آزاد کشمیر کی عوامی عدالت
چند دن قبل میں نے’ آؤ دیکھو میری غلامی کا انداز‘ کے عنوان سے ایک کالم لکھا تھا جس میں یہ شکوہ کیا گیا تھا کہ ہر دور میں کشمیری قوم میں ایسے سیاستدان پیدا ہوتے رہے ہیں جنہوں نے خود غیر ملکیوں کو اپنے ملک پر حکومت کی دعوت دی اور آج بھی مسلہ کشمیر کے پیدا ہونے بگڑنے اور لٹکنے کی اصل وجہ یہی بکاؤ مال ہے ۔
لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر دور میں کشمیریوں کے اندر ایسے باصلاحیت و باکردار شخصیات بھی پیدا ہوتی رہی ہیں جن کی جد وجہد اور قربانیوں کی وجہ سے جموں کشمیر کا مسلہ اور تشخص اجاگر ہوتا رہا ۔ کشمیری جہاں بھی گئے تو انہوں نے ہر شعبہ زندگی میں اپنی صلاحیت کا لوہا منوایا ۔ اندرو ن و بیرون ملک اس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ علامہ اقبال ، پنڈت نہرو اور امام خمینی کشمیری النسل تھے ۔ پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم، متعدد پاکستانی فوجی جرنیل، برطانیہ میں پہلے ایشیائی لارڈ مئیر لارڈ نجیب ، دنیا کے آٹھ بڑے آرتھو پیڈک میں شمار ہونے والے ڈاکٹر مقصود ابدالی، اور دنیا صحافت کے دو درخشندہ ستارے میر خلیل الرحمن آف جنگ نیوز پیپر انڈسٹری اور نوائے وقت کے نظامی برادران ان میں شامل ہیں۔
اسی طرح آزاد کشمیر کی تحصیل ڈڈیال کے ایک گاؤں بلتھی مڈل سکول کا ایک طالب علم محمد یونس تریابی ساٹھ کی دہائی میں اس وقت برطانیہ گیا جب پاکستان نے منگلہ ڈیم کی تعمیر کے لئے میرپور کے لوگوں سے اپنے گھر بار خالی کرنے کی قربانی مانگی اور وعدہ کیا کہ یہ قربانی دینے والوں کو تاحیات مفت بجلی ملے گی ۔ لیکن وہ الٹا پاکستان کی نسبت دو گنی مہنگی ملتی ہے۔ یونس تریابی اکثر تارکین وطن کی طرح محنت مزدوری کرنے لگے مگر ان کی فطری تحقیقی صلاحیتوں نے ادھیڑ عمر میں انہیں ماہر عمرانیات بنا دیا۔ وہ حب الوطنی کے جذبے کے تحت اپنی سوچ و فکر و بساط کے مطابق مسلہ کشمیر پر بھی کام کرتے رہے۔ اسی جذبے کے تحت وہ مجھے برطانوی جیل میں اس وقت ملنے آئے جب میں بھارتی سفارتکار مہاترے کیس میں سازش کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ جب برطانوی حکومت نے اپنی نام نہاد آزاد عدلیہ کے فیصلوں کو بالا ئے طاق رکھ کر مجھے پہلے خفیہ اور بعد میں سیاسی بنیادوں پر ماورائے عدالت سزا دی تو یونس تریابی ، محمد غالب، حاجی آفتاب انصاری، پروفیسر عظمت اے خان، پروفیسر ڈاکٹر عبدالحسن اور اسلم لون نے ہماری رہائی کی ایک ایسی مہم کا آغاز کیا جس کی کامیابی کے آثار بہت کم لوگوں کو نظر آتے تھے۔ رفتہ رفتہ ہماری رہائی کی مہم میں مرد، عورتیں بچے، اپنے بیگانے برٹش پالیمنٹرینز اور انسانی حقوق کے گروپس شامل ہوتے گئے۔ اس طرح مجھے بائیس سال بعد یورپی انسانی حقوق کی عدالت نے بری کر دیا۔
یونس تریابی کئی سالوں سے عارضہ قلب میں مبتلا ہیں۔ عمر اور صحت انہیں اجازت نہیں دیتی مگر پھر بھی وہ نئے نئے کام کرتے رہتے ہیں۔ سترہ جنوری 2016 ء کو انہوں نے ایک اور قابل تعریف کارنامہ سر انجام دیا۔انہوں نے اپنے آبائی گاؤں بلتھی میں عوامی عدالت کا انعقاد کیا۔ یونس تریابی کی طرف سے اس عوامی عدالتی کاروائی کا مقصدبلتھی کے ان عظیم غازیوں کو تاریخ میں زندہ کرکے وہ انصاف دلانا تھا جو جموں کشمیر کی آر پار کی زر پرست قیادت نے چھین لیا تھا۔ ہندوستان اور پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد جموں کشمیر میں عوام پر ایسی قیادت مسلط کی گئی جس نے حقیقی ہیروز کو پس منظر میں دھکیل کر ان کے اصل مقصد سے عوام کی توجہ ہٹا دی۔ ان ہیروز کا اصل مقصد بھوک و افلاس سے نجات اور عوام کے بنیادی انسانی حقوق کے لئے کام کرنا تھا۔ بدقسمتی سے آر پار کشمیر کے موجودہ حکمران ان ڈوگروں سے بھی بد تر ثابت ہوئے ہیں جن سے جان چھڑانا اور بھی مشکل ہو گیا ہے۔یہ تحریک سن اکتیس میں شروع ہوئی جسے نیشنل کانفرنس اور مسلم کانفرنس نے کیش کروایا۔
