فکر و نظر کا ارتقا

اللہ تعالیٰ نے دنیا کو انسانوں کے لئے بنایااوراس دنیا کی زندگی کے آغاز ہی میں رہنمائی کے لئے نبیوں کے سلسلے کا آغاز کیا تاکہ مسلسل ہدایت و رہنمائی حاصل ہوتی رہے۔ یہ سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ نبی آخرالزماں حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے اور نبیوں کاسلسلہ ختم ہوا۔آغازہی میں فکر کو صا لحیت سے ہمکنارکیا اورجس قدر اس کو ضرورت تھی اس ہی قدرپختگی عطا کی گئی۔

تہذیب و تمدن سے نوازا گیا اور رفتہ رفتہ وقت اور ضرورت کا لحاظ رکھتے ہوئے مزید رہنمائی فراہم کی گئی۔ ایک طرف اسلام نے تہذیب و تمدن عطا کیا تو دوسری طرف عقل انسانی نے بھی اپنے جوہر دکھائے۔کبھی اسلام کی چہاردیواری میں رہ کر زندگیاں بسر کی گئیں توکبھی اس سے دوری پیدا کرنا اپنی شان سمجھا گیا۔کبھی محدود عقل کو ٹھندے اور میٹھے دریاؤں سے سیراب کیا گیا تو کبھی گندے نالوں اور جامد پانی کے ڈھیروں سے حیات جاوداں طلب کی گئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سوائے چند لوگوں کے زیادہ تر لوگ اِدھر اْدھر بھٹکتے رہے اور پھر بھٹکنے والوں کی تعد اد میں آنے والی ہر نئی صبح اضافہ ہوتا گیا۔ آج یہ تعداد اپنے بامِ عروج پر ہے۔اْن لوگوں نے گمراہیوں میں لت پت ہونے کے باوجود اس گندی دلدل ہی میں رہنا پسند کیا جس کو اگر ایک مرتبہ وہ اپنی آنکھ سے دیکھ لیتے توشاید وہ اپنی ہلاکت پسند کرتے ،لیکن دوبارہ اس طرف کا رخ نہ کرتے ۔ ان کی آنکھوں پرپٹی باندھی گئی جس کووہ اپنی کم علمی اور کم فہمی کی بنا پر باندھے گھومتے رہے ۔اس کے با وجود وہ سب کچھ دیکھ رہے تھے، سب کچھ جانتے تھے اور ان کوکسی ایسے درس کی بھی ضرورت نہیں جس سے ان کی آنکھوں کی بندھی پٹی کھل جائے۔ وجہ؟کچھ نہیں ! سوائے اس کے کہ وہ اس کے عادی ہو چکے تھے اور اپنی عادت کو بدلنا نہیں چاہتے۔بس آج بھی یہی حقیقت ہے اس گروہ کی جو اپنے آپ کو تہذیب و تمدن کاعلمبر دارسمجھتا ہے اوراپنی فرعو نیت کو چہار جانب پھیلانے کا خواہاں ہے۔اس کے بر عکس اس گروہ کا بھی عجب حال ہے جو اپنی الگ پہچان،الگ ضابطہ حیات رکھنے کے باوجو اِس بات کا خواہاں ہے کہ اْس جیسی چال ڈھال کو اپنا کر اْن ہی جیسا بن جائے جس کا تذکرہ اوپر آچکا ہے۔

