انتہا پسندی، مغرب اور مسلمان
- تحریر محی الدین عباسی
- جمعرات 14 / جنوری / 2016
- 4582
فرانس کے صدر نے پیرس میں دہشت گردحملوں کے بعد اعلان کیا تھا کہ یہ جنگ ہے ۔ہم پر حملہ کیا گیا ہے۔ اس کا انتقام لیا جائے گا ۔ اس کے اگلے روز ہی فرانس نے دولت اسلامیہ کے مرکز رقہ پر حملہ کیا اور یہ حملہ داعش پر ہونے والے حملوں میں شدید ترین تھا۔ ان حملوں میں بے گناہ شہری نشانہ بنتے ہیں چاہے وہ پیرس ہو یا شام کے لوگ ہوں۔
دولت اسلامیہ کے زیر نگیں علاقوں کے شہری تو دوہری مشکلات کا شکار ہیں ۔ وہ ایک تو شدت پسند ، دہشت ناک مجرمانہ اور سفاکانہ ذہنیت کے حامل گروہ کے ہاتھوں اپنے ہی وطن اور گھروں میں یرغمال بنے ہوئے ہیں اور اس ذہنیت سے لڑنے والے جب حملہ کرتے ہیں تب بھی ان معصوم شہریوں کو ہی نشانہ بننا پڑتا ہے۔ فرانسیسی حکومت نے رواں سال میں اب تک نفرت پھیلانے کے مرتکب 10 آئمہ مساجد کو ملک سے بے دخل کیا ہے۔ فرانسیسی وزیر داخلہ برنارکازنیو کا کہنا ہے کہ حکومت شدت پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ پورے عزم کے ساتھ لڑ رہی ہے۔پیرس سانحہ کے بعداب تک 40مساجد کو تالے لگا دئیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کسی کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ جو عناصر نفرت پھیلانے میں ملوث ہیں، انہیں فرانس میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ فرانسیسی وزیر داخلہ نے یہ بات حکومت پر بعض حلقوں کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کے الزام کا جواب دیتے ہوئے کہی ہے۔
جون 2015 میں ایک شدت پسند نے فرانس میں ہی ایک کمپنی کے ڈائریکٹر کو قتل کر کے اس کا سر تن سے جدا کر دیا تھا۔ اور ایک گیس فیکٹری میں دھماکہ کرنے کی کوشش کی تھی ۔اس واقعے کے بعدحکومت پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ ’یورپ ون‘ ریڈیو سے بات کرتے ہوئے فرانسیسی وزیر داخلہ برنار کاز ینیو کا کہنا تھا کہ 2012میں صدر اولاند کے صدر بننے کے بعد سے اب تک 40علماء اور مساجد کے اماموں کو مشکوک سرگرمیوں کے الزام میں ملک سے نکالا گیا ہے۔اس سے پہلے پانچ سال میں صرف 15 ایسے افراد بے دخل کئے گئے تھے ۔ انہوں نے ملک کے دائیں بازو کی شدت پسند اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے بتایا کہ آئمہ مساجد کو پچھلے چھ ماہ میں بے دخل کیا گیا ہے اور اب یہ تعداد 50 ہو گئی ہے جن میں مذہبی لیڈر بھی شامل ہیں ۔ انہوں نے بتایا ہے کہ ملک کی جو مساجد انتہا پسندی میں ملوث ہوں گی انہیں بند کر دیا جائے گا۔ وہ ملک میں سلفی مسلک کے شدت پسند عناصر کی 100مساجد بند کرنے کے فیصلے پر قائم ہیں۔فرانس میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کی ترویج اور تبلیغ کرنے والی کسی بھی مسجد کو بند کیا جا سکتا ہے ۔ کازنیو کا کہنا تھا کہ فرانس میں مساجد کو نفرت کے لئے استعمال کرنے والوں کے خلاف فوج داری نوعیت کے مقدمات قائم کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے ۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ فرانس میں مسلمانوں کی تعداد 60لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ ملک بھر میں 2500رجسٹر ڈ مساجد موجود ہیں۔
