ نے اس واقعہ پر یورپین یونین کا ہنگامی اجلاس بلانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ جرمنی میں خواتین کو جو مقام و احترام اس کی سوسائٹی، کلچر اور قانون کے ذریعے حاصل ہے اس کے تناظر میں کہیں بھی جنسی زیادتی کا ایک واقعہ ہو تو اس پر شدید ردعمل ظاہر ہوتا ہے۔ اسی لئے جرمنی کے قانون میں قتل سے زیادہ سخت سزا ریپ کی مقرر ہے تاکہ مزید خواتین کو ایسے جنسی حملوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔
اس افسوسناک واقعہ پر جرمنی کی خاتون چانسلر انجیلا میرکل سمیت اعلیٰ قیادت نے بھی شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انجیلا میرکل نے اپنے ایک بیان میں اس واقعہ کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس واقعہ کے بعد پناہ گزینوں کو قربانی کا بکرا نہ بنایا جائے۔ جرمنی کی چانسلر نے کولون کی خاتون مئیر سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے ان منظم جنسی حملوں پر دکھ و غم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں ریاست کی طرف سے سخت ردعمل دکھانے کی ضرورت ہے۔ میرکل کے ترجمان کے مطابق مئیرسے بات چیت کرتے ہوئے چانسلر نے مزید کہا کہ ملزمان کی قومیت اور پس منظر سے قطع نظر ان کی جلد از جلد شناخت کی جائے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا کیا جائے۔ اس وقت پولیس پوری تندہی کے ساتھ اس منظم واقعہ کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔
پولیس نے عینی شاہدین اور متاثرہ خواتین کے بیانات کی روشنی میں ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ حملہ کرنے والوں کی عمریں بیس اور تیس برس کے درمیان کی تھیں۔ بعض خواتین نے مختلف میڈیا کے سامنے ان جنسی حملوں کے بارے میں تجربات بھی بیان کئے ہیں جن سے بہت کچھ اخذ کیا جا سکتاہے۔ ڈی ڈبلیو کی شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اٹھائس سالہ کاٹیا نے بتایا کہ وہ اپنی تین سہیلیوں کے ساتھ کولون ریلوے سٹیشن کے باہر موجود تھی کہ غیر ملکی مردوں نے انہیں گھیر لیا ۔ مجھے دبوچ لیا گیااور میرے جسم کے ہر حصہ کو چھونا شروع کردیا ۔ یہ سب بہت بھیانک تھا ۔ میں نے چیخنا چلانا شروع کردیا ۔ لیکن وہ لڑکے نہیں رکے۔اسی طرح ایک تیس سالہ جرمن خاتون نے جرمن ٹیلی ویژنN24 کو بتایا کہ بظاہر عرب دکھائی دینے والے مردوں نے اسے گھیر کر چھیڑخانی شروع کردی اور وہ لوگ کچھ نشے میں بھی تھے تا۔ہم ان میں جارجیت سے زیادہ تجسس کا پہلو زیادہ دکھائی دیتا تھا۔
اپنی نوعیت کے اس افسوسناک جنسی اجتماعی واقعہ پر اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر انصاف ہائیکو ماس نے اس واقعہ کو ایک نئی صورت کا جرم قرار دیا ،جو بہت منظم اور باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان حملوں کو تارکین وطن کے مسئلے کے ساتھ جوڑنا موقع پرستی ہے۔ وزیر انصاف کے مطابق یہ بات اہم نہیں کہ حملے کرنے والے کون تھے، اصل بات یہ ہے کہ انہوں نے ایسا جرم کیوں کیا۔