ڈاکٹر کلیم قیصر کی بیر بہوٹی

غالب ؔ کا خیال ہے :
آتے ہیں غیب سے مضامیں خیال میں
غالب صریر خامہ نوائے سروش ہے
شعر کہنے اور شعر لکھنے میں بہت فرق ہے۔ شعر کہنا غالبؔ کے قول کے مترادف ہے جبکہ شعر لکھنا عروض و قواعد کامرہونِ منت۔ میرے خیال میں وہی تخلیق مقبول ہو گی جس میں فکر اور حسن کا امتزاج ہو۔ افلاطون نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’’جمہوریہ‘‘ میں شاعری اور شاعر کا ضمناً تذکرہ کیا ہے کیونکہ اس کا اصل موضوع بحث اچھے سماج کا حصول اور اس کا تحفظ ہے۔ افلاطون اپنے ضابطہ اخلاق کے مطابق شاعروں اور شاعری کے قد کا تعین کرتا ہے،یہاں افلاطون کا خیال ہے کہ شاعرصاحبِ الہام ہوتا ہے اور اپنے ادراک سے دستبردار ہو جاتا ہے۔ جب شاعری کی دیوی کا اس پر سایہ ہوتا ہے تو اسی کے زیرِ اثر وہ اپنے حسین نغموں کی تخلیق میں کامیاب ہوتا ہے۔
علامہ محمد اقبالؔ کے مطابق :
شاعری بے قاہری جادوگری ایست
شاعر ی با قاہری پیغمبر ایست

دنیا کے سارے بڑے فلسفیوں نے اپنے اپنے طریقہ سے شعر اور شاعر کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ہم ان سارے خیالات کا بغور مطالعہ کریں تو کسی کے نظریہ میں کوئی بہت بڑا فرق نظر نہیں آتا۔ ان سارے دلائل اور مطالعے کو تحت الشعور میں رکھ کر جب ہم ڈاکٹر کلیم قیصرؔ کے شعری مجموعہ ’’بیر بہوٹی‘‘ کا مطالعہ کرتے ہیں تو بے ساختہ زبان سے یہ الفاظ ادا ہوتے ہیں کہ : ’’واقعی شاعری کی گئی ہے‘‘
’’بیر بہوٹی‘‘ کے شاعر جناب کلیم قیصرؔ ہندوستانی مشاعروں کے علاوہ خلیجی ممالک میں ہونے والے عالیشان مشاعروں کی بھی جانی پہچانی شخصیت ہیں۔ آپ کا تعلق بلرا م پور (یو.پی) سے ہے۔ بلرام پور کے ہی ایک کالج میں آپ پرنسپل کے معزز عہدے پر فائز رہے ہیں۔ حالانکہ اب زیادہ تر وقت گورکھپور میں ہی گزرتا ہے۔ بلرام پور کو اُردو دنیا اچھی طرح جانتی ہے کہ اس قصبے نے اُردو دنیا کو درجنوں ادباء و شعراء سے نوازا ہے۔ ان میں علی سردار جعفری اور، بیکلؔ اُتساہی، سیّد علی مہدی رضوی اور نانک چند عشرتؔ جیسی معروف قلم پروردہ شخصیات شامل ہیں۔ آج بھی اس قصبے کی فضاؤں سے ادبی خوشبو محسوس کی جا سکتی ہے۔
نہایت ہی نفیس طبیعت کے مالک، خوش گفتار، خوش فکر، روایتوں کے پاسباں، غزل کے رسیا جناب کلیم قیصرؔ کی ’’بیر بہوٹی‘‘ کے بعد کئی نثری اور شعری کاوشیں منظرِ عام پر آنے والی ہیں۔ ان میں ’’اُردو غزل میں ہندوستانی سماج‘‘ اور ’’کربِ تبسّم‘‘ کا نام سرِ فہرست ہے۔ ’’اُمی حکیم‘‘ نعتیہ مجموعہ بھی زیرِ ترتیب ہے۔ ’ ’گاؤں سے پکّی سڑک تک‘‘ اور ’’غزلانش‘‘ شعری مجموعے منظرِ عام پر آ کر اہلِ علم و دانش سے خراج حاصل کر چکے ہیں۔ ان کے تحقیقی مقالے ’’اُردو غزل اور ہندوستانی سماج‘‘ کے عنوان پر نظر جاتی ہے تو ایسا
لگتا ہے کہ آزادی کے بعد اُردو غزل کے پس منظر و پیش منظر میں یہ مقالہ لکھا گیا ہوگا۔ اسی مقالے پر انھیں راجستھان یونی ورسٹی ، جے پور نے ’’ڈاکٹر آف فلاسفی Ph.D.- ‘‘ کی ڈگری تفویض کی ہے۔ مگر میرا موضوع یہاں ان کے مجموعے ’’بیر بہوٹی‘‘ تک محدود ہے۔ ’’بیر بہوٹی‘‘ سائز اور خوبصورتی کے اعتبار سے عام کتابوں سے مختلف ہے۔ دل چاہتا ہے کہ پیشِ نظر کتاب سے کچھ اشعار پیش کئے جائیں تا کہ مذکورہ بالا باتوں کو تقویت ملے اور اس تحریر میں زندگی بحال ہو سکے:
بڑے نصیب سے ملتی ہے ایسی جامہ دری
خد ا ہر ایک کو دیوانہ پن نہیں دیتا

اصل میں ان کو تو نفرت مری دستار سے تھی
اور وہ نا اہل میرا سر قلم کرتے رہے

اب ساتھ جو تیرا چھوٹ گیا، اِک خواب تھا سو وہ ٹوٹ گیا
کیا رہ رہ اس کو یاد کریں، اور رو رو کر پچھتائیں کیا

ڈاکٹر کلیم قیصرؔ کی شاعری پر معروف محقق پروفیسر ڈاکٹر مناظر عاشق ہر گانوی کا ایک مضمون لاریب مئی 2007 کے شمارے میں خاکسار کی نظر سے گزرا ہے۔ ڈاکٹر مناظر عاشق ہر گانوی اپنے مضمون کی تمہید باندھتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ :
’’ کلیم قیصر ؔ اپنی غزلوں کے ذریعہ ماحول میں رونما ہونے والے واقعات اور فکری، سیاسی، سماجی اور اقتصادی و رومانی سطح پر ہونے والے تصادم کو گرفت میں لینے کا ہنر بھی جانتے ہیں۔ کلیم قیصرؔ کی غزلوں کی ایک بڑی خوبی جہانِ وجود کے اندر جبلّتوں کی انگڑائیوں ، خواہشات اور مجبوریوں کے تصادم کے نتائج کو بیان کرکے شناخت کے نئے راستے تلاش کرنا ہے۔ ‘‘

ڈاکٹر کلیم قیصرؔ گو کہ مشاعروں میں کثرت سے شرکت کرتے ہیں اور عام یا خاص ادبی رسائل میں آپ کا کلام کم کم بلکہ بالکل ہی کم نظر آتا ہے، باوجود اس کے کلیم قیصرؔ کی غزلوں کو مشاعروں کی غزل اور کلیم قیصرؔ کو مشاعروں کا شاعر نہیں کہا جا سکتا۔ خاکسار نے ادب کے ان دونوں پلیٹ فارم کو انتہائی قریب سے دیکھا ہے۔ خاص طور پر ہندوستان و امارات میں ہونے والے مشاعرے، جہاں ادب سے زیادہ شاعرات کے ترنم کی پذیرائی ہوتی ہے، ایسے غیر ادبی ماحول میں بھی کلیم قیصرؔ نے اپنے اشعار کے ذریعہ اپنی شخصیت اور شاعری کا لوہا یوں منوایا ہے کہ سامعین انھیں داد دئے بغیر نہیں رہ پاتے ۔ میں یہاں نمونے کے طور پر ڈاکٹر کلیم قیصرؔ کے کچھ اشعار آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں:

مجھ کو کیا دے گا وہ میری آرزو کے نام پر
خو د تیمّم کر رہا ہے جو وضو کے نام پر

تونے میری راہ میں کانٹے بچھائے تھے کبھی
آ! مرے محسن میں پہلے تیری گُل پوشی کروں

یہ معراجِ وفاداری بھی ہے اور نصف ایماں بھی
کہ جس کے ہو چکے ہو تم اسی کے عمر بھر رہنا

پہلے نقطے سے بنایا دائرہ، پھر تِل کیا
اس نے میرے حال کو ماضی سے مستقبل کیا

برستے بھیگتے ساون میں سارا جسم تر رہنا
مجھے اچھا لگا موسم کا منظورِ نظر رہنا

’’بیر بہوٹی ‘‘میں شامل کلیم قیصرؔ کی غزلوں کو پڑھنے سے ایسا نہیں لگتا کہ موصوف نے پچھلے زمانوں کے تخلیق کاروں کو سر پر سوار کر رکھا ہے۔ جیسا کہ عام طور پر آج کے تخلیق کاروں کی مجبوری بنی ہوئی ہے۔ یہ تخلیق کار اپنے ممدوح سے آگے نکل نہیں پا رہے ہیں، جبکہ دنیا کے دوسرے مکتب میں جھانکئے تو یہ احساس ہوگا کہ یہ دنیا کتنی تیزی سے روز آگے کی طرف گامزن ہے اور نت نئی ایجادات کی چکاچوندھ سے آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں۔ خصوصاً سائنس کے میدان میں دیکھیں اور غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ آج کا سائنسدان اپنے پچھلے زمانے کے سائنس دانوں سے کتنا آگے ہے۔ بہرحال شاعر کا کام معاشرے میں پیداشدہ مسائل کو تلاش کرنا اور اس کی سچی عکاسی کر کے افرادکے سامنے پیش کرنا ہے۔ معاشرے کی بے راہ روی پر ڈاکٹر کلیم قیصرؔ کے اشعار جا بجا چوٹ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان کے قطعات بھی روح کی تسکین کا سامان فراہم کرتے ہیں اور انسان کو سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ دیر تک اپنے سحر میں اسیر رکھنے والے یہ قطعات بلا شبہہ انکی غزلوں کے اشعار کی اس مجموعے کی جان ہیں:
پھر یوں ہوا کہ فرقہ پرستی کے زہر نے لہجہ تھا میرا شہد اسے نیم کر دیا صدیوں نے جوڑ جوڑ کے یکجا کیا جنہیں لمحوں نے ایسے رشتوں کو تقسیم کر دیا

آپ کی جرأتِ اظہار سے ڈر لگتا ہے                  اس چمکتی ہوئی تلوار سے ڈر لگتا ہے
آپ کے علم کی عظمت تو سر آنکھوں پہ مگر       آپ کے جبہ و دستار سے ڈر لگتا ہے

نئی پیڑھی بزرگوں کا جو سایہ پھینک دیتی ہے      سمجھ کر شیشے کا ٹکڑا یہ ہیرا پھینک دیتی ہے
ستم جب ماں پہ ہوتے دیکھ لیتی ہے تو وہ بچّی       کھلونوں سے اُٹھا کر اپنا گڈّا پھینک دیتی ہے

’’بیر بہوٹی‘‘ بجائے خود ڈاکٹر کلیم قیصرؔ کی شاعری اور شخصیت کو سمجھنے کے لئے کافی ہے۔ ایک مختصر مضمون میں ان کی شاعری کے محاسن بیان نہیں کئے جا سکتے:

رہی سینے میں جو گھُٹ گھُٹ کے اب تک
وہی سسکی صدا تک آ گئی ہے