آج جس تہذیب کا سکہ دنیا پر چھایا ہوا ہے اگر اس کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ خود ہی اس مقام تک نہیں پہنچ گئی بلکہ اس کے لئے منظم کوششیں کی گئیں۔ اپنی آرزؤں اور تمناؤں کو دنیا پر مسلط کرنے کے لئے قربانیاں دی گئیں۔ اس کو ہمہ گیر بنانے کے لئے کبھی معصوموں کے خون کی ندیاں بہائی گئیں تو کبھی نام نہاد انسا نیت کے علمبر داروں نے انسانوں کوگھروں سے گھسیٹ کر ان میدانوں میں لا کر پھینک دیا جہاں وہ درندوں کا لقمہ بنیں اور موت ان کا مقدر ٹھہرے۔ نیز ان کومادہ پرستانہ تہذیب کے رنگ میں رنگنے کی کو ششیں کی گئیں جس کے پیچھے ان کااصل مقصد خدا پرستانہ اصول و اقدار اور تہذیب و ثقافت کو جڑ سے اکھاڑ کر نئے طرز فکر، نئے دل و دماغ اور نئے مقاصد کا فروغ تھا۔ انہوں نے دولت کے ایسے انبار لگائے اور ایسی سبز و شا داب وادیوں کی سیر کرائی جوحقیقت میں تو خواب ہی تھے مگر اس کو حقیقت میں بدلنے کے لئے ’معصوم انسانوں‘ کے ذہنوں کو بدل دیا۔ پھر خیرو شر میں سب سے بلند مقام دولت کو حاصل ہوا جس نے انسانیت کو بد ترین درجہ کے گروہوں میں تبدیل کر دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اشتراکیت مستحکم ہوئی اور اسلامی فکر کے علمبردار جو بہت کمزور ہو گئے تھے، احساس کمتری کا شکار ہو تے گئے۔ مفکرین و مصلحین نیز حکمرانوں کی ایک بڑی تعداد احساس کمتری کاشکار ہو کر یہ سمجھ بیٹھی کہ اسلام اب ماضی کا قصہ ہے۔ اگر اس کی ضرورت ہے تو بس عبادات کی حد تک ۔ جہاں تک دنیا وی نظام کو چلانے کی بات ہے تو وہ نظامِ حکومت اِن ہی مغربی مفکرین کے پاس ہے جو آج دنیا کے امام بنے بیٹھے ہیں۔جو آج اپنے ہاتھ میں دنیا کی باگ دوڑ سنبھالے ہوئے ہیں۔ اس احساس کمتری کی اصل وجہ قرآن و سنت کی تعلیمات سے دوری اور ناواقفیت تھی اور یہی صورتحال ہم آج کے ’روشن خیال ‘ طبقے میں بھی موجود ہے۔

غور کریں تو معلوم ہوتاکہ صرف مو جودہ حالات میں ہی نہیں بلکہ امت مسلمہ کے لئے ہر دور میں ایک ایسا گروہ نا گزیر رہا ہے جو نہ صرف اسلامی زندگی کے ہر میدان میں نمایاں خدمات انجام دیتا رہا ہو بلکہ علمی اور فکری لحاظ سے وہ اس قدر مضبوط ہو کہ اسلام کے خلاف اور اسلام کے نظام حیات سے ٹکرانے والی ہر فکر کا مؤثر اور مدلل جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ غیر اسلامی فکر کے حاملین و مفکرین کے لئے یہ چیز معنی نہیں رکھتی کہ اس فکر کے علمبردار ہونے کی حیثیت سے خود ان کا عقیدہ کس قدر مضبوط ہے ۔ اس کے برعکس اسلامی فکر اور اس کے علمبرداروں کے لئے یہ چیز لازمی ہے کہ ن کے عمل اور ان کی فکر میں تضاد نہ پایا جائے۔اس اہم نکتہ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی فکر کے علمبرداروں کے لئے علمی،فکری اور عملی میدان میں ربط و یکسانیت رکھنا نا گزیر ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو اسلام کی فکری تحقیقات کو دیگر نظریات سے الگ کر دیتی ہے۔اس سے و اضح ہوا کہ عمل کے لئے مضبوط فکر ضروری ہے اور فکر کے لئے علم کا ہونا لازم و ملزوم ہے۔ دوسری طرف محقق کا علم اور اس علم کی بنیاد پراس کاعمل کس حد تک یکسانیت رکھتا ہے، یہ بھی غور کرنے کے قابل ہے ۔ اسلام میں اس چیز کی ہی اہمیت ہے۔ پھر دنیا بھی اسی نقطہ نظر سے دیکھتی اور پرکھتی ہے۔یہ ممکن ہے کہ کسی کا کل ،آج سے مختلف ہو یعنی ماضی اور حال میں تضاد ہو سکتا ہے ۔ ہم بھی ماضی کی بات نہیں کریں گے۔ صرف حال اور مستقبل کی ہی بات کریں گے۔ لیکن آج اگر علم اور عمل میں تضاد ہوتا ہے تو یہ ایک مسلمان کے لئے بہتر علامت نہیں ہوگی۔

