پاکستان کا مثبت کردار
- تحریر فرخ سہیل گوئندی
- منگل 19 / جنوری / 2016
- 5139
وزیراعظم پاکستان میاں نوازشریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف، مشرقِ وسطیٰ کے دو اہم ممالک سعودی عرب اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات میں ثالثی کے لیے متحرک ہوگئے ہیں۔ پاکستان کی سول اور ملٹری لیڈرشپ کا یہ کردار دونوں دوست ممالک اور خطے کے لئے امید کی کرن ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں اسّی کی دہائی کا ویسا ہی ڈرامہ رچانے کی کوششیں اپنے عروج پر ہیں جس کے تحت ایران اور عراق کو جنگ میں دھکیل کر جنگ کا آغاز کیا گیا تھا۔
اس مرتبہ امریکی سامراج چاہتا ہے کہ کسی طرح پاکستان بھی اس تنازع میں شامل ہو کر جنگی تھیٹر کا حصہ بن جائے۔ اس حوالے سے پاکستان کی پارلیمنٹ اور آرمی ہیڈکوارٹرز اس کوشش یا سازش کو ناکام بنانے اور امن کے قیام کے ئیے متحرک نظر آرہے ہیں۔ یہ ایک خوش آئند سیاسی اقدام Political Development ہے، بلکہ پاکستان اس ممکنہ جنگی تھیٹر کو ناکام بنانے کے لئے متحرک اور مثبت کردار کرنے کے لئے جس طرح آگے بڑھا ہے، اس سے خطے میں پائیدار امن کے امکانات بڑھ جائیں گے۔
پاکستان کی قیادت سعودی حکمرانوں اور ایرانی قیادت کے ساتھ مسلسل رابطوں میں ہے اور مصدقہ اطلاعات کے مطابق چین بھی اس ڈپلومیسی کے پیچھے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ ایران کا یورپ اور امریکہ کے ساتھ جوہری ہتھیاروں کا معاملہ طے ہو جانے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کے ساتھ امریکی سامراج جس طرح کھیل رہا ہے، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امریکی سامراج خطے میں امن کے لئے کتنا ’مخلص‘ ہے۔ عراق میں ایرانی سرپرستی کی قبولیت، شام میں بشارالاسد کے خلاف متحرک مسلح گروہوں کی مالی و عسکری مدد اور اسی طرح ایران کے ساتھ امریکہ کے تعلقات میں تیزی، سعودی عرب کی یمن کے مسئلے میں ’سرپرستی‘ اور خطے میں سنی اور شیعہ ریاستوں کے تصور کو ہوا دے کر سعودی عرب کی جنگ کے لئے کمر ٹھونکنا سامراج کی جنگی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ امریکی سامراج کو اسی لئے تودنیا میں ’جنگوں کا سوداگر‘ کہا جاتا ہے۔ اگر پچھلی سات دہائیوں میں نظر دوڑائیں تو آسانی سے معلوم ہو گا کہ امریکی سامراج نے دنیا کے کونے کونے میں مختلف انداز کی جنگوں کی سوداگری کی ہے۔ اس میں صرف امریکی اسلحہ ساز اپنا اسلحہ ہی بیچنے کے خواہاں نہیں ہوتے بلکہ امریکی سامراج مختلف خطوں کو غیر مستحکم De-Stablize کرکے اِن خطوں سے جنگوں کے ذریعے سٹرٹیجک اور اقتصادی مفادات کی تکمیل کرتا ہے۔ پچھلی ایک دہائی سے امریکہ نے ہمارے خطے میں اسلحہ فروشی اور جنگی سوداگری میں جو کردار ادا کیا ہے، اس سے ہماری سول و ملٹری لیڈر شپ بخوبی آگاہ ہے۔
جنگوں کا سوداگر، امریکی سامراج اسلحوں کے انبار کو خطے میں استعمال کروانے کے لئے بڑا متحرک نظرآرہا ہے۔ تحقیقی اداروں کے مطابق بھارت دنیا میں اسلحے کے خریداروں میں سرفہرست ریاست تھی جس کو اب سعودی عرب نے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ 2014ء میں بھارت نے 5.8 ارب ڈالر کا اسلحہ خریدا۔ سعودی عرب نے اس کے بعد 6.5 ارب ڈالر کا خرید کر اس جنگی سوداگری کو مات دے دی ہے۔ اس خریداری کے دوران سعودی عرب نے برطانیہ سے نہایت جدید جنگی طیارے ٹائی فون اور امریکہ کے F-15SA طیارے بھی خریدے۔ اسلحے کی خریداری کی اس دوڑ میں متحدہ عرب امارات اور اومان بھی پیچھے نہیں رہے۔ اس خطے میں ممکنہ جنگوں میں ایران، سعودی عرب، عراق، شام، متحدہ عرب امارات، یمن، اومان، کویت، قطر، بحرین، اردن وغیرہ شامل ہوسکتے ہیں۔
