’آؤ دیکھو میر ا انداز غلامی! ‘
میں کشمیری ہوں اور مجھے اپنی غلامی پر فخر ہے۔ چوراہوں میں دیکھو، گلیوں محلوں میں دیکھو، تحصیلوں اور ضلعوں میں دیکھو، سکولوں کالجوں میں دیکھو، مساجد میں دیکھو، اسمبلیوں اور دفاتر میں دیکھو، میں ہر جگہ گلا پھاڑ پھاڑ کر اپنی غلامی کا جشن مناتا ہوں۔ میں ترنگا لہراتا ہوں رنگ برنگے لہراتا ہوں، ہر سال اٹھاتا ہوں ہر بار اٹھاتا ہوں۔ بھارت کو دھرتی ماں کہتا ہوں پاکستان کو باپ کہتا ہوں۔
دلی جاتا ہوں اسلام آباد جاتا ہوں، رائے ونڈ کا متوالا ہوں، گڑھی خدا بخش کا مجاور ہوں۔ آتا ہوں جاتاہوں ہر آقا کو کندھوں پہ اٹھاتا ہوں۔ ہر جگہ اٹھاتا ہوں ہر دور میں اٹھاتاہوں ۔ سکھوں کو اٹھایا ہے، پٹھانوں کو اٹھایا ہے، پورے جوش و جذبے سے اٹھایا ہے۔ اقوام متحدہ کا شکر گزار ہوں جس نے دوسری قوموں کی طرح مجھے آزاد نہیں کیا ورنہ کیا پتہ میں گمراہ ہو جاتا۔ اندرا۔عبداﷲ گٹھ جوڑ مناتا ہوں ہر سال مناتا ہوں۔ پانچ جنوری مناتا ہوں اقوام متحدہ کا شکر ادا کرتا ہوں جہاں ہوتاہوں جشن مناتا ہوں۔ اس عظیم ادارے نے مجھے نئے دور کے نئے آقا دئیے۔
میں ہر سال ہر بارہر رنگ میں اپنی وفاداری کا یقین دلاتا ہوں مگر یہ بے یقینے پھر بھی میری وفادار ی پر یقین نہیں کرتے۔ بیڑا غرق ہو خود مختاریوں کا جو ہر جگہ رنگ میں بھنگ ڈال دیتے ہیں۔ آزادی کے نعرے مارتے ہیں۔ جان دیتے ہیں خون دیتے ہیں۔ بہت کہہ چکا ہوں بار بار کہہ چکا ہوں۔ آؤ دیکھو میں کتنے مزے میں ہوں۔ ڈالروں پونڈوں سے کھیلتا ہوں۔ جہاں چاہتا ہوں جاتا ہوں۔ کوئی مانے نہ مانے میں مزے میں ہوں۔ کوئی مخالفت کرتا ہے کرتا رہے میرے آقا میرے سر پر ہیں۔ میں مروں گا ، میرا بیٹا آئے گا۔ میرا جانشین بنے گا ۔ سچا بنے گا ، پکا بنے گا ۔ لیکن سخت خطرہ ہے مجھے آزادی کے متوالوں سے ۔
کیسے عجیب لوگ ہیں یہ آزادی کی باتیں ہر موڑ ہر محفل میں کرتے ہیں۔ ہر روز کرتے ہیں پر زورکرتے ہیں۔دن بدن زور پکڑتے جا رہے ہیں۔ مجھے ڈراؤنے خواب آتے ہیں، بیشمار آتے ہیں ، دن رات آتے ہیں۔ کوئی دعا اور دوا کام نہیں کر رہی۔ یہ احمق لوگ مجھے بندوں کی غلامی سے نکال کر اﷲکی غلامی میں لے جانا چاہتے ہیں۔ بھلا اﷲ بھی کسی نے دیکھا ہے۔ یہ غیرت اور عزت کی باتیں کرتے ہیں۔ مجھے سمجھ نہیں آتی یہ کیا کہتے ہیں؟
میں ادھر ادھر دیکھتاہوں۔ دنیا بھر کو دیکھتا ہوں۔ سوچتا ہوں کوئی اپنی طرح کا بندہ ملے جس سے مشورہ لوں۔ بہتر فن غلامی سیکھوں۔ مگر کوئی بہتر غلام نظر نہیں آ رہا۔پتہ نہیں اس دنیا کے غلام کہاں کھو گئے ہیں۔ سنا ہے آزاد ہو گئے ہیں ۔ مگر یہ آزادی بھی کیسی آزادی ہے جہاں نہ آقا نہ ہو اور نہ خوشامدی ہو۔ مجھے ایسی آزادی سے ڈر لگتا ہے۔ کوئی ہے جو میری مدد فرمائے۔ میں بڑا پریشان ہوں ۔بے حال ہوں۔
وہ دیکھو مفتی سعید مر گیا۔ ا س کی جگہ اس کی بیٹی آ گئی۔ یہاں بھی اور وہاں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ ہمیشہ ہوتا ہے۔ پتہ نہیں ان آزادی پسندوں کی عقل کہا ں کھو گئی۔ یاﷲانہیں عقل سکھا!