اصول اور ہمارا معاشرہ
- تحریر حسین شہادت
- منگل 12 / جنوری / 2016
- 4445
انسانی زندگی اصول کے تصور کے بغیر ناممکن ہے ۔ بعض لوگ انہی اصولوں سے جان بچانے کے طریقے وضع کرتے ہیں اور زندگی کا بہاؤ بھی اسی طرف کرلیتے ہیں۔ اگر زندگی کے تصور سے منہ پھیر کر اصول سے دامن بچانے کا عمل تواتر سے دہرایا جائے تو وہ خود ایک اصول بن جاتا ہے جبکہ بعض لوگوں کا تصور ہے کہ ان کا اصول یہ ہے کہ ان کا کوئی اصول نہیں ۔
بداخلاقی کا یہ اقرار دراصل اس شخص کے اندر موجود اس غیر اخلاقی قوت کی جانب واضح اشارہ ہے جس سے معاشرے کا سکون تباہ ہونے کا خطرہ ہوتاہے۔ ایسے معاشرے باعزت شہریوں کے لئے پیغام ہے کہ اب معاشرتی اقدار کو پامال کیا جاسکتا ہے ۔انسان نے اپنی شعوری زندگی کے آغاز سے ہی اصول سازی یا قانون سازی کا کام سرانجام دیا ۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اس نے جس قدر جدوجہد اور جوش وخروش سے اصول بنائے اسی شدومد کے ساتھ انہیں توڑا بھی ہے ۔ یہ بات بھی قابل قدر ہے کہ انسانوں میں کچھ اصول ایسے بھی ہیں جن میں عہد بہ عہد بہت سی تبدیلیاں وقوع پزیر ہوئی ہیں۔ جبکہ کچھ اصول ایسے ہیں کہ جن پروہ اسی طرح کا یقین رکھتا ہے جس طرح وہ ان اصولوں وضع ہونے کے وقت رکھتا تھا ۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی پیروی بھی مکمل طور پر نہیں کی گئی۔ انسان نے کبھی ان اصولوں کی پامالی کی ہے تو ساتھ ساتھ اس بات کابھی اظہار کیا ہے کہ ان کی پامالی اچھی بات نہیں ۔ چنانچہ ان کی خلاف ورزی پر سزائیں مقرر کیں اور عمل درآمد بھی کیا گیاہے ۔
دنیا میں قائم کردہ وہ معاشرے بھی ہیں جوکسی مذہب کو نہیں مانتے وہ بھی ان اصولوں پر یقین رکھتے ہیں ۔ اصول کی اہمیت اور اس کے زندگی پر گہرے اثرات کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ کوئی فرد بے اصولی کرنے کا مرتکب بھی ہوتا ہے تو وہ تب بھی اصول کی ہی آڑ لیتا ہے۔ یہ صورت انفرادی سطح پر ہی نہیں اجتماعی طور پر بھی بروئے کار لائی جاتی ہے ۔ مثال کے طور پر امریکہ یا یورپ کی قیادت یا ایسی ہی کوئی دوسری طاقت جب کسی ملک پر چڑھائی کرتی ہے تو وہ بھی اس اقدام کے لئے کسی نہ کسی اصول و قاعدے کا سہارالیتی ہے۔ خواہ یہ سہارا مضحکہ خیز ہی کیوں نہ ہو۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اصول کسے کہتے ہیں ؟ انسان اصول کیوں بناتا ہے اور اس پر عمل کیوں کرتا ہے ؟
