گوشوارہِ سیاسیات

پنجاب یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس میں میرے استادوں میں ڈاکٹر حسن عسکری، ڈاکٹر حامد حسن قز لباش، پروفیسر سجاد نصیر اور ڈاکٹر معین الدین چغتائی تھے۔ ڈاکٹر معین الدین چغتائی ان دنوں پرووائس چانسلر اور کچھ عرصے بعد وائس چانسلر جامعہ پنجاب ہو گئے۔

میں اپنی کلاس میں اپنے ان استادوں سے اکثر سوال کیا کرتا تھا، جن کو میرے اساتذہ پسندیدگی سے جواب دیتے اور اکثر اوقات وقفے میں سٹاف روم میں چائے پر ملنے کا کہتے جہاں پولیٹیکل سائنس کے علاوہ پولیٹکس پر بھی سیر حاصل گفتگو ہوتی۔ ان دنوں پولیٹکس (سیاست) پر گفتگو ممنوع تھی، پاکستان میں جنرل ضیا کا راج تھا۔ اسی راج کا اثر تھا کہ پنجاب یونیورسٹی کے اساتذہ کرام جناب سید مشاہد حسین (اب سیاستدان)، ڈاکٹر اکمل حسین اور پروفیسر سجاد نصیر کو یونیورسٹی میں درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھنے سے روک دیا گیا تھا۔ کلاس روم میں میرے سوالات درحقیقت کچھ ’’برپا‘‘ کرنے کے لئے کئے جاتے تھے۔ میرے لئے یہ ایک سیاسی سرگرمی کے سوا کچھ نہ تھا۔ ایک بہانہ سیاست کرنے کا!

ڈاکٹر چغتائی صاحب میرے سوالوں کے علاوہ بھی مجھے ’’بالواسطہ جواب‘‘ (Proxy Answers) دینے کی کوشش کرتے تھے۔ ایک شرارتی طالب علم کی حیثیت سے میری کوشش ہوتی تھی کہ سیاست بازی کے لئے زیادہ سے زیادہ پولیٹیکل سائنس سے متعلقہ سوالات اٹھائے جائیں کہ کوئی تو بہانہ نکلے سیاست کرنے کا، جس پر آمریت کے سخت قوانین نافذ تھے۔ ان سوالات کے امکانات زیادہ تر پولیٹیکل فلاسفی کے مضمون میں ہوتے تھے۔ لیکن ایک ہم تھے کہ Comparative Studies میں سوالات اٹھا کر کلاس روم میں آمرانہ قوانین کو چیلنج کرنے سے گریز نہیں کرتے تھے۔ ایک دن ہم نے اپنے استاد جناب ڈاکٹر معین الدین چغتائی کو کہا کہ پولیٹیکل سائنس بحیثیت مضمون اب کوئی حقیقت نہیں رکھتا، آج کی جدید یونیورسٹیوں میں اسے پولیٹیکل اکانومی کے طور پر پڑھایا جاتا ہے۔ میرے اس سوال پر چغتائی صاحب کے پاس سوائے تقریر کے اور کوئی جواب نہیں تھا اور میرے پاس دلائل کے ساتھ وہ نکات تھے کہ ہمارا سلیبس جدید تقاضوں کے مطابق نہیں۔ ہمارے تعلیمی اداروں کو جب تک جدید سماجی علوم کے مطابق نہیں کیا جاتا، ہم صدی پرانے علوم میں پھنسے رہیں گے اور تعلیم یافتہ کیڈر کلرکوں کے سوا کچھ نہیں پیدا کرسکے گا۔ ڈاکٹر چغتائی مرحوم نے کہا کہ تم مجھے پریڈ کے بعد میرے دفتر ملنا اور پھر وہاں انہوں نے کہا کہ تم ٹھیک کہتے ہو مگر ہمارے تعلیمی نظام میں خامیاں ہیں  اور  انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں دو دہائیوں سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں سیاست سب سے بڑا موضوع ہے۔ دیکھنے اور پڑھنے والا یہ سمجھتا ہے کہ شاید ہمارا سماج بہت زیادہ Politisized ہو گیا ہے۔ لیکن اگر آپ تحقیق کریں تو معلوم ہو گا کہ عملاً سماج ممکنہ حد تک De-Politisized ہو چکا ہے۔ ہمارے ادیب، شاعر بھی اب کالم نگاری میں سیاسیات اور سیاست کو موضوع بنانے کو ترجیح دیتے ہیں، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ادیب، شاعر، نقاد، مزاح نگار، سیاسیات یا سیاست نہیں بلکہ شخصیات اور شخصیات کے دھڑوں میں بٹے اپنے ’’قبائلی تعصب‘‘ میں ڈوبے اپنی پسندیدہ سیاسی شخصیت کا دفاع اور دوسری کا ’’احتساب‘‘ کرنے میں مصروف ہیں۔  کالم نگاری کے بازار میں چند ایک کالم نگار ہی ہیں جو سیاسیات، سیاست اور اس پولیٹیکل اکانومی کے فریم ورک میں لکھ رہے ہیں جس کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔ ان میں خالد محمود رسول نمایاں طور پر پڑھے جارہے ہیں، جن کے کالموں میں پولیٹیکل اکانومی، سیاسیات، سماج، معیشت اور عالمی معاملات نمایاں ہیں۔

خالد محمود رسول کی کتاب ’’گوشوارہ، پولیٹیکل اکانومی پر چبھتے ہوئے تجزیے‘‘ ان تحریروں پر مشتمل ہے جو پولیٹیکل سائنس، پولیٹیکل اکانومی، سیاست، سماجیت، معیشت اور دنیا کے تقابلی نظاموں پر محیط ہے۔ اس کتاب کی خوبصورتی یہ ہے کہ یہ کتاب قاری کو بیک وقت مختلف موضوعات سے لطف اندوز ہونے کے مواقع دیتی ہے۔ ایک جگہ وہ لکھتے ہیں۔ ’’ سوئٹزر لینڈ کے یک سرمائی تفریحی مقام ڈیووس (Davos) میں گزشتہ چند سال سے ورلڈ اکنامک فورم کے نام سے ایک بھرپور میلہ ہوتا ہے۔ خاناں دے خان پروہنے (امیر کا مہمان بھی لازماً امیر ہی ہوتا ہے)۔ اس میلے میں سینکڑوں بڑی کمپنیاں، بڑے بڑے سرمایہ کار اور کئی حکومتی وفود شریک ہوتے ہیں۔ بنوں دھماکے نے عین آخری وقت پر روک لیا ورنہ وزیراعظم نواز شریف بھی اب تک شریک محفل ہوتے۔ ان سے پہلے یوسف رضا گیلانی اور شوکت عزیز بھی ان اجلاسوں میں شرکت کر چکے اور بقول ان کے اپنے، پاکستان کی بھرپور نمائندگی کی!‘‘

یہ اس کتاب کی خوبصورتی ہے کہ قاری تحریر پڑھنے کے بعد صرف زبان و بیان کے خوبصورت سحر ہی میں محو نہیں رہتا بلکہ خیال (Thoughts) اور معلومات سے بھی مستفید ہوتا ہے۔ جدید دنیا کے روزناموں میں کالم نگاری ایک نئی شکل اختیار کرگئی ہے۔ کالم نگار اپنی تحریروں میں معلومات، تحقیق اور مطالعہ اور وژن کو شیئر کرتا ہے۔ خالد محمود رسول اپنے کالموں کے اس مجموعہ میں جذباتی، جان قربان دینے کے لئے تیار ہو جانے کی ترغیب نہیں دیتے بلکہ قاری کو سماج میں اپنا رول طے کرنے کی طرف گامزن کرتے ہیں۔ ’’گوشوارہ‘‘ کے نام سے یہ کتاب شاندار معلومات، تحقیق اور خیالات (Thoughts) کا مجموعہ ہے۔
ایک جگہ وہ لکھتے ہیں،’’فری مارکیٹ اکانومی میں درجنوں خامیاں ہوں گی لیکن جن چند خوبیوں نے مارکیٹ اکانومی کے تصور کا بھرم رکھا ہوا ہے ان میں ایک بنیادی وصف مضبوط لیگل فریم ورک اور سخت گیر ریگولیٹری اداروں کا وجود ہے جو مارکیٹ میں آزاد اور شفاف مسابقت کو یقینی بنانے میں جتے رہتے ہیں۔ مارکیٹ اکانومی جامد شے نہیں ہے۔ ہر آن سرمائے، ٹیکنالوجی، مارکیٹ اور صارفین کے مابین اتھل پتھل کا عمل جاری رہتا ہے۔ آزادانہ مارکیٹ میں صارف بادشاہ ہوتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ آج کی صف اول کی چند کمپنیاں چند سال بعد پچھلی صفوں میں ہوں یا خاتمہ بالخیر کی نذر ہو چکی ہوں۔ اس کا دارومدار صارفین کی پسند ناپسند پر ہے۔ چند سال قبل موبائل فون میں نوکیا کمپنی کا طوطی بولتا تھا، لیکن نئی اور بہتر این رائد (ANROID)ٹیکنالوجی نے اس کی عظمت میں ایسا شگاف ڈالا کہ کمپنی کو فون بزنس بیچتے ہی بنی۔

80ء کی دہائی کے آخر میں کامیاب ترین کمپنیوں کی بابت ایک مشہور زمانہ کتاب چھپی۔۔۔ In Search of Excellence۔ ان کمپنیوں کی کامیابی کے آٹھ مشترکہ اصولوں نے کاروباری دنیا میں دھوم مچا دی۔ کیس سٹڈیز ہوئیں، ٹریننگ کورسز تشکیل پائے، لیڈر شپ کورسز بنے۔ پندرہ سال بعد اسی تحقیق کا فالو اپ ہوا تو معلوم ہوا کہ کتاب میں کامیابی کے لئے مذکورہ کمپنیوں میں سے ایک تہائی غائب ہو چکیں، کچھ Merge ہوگئیں یا خرید لی گئیں۔ صرف نصف کمپنیاں اپنی پوزیشن برقرار رکھ سکیں۔ گیراج سے شروع ہونے والی معمولی کمپنیاں اسی آزاد اکانومی میں مائیکرو سوفٹ بنیں۔ بے تحاشا مثالیں ہیں کہ معمول سے غیر معمولی تک کا سفر چند سالوں میں طے ہوگیا۔ دیگر عوامل کے علاوہ ایسی کامیابی میں ایک بنیادی عنصر مارکیٹ اکانومی میں مسابقت کا ماحول ہے۔ مناپلی یا کارٹل مارکیٹ اکانومی میں مسابقت کے لئے زہر قاتل ہے۔ مناپلی (کارٹل) مارکیٹ اکانومی کے لیے تو زہر قاتل ہے ہی، یہ تخلیقی صلاحیتوں کے لیے بھی بھاری پتھر ہے اور نئی سرمایہ کاری کے لئے بھی۔‘‘

خالد محمود رسول کی کتاب گوشوارہ عام قاری کے علاوہ ہمارے الیکٹرانک میڈیا کے اُن برزجمہروں کے لئے بھی بڑی مددگار ہو گی جو شام ڈھلے (After Night) اپنی علمیت کی دھاک بٹھاتے بٹھاتے رات کے 12 بجا دیتے ہیں۔ وہ اس کتاب سے اتنا مواد حاصل کر سکتے ہیں کہ ایک تو وہ سال بھر کے شوز کی تیاری کر سکتے ہیں اور دوسرا اپنے ناظرین کو حقیقی موضوعات سے بہرہ ور کر سکتے ہیں۔ شخصیات کے سحر میں گھرے کالم نگاروں کے لئے بھی یہ کتاب مشعل راہ ہے کہ شخصیات سے نکلیں اور Issues کو موضوع بنائیں۔ خالد محمود رسول کی اس کتاب ’’گوشوارہ‘‘ کو یقیناًعوام میں پذیرائی ملے گی۔ اس لئے کہ عوام ہمیشہ ہمارے جیسے سماج کے دانشوروں سے کہیں آگے ہوتے ہیں۔ ان کا اجتماعی شعور ان دانشوروں سے کہیں اوپر ہوتا ہے جن کی گردنیں دانش کے جاگیردارانہ رویوں سے اکڑی رہتی ہیں اور اپنی اکڑی گردنوں کے ساتھ وہ ٹی وی سکرینوں پر نمودار ہوتے ہیں۔