پلی بارگیننگ مبارک ہو
- تحریر تصور چوہدری
- بدھ 20 / جنوری / 2016
- 4028
بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا بہت چھوٹی مثال ہو گئی۔ زبان کے ماہرین کو اب وقت اور حالات کے مطابق کوئی ضرب مثل بنانی چاہئے۔ اگر ایسی کوئی مثال بن جائے کہ چار پانچ ہزار ارب کی کرپشن کر اور پلی بارگین کر لے تو زیادہ بہتر ہو گا۔
آپ روزانہ ٹی وی چینلز پر یہ بریکنگ ضرور سنتے ہوں گے کہ سابق صدر آصف علی زرداری کے خاص آدمی سابق وزیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین نے فلاں محکمےمیں 200 ارب روپے یا 400 ارب روپے کی کرپشن کا اعتراف کر لیا ہے۔ اگر اب تک کی ساری بریکنگ نیوز میں بتائی جانے والی رقم کا حساب لگایا جائے تو یہ تقریباً 4 ہزار ارب روپے سے زیادہ رقم بنتی ہے۔ ثبوت بھی مل رہے ہیں، گواہ بھی مگر ڈاکٹر عاصم اور ان کے چاہنے والوں کو کوئی فکر نہیں۔ وہ انتہائی پرسکون انداز میں بیٹھے ہیں۔ کیونکہ انہیں پتہ ہے گنگا کی جگہ اب پلی بارگین کا انتہائی صاف ستھرا راستہ موجود ہے۔4 ہزار ارب روپے میں سے اگر چار، پانچ سو ارب روپے قومی خزانے میں واپس جمع کرا دئیے جاتے ہیں۔ کچھ آگے پیچھے والوں کو دے دئیے جاتے ہیں تو معاملہ خوش اسلوبی کے ساتھ طے پا سکتا ہے۔ حکومت بھی خوش، عدالت بھی، اور ڈاکٹر عاصم تو اب بھی خوش ہیں اور بعد میں مزید خوشی سے بلکہ ذرا کھلے انداز میں کرپشن کریں گے کیونکہ قانون تو ان کے گھر کی لونڈی تھا، ہے اور رہے گا۔
دوسری جانب پہلے رینجرز اور پھر پولیس کی تحویل میں موجودگی کے دوران ڈاکٹر عاصم حسین کافی پریشان نظر آتے تھے مگر جب سے نیب کے ہاتھ آئے ہیں کافی ہشاش بشاش نظر آتے ہیں۔ خیر سے سندھ حکومت کے ماتحت چلنے والے جناح اسپتال میں داخل ہونے اور علاج کرانے کا پروانہ بھی مل چکا ہے۔ اب کیا مسئلہ ہے۔ جناح اسپتال میں ایک کمرہ ڈاکٹر عاصم کیلئے سجا دیا گیا ہے، وہ الگ بات ہے اسی اسپتال کی سیڑھیوں پر کئی غریب پاکستانی ادویات اور علاج معالجے کی مناسب سہولیات نہ ملنے کے باعث دم توڑ دیتے ہیں۔ ویسے بھی نیب کی تحویل میں آنے کے بعد روزانہ ڈاکٹر عاصم سے ان کے اہل خانہ کے علاوہ دوست احباب بھی ملاقاتیں کرتے ہیں۔ دن بھر خوش گپیاں کرتے ہیں۔ کبھی نیب کے تفتیش کاروں کو ذرا فرصت ملے تو وہ بھی حال احوال پوچھنے چلے آتے ہیں۔ آخر انہیں بھی اندازہ ہے اگر ڈاکٹر صاحب خوش خوش یہاں سے چلے گئے تو زرداری صاحب کی کتنی نوازشات ہوں گی، اس کا میں اور آپ صرف اندازہ ہی لگا سکتے ہیں۔
اس ساری صورتحال میں آپ سوچ رہے ہوں گے کہ بلند و بانگ دعوے کرنے اور اڑتی چڑیا کے پر گننے والے فرشتے کہاں چلے گئے۔ میں بھی یہی بات سوچ رہا ہوں مگر جواب میرے پاس بھی نہیں۔ کچھ سینئر صحافیوں سے یہی سوال کیا تو جواب ملا بھائی فائل بن رہی ہے۔ ہر چیز درج ہو رہی ہے۔ ہر معاملے کی تہہ تک پہنچا جا رہا ہے۔ مگر جب یہ پوچھا جاتا ہے کہ آخر اس فائل کے بنانے کا کیا فائدہ، اگر اسے عدالت میں پیش کر کے ملزم کو مجرم ثابت نہیں کرنا ہے۔ اگر یہ فائل سیف ہاؤس سے نکل کر کمرہ عدالت تک نہیں پہنچتی تو پھر اس مشق کا کیا مقصد۔ کیا آپ نے بھی وسیع تر قومی مفاد میں کچھ بارگیننگ ہی کرنی ہے تو پھر اپنے حلف میں ایک چھوٹی سی ترمیم کرا لیں کہ میں پاکستان کے تحفظ کے بجائے وسیع تر قومی مفاد کا تحفظ ہر صورت یقینی بناؤں گا۔ اس طرح ہمیں گلہ بھی نہیں رہے گا اور آُپ کی جانب سے فائل کو سیف ہاؤس تک ہی محدود رکھنے کا جواز بھی مل جائے گا۔
اس تحریر کے آخر میں آپ کو ابھی سے ایک بریکنگ نیوز سنا دیتا ہوں کہ چند دن بعد آپ ہر ٹی وی چینل پر سنیں گے کہ ڈاکٹر عاصم اور نیب کے درمیان معاملات طے پا گئے ۔ واضح رہے کہ بریکنگ نیوز سب سے پہلے، سب سے پہلے ہم نے آپ تک پہنچا دی ہے اور اس کی مبارک باد کے مستحق ڈاکٹر عاصم سے زیادہ ہماری عدلیہ، حکومت، تفتیشی ادارے اور فرشتے ہوں گے۔ آخر فرشتے حساب کتاب برابر لکھیں گے تو جنت میں حوروں سے ملاقات کا موقع ملے گا بھائی۔