برطانیہ میں یہ اعداد و شمار فرانس کے مقابلے میں کم ہیں ۔ البتہ یہ کہنا درست ہو گا کہ چند سالوں میں برطانیہ میں مذہبی انتہا پسندی میں اضافہ ہؤا ہے۔آئندہ سالوں میں اس میں مزید تیزی کا امکان ہے ۔ ایسے نظریات اور سوچ کو کم کرنے کے لئے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے فرانس نے حالیہ دنوں میں اس سلسلہ میں اچھی مثال قائم کی ہے۔ فرانسیسی جزیرے کور سیکا میں مسلمانوں کی عبادت کے لئے ایک مخصوص کمرہ جس میں نماز ادا کی جارہی تھی مشتعل ہجوم نے توڑ پھوڑ شروع کر دی ۔ عبادت گاہ میں سے قرآن کریم اور دوسری اسلامی کتب باہر نکال کر جلانے کی کوشش کی گئی جس پر پولیس نے انہیں روکا ۔ پولیس کی مداخلت تک یہ لوگ عبادت گاہ کو نقصان پہنچا چکے تھے ۔ ہجوم نے ’عربو! ہمارا علاقہ چھوڑ دو اور یہ ہمارا وطن ہے‘ کے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کی فرانسیسی حکومت اور سوشل تنظیموں نے مذمت کی ہے۔ یہ 13 نومبر 2015 کو پیرس میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کا رد عمل تھا۔ فرانس کے مسلمانوں نے حالیہ دنوں میں اس واقعے کے بعد مساجد میں غیر مسلموں کی دعوت کا اہتمام کیا جس کو ’ایک برادرانہ چائے کی پیالی‘ کا نام دیا گیا تھا۔ اس تقریبات میں اسلام پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کرنے کے لئے دلائل دئے گئے۔
13جنوری 2016کو فرانس کے شہرمارسیلی میں یہودیوں کے مرکزی رہنما نے ’اہل مذہب‘ سے کہا ہے کہ وہ مخصوص ٹوپی کو پہننا چھوڑ دیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق گزشتہ روز ایک لڑ کے نے یہودی استاد پر حملہ کر دیا تھا۔ حملہ آور کا کہنا ہے کہ اس نے ایسا داعش تنظیم کے کہنے پر کیا تھا۔ یہودی رہنما کا یہ بھی کہنا ہے کہ فرانس میں انتہا پسند ی کی وجہ سے یہودیوں کو خطرہ ہے ۔یورپ میں پیرس اور لندن کے بعد ما ر سیلی تیسرا بڑا شہر ہے جہاں یہودیوں کی بڑی تعداد آباد ہے گزشتہ سال فرانس میں چند یہودیوں کی ہلاکت کے بعد سے یہودیوں کی 700 عبادت گاہوں، اسکولوں اور کمیونیٹی سینٹرز کی حفاظت کے لئے پولیس کو تعنیات کیا گیا ہے۔ دہشت گردی اور زہریلے نظریات اسلامی ممالک سے نکل کر اب مغربی ممالک میں پھیلنے لگے ہیں۔ اسی لئے فرانس کے صدر نے یہ افسوسناک خبر دی ہے کہ آئندہ دنوں ، ہفتوں یا مہینوں میں مزید دہشت گرد حملے ہو سکتے ہیں۔
اس طرح کے خیالات اور سوچ کی روک تھام کے لئے کسی جنگ، بارود یا فوجی کارروائی کی ضرورت نہیں۔ اس کو محبت پیار، افہام و تفہیم اور ایک دوسرے کے احترام سے دور کیا جا سکتا ہے۔ زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والوں کو اپنے طور پر اس کام میں بھرپور کردار ادا کرنا چاہئے۔ اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں بہتر شہری بننے کی کوشش کرنا ہر شخص کی ذمہ داری ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم جس ملک میں رہیں ، اس کے قانون کی پاسداری کریں۔ تب ہی مسلمان مغربی معاشروں میں کھویا ہؤا وقار حاصل کرسکتے ہیں۔