ایک زمانے میں کلیسا سے بغاوت کے نتیجہ میں مذہب کو اور مذہب کی جائز پابندیوں کو بھی زندگی کے ہر میدان سے مکمل طور پر الگ کر دیا گیا۔نتیجتاً ایک ایسے سماج کا جنم ہوا جہاں زندگی کے کسی بھی مر حلہ میں کوئی قید نہیں جہاں نہ صرف خاندان تباہ ہوئے بلکہ تہذیب و تمدن کی بنیادیں تک تبدیل ہو گئیں۔ ’روشن خیالی‘ کے ابتدائی دور سے لے کر اب تک اسلامی تعلیمات و عقائد اپنے آپ میں مکمل جاذبیت رکھنے کے باوجود اسلام اور اسلامی تعلیمات سے بغض رکھنے والوں کے لئے چلینج بنے رہے ہیں۔لہذا یہ قوتیں مختلف مفروضوں کے تحت حملے کرتی رہی ہیں اور آج بھی کر رہی ہیں۔ ان بیرونی حملوں سے تو اسلام کو نقصان نہیں پہنچا لیکن ’روشن خیالی‘ اور خود ساختہ مفکرین و مصلحین نے اسلام کو خوب ضربیں لگائیں اور لگائے چلے جا رہے ہیں۔ ان کی معصومیت کی انتہا یہ ہے کہ وہ خود اس بات سے ناواقف ہیں۔

اسلام نے بنی نوع کو علم کی دولت سے نوزا ، غوروفکر کرنے کے لئے کہا، تحقیق و جستجو اس کی بنیاد ہے۔ اللہ تعالی نے دنیا میں انسان کے لئے جو بے شمار نعمتیں رکھی ہیں، ان کے حصول کی دعوت دی اور ان سے فیضیاب ہونے کی تلقین کی۔ جب تک مسلمانوں نے اس پر عمل کیا ،دنیا کے امام بنے رہے۔ اور جب ان چیزوں چھوڑ نے لگے تو مغلوب اور ناکام ہوتے گئے۔ جب تک قرآن و سنت کو بنیاد بنا کر اسلامی فکر سے سیراب ہوئے اور مسائل کو حل کیا، تب تک مسائل بھی حل ہوئے اور ہر طرح کا آرام و سکون بھی میسّر آیا۔ لیکن جیسے جیسے اسلامی فکر و عمل سے دوری ہوئی ، ان کی ذہنی ساخت بھی کمزور ہوتی گئی۔نتیجتاً ایک دور ایسا بھی آیا کہ علم و فکر اور عمل سے عاری مسلمان اسلامی تعلیمات سے عملی زندگی میں بھی دور ہو گئے۔ ’روشن خیالی‘ کے بہاؤ میں بہنا ان کی مجبوری بھی بن گئی اور پسند بھی بنتی چلی گئی۔ اپنے مضبوط تناور درخت سے وہ ایک ایک پتے کی طرح ٹوٹتے اور بکھرتے چلے گئے۔ پانی کے تیز دھارے سے مقابلہ کرنا ان کے لئے خود کو موت کے گھاٹ اتارنے کے برابر ہو گیا۔ دہکتی آگ میں وہ اس قدر جھلس گئے کہ اپنی شناخت ہی کھو بیٹھے۔

آج یہی صورتحال امت کو ہر سطح پر کمزور کر رہی ہے۔ ضرورت ہے کہ اس کا تدارک کیا جائے۔ ضروری ہے کہ ایک بار پھر ارتقاء فکر و نظر کاآغاز ہو، فرسودہ ماضی میں نہیں بلکہ آج کے حالات میں نئے عزم اور بلند حوصلوں کے ساتھ!