مشرقِ وسطیٰ اور پاکستان

مشرقِ وسطیٰ میں مسلح دہشت گرد گروہوں کی کارروائیوں نے عالمی امن کے لیے خطرے کی گھنٹیاں بجانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ویٹی کن سٹی میں بیٹھے اَمن کے علمبردار پوپ نے بھی اس صورتِ حال پر تیسری عالمی جنگ کے خطرے کی طرف اشارہ کیا ہے۔

ترکی جو خطے میں ایک پُرامن ملک تھا، وہاں استنبول شہر کے دل سلطان احمت میں جہاں ہر روز کئی لاکھ  سیاح گھومتے ہیں، 13جنوری کو ہونے والے دہشت گردی کے واقعے نے یہ ثابت کیا ہے کہ شام و عراق کے مذہبی دہشت گردوں نے ترکی کے اندر اپنانیٹ ورک قائم کر لیا ہے۔ چند ماہ میں ترکی میں یہ مذہبی دہشت گردی کا تیسرا واقعہ ہے۔ ہمارے کچھ لوگوں کو جنگ اور وہ بھی عالمی جنگ ایک کھیل لگتا ہے۔ وہ اپنی تحریروں میں اس کو پیش کرکے اپنے عقیدے کی کامیابی و کامرانیوں کی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں کہ ایک فیصلہ کن جنگ کا وقت قریب آچکا ہے۔ ان لوگوں کو احساس ہی نہیں کہ آج کی عالمی جنگ کی شکل کیا ہو گی۔ معروف سائنس دان البرٹ آئن سٹائن نے کہا تھا، ’’میں نہیں کہہ سکتا کہ تیسری عالمی جنگ کن ہتھیاروں کے ساتھ لڑی جائے گی۔ لیکن میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ چوتھی عالمی جنگ، ڈنڈوں اور پتھروں سے لڑی جائے گی۔‘‘ ایک سائنس دان کا تجزیہ ہمیں بتاتا ہے کہ اگر تیسری عالمی جنگ لڑی گئی تو دنیا میں کچھ نہیں بچے گا اور اس کے بعد لوگ پتھر کے زمانے میں چلے جائیں گے۔ وہ لوگ جو جنگوں سے اپنے خوابوں کے محل کھڑے کیے بیٹھے ہیں، ان کے لیے یہ تجزیہ آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے۔

دنیا بھر میں ایٹمی اسلحے کے ڈھیر دنیا کو سیکڑوں مرتبہ تباہ کرنے کے لیے کافی ہیں۔ اس وقت دنیا میں 15000 سے زائد ایٹمی ہتھیار موجود ہیں جس میں 90فیصد امریکہ اور روس کے پاس ہیں۔ امریکہ میں ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے خلاف سب سے بڑے تھنک ٹینک کے چیئرمین جوناتھن گرانوف جو دو مرتبہ امریکہ میں میرے میزبان تھے، اسلام کے صوفیائے کرام سے متاثر ہیں۔ 2003ء میں میرے ایک سوال پرکہ کیا مسلح دہشت گرد ایٹمی اسلحہ تک رسائی کر سکتے ہیں، جوناتھن گرانوف کا جواب تھا کہ ہماری تحقیق کے مطابق اگلے دس سالوں میں یعنی 2013ء تک پرائیویٹ سیکٹر ایٹمی اسلحہ کی تکنیک حاصل کر سکتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں برپا Private Warriors کے حوالے سے بھی یہ خبریں دنیا کے پالیسی سازوں تک پہنچ رہی ہیں کہ وہ خطرناک ہتھیاروں کی تکنیک کے اہل ہو سکتے ہیں اوران کی رسائی خطرناک ہتھیاروں تک ممکن ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں برپا دہشت گردی نے علاقائی اور عالمی طاقتوں کو متحارب کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسی بنیاد پر پوپ سمیت دنیا کے اہل فکر تیسری عالمی جنگ کے خطرے کو محسوس کر رہے ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں نئے عسکری اتحاد کی کوششیں جاری ہیں، جس میں پاکستان کو بھی شامل کرنے کا شدید دباؤ ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس نئے عسکری اتحاد کی بنیاد صرف مذہب نہیں بلکہ فرقہ وارانہ بھی ہے۔ جنرل ضیا کے زمانے میں ایک عرب ریاست میں جب شورش برپا ہوئی تو اس دوست ریاست نے پاکستان سے سنی مسلک کے علاوہ کسی کو نہ بھیجنے کی تاکید کی تھی جو پاکستان نے مسترد کر دی تھی۔ اب بھی مشرقِ وسطیٰ میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر جنگ کو وسعت دینے کے سامراجی منصوبوں پر عمل کیا جارہا ہے۔ کوشش کی جارہی ہے کہ خطے میں آباد فرقے اور ریاستیں اس آگ میں جتنا ممکن ہوسکےکودیں۔ پاکستان کی فوجی و سول لیڈر شپ اس الاؤ میں داخل ہونے کی ترغیب کو مسترد کر رہی ہے جو کہ ایک خوش آئند بات ہے۔

پاکستان نے جو تجربات پچھلی سات دہائیوں میں حاصل کیے ہیں، یہ اسی تجربے کا حاصل ہے۔ پاکستان عسکری حوالے سے ایک طاقتور ریاست ہے، بلکہ ایٹمی ریاست ہے۔ اس کو اس الاؤ میں داخل کرنے والے نہ تو پاکستان سے مخلص ہیں نہ ہی مشرقِ وسطیٰ اور نہ ہی اسلام سے۔ اس لیے پاکستان کی اعلیٰ لیڈر شپ نے خطے کی عرب اور غیر عرب ریاستوں کے درمیان صلح کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے۔ پاکستان نے امریکہ اور چین کے ساتھ بہتر تعلقات کے ساتھ ساتھ اب یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ وہ روسی فیڈریشن کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرے۔ یہ سبق بھی پاکستانی ریاست نے سرد جنگ کے تجربے سے حاصل کیا ہے۔ خصوصاً افغانستان میں اپنے کردار سے، جس کی جنرل ضیاالحق نے قیادت کی تھی۔ اور جب سابق سوویت یونین اور امریکہ کے مابین افغانستان پر جنیوا معاہدہ ہوا تو جنرل ضیا نے تاریخی فقرہ کہا کہ ’’ہم نے افغانستان میں کوئلے کی دلالی کی، سوائے اپنا منہ کالا کرنے کے ہمارے ہاتھ کچھ نہیں آیا۔‘‘

پہلے جنگیں ریاستوں کو مٹا دیتی تھیں، جیسے جنگِ عظیم اوّل میں آسٹرو ہنگرین ایمپائر بکھر گئی اور دوسری جنگِ عظیم میں ہٹلر کی عظیم ریاست جرمنی مٹ گئی۔ آج کی جنگیں صرف ریاستوں کو ہی ختم کرنے کی طاقت نہیں رکھتیں، بلکہ صفحۂ ہستی سے انسانوں کا وجود ختم کرنے کی اہل ہو گئی ہیں۔ پاکستان اس صورتِ حال میں متوازن خارجہ پالیسی کا خواہاں نظر آرہا ہے۔ امریکہ و چین کے ساتھ تعلقات کے علاوہ روس اور بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری اسی تبدیل شدہ خارجہ پالیسی کی عکاسی کرتی ہے۔ لیکن ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ جب پاکستان اور بھارت کی قیادت تعلقات میں بہتری کے لیے متحرک ہوتی ہے تو کوئی فساد برپا کر دیا جاتا ہے۔ جیسے پٹھان کوٹ میں دہشت گردی کاواقعہ۔ یقیناً یہ دہشت گردی اس طاقت کے ایما پر ہی ہو گی جو خطے کی ان دو اہم ریاستوں کو امن کے لیے سرگرم دیکھنا نہیں چاہتیں اور اسی طرح وہی قوتیں نہیں چاہیں گی کہ پاکستان اورروس بھی امن اور ترقی کے لیے ایک دوسرے کے قریب آئیں ۔ چند سال قبل روسی صدر ولادی میرپیوٹن، پاکستان کے دورے پر آنے والے تھے۔ لیکن یہ دورہ آخری دنوں میں منسوخ کر دیا گیا۔ اب بھی پاکستان نے روسی صدر پیوٹن کو پاکستان کے دوسرے کی دعوت دے رکھی ہے جو انہوں نے قبول بھی کی ہے اور امکان ہے کہ وہ 2016ء میں پاکستان کا دورہ کریں گے۔ اگر ایسا ہو گیا تو یہ دورہ پاکستان کی خارجہ تاریخ کا اہم سنگِ میل ثابت ہو گا۔ لیکن یہاں بھی اندیشہ ہے کہ وہی طاقتیں جو بھارت اور پاکستان کے مابین امن کی بجائے تناؤ چاہتی ہیں، روسی صدر کے دورے کوسبوتاژ کرنے کے لیے کوئی خطرناک صورتِ حال پیدا کر دیں۔

سوال یہ ہے کہ وہ ’’ قوت‘‘ جو بھارت اور پاکستان کو امن کے لیے قریب ہوتے نہیں دیکھ سکتی ، اس کے ’’ آلہ کار‘‘ کون لوگ ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق، اس قوت نے بڑی چابکدستی سے جنوبی ایشیا میں ایسے گروہ جنم دینے میں بنیادی کردارادا کیا ہے جو پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ پیدا کرنے میں فیصلہ کن کردارادا کرتے ہیں۔ ظاہری طور پر ان گروہوں کا دعویٰ ہے کہ وہ اسلام اور ہندومت کےعظیم مستقبل کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔ یہی تو وہ حکمت عملی ہے جس نے مشرقِ وسطیٰ کو جنگی اکھاڑا بنانے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔ آج  القاعدہ سے لے کر داعش تک کو امریکی پالیسی سازوں کا شاخسانہ قرار دیا جاتا ہے۔ اگر ان ’’ تجزیہ نگاروں‘‘ کےچند سال قبل کے تجزیے دوبارہ پڑھیں تو معلوم ہو گا کہ کس طرح ان نام نہاد ’’ تجزیہ نگاروں‘‘ نے القاعدہ اور ان جیسے گروہوں کو اسلام کے لیے جان لڑا دینے والے مجاہدین قرار دیا تھا۔ Private Warriors، یقیناً مشرقِ وسطی سے جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا سے یورپ اور کاکیشیا تک کو خطرناک جنگ میں دھکیل سکتے ہیں۔ یہی امریکی سامراجی پالیسی ہے جو کہ خود ہزاروں میل دور ان تنازعات اور جنگوں کے اثرات سے اپنے آپ کو محفوظ سمجھتا ہے۔