مذاہب کے ماننے والوں کیلئے ان تمام سوالات کا جواب دینا مذہب کے نہ ماننے والوں کے مقابلے میں آسان ہے ۔ مذہب کے پیروکاروں کے نزدیک اصول اس ہدایت کا نام ہے جو اللہ کی جانب سے بھیجے گئے پیغمبروں کے ذریعے انسانوں تک پہنچ گئی ۔اس پس منظر میں دوسرا سوال کہ انسان اصول کیوں بناتا ہے خود بخود ختم ہوجاتا ہے۔ کیونکہ اصول انسان نہیں بناتا بلکہ خدا ان کو بناتا ہے ۔ لیکن انسان خدائی رہنمائی سے بھی گریز کے عذر تلاش کرلیتا ہے اور خود ہی اصول بنانا شروع کردیتا ہے۔ بدقسمتی سے مسلمانوں کا شمار بھی ان لوگوں میں ہورہا ہے جوخود اصول سازی کررہے ہیں ۔ ا س لئے لازم ہے کہ ہم جان لیں کہ اصول کسے کہتے ہیں ۔ ہمارے مطالعے کے مطابق اصول دراصل اس کیفیت کا نام ہے جو انسان کی رسائی اور نارسائی کے احساس سے جنم لیتی ہے جس میں انسانی فلاح کا احساس مضمر ہے ۔ چنانچہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ انسان اصول اس وجہ سے بناتا ہے تاکہ اپنی زندگی کو زیادہ سے زیادہ مرتب اور یقینی بناسکے۔ اس کی ذات کو ایسے حالات میسر آسکیں جن میں اس کی زندگی اپنی پور ی توانائیوں اور مکانات کے ساتھ ظاہر ہو۔ اور وہ اپنی ذات کے اظہار سے زیادہ سے زیادہ مسرت حاصل کرسکے۔ یعنی اصولوں پر عمل کا مقصد اسے زندگی کی مختلف قسم کے رخنہ انداز یوں سے محفوظ رہ کر درست سمت بڑھنے میں مدد دینا ہے۔
مذہبی نقطہ نگاہ کے مطابق ہم دوسرے کی جان ومال کا تحفظ اور احترام اس لئے کرتے ہیں کہ ہمیں اس کاحکم دیا گیا ہے ، اسی طرح سچ سے محبت اور جھوٹ سے نفرت کا بھی کم و بیش یہی تصور ہے ۔ اب یہاں یہ سوال ہے کہ جو لوگ مذہب یا خدا پر یقین نہیں رکھتے وہ کیونکر ان اصولوں پر عمل کرتے ہیں جو عام طور پر کسی مذہبی حلقے میں رائج ہیں ۔ اس کے کئی جواب ہوسکتے ہیں ، مثا ل کے طور پر اللہ تعالیٰ نے انسانوں میں ان اصولوں کی پیروی کا رجحان خلق کیا چاہے وہ خدا کو مانیں یا اس کے ہونے کا انکار کریں، وہ ان اصولوں پر اسی طرح عمل کرنے پر مجبور ہیں جیسے وہ خدا کو مانے بغیر سانس لینے پر مجبور ہیں ،۔ دوسرے یہ کہ انسان کی موجودہ نفسیاتی و روحانی کیفیت یہ ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کی جان و مال کا احترام اور تحفظ اس بنا پر کرتا ہے کیونکہ اسے اپنی جان اور مال کا تحفظ درکار ہوتا ہے ۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ لوگ اسی لئے کسی دوسرے کا احترام کرتے ہیں کیونکہ انہیں خود اپنی امان چاہئے ہوتی ہے۔ یعنی مجھے اپنی جان عزیز ہے اس لئے میں دوسروں کا احترام کرتا ہوں ۔ مجھے معلوم ہے کہ میں کسی کی جان کے درپے ہوجاؤں گا تو میری ہستی بھی خطرے میں پڑسکتی ہے ۔ البتہ دنیا میں انسان، انسان کے خلاف تشدد پر اس لئے آمادہ ہوتا ہے کہ وہ جانتا ہے کہ اس میں اس قدر قوت موجود ہے کہ وہ اپنا تحفظ اور دفاع کرسکتا ہے ۔
