سہولت کار اصل خطرہ ہیں
- تحریر منور علی شاہد
- جمعرات 21 / جنوری / 2016
- 4607
انیس دن قبل ہم سب نے نیا سال روائتی جوش و خروش سے منایا تھا ، حالانکہ اس سے ٹھیک چار یوم قبل ہی یعنی 27 دسمبر کو پاکستانی قوم سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کی شہادت کا سوگ مناتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود بھی بے حال پاکستانی قوم اچھے دنوں کی امید کے سہارے نئے سال میں داخل ہوتی ہے۔ ان کی امیدیں اس وقت دم توڑ جاتی ہیں جب کوئی بڑا سانحہ رونما ہو جاتا ہے۔ اس برس بھی کچھ ایسا ہوا ہے۔ نئے سال کے آغاز پر ہی بیس جنوری کوقوم کو نئے سانحے سے دوچار ہونا پڑا۔
2007 کے بعد کے المناک دہشت گردی کے واقعات پر نظر ڈالی جائے تو یاد آجائے گا کہ یکم جنوری2010 کو بھی بنوں کے ایک گاوءں میں والی بال کے میچ کے دوران خودکش حملہ میں101 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ وہ چونکہ کوئی تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ کھیل کا گراؤنڈ تھا، اسی لئے کسی کو یاد نہیں ماسوائے ان کو جن کے پیارے کھیل کے میدان سے ہی موت کے سفر پر روانہ ہو گئے تھے۔ اب باچاخاں یونیورسٹی پر دہشت گردوں کے حملہ سے دہشت گردوں نے ثابت کردیا ہے کہ ان کی نہ تو کمر ٹوٹی ہے اور نہ ہی نیٹ ورک کمزور ہوا ہے۔ بلکہ اس حد تک نیٹ ورک فعال تھا کہ ایک دہشت گرد کی ہلاکت کے بعد بھی اس کا موبائل بجتا رہا ۔
سوشل میڈیا پر اس بات کا بہت چرچا ہے کہ دہشت گردوں کی کالز کو ٹریس کر کے پتہ لگالاگیا ہے کہ ان کے پیچھے کون ہے۔ کاش یہی کام پہلے کر لیا جاتا تو یقیناً 21 قیمتی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔ لازمی بات ہے اگر وہ کاروائی کے دوران باتیں کرتے رہے تھے تو پھر اس کی منصوبہ بندی کے لئے بھی سینکڑوں کالز کی ہوں گی جو ٹریس نہیں کی گئیں ۔ یہی وہ کمزوری ہے جس کو دور کرنے کی ضرورت ہے ۔حکومتی وزراء کی اپنی معلومات اورذمہ داری کا یہ حال ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ سمیت صوبائی وزیر قانون تک ملک کے اندر داعش کے وجود سے انکار کرتے رہے ہیں۔ لیکن پھر یکے بعد دیگرے جب سیالکوٹ اور لاہور سے بڑے نیٹ ورک پکڑے گئے اور عالمی میڈیا میں بھی خبریں گردش کرنے لگیں تو ان کو بھی اقرار کرنا پڑا کہ واقعی داعش کے کچھ گروپ پکڑے گئے ہیں ۔ اب چار سدہ سانحہ سے صورت حال کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس سے اس بات کی تصدیق ہو گئی ہے کہ اندرون ملک چھپے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے۔ وہ مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ جب جی چاہتا ہے بھاری جانی نقصان پہنچا دیتے ہیں۔ اس وقت دہشت گردوں کو سب سے زیادہ طاقت اندرونی سہولت کاروں سے حاصل ہوتی ہے۔ پشاور میں بھی قریبی مسجد کے امام کی سہولت کے باعث دہشت گرد کامیاب ہوئے تھے۔ لاہور میں احمدیوں کی دو عبادت گاہوں پر حملوں کو بھی رائے ونڈ میں مقامی طور پر سہولت مہیا کی گئی تھی ۔ اسی طرح ہر بڑے واقعہ کے پیچھے دہشت گردی کی کامیابی میں ان سہولت کاروں کا بہت بڑا رول ہے ۔ جسے ریاستی ادارے نظرانداز کئے ہوئے ہیں۔ اس طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔
بدقسمتی سے بعض اسلامی ممالک کی اندرونی مالی مداخلت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے سیاسی دباؤ کے سامنے بے بس ہو جاتے ہیں۔ اس کا خمیازہ ایسی ہی دہشت گرد کاروائیوں کی شکل میں قوم کو بھگتنا پڑ تا ہے۔ دہشت گردی کے حوالے سے روس کے صدر پوٹن نے ایک تاریخ ساز بیان دیا تھا۔پوٹن نے کہا تھا کہ دہشت گردوں کو معاف کرنا اگرچہ خدا کا کام ہے مگر ان دہشت گردوں کو اوپر خدا کے پاس پہنچانا میرا کام ہے۔ ہماری سیاسی بصیرت اور اہلیت کا تو یہ حال ہے کہ کوئی ایسا بیان بھی نہیں دے سکتے جس سے کچھ دلاسہ مل جائے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے باچا خان یونیورسٹی کے سانحہ پر میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے فرمایاہے کہ تعلیمی اداروں پر حملوں سے قوم کا عزم مضبوط ہؤا ہے۔۔ واہ کیا دلاسہ دیا ہے۔ تو پھر جناب یہ دہشت گردی تو نہ ہوئی ۔ وہ تو قوم کے عزم کو مضبوط کرنے نکلے ہوئے ہیں۔ قوم کا عزم مضبوط ہی نہیں ہو رہا جس کی وجہ سے انسانی خون استعمال ہو رہا ہے۔ کاش وفاقی وزیر وہ رپورٹ ہی پڑھ لیتے جو امریکی یونیورسٹی آف میری لینڈ کی طرف سے شائع ہوئی ہے جس میں اب تک پاکستان میں تعلیمی اداروں پر ہونے والے ساڑھے آٹھ سو حملوں کی تفصیلات بیان کی گئیں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تعلیمی اداروں پر دہشتگردی سے ہلاکتوں میں پاکستان نمبر ایک ہے ۔گلوبل ٹیرر ازم ڈیٹا بیس کے چالیس سالہ ریکارڈ کے مطابق پاکستان میں تعلیمی اداروں پر حملوں کے نتیجہ میں اب تک461 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ ان حملوں میں سب سے زیادہ خطرناک پشاور کا حملہ تھا جو دسمبر2014 میں ہؤا تھا۔ رپورٹ کے اعدادو شمار کے مطابق1970سے لیکر2014تک جنوبی ایشیا میں تعلیمی اداروں پر سب سے زیادہ حملے ہوئے۔ اسی عرصہ کے دوران دنیا بھر کے تعلیمی اداروں پر 1436دہشت گردی کے حملے ریکارڈ کئے گئے جن میں سے ساٹھ فیصد پاکستان کے تعلیمی اداروں پر ہوئے۔ اس رپورٹ میں تجزیہ نگاروں نے ماضی و حال کی صورت حال کا بھی جائزہ لیاہے۔ اس کے مطابق ابھی بھی پاکستان میں ایسی تعلیمی اداروں کی کمی نہیں جہاں چار دیواری یا اونچی دیواریں ہی نہیں ہیں۔اسلام آباد میں قائم تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کے سربراہ عامر رانا نے ڈی ڈبلیو کے نمائندہ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپریشن ضرب غضب سے دہشت گردی کے واقعات میں کمی تو آئی ہے لیکن دہشت گردوں میں کاروائی کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور میرے خیال میں دہشت گردوں کی صلاحیت کا دوبارہ جائزہ لے کر حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔پاکستان میں سیاسی عدم رواداری کے باعث صوبوں کے مابین نیشنل ایکشن پلان اور دیگر سیکورٹی کے معاملات میں بھی مفاہمت کا فقدان پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے بھی دہشت گردوں کوبراہ راست فائدہ پہنچ رہا ہے۔
پشاور آرمی پبلک سکول کے سانحہ کے بعد نیشنل ایکشن پلان ترتیب دے کر اس پر عمل کیا جا رہا ہے۔ لیکن گزشتہ ایک سال کے دوران دیکھنے میں آیا ہے کہ ابھی تک اندرونی سہولت کاروں کے لئے نرم گوشہ رکھنے والے سیاسی و مذہبی جماعتیں اور لیڈرایکشن پلان پر عمل درآمد کرانے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ 2007 کے بعد سے اب تک پاکستان بھر میں35 بڑے دہشت گردی کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔ ایسے ہی ایک سانحہ میں پاکستان کی سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو بھی شہید ہوئی تھیں۔ نیشنل ایکشن پلان کی کامیابی صرف ملکی اور قومی مفاد کو پیش نظر رکھ کر ہی ممکن ہے ۔ پاکستان کے اندر اب بے رحم کاروائی کرنے کی ضرورت ہے، جیسا کہ وزیراعظم نوازشریف نے بھی کہا ہے ۔ایک دانشور نے باچاخان یونیورسٹی کے سانحے پر تبصرہ کرتے ہوئے کوزے میں دریا بند کردیا۔ ان کا کہنا ہے کہ دشمن کے بچے بہت تیز نکلے جو ایک سال ہی میں سکول سے یونیورسٹی پہنچ گئے۔۔۔۔ قوم نے ایک سال صرف ترانہ اور اس کی میوزک بنانے پر ہی صرف کر دیا۔