یورپ میں اسلامی پناہ گزین
- تحریر ارشد فاروق
- جمعرات 14 / جنوری / 2016
- 5132
سنا ہے کہ ایک وقت تھا کہ عرب سے آئے اسلامی لشکروں کی یورپی علاقوں کی فتح کے بعد یہاں کی مقامی آبادیاں ان کے حسن سلوک کو دیکھ کر دائرہ اسلام میں داخل ہو رہی تھیں۔ اور یہ بھی، عرب کے بدوؤں کی تربیت و ہدائت کے لئے، سنا ہے کہ رب نے ایک لاکھ اور کئی ہزار پیغام رسا بھیجے۔ لیکن غیرت کے نام پر بیٹیوں کو زندہ در گور کر دینے والے ان بدوؤں کو آج تک ہدایت نہیں ملی۔ ان تک اسلام تو پہنچا، لیکن اسلامی تعلیمات نہیں، یہ پانچ وقت نماز کے نام پر رکوع و سجود تو کرتے پائے جاتے ہیں، لیکن وللہ کہہ کر چھوٹی موٹی چوریوں سے بھی نہیں چوکتے۔
شام اور دیگر عرب ممالک سے یورپ بھر میں تارکین وطن کی آمد کا سلسلہ بہت شدت اور تیز رفتاری کے ساتھ جاری ہے۔ فن لینڈ اگرچہ ایک دور دراز ملک ہے اور یہاں تک ایک رفیوجی کا پہنچنا عام طور پر کافی دشوار ہے لیکن جب حکومت خود وہاں سے ہوائی جہاز بھر بھر کر لائے تو صرف پانچ ملین آبادی والے ملک میں تارکین کی قلیل تعداد بھی کثیر معلوم ہوتی ہے۔ فن لینڈکے لوگ دیگر ممالک سے کٹ کر رہنے کے عادی رہے ہیں اور اکلاپے کا شکار ہیں۔ اس لئے یہاں کے لوگ خصوصاََ اور شمالی نارڈک ممالک کے لوگ عام طور سے عادتاََ ایماندار اور معصوم واقع ہوئے ہیں۔ اور ثقافتی طور پر دیگر ممالک کے باشندوں کے ساتھ دوستانہ رویہ اور ہمدردی کے جذبات رکھتے ہیں ۔ یہاں کی نوجوان لڑکیاں چونکہ ایک آزاد معاشرے ، کھلم کھلے اور ایماندار ماحول میں پلی بڑھی ہیں، اس لئے وہ غیر ممالک کے نوجوان لڑکوں کے سا تھ ہنس کر بات کرنے کو معیوب نہیں سمجھتیں۔ یورپ کے دیگر ممالک کی طرح یہاں بھی عرب ممالک سے آئے ہوئے نوجوان لڑکوں کی جنسی بے راہروی اور جنسی تشدد کی شکایات عام ہیں۔
پچھلے ہفتے نئے سال کی آمد کا جشن مناتے ہوئے شام، مصر، مراکش، فلسطین اور الجیریا سے آنے والے نوجوان مسلمان مرد پناہ گزینوں کا نام مقامی نیم مدہوش نوجوان لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے ملزمان کے طور پر اخبارات میں رقم کیا جا رہا ہے۔ مقامی لوگ اس واقعے کو جنسی زیادتی کا ایک کیس کم اور مسلم دہشت گردی سے زیادہ تعبیر کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مقامی لوگوں میں اسلام اور مسلمانوں کے خلا ف غصہ عروج پر ہے۔
ان اسلامی پناہ گزینوں کی آباد کاری کے لئے ہنگامی طور پر کئی افراد پر مشتمل عملے کو بھرتی کیا گیا، عربی زبان کے مترجمین کا بندوبست کیا گیا، کئی پرانی عمارتوں کی جدید طرز پر مرمت کر کے انہیں رفیوجی کیمپ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور ٹیکس دینے والے افراد کے پیسے سے ان کے اخراجات برداشت کئے جا رہے ہیں۔ فن لینڈ کے ایک بہت قیمتی سیاحتی جزیرے پر واقع چھ سو کمروں کے ایک مہنگے ہوٹل کو رفیوجی کیمپ میں منتقل کر کے پہان گزینوں کو وہاں بسایا گیا ہے۔ اس جزیرے کی کل آبادی صرف بیس ہزار افراد پر مشتمل ہے، جہاں کبھی کوئی جرم نہیں ہوا تھا اور وہاں کبھی پولیس کی ضرورت تک محسوس نہیں کی گئی تھی۔ دارالحکومت ہیلسنکی میں نئے سال کی رات جنسی زیادتی کے کئی واقعات کے بعد کئی شہروں میں رات بھر پولیس گشت کرتی ہے اور ان بدوؤں کے ساتھ ساتھ دیگر امن پسند غیر ملکی تارکین وطن کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