یونس تریابی نے اپنے گاؤں کے ان بارہ غازیوں کا کیس پیش کیا جنہوں نے علاقہ اندرہل موجودہ ڈڈیال کے اندر کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ کی فوج کے خلاف بغاوت کی۔ان میں کمانڈر سردار خان، محمد فضل ، منشی عبدالعزیز، محمد زمان، محمد امین، محمد سوار، گل محمد، محمد حسین، محمد سجاول، قیبا خان اور اﷲ دتہ شامل تھے۔ چمیاری کے مقام پر ان کا کیمپ تھا۔ پلاک جومنگلہ ڈیم کے ساتھ ہے وہاں فیلڈ کمانڈر عبدالعزیز کی قیادت میں ڈوگرہ فوجی دستے کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا گیا اور ڈوگرہ فوج سے جو ہتھیار چھینے گئے انہیں کرنل راجہ دلاور خان کی قیادت میں پورا اندرہل فتح کرنے میں کام میں لایا گیا۔ یونس تریابی نے اس وقت کے نوجوان اور آج کی دو بزرگ شخصیات محمد سائیں اور محمد بوستان کوبطور گواہ پیش کیا جنہوں نے ڈوگرہ فوج اور باغیوں کے درمیان معرکہ آرائی کا آنکھوں دیکھا حال بیان کیا۔ یونس تریابی نے عوامی عدالت میں جہاں مسلم کانفرنس (جس کے بطن سے جنم لینے والی پی پی جس نے اب تحریک انصاف آزاد کشمیر کو جنم دیا ) پر تحریک آزادی کشمیر کو نقصان پہنچانے کا لزام لگایا۔ وہاں موجودہ تحریک کی بانی لبریشن فرنٹ پر بھی الزام لگایا کہ اس نے پاکستان کی ایجنسی آئی ایس آئی سے مدد لے کر تحریک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ یونس تریابی نے مجھے لبریشن فرنٹ کا دفاع کرنے کی دعوت دی تھی۔ افضل باغی نے اس کام میں میری معاونت کی۔ ہم نے کہا کہ مقبول بٹ کی قیادت میں شروع ہونے والی جد جہد اپنی مدد آپ کے بل بوتے پر تھی۔ ہم نے یورپ میں جو کچھ کیا ، اپنے وسائل کے بل بوتے پر کیا ۔لیکن ہماری قید کے دوران جو کچھ ہوا اس کا ہمیں علم نہیں ۔ لیکن لبریشن فرنٹ کے سرپرست اعلی امان اﷲ خان نے اپنی کتاب جہد مسلسل جلد تین میں آئی ایس آئی سے مدد کی تصدیق کی ہے۔ لیکن یہ مدد پاکستان کو ایک بڑا بھائی سمجھ کر حاصل کی گئی اور اب اگر بڑے بھائی نے پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ لبریشن فرنٹ نے کشمیری عوام سے غداری کی ہے۔ لبریشن فرنٹ آج بھی آر پار وحدت کشمیر کی بحالی کے لئے سیاسی جد و جہد جاری رکھے ہوئے ہے۔
لبریشن لیگ کا موقف لطیف ثانی ایڈووکیٹ نے بہترین انداز میں پیش کیا جبکہ مسلم لیگ ن کے راجہ علی شان نے کہا بھوک ڈوگروں کے دور میں تھی نہ آج ہے ۔بھوکا وہی ہے جو نکما اور نکٹھو ہے۔ تحریک انصاف کے چوہدری محفوظ ایڈووکیٹ نے کہا غیر ریاستی پارٹیوں کا مقصد بھی آزادی کشمیر ہے ۔ اس اصول کے تحت تو پھر بے جے پی اور انڈین کانگرس کا مقصد بھی کشمیر کی آزادی ہے ۔کے بی سی ٹی وی کے نجیب افسر، چوہدری مخدوم، سعید اسد نے بھی خطاب کیا۔ مہمان خصوصی راجہ ذولفقار ایڈووکیٹ تھے جبکہ صدارت فضیلت بیگم نے کی ۔ انہوں نے اپنے صدارتی خطبے میں کہا کہ ڈوگرہ حکمران تو ہمارے غریب عوام سے پھکی لیتے تھے لیکن ہمارے موجودہ حکمرانوں سے ان کے آقا پھکی لیتے ہیں۔ لیکن انشااﷲ مخلص لوگوں کی قربانیاں ایک دن ضرور رنگ لائیں گی۔ امید ہے کہ عوامی شعور بیدار کرنے کے لئے عوامی عدالت کا یہ سلسلہ ریاست بھرمیں پھیلے گا ۔ نظامت کے فرائض راجہ ٹکا خان نے ادا کئے۔ انہوں نے استغاثہ کی معاونت بھی کی۔ اسلم مطلوب اور اﷲ دتہ نے ترانے پیش کئے۔