اس سامراجی منصوبے کے ذریعے جہاں متذکرہ ریاستیں اس جنگ میں شکار اور نشانہ بنائی جا سکتی ہیں، ان کے علاوہ دوسرا بڑا Victim عوامی جمہوریہ چین اور پھر روسی فیڈریشن ہوگی۔ اسی لئے عوامی جمہوریہ چین اس جنگی تھیٹر کو سفارتکاری کے ذریعے ناکام بنانے کے لئے کوشاں ہے۔ پچھلی ایک دہائی میں عوامی جمہوریہ چین کا مشرقِ وسطیٰ میں تجارتی حجم 600 گنا بڑھ گیا ہے۔ عوامی جمہوریہ چین مشرقِ وسطیٰ میں 230 ارب ڈالر کی تجارت کر رہا ہے۔ پاکستان کے ساتھ ساتھ ایران اور سعودی عرب کے مابین مصالحانہ کردار میں عوامی جمہوریہ چین بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ چین ہی وہ واحد ملک ہے جس نے ایران کے خلاف مغربی دنیا کی پابندیوں کے دوران ایران کو مختلف شعبوں میں ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مختلف شعبوں میں مدد دی۔ اطلاعات کے مطابق چین، شام میں داعش اور دوسرے مسلح گروہوں سے نمٹنے کے لئے بحیرہ روم میں اپنی بحری صلاحیت کو ضرورت پڑنے پر استعمال کرنے کے لئے تیار ہے۔ چین جہاں خطے میں جنگ کے نتیجے میں اپنے اقتصادی مفادات کو ملیامیٹ ہوتا دیکھ رہا ہے، وہیں وہ سنکیانگ میں اوئیغر ترک مسلمانوں کے اندر امریکی سامراجی سرپرستی میں دہشت گردی کے خطرے سے ہر وقت ہوشیار ہے۔ امریکی سامراج، عقیدے اورنسل کی بنیاد پر ترکی پر اس دہشت گردانہ منصوبہ بندی کی ذمہ داری ٹھونسنے پر تلا ہوا ہے کہ چین کے ترک اور مسلمان (سنی) بھائیوں کے اندر جہاد برپا کیا جائے۔ امریکی سامراج اس سارے خطے میں ایک گھناؤنا سامراجی کردارادا کرنے کے لئے ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر سکتا ہے۔
پاکستان کی ذرا سی لغزش اس خطے کو جس جنگی تھیٹر میں دھکیل سکتی ہے، اس کا ادراک ہی ہے جس نے وزیراعظم پاکستان اور چیف آف آرمی سٹاف کو ثالثی اور امن کے لئے متحرک کیا ہے۔ روسی فیڈریشن نے بھی اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ وہ ایران اور سعودی عرب میں مابین بڑھتی کشمکش میں ثالث کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ امریکی حکمت عملی کو دیکھیں تو حقیقت کھلتی ہے کہ وہ اس جنگ میں ہر ایک کو تھپکی دیتا نظر آرہا ہے۔ وہ چاہے خطے کی ریاستیں ہوں یا غیر ریاستی گروہ۔ اسی طرح نام نہاد جہاد کے نام پر شام میں مختلف مسلح گروہوں کی پشت بھی امریکی سامراج ہی ٹھونک رہا ہے کہ اٹھو جنگ کے لئے۔ افسوس اس تھیٹر کی تیاری کے لئے پاکستان کے شہروں میں بھی چند کم عقل بینر اٹھائے اپنے اپنے فرقوں کی سرپرست ریاستوں کی قیادتوں کے زیراثر متحرک ہونے کے لئے پرتول رہے ہیں۔
سیاسی حوالے سے یہ صورتِ حال پاکستان کے علاقائی کردار کو بڑھانے میں مددگار بھی ثابت ہورہی ہے۔ پاکستان ایک ایسی ریاست ہے جس نے کامیابی سے دہشت گردی کے خلاف جنگی کارکردگی دکھائی ہے۔ اب اس کی طرف سے ثالثی کی کوششیں اگر کامیابی سے ہمکنار ہوجاتی ہیں تو اس سے پاکستان خطے کی ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر اہم مقام حاصل کرسکتا ہے۔ اور اس کامیابی کے بعد علاقے کی متعلقہ ریاستیں ایک اتحاد کے ذریعے امریکی سامراج کی مداخلت کے خلاف ایک کامیاب رکاوٹ ثابت ہوسکتی ہیں۔