ان واقعات سے بیسیوں سوالات جنم لے رہے ہیں، مثلاََ یہ کہ کیا مسلمان ممالک کو آپس میں دست و گریبان ایک دوسرے کو تباہ و برباد کر دینا چاہئیے یا ایک دوسرے کا دست و بازو بننا چا ہئیے؟ اگر یورپ بھر نے ان لوگوں کو پناہ دی ہے تو کیا بھوکا پیٹ بھرتے ہی انکی شہوت لوٹ آئی ہے اور یہ انسانیت اور اسلام کا نام کیوں بدنام کر رہے ہیں؟ کیا بحیثیت مجموعی اسلامی لوگ ان تہذیب یافتہ معاشروں میں رہنے کے قابل بھی ہیں؟ کیا ان واقعات میں ملوث افراد کو فوری طور پر ملک بدر نہیں کر دینا چا ہئیے؟ کیا یورپ کو اسلامی ممالک سے رفیوجی لینا بند نہیں کر دینا چا ہئیے؟ یہ وہ موضوع ہے جس پر محبانِ دین عرب کے ریگستانوں میں شتر مرغ بنے اپنی گردنیں چھپائے بیٹھے ہیں۔ ان ثنا خوانِ تقدیس مشرق کے خیال میں مغربی خواتین چونکہ آزاد خیال اور کافر ہیں اس لئے ان کے ساتھ جنسی زیادتی شرعی طور پر جائز ہے۔ اس نوعیت کے واقعات ایک آتش گیر مادے کی طرح مسلسل تباہی پھیلا رہے ہیں جس سے اسلام کا اجتماعی تصور تاریک ترین ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے واقعات کی شدت کیساتھ مذمت کی جانی چا ہئیے اور ان میں ملوث افراد کو قرار واقع سزا دی جانی چا ہئیے۔ ان واقعات میں ملوث افراد کے خلاف اگرچہ مقامی افراد میں غصہ انتہائی حد کو چھو چکا ہے لیکن کیا مقامی حکومتیں انہیں ملک بدر کر سکیں گی۔
میں سمجھتا ہوں کہ نہیں ۔ مقامی عدالتوں میں مقدمات چلیں گے اور یہ لوگ قید و جرمانے کی سزا بھگت کر پھر اسی معاشرے کا حصہ بن جائینگے۔ مقامی حکومتیں انہیں مفید شہری بنانے اور انہیں مقامی زبان سیکھانے کے لئے ان پر لاکھوں خرچ کریں گی لیکن اس دوران یہ دیگر جرائم میں ملوث ہوتے چلے جائینگے۔
یورپ بھر میں عرب مسلمانوں کی مسلسل آمد کو دیکھتے ہوئے ہمارے کچھ علماء کہتے ہیں کہ اگلے تیس سالوں میں جرمنی و فرانس کا پہلا مذہب اسلام ہو گا۔ ممکن ہے کہ آبادی کے اعتبار سے ایسا ہو بھی ہو جائے۔ لیکن کیا ان میں ایسے لوگ بھی ہو ں گے جو ملکی ایوانوں تک پہنچ سکیں، جو اعلی پائے کے ڈاکٹر اور انجینئر بن سکیں۔ جو عظیم مفکر یا فلاسفر بن سکیں ، جو بلند پایہ سیاست دان یا درس و تدریس کے شعبہ سے منسلک ہو سکیں۔ جو منجھے ہوئے سائینسدان بن سکیں؟ مجھے شک ہے کہ نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ، برطانیہ کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں، جہاں عرصہ دراز سے تارکین وطن عرب و برصغیر سے آئے ہوئے مسلمانوں کی مساجد تو بہت ہیں لیکن ان سے صرف خود کش بمبار ہی پیدا ہوئے ہیں یا رنگ برنگی داڑھیوں اور رنگ برنگی پگڑیوں والے مختلف حلیوں والے آتشیں دماغ پیدا ہوتے ہیں۔ جبکہ دیگر اداروں سے سائینسی علوم کے ماہرین، بینکار، ماہرین عمرانیات اور دانشور پیدا ہوئے ہیں۔
کاغذی وجود پر ہے آتشیں دماغ
حیرت نہ ہو بدن کو گر جلائے یہ