آزاد حکومت کی بلیک میلنگ
- تحریر
- جمعہ 22 / جنوری / 2016
- 4251
آزاد کشمیر اسمبلی کے الیکشن میں چار پانچ ماہ کا وقت باقی رہ گیا ہے لیکن الیکشن کے انتظامات اب تک شروع نہیں ہو سکے ۔اس لئے آزاد کشمیر اسمبلی الیکشن کی ساکھ سے متعلق کئی سوالات سامنے آ رہے ہیں۔آزاد کشمیر کی پیپلز پارٹی حکومت اپنی معیاد کے آخر میں الیکشن انتظامات سے متعلق تاخیری حربے استعمال کرتے ہوئے اپنی ساڑھے چار سالہ کارکردگی کو جذباتی اقدامات سے چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔پیپلز پارٹی حکومت کے آتے ہی آزاد کشمیر میں کرپشن، کمیشن، اقرباء پروری کو فروغ ملا۔ وزراء کے جھگڑے، وزراء اور بیوروکریٹس کی ہاتھا پائی کے ایسے کئی واقعات ہیں جو جگ ہنسائی کا باعث بنے۔ آزاد کشمیر حکومت کو ایک تماشے سے تعبیر کیا جانے لگا۔پیپلز پارٹی حکومت کی نااہلی اور بد انتظامی سے آزاد کشمیر میں حکومت کا ہر شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے اور اب بڑے اقدامات کے بغیر آزاد کشمیر کے امور کو راہ راست پر لانے کا تصور کرنا بھی مشکل ہے۔
آزاد کشمیر کے وزیر اعظم نے اپنے چند وزراء اور ساتھیوں کے ساتھ اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور کرسیوں پر دھرنا دیا۔پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے وفاقی وزیر اور پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین احسن اقبال اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے آزاد کشمیر حکومت کے مظاہرین سے بات چیت کی اور انہیں مظاہرہ ختم کرنے پر رضامند کیا۔اس موقع پر احسن اقبال کی سربراہی میں منعقد ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آزاد کشمیر کے کے ساتھ وفاقی سیکرٹریز کے اجلاس میں آزاد کشمیر حکومت کے مختلف امور سے متعلق مطالبات کا جائزہ لیا جائے گا۔ اجلاس میں احسن اقبال نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف نے آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کو ناکام بنایا۔احسن اقبال نے کہا کہ ہم آزاد کشمیر کو ہر معاملے میں برابر کی سطح پر سمجھتے ہیں اور کشمیر کاز کے حوالے سے بھی آزاد کشمیر میں اچھا نظم و نسق پاکستان کی مسلم لیگی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ اس اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آزاد کشمیر کی نمائندہ کمیٹی وفاقی سیکرٹریوں کے ساتھ اجلاس میں شرکت کرے گی اور آزاد کشمیر حکومت کی طرف سے پیش کئے گئے مطالبات کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ کوئی فیصلہ نہ ہونے کی صورت آئندہ بدھ کو وفاقی وزیر احسن اقبال کی سربراہی میں دوبارہ اجلاس ہو گا۔
اس کے اگلے روز آزاد کشمیر کا نمائندہ وفد جس میں آزاد کشمیر کے دو وزراء لطیف اکبر،مطلوب انقلابی کے علاوہ پیپلز پارٹی کے رہنما انوارالحق اور تین چار سیکرٹریز شامل تھے،نے وفاقی سیکرٹریز کے ساتھ اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں آزاد کشمیر کی طرف سے مطالبات تحریری طور پر پیش کئے گئے۔ آزاد کشمیر حکومت کی طرف سے اجلاس میں 4نکات پر مشتمل مطالبات پیش کئے گئے۔آزاد کشمیر حکومت کے مینڈیٹ کی توسیع کے پہلے مطالبے میں آزاد کشمیر حکومت کے ایگزیکٹیو اور نمائندگی کی سٹیٹس کو تسلیم کیا جانا،آزاد جموں و کشمیر کے ’ڈی فیکٹو‘ سٹیٹس،آزاد کشمیر حکومت اور اسمبلی کوموضوعات منتقل کرنے کے لئے آئینی اصلاحات،کشمیر افیئرز اور گلگت بلتستان کی قانونی حیثیت و کرداراورآزاد کشمیر میں نیشنل ایجوکیشن پالیسی کے اجراء کے پانچ نکات شامل ہیں۔ اجلاس میں بھی ہمیشہ کی طرح وفاقی سیکرٹریز کی طرف سے اس عمومی روئیے کا اظہار ہوا جس کا آزاد کشمیر شاکی چلا آ رہا ہے۔یعنی معاملہ برتاؤ کا ہے۔اجلاس میں یہ بات محسوس کی گئی کہ ایک طرف سیاستدان ہیں اور دوسری طرف وفاقی بیوروکریٹس،تو بات بنے گی کیسے؟میرے خیال میں اس معاملے میں ایک بڑی غلطی یہ کی گئی ہے کہ آزاد کشمیر کے وفد کو وفاقی سیکرٹریوں کے ساتھ بٹھا دیا گیا ہے ۔ اگر اس اجلاس میں کوئی وفاقی وزیر بھی بیٹھا ہوتا تو اسے بھی اپنے بیانات اور اپنی جماعت کے اس موقف کو عملی شکل دینے کی ضرورت محسوس ہوتی کہ آزاد کشمیر کو کشمیر کاز کے لئے ’’ رول ماڈل‘‘ بنانا انتہائی ضروری ہے۔وفاقی سیکرٹریز کے برتاؤ کا حاکمانہ انداز دیکھ کر وفاقی وزیر کو آزاد کشمیر سے متعلق اصل مسائل کا ادراک ہو سکتا ہے،بشرطیکہ وہ بھی اس سلسلے میں منعقد ہونے والے اجلاس میں شریک ہوں۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ درج بالا امورآزادکشمیر کی طرف سے دیرینہ مطالبات ہیں جنہیں وفاقی حکومت ہی نہیں آزاد کشمیر حکومت کی طرف سے بھی مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔سابق وفاقی وزیر امور کشمیر منظور وٹو نے اپنی وزارت کے آخری دنوں آزاد کشمیر کے آئین میں ترامیم کے لئے آزاد کشمیر کے سیاستدانوں کے کئی اجلاس کئے تھے جس میں آزاد کشمیر اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر راجہ فاروق حیدر خان بھی شریک ہوتے رہے ۔ لیکن اس کے باوجود پیپلز پارٹی کی سابق وفاقی حکومت نے آزاد کشمیر کے آئین میں ترامیم نہ ہونے دیں۔اب آزاد کشمیر کی پیپلز پارٹی حکومت اسلام آباد میں پالیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاجی مظاہرے کا انتہائی اقدام کرتے ہوئے’’تن تنہا‘‘ آزاد کشمیر کے وفاق سے متعلق دیرینہ مطالبات کا کریڈٹ لینے کی کوشش میں ہے۔پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت نہ تو ان مطالبات کی خالق ہے اور نہ ان مطالبات کی تکمیل میں سنجیدہ نظر آتی ہے۔
یہ تاثر بھی ہے کہ آزاد کشمیر کی پیپلز پارٹی حکومت آزادکشمیر کے ان دیرینہ اور عمومی مطالبات کی آڑ میں وفاقی حکومت سے ایسی وقتی مراعات کی خواہاں ہے جسے وہ چھ ماہ بعد ہونے والے الیکشن میں اپنی کامیابی کی راہ ہموار کرنے کے لئے استعمال کر سکے۔پیپلز پارٹی حکومت بھی اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ وہ اپوزیشن کے خلاف محاذ جنگ کھولتے ہوئے آزاد کشمیر حکومت کو با اختیار اور باوقار بنانے کے مقصد میں کوئی پیش رفت نہیں کر سکتی ۔ لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی حکومت اپنی ساڑھے چار سالہ حکومت کی بداعمالیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے اور سیاسی ہیرو بننے کی کوششوں میں سرگرداں ہے۔یوں آزاد کشمیر کی پیپلزپارٹی حکومت کے احتجاج کا یہی مقصد نظر آتا ہے کہ حکومت کے باقی ماندہ چھ ماہ کے لئے انہیں وافر فنڈز اور کھلی چھوٹ د ی جائے تاکہ پیپلز پارٹی حکومت کی بد عنوانیوں پر پردہ ڈالتے ہوئے الیکشن میں کامیابی کے لئے ضروری کام کر لئے جائیں۔
یہ معاملہ بھی پیش نظر رہے کہ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے کئے جانے والے مظاہرے پربعض حلقوں کی طرف سے آزاد کشمیر کے وزیر اعظم اور کابینہ کے اس احتجاجی مظاہرے کو گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کے معاملے سے غلط طور پر منسوب کیا گیا۔آزاد کشمیر کی اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ن) نے ہر ضلع میں جلسوں کا سلسلہ شروع کیا ہے اوربھمبر،میرپور اور کوٹلی میں جلسے کئے جن میں وفاقی وزیر امور کشمیر چودھری جرجیس طاہر، پرویز رشید اور وزیر اعظم نواز شریف کے مشیر آصف کرمانی بھی شریک ہوئے۔ان جلسوں میں وفاقی وزراء کی طرف سے وزیر اعظم آزاد کشمیر چودھری عبدالمجید اور ان کی حکومت پر کڑی تنقید کی گئی۔چند سیاسی حلقوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ آزاد کشمیر میں الیکشن کے لئے ضروری اقدامات اور انتظامات کے بغیرمسلم لیگ (ن) نے آزاد کشمیر میں ضلعی جلسوں کا سلسلہ شروع کرتے ہوئے انتخابی مہم شروع کر دی ہے۔ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کو تمام صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لیتے ہوئے اپنی پالیسی اور حکمت عملی کا از سرنو جائزہ لینا چاہئے ورنہ انتخابات میں پیپلز پارٹی ایک بار پھر کامیاب ہو سکتی ہے۔