دنیا کی بڑی طاقتیں چھوٹے ممالک کے ساتھ جو سلوک کررہی ہیں وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ دنیا کے ہر اصول کی نفی کرنے کی طاقت رکھتی ہیں۔ اپنی جان کے تحفظ کے خیال سے دوسرے کی جان کا احترام کرنا ایک لحاظ سے بدترین خود غرضی اور بداخلاقی تصور کی جانی چاہئے ، کیونکہ اس کی معنی یہ ہیں کہ دنیا میں کمزور لوگوں کو جینے کا حق نہیں۔ اگر دنیا کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو بیشتر لوگ کمزور ملیں گے جس کا مطلب یہ ہوا کہ کمزور لوگوں کو یہاں جینے کا حق نہیں۔ یہ رجحان تقریباً ہر جگہ کارفرما ہے۔ یہی جنگل کا قانون کہلاتا ہے اور آج کی دنیا اسی کی لپیٹ میں ہے ۔ خطرناک بات یہ ہے کہ ہر کوئی اس کی پرستش کرتا ہوا نظر آتا ہے ۔ یعنی اس بات سے قطعی طو ر پر انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ دنیا اس وقت جس بحران کا شکار ہے اس کی بڑی وجہ اور بنیادی سبب قوت پرستی ہے ۔
مملکتِ خداد پاکستان قائم کرنے کا مقصد کرنے کا یہی تھا کہ یہاں انسانی اقدار کی حرمت اسی طرح برقرار رکھی جائے جس طرح قانون خداوندی ہے ۔ یہ ریاست میں اللہ کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے اور اسے رائج کرنے کے لئے بنائی گئی تھی۔ اس میں کمزور اور طاقت ور کا تصور ختم کرنا مْصود تھا۔ تاکہ معاشرے میں عدم تحفظ کا احساس ختم ہوجائے۔ لوگ مفاد پرستی کے بغیر احترام انسانیت کو اسی طرح اپنائیں جس طرح نبی مہربان ﷺ نے اپنی سنت سے لوگوں کو بتایا تھا۔ عدل و انصاف کے ان تمام اصول و قوانین پر عمل کیا جائے جن میں عزیز ، رشتہ دار ہو ں یا غیر رشتہ دار اور عام آدمی، ہر شخص کو یکساں اور فوری انصاف تک رسائی ہو ۔ حکمرانی کی وہ مثال قائم ہو جس میں مقتدر افراد خود کو عوام کا خدمتگار تصور کریں اور کسی بھی وقت ان کا احتساب کرنا مشکل نہ ہو۔
تاہم قیام پاکستان سے لے کر تاحال کمزور لوگ پس رہے ہیں اور طاقت ور مزید طاقتور بنتے جارہے ہیں۔ حکمرانوں نے عرصہ ہوا قانون بالائے طاق رکھ کر ملک میں ملوکیت کو پروان چڑھایا ہوا ہے ۔ عدلیہ جو ایک باختیار ادارہ ہونا چاہئے تھا اور جسے ملک کے عام شہری تک سستا اور فوری انصاف کی فراہمی کا ذریعہ بن جانا چاہئے تھا ، اب مقتدر حلقوں اور امراء کے ہاتھوں یرغمال ہے ۔ کرپشن اس قدر عام ہوچکی ہے کہ لوگ اب اسے اپنا حق جاننے لگے ہیں ۔احتساب کا عمل بھی جانبدارانہ ہوگیا ہے ۔ ملک میں گڈ گورنس کی بات پر کوئی دھان نہیں دیتا البتہ چیف جسٹس آف پاکستان کا کہنا ہے کہ عدلیہ بیڈگورنس سے لا تعلق رہ کر عوام کو حکومت کے ہاتھوں یرغمال بنے نہیں دیکھ سکتی ۔ عوام جس طرح مقتدر افراد کے رحم و کرم پر ہیں ،وہ درست نہیں ۔ یہ اہم ہے کہ عدلیہ اور انتظامیہ مل کر ان اصولوں اور ضابطوں پر عمل در آمد کو یقینی بنائیں جو ملک کے بہتر مفاد کیلئے بنائے گئے تھے ۔ بصورت دیگر معاشرے میں افراتفری اور جرائم کی شرح کا بڑھنا کوئی انہونی بات نہ ہوگی ۔