کیا پاکستان جی پائے گا؟

میں ابھی ابھی پاکستان سے پلٹا ہوں، وہاں رہ کر بہت کچھ دیکھا، سنا اور بھوگا... کہنے سننے اور کرنے میں بہت فرق ہے۔ واضح فرق... جسے میں جوں کا توں پیش کر رہا ہوں۔

کہنے والا جو کہتا ہے سننے والا ضروری نہیں کہ اس کو غور سے سنے اور پھر اس کے وہی معنی بھی لے جو کہنے والا کہہ رہا ہے۔  پھر کہتے ہیں کہ جو کرنے والا ہوتا ہے وہ کچھ کہتا کم ہے اور سناتابھی کم ہے اور جو کچھ کہنا اور سنانا چاہتا ہے وہ کچھ کر کے عملی صورت میں کہہ اور سنا دیتا ہے۔ لیکن دانا ایک صورت حال ایسی بتاتے ہیں کہ جب کہنے سننے کو کچھ بھی نہیں رہ جاتا۔ نہ کہنے والے کی طرف کوئی دھیان دیتا ہے اور نہ سننے والے کے کانوں کو کہنے والے کی باتوں سے دلچسپی ہوتی ہے۔ کہنے والے کا کہا بے کار جاتا ہے اور سننے والا کان بند کر کے اپنی سی کرنے میں مگن ہو جاتا ہے۔ خدا نہ کرے کہ کبھی ایسا وقت آئے کہ جب کہنے سننے کی ضرورت ہی محسوس نہ کی جائے لیکن اسے کیا کہئے اور کیا کیجئے کہ بعض اوقات حالات ایسے کروٹ بدلتے ہیں اور ایسا ماحول بنا دیتے ہیں، کہنے اور سننے والوں کے درمیان ایسی خلیج حائل ہونے لگتی ہے کہ وہ اپنی اپنی جگہ تن کر بیٹھ جاتے ہیں۔ کہنے والا اپنی ہی سنانے پر مصر رہتا ہے اور سننے والا سننے کیلئے تیار نہیں ہو پاتا۔

ایسے لمحے کی آمد کا خطرہ ہو تو پھر اپنی جگہ سب کو اپنے طرز عمل اور طرز فکر میں تبدیلی کر لینی چاہئے... اور یہ وقت ملک عزیز پر آ چکا ہے۔ میں نے پہلے بھی کہیں لکھا ہے کہ وہ شخص پاکستان کے بارے میں کیا جانتا ہے جو صرف پاکستان کے بارے میں جانتا ہے۔ آج کے دور کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اصول، رواداری اور جواز لوگوں کے ذہنوں سے لوگوں کی زندگیوں سے اٹھتا چلا جا رہا ہے یہ الفاظ ہماری زندگی سے خارج ہو رہے ہیں۔  ہماری زندگی بے شمار ثانوی اشیا کا مجموعہ ہے اور یہ کہ ثانوی چیز مل کر اسے قابل برداشت بناتی ہیں۔ پاکستان جا کر ایک بات کا احساس پھر تازہ ہؤا اور یقین کی تصدیق بھی کہ ہر عہد کی ایک مخصوص فکر ہوتی ہے اور طرز اظہار بھی اور ماہ و سال کے آئینے میں عہد کو رکھنا آسان نہیں۔

آج پاک سرزمین پر دہشت اور دہشت گردی کا دور دورہ ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کے ایک جج رابرٹ ایل جیکسن نے جو جنگ عظیم دوم کے بعد نیوربرک میں نازیوں پر چلنے والے مقدمات میں امریکہ کا سب سے بڑا وکیل استغاثہ تھا 2اگست 1945 کو کہا تھا ”ہمیں جرمنوں پر یہ واضح کر دینا چاہئے کہ جس غلطی کیلئے ان کے رہنماﺅں پر مقدