مشرقِ وسطیٰ کی فرقہ ورانہ تقسیم

جنگ عظیم اوّل کے بعد برطانیہ، فرانس اور امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ کی تقسیم پر اپنے مفادات کے لئے ایک طے شدہ حکمتِ عملی پر کام کیا۔ مشرقِ وسطیٰ نئی سامراجی طاقتوں کے منصوبوں کے مطابق تقسیم کرکے اپنی مرضی اور مفادات کے مطابق ریاستوں کا قیام عمل میں لایا گیا، سوائے جمہوریہ ترکیہ کے۔ ترکوں نے ان اُبھرتی سامراجی طاقتوں کو میدانِ جنگ میں شکست سے دوچار کیا اور سلطنتِ عثمانیہ کی راکھ سے نئی ریاست قائم کر لی۔

مشرقِ وسطیٰ کی یہ تقسیم فرانس اور برطانیہ کے باہمی سوسالہ منصوبے کے تحت کی گئی۔ برطانیہ کے سٹرٹیجسٹ Mark Sykes اور فرانس کے Francois Georges Piscot نے اس منصوبے کو1916ء میں حتمی شکل دی تھی۔ ان دونوں سٹرٹیجسٹس کو مشرقِ وسطیٰ پر وسیع عبور تھا اور اس منصوبے کی تکمیل میں سینکڑوں فرانسیسی اور برطانوی جاسوسوں نے اہم فریضہ سرانجام دیا۔ یورپ کی سامراجی طاقتوں نے اپنی اس حکمت عملی پر تقریباً ایک صدی باقاعدہ منصوبہ بندی کی۔ اس حوالے سے مشرقِ وسطیٰ کے پانچ زون بنائے گئے۔ (1) براہِ راست فرانسیسی کنٹرول  (2) زون فرانسیسی ورثہ کے تحت (3) عالمی زون (4) براہِ راست برٹش کنٹرول میں (5) برٹش کنٹرول کے زیراثر ممالک یا خطے۔ اس یورپی تقسیم کے منصوبے میں دنیا کی ابھرتی ہوئی نئی سامراجی طاقت ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے بھی بعد میں اپنا حصہ لیا، جس میں ایک برطانوی جاسوس جان فلبی نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ اس نے پہلے مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی ریاست ایک خاندان کے نام پر بنوانے میں کلیدی کردار اداکیا اور اس ریاست کے تیل کے وسائل کو برٹش آئل کمپنی کے ہاں گروی رکھوا کر اس خاندان اور اس خاندان کے مسلک کی حاکمیت قائم کروائی۔ اس کے بعد اسی جان فلبی نے اس نئی عرب ریاست کو امریکی آئل کمپنی کے ساتھ معاہدے میں منسلک کروا کر اس خاندانی ریاست کے حکمرانوں کو امریکہ کے ساتھ منسلک کر دیا۔ مشرقِ وسطیٰ کی یہ تقسیم یقیناً مصنوعی ریاستوں کی تقسیم تھی۔

1917ء میں روس میں بالشویک انقلاب نے جہاں دنیا میں طاقت کا نیا توازن قائم کیا، وہیں بالشویک کی حاکمیت کے بعد سابق سوویت یونین نے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن اور مشرقِ وسطیٰ میں قوم پرست اور سوشلسٹ رحجانات رکھنے والی تحریکوں کی فکری رہنمائی کی۔ سرد جنگ کے خاتمے اور سوویت یونین کی تحلیل کے بعد دنیا جس شدت کے ساتھ یونی پولر ورلڈ میں داخل ہوئی، اس کا پہلا نشانہ مشرقی یورپ، دوسرا وسطی ایشیا اور کاکیش (کوہ قاف) کی ریاستیں اور سب سے اہم مشرقِ وسطیٰ اور مشرقِ وسطیٰ سے متصل خطے تھے، جن میں افغانستان اور پاکستان بھی شامل ہیں جو جغرافیائی طور پر جنوبی ایشیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن ان دو ممالک کی سٹرٹیجک پوزیشن اور خصوصاً پاکستان کی عسکری حیثیت مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ توازن پر اثرانداز ہوتی ہے۔ لہٰذا یونی پولز ورلڈ کے ظہور کے بعد مشرقِ وسطیٰ امریکی جنگی اور سٹرٹیجک پالیسیوں کا شدت کے ساتھ نشانہ بنا۔ اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی اتھل پتھل برپا کی جارہی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں عرب نیشنل ازم اور ترقی پسند سیاسی رجحانات کو امریکی پالیسی سازوں اور اس کے اتحادیوں نے پچاس کی دہائی سے کچلنا شروع کیا اور اس کا نقطۂ عروج صدام کی سزائے موت اور لیبیا کے معمر قذافی کا بہیمانہ قتل تھا۔ اس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں برپا عرب بہار کے بطن سے متعدد تحریکوں کو جنم دینے کی کوششیں کی گئیں۔ اس وقت عرب دنیا، Arab Pride جو انہوں نے مشرقِ وسطیٰ کی جنگِ عظیم اوّل کے بعد جدید تقاضوں کے مطابق قوم پرست اور ترقی پسند فکر کے ساتھ حاصل کی تھی، کو بری طرح کچل دیاہے۔ لیبیا، عراق اور شام، یمن اور مصر سمیت متعدد عرب علاقوں میں ’’عرب پرائڈ ‘‘ کی جگہ مسلح گروپوں کو پنپنے کے مواقع فراہم کئے جارہے ہیں اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر عرب اور تاریخی ریاست ایران کی مداخلت کے سامان پیدا کئے جارہے ہیں۔ کوشش ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے تضادات کا آپس میں ٹکراؤ کروا دیا جائے، جس میں ایک اور غیر عرب مشرقِ وسطیٰ کی اہم تہذیب، ترکوں کوبھی الجھا دیا جائے۔

اب مشرقِ وسطیٰ کی مذہبی انتہا پسندی، مسلح دہشت گردی کے الاؤ میں مزید اضافے کے لئے فرقہ واریت ایک اہم سامراجی Instrument ثابت ہو سکتا ہے۔ اور ان خطوں میں بسنے والے مسلمانوں کو فرقہ پرستی میں ڈال کر مسلح تصادم میں ڈالنا اس سامراجی حکمتِ عملی کا شاخسانہ ہے جس کے تحت اس خطے کو ایک ’’جنگی میدان‘‘ بنانا طے کیا جا چکا ہے۔ اس حکمتِ عملی کے تحت مشرقِ وسطیٰ کے دو اہم تضادات اس خطے کو طویل دہائیوں تک جنگی تھیٹر بنا سکتے ہیں۔ اوّل فرقہ پرستی اور دوسری بات قوموں کے تضادات یعنی مشرقِ وسطیٰ میں بسنے والے عربوں، ایرانیوں، ترکوں اور کُردوں کے تضادات۔ قوموں اور فرقوں کے تضادات اس نئے مشرقِ وسطیٰ کی نئی تقسیم کی حکمتِ عملی ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ یہاں پر بسنے والے لوگ اس فرقہ پرستی میں تقسیم ہونے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔ ان لوگوں نے اپنے اپنے ممالک میں اپنے اپنے فرقوں کے پرچموں تلے مظاہروں کا آغاز کر دیا ہے، جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔

عالمی طاقتیں مشرقِ وسطیٰ اور اس کے اردگرد خطوں میں ایک نئی علاقائی تقسیم کا آغاز کر چکی ہیں۔ اس سامراجی حکمتِ عملی کے تحت پہلے ان خطوں کو جس قدر ممکن ہو سکے کھنڈر بنا دیا جائے گا، جس کو مغرب کے ترقی پسند مفکرین The Map of Ruined Middle East کہہ رہے ہیں۔ اس میں یہاں پر بسنے والی قومیتوں اور لوگوں کو فرقہ ورانہ تصادم میں الجھانا اور باہم لڑتے لڑتے ہلکان کرنا، ہر فرقے کا اپنی عظمت اور حقانیت کے پرچم اٹھائے دوسروں کا قتال کرنا اور پھر ان خطوں کو سامراجی طاقتوں کے قدموں تلے گرنے پر مجبور کرکے نئی فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرنا شامل ہے۔ بڑی تعداد میں لوگ دہشت گرد گروہوں کے ذریعے قتل، ریاستیں کھوکھلی اور علاقے کھنڈروں میں بدل دئیے جائیں۔ اس حوالے سے ان سامراجی بغل بچوں نے ’’ اپنا فریضہ‘‘ سرانجام دینا شروع کر دیا ہے، جن کو جنگ عظیم اوّل کے بعد یہاں کے بیشتر خطوں کے تخت و تاج کا مالک بنایا گیا تھا۔ ان حکمران بچوں، جن کے Grandfathers نے جنگ عظیم اوّل کے بعد نئی سامراجی طاقتوں کے در سے تاج اور تخت پائے تھے، انہوں نے اپنے خاندانی اقتدار کے لئے سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