دہلی میں فضائی آلودگی کا مسلہ
- تحریر محمد آصف اقبال
- منگل 19 / جنوری / 2016
- 7251
دہلی کے پرگتی میدان میں جاری عالمی کتاب میلہ میں شرکت کا موقع ملا تو کیا دیکھتے ہیں کہ دہلی کی وہ سڑکیں جہاں سکون و اطمینان کے ساتھ کم ٹریفک میں گزشتہ کئی دنوں سے سفر ممکن تھا ، ایک بار پھر بھیڑ بھاڑ اور ٹریفک جام کی کیفیت میں تبدیل ہوگئی ہیں۔ دہلی حکومت نے یکم تا پندرہ جنوری2016آزمائشی طور پر ایک مہم چلائی تھی جس کا سبب دہلی میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی ہے۔دوران مہم شہر میں تقریبا ایک چوتھائی گاڑیوں کو سڑک پر آنے سے روکا گیا جس سے ٹریفک کی روانی سہل انداز میں ہوئی۔
ایک اندازے کے مطابق شہر میں 30 لاکھ گاڑیاں ہیں۔ان میں سے پرائیوٹ گاڑیوں پر جب چند دنوں کے لیے روک لگائی گئی تو اس کے فوائد بھی سامنے آئے ۔دوسری جانب سال رواں کے موسم سرما میں دہلی میں فضائی آلودگی کی سطح خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے۔شہر میں آلودگی کی سطح بین الاقوامی ادارہ صحت کی طے شدہ حد سے دس گنا زیادہ ہونے کے بعد عدالت کی جانب سے آلودگی سے نمٹنے کے لیے دئے جانے والے حکم کے بعد ریاستی حکومت کی جانب سے حالیہ اقدامات کئے گئے ہیں۔عوام نے جس مثبت انداز سے مہم کا خیر مقدم اوربھر پور تعاون کیااس کی امید مہم سے قبل نہ انتظامیہ کو تھی ،نہ حکومت کو اور نہ ہی حزب اختلاف کو۔یہی وجہ ہے کہ مہم سے قبل کئی جانب سے مخالفت میں اٹھنے والی آوازیں اُس وقت اچانک بند ہو گئیں جب شہریوں نے نہ صرف دلچسپی دکھائی بلکہ تعاون بھی کیا۔دہلی میں فضائی آلودگی ایک بڑا مسئلہ ہے جس میں ہر شخص مبتلا ہے لہذا یہ مسئلہ ، ہر شخص کا مسئلہ بن چکا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ تمام لوگوں نے موجودہ حکومت کے جفت اور طاق اعداد کے فارمولہ پر عمل کرنا پسند کیا۔لیکن چونکہ یہ بہت محدود مدت کے لئے تھا،اس کے خیر خواہ نتائج فوراً نظر آنا ممکن نہیں ہیں۔ضرورت ہے کہ آئندہ دنوں میں ہم اور آپ مل کر نہ صرف حکومت کی بلکہ خود اپنی اور اہل خانہ کی بھی مدد کریں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دارالحکومت نئی دہلی نے دنیا کے سب سے آلودہ شہر بیجنگ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔نئی دہلی میں فضائی آلودگی کی سطح بیجنگ سے ڈھائی گنا زیادہ ہے۔فضائی آلودگی کا مطلب ہوا میں نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ، سلفر ڈائی آکسائیڈ اور کاربن مونوآکسائیڈ کی مقدار عالمی ادارہ صحت کی جانب سے طے کئے گئے معیار سے زیادہ ہونا ہے۔آلودگی کامعیار سے زیادہ ہونا اور سانس کے ذریعے کاربن مونو آکسائیڈ، سیسہ اور کیڈمیئم پھیپھڑوں میں جانے کے باعث نہ صرف سانس کی بیماریوں میں حد درجہ اضافہ ہواہے بلکہ آنکھوں اور دل کے امراض بھی عام ہوتے جا رہے ہیں۔نئی دہلی میں قائم سینٹر فار سائنس اینڈ انوائرنمنٹ کی ایگزیکیٹو ڈائریکٹر انومیتا رائے چوہدری کہتی ہیں کہ اس شہر نے 2004ء اور 2005ء میں جو کامیابیاں حاصل کی تھیں، اب وہ ان سے محروم ہو چکا ہے۔ایک دور میں جب نئی دہلی کی آبادی 9.4 ملین تھی،شہر کو کنٹرول کرنا نسبتاً آسان تھا۔ لیکن اس وقت آبادی16 ملین تک جا پہنچی ہے،جسے کنٹرول کرنا ایک مشکل عمل ہے۔دارالحکومت کی فضا کو بہتر بنانے کے لیے 1998سے 2003ء تک ایک کامیاب پروگرام چلایاگیاتھا، جس کے تحت بجلی گھروں کو شہر کے مرکز سے دور منتقل کیاگیا ،بسیں اور رکشے چلانے کے لئے سی این جی استعمال کی گئی، جو ا یندھن کی دیگر اقسام کے مقابلے میں سب سے کم آلودگی پیدا کرتی ہے، لیکن یہ عمل برقرار نہ رہ سکا۔
دوسری جانب عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق ہوا میں دس مائیکرو میٹر سے کم سائز کے PM10s کہلانے والے ذرات انسانی صحت کے لئے بے انتہاخطرناک ہیں۔ چونکہ یہ انتہائی باریک ذرات انسانی پھیپھڑے تک بہ آسانی پہنچ جاتے ہیں اور مستقل اپنی موجودگی ظاہر کرتے ہیں۔ لہذا ان ذرات کی وجہ سے ہر سال دنیا بھر میں 1.34 ملین انسان موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ دارالحکومت دہلی میں بھی ایسی اموات ہزاروں میں درج کی جا رہی ہیں۔ صورتحال کے پیش نظر WHOنے ہوا میں اِن ذرات کی زیادہ سے زیادہ مقدار 20 ذرات فی کیوبک میٹر تجویز کی ہے۔ لیکن نئی دہلی انتظامیہ نے 100 ذرات فی کیوبک میٹر کی قانونی حد مقرر کی ہے۔ اس کے برعکس آج کل دہلی میں 300 ذرات فی کیوبک میٹر ناپے جارہے ہیں۔تجزیہ کی روشنی میںیہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ دارالحکومت دہلی کی فضا حد درجہ زہر آلود ہے۔جس کے نتیجہ میں نہ صرف انسان بلکہ چرند و پرند،حیوان اور نباتات تک متاثر ہیں۔مسئلہ کے حل کے طور پر صرف پندرہ دن کے تجرباتی دور میں 30%فضائی آلودگی میں کمی آئی ہے ۔اگر یہ عمل مستقل انجام دیا جائے ساتھ ہی این سی آر میں چلنے والی ڈیزل گاڑیوں پر بھی کنڑول کیا جائے تو ممکن ہے فضا صاف ہو،مسئلہ کا حل متعین ہواور صحت عامہ کی بڑی پریشانیوں سے بھی نجات حاصل ہوسکے۔ اس مسئلہ کو حکومتی وعوامی ، کسی بھی سطح پر نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
ایک خوش آئند خبر گزشتہ دنوں ریاست بہار سے آئی ہے۔خبر کے مطابق بہار میں اپریل 2016سے شراب نوشی اور اس کی فروخت پر پابندی کا اعلان کیا گیا ہے۔موجودہ حکومت نے گزشتہ دنوں ریاستی انتخابات کے دوران شراب پر مکمل پابندی کا وعدہ کیا تھا۔شراب نوشی اور منشیات کی خرید فروخت اگرچہ مرکزی و ریاستی حکومت کی آمدنی میں معاون ثابت ہوتی ہے ۔اس کے باوجود یہ معاونت بے شمار سماجی،معاشی،معاشرتی ،خاندانی اور صحت کے مسائل میں اضافہ کا سبب ہے۔وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے ایک تقریب کے دوران کہا کہ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خواتین شراب نوشی سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں، اس وجہ سے میں نے اپنے افسران کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ آئندہ مالی سال سے اس پابندی پر عمل درآمد کی تیاریاں کریں۔تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید وضاحت نہیں کی کہ وہ اس پابندی پر کس طرح عمل درآمد کروائیں گے ۔اور اس سے ہونے ہونے والے مالی خسارہ کو کیسے پورا کیا جائے گا؟بحر حال یہ حکومت کا معاملہ ہے اور حل کے لئے لازماً اس نے کوئی نہ کوئی طریقہ بھی طے ہوگا۔لیکن ایک مرحلہ میں اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ حکومت کو خسارہ ہوتا ہے۔تب بھی شراب پر پابندی سے حکومت معاشرتی،خاندانی اور صحت کے بے شمارمسائل سے نجات پائے گی۔جس کے نتیجہ میں ایک صحت مند معاشرہ تشکیل پائے گا۔ اس صحت مند معاشرے سے لازماًیہ امید وابستہ کی جاسکتی ہے کہ وہ معاشی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
منشیات کے استعمال سے خرابئ صحت کے مسائل بڑے پیمانہ پر رونما ہوتے ہیں۔ہاضمہ متاثر ہوتا ہے،جگر کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں،ہائی بلڈ پریشر اور لو بلڈ پریشر جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں،دل متاثر اور دل کی بیماریاں بڑھتی ہیں،ہڈیاں کمزور ہوتی ہیں،کینسر پیدا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں،انیمیا ہوتا ہے،یادداشت کمزور ہوتی ہے،خود پر کنڑول رکھنے یہاں تک کہ چلنے پھرنے میں بھی دشواری ہوتی ہے،نیند متاثر ہوتی ہے ،ساتھ ہی متاثرہ افراد بڑے پیمانہ پر ڈیپریشن کا شکار ہوتے ہیں وغیرہ۔دوسری جانب سماجی مسائل میں خاندان متاثر ہوتے ہیں،رشتوں میں ناچاقیاں بڑھتی ہیں،صنف نازک پر ظلم و زیادتیوں میں اضافہ ہوتا ہے،بچوں کا استحصال کیا جاتا ہے۔پھر یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ سڑک حادثات ،انسداد قانون کے واقعات میں اضافہ ہوتا ہے،نشہ خوری کی لت میں چوری و ڈکیتی کے واقعات مزید بڑھ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ صحیح و غلط اور جائز و ناجائز کی تمیز ختم ہوجاتی ہے۔اس صورت میں یہ خوش آئند فیصلہ ہے۔ امید ہے ریاست اس پر عمل درآمد یقینی بنائے گی۔