کب تک ابھی راہ دیکھیں۔۔

آخر ان میں سے کوئی استعفا کیوں نہیں دیتا ؟
کیا یہ سب بے غیرتی کی مٹی سے بنے ایسے پتلے ہیں جن میں ضمیر کا پھونکا جانا سہواً رہ گیا تھا۔
ان کی نااہلی، بے مہار کرپشن، بے حسی،  لغو اور بے معٰنی گفتگو، سیاسی قلابازیاں ، رعونت ، پروٹوکول کا تکبر اور مسخرہ پن تو سب نے دیکھ لیا۔
اب اور کیا دیکھنا چاہتے ہیں۔ ابھی کتنی اور لاشیں اٹھانے کا حوصلہ ہے اس کم نصیب ملک کے جاں بلب شہریوں میں۔

اگر شہادت واقعی مومن کامطلوب و مقصود ہے تو جزاء کی نوید دینے والے لحیم شحیم مومن ، ان کی اولادیں اور سرپرست اب تک خود کیوں اس سعادت سے محروم ہیں۔
ان کا مقسوم کیا صرف مال غنیمت اور کشور کشائی ہی ٹھہرا۔
گذشتہ اڑ سٹھ برس کے دوران منافقت کا آسیب لبادے بدل بدل کر اس مملکت خداداد کے بے حال لوگوں کی زندگیوں میں زہر گھولتا رہا ہے۔
کبھی جمہوریت کا لبادہ۔ کبھی آمریت۔ کبھی اسلام۔ کبھی یہ۔ کبھی وہ۔۔۔ نجانے کتنے اور لبادے ابھی اس کے صندوقوں میں تہہ کئے رکھے ہیں۔
ایسے لبادے تو سنا ہے کبھی آغا حشر کے سٹیج ڈراموں میں بدلے جاتے تھے، جہاں ہیرو اکثر لوہے کے جال میں بند رہتا تھا۔ باہر نکلنے کو بیتاب۔

یہی حال زندگی کو کسی سزا کی طرح بھگتتے عوام الناس کا بھی ہو چکا ہے، جو یہ بھی نہیں جانتے کہ کل تک وہ زندہ بھی رہیں گے یا ان کے جسموں کے چیتھڑے اس مٹی پر بکھرے ہوں گے جس سے وفاداری کی وہ قسم کھاتے ہیں۔ ایسے میں کیا حیرت ہو اگر ہر کوئی ملک سے باہر شاداب گلستانوں کو نکل جانا چاہتا ہو۔
سچ تو یہ ہے کہ اب بہت ہو چکا۔

کب تک ان درندوں کے ہاتھوں سکولوں ، کالجوں ، یونیورسٹیوں کا تقدس پامال ہوتا رہے گا۔ کب تک یہ زندگی کی حرارت سے مسکراتے شاداب چہروں والے نوجوان ، بچے بچیوں، استادوں کی بلی لیتے رہیں گے۔ ملکی مستقبل کے ستون۔ وہ ستون جن پر یہ ساری عمارت کھڑی ہے۔ یہ اسے کھنڈر بنا دینا چاہتے ہیں، تاکہ آوارہ کتوں کی طرح یہ اس میں اپنے ہمزادوں کے ساتھ کدکڑے لگا سکیں۔
یہ تو ان معصوم بچوں اور نوجوانوں کا قتل ہے، جن کی ساری زندگیاں ان کے سامنے تھیں۔

لیکن تعلیم کا قتل عام تو اس ملک میں بہت عرصے سے جا ری ہے۔ نصابی کتابیں اٹھا کر دیکھ لیجئے۔ ان میں آپ کو سبز غلافوں میں لپٹا علم ہی ملے گا۔ اور قاتل وہ جو آج ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر دہشت گردی کی مذمت کر رہے ہیں۔ تعلیم کے نام پر جہالت کو فروغ دینے والے ان دہشت گردوں کو اپنے چار سو دیکھا جا سکتا ہے۔ گلیوں میں۔ بازاروں میں۔ تعلیمی اداروں میں۔ مسجدوں مدرسوں میں۔ اپنے گھروں میں۔ یہ کیا پڑھا رہے ہیں اور پڑھانے والوں کی اپنی اہلیت کیا ہے؟ خود سے سوال کیجئے۔ دنیا بھر کے علم کی بنیاد سوال پر ہی ہوتی ہے۔ لیکن یہاں تو سوال بھی سر ہتھیلی پر ہی رکھ کر کرنا پڑتا ہے۔ ہو سکتا ہے جواب سے پہلے سر ہی کندھوں پر نہ رہے۔

حیرت تو یہ ہے کہ جب ترقی یافتہ دنیا کی سکولوں کالجوں میں سائنسی ترقی کے نئے امکانات پر بات ہو رہی ہے، ہمارے معتبر ادروں میں بھی ، حوروں کے قدو قامت اور عارض و رخسار کی جزیات پر لیکچر دینے کے لئے مہمان فنکار بلائے جا رہے ہیں۔ نجانے گزشتہ چند سالوں میں حوریں اتنی مقبول کیوں ہو گئی ہیں کہ ہر کوئی ان کی چاہ میں مرنے مارنے پر تل گیا ہے۔ بچپن میں حوروں کا ذکر تو ہم نے سنا ضرور تھا لیکن سکولوں کالجوں میں کبھی ان پر لیکچر ہوتے نہیں دیکھے۔

اور دیکھ لیجئے اب جبکہ زندگی موت کی جنگ جاری ہے ، ملک کا مستقبل داؤ پر لگا ہے، کون ہے جو لوگوں کو فروعی مسائل میں الجھا کر توجہ بٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔
جمعے کی چھٹی اور کم عمر بچیوں کی شادیوں پر بحث چھیڑنے کا یہ کون سا موقع ہے؟
جب کسی بیماری کا علاج کرنا ہوتا ہے تو پہلے اس کی تشخیص کی جاتی ہے۔ لیکن سب سے پہلے بیمار ہونا تسلیم کیا جاتا ہے۔
اگر ہمت ہے تو تسلیم کیجئے کہ ہم بیمار ہو چکے ہیں۔ بہت بری طرح بیمار۔ یہ وہ جسم نہیں رہا جس کے توانا ہونے کا خواب اس کے بنانے والوں نے دیکھا تھا۔ اس کا نظام گل سڑ چکا ہے اور تعفن دور دور تک پھیلا ہوا ہے۔ اس پر عرق گلاب چھڑکتے رہنے سے تعفن دور نہ ہو گا۔ علاج کرنا ہو گا۔ اور ابھی یہ لا علاج نہیں ہوا۔ لیکن علاج سے پہلے اس کی گردن سے ان تسمہ پاؤں کو اتارنا ہو گا جنہوں نے اسے بے بس کر رکھا ہے۔ ان کے چابک سواربرادران یوسف کو بھی جو انہیں راتب کھلاتے ہیں اور دور دیسوں میں ان کی لگامیں تھامے بیٹھے ہیں۔

دراصل طویل اور شدید محرومیوں، عدم تحفظ، غربت، جہالت ، طبقاتی منافرت، عدم برداشت اورمسلکی تفریق نے لوگوں کو چڑچڑا بنا دیا ہے۔ اب چھوٹی چھوٹی بات پر یہ ایک دوسرے سے دست و گریبان ہونے لگتے ہیں۔ قتل کر دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ انتہائی پڑھے لکھے اور معقول لوگ بھی ٹی وی مناظروں میں اختلاف رائے ہضم نہیں کر پاتے اور کھلے کیمرے کے سامنے گالم گلوچ کرنے لگتے ہیں۔ یہ ایک شکست خوردہ ذہنیت رکھنے والے معاشرے کی علامت ہے۔ایک بیمار معاشرے کی۔

قیام پاکستان کی تاریخ محمد بن قاسم کی آمد سے شروع کرنے والے دانشور بار بار یہ راگ الاپتے سنائی دیتے ہیں کہ یہ ملک اسلام کے نام پر مسلمانوں کی فلاح کے لئے بنا تھا تاکہ اسے ایک مکمل اسلامی ریاست بناتے ہوئے وہ آزادی سے اپنے دین پر عمل کر سکیں۔
چلئے ایک لمحے کے لئے مان لیتے ہیں کہ یہی مقصود تھا۔
تو پھر کیا ہوئی وہ فلاحی ریاست۔ آج بھوک ، افلاس ، جہالت، بیماری، کرپشن ، لوٹ مار سے ہلکان ہوتے شہری کیا اسی فلاحی ریاست کے ثمرات سے مستفیض ہو رہے ہیں۔ یہ مسلمان نہیں ہیں کیا۔ مریخ سے آئے ہیں۔ ان کے حصے کی قومی دولت کہاں ہے۔
اور پھر یہ مساجد میں کلاشنکوفوں کے سائے میں ادا ہونے والی نمازیں کیا اسی ’’ آزادی پیکج ‘‘ کا حصہ ہیں۔
کیا ملک بنانے والوں نے کہا تھا کہ غیر مسلموں سے اس ملک کو پاک کر دینا تاکہ یہ مکمل طور پر پاک وطن بن سکے۔

دراصل ایک پر امن، پروگریسیو اور فلاحی مذہب کے نام پر جبہ و دستار کی آڑ میں جو کھیل اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لئے برسوں سے کھیلا جا رہا ہے، اسے ایک نہ ایک دن تو اپنے منطقی انجام کو پہنچنا ہی تھا۔ بھاڑے پر فرعونوں کی جنگ میں کودنے والوں کی اپنی جیبیں تو شاید ضرور بھر گئی ہوں ، لیکن وقت کے بے رحم ہاتھوں نے اس ملک کے عوام کو عدم تحفظ اور بے یقینی کے لق و دق صحرا میں بھٹکنے کے لئے چھوڑ دیا ہے، جو سرابوں کا پیچھا کرتے کسی ایسے موسیٰ کے منتظر ہیں جو انہیں اس زمین کی طرف لے جائے جس کا خواب اڑسٹھ برس قبل دکھایا گیا تھا۔

تو اے اہل دانش !
عوام کے غیض وغضب کی بڑھتی ہوئی لالی کودیکھو، جو دریاؤں کے پانی کو خوں رنگ کئے دیتی ہے۔ ڈرو اس وقت سے جب یہ پانی تمہارے گلی کوچوں میں دوڑنے لگے گا۔
اب بھی وقت ہے۔
منافقت کی یلغار کو اگر روک سکتے ہو تو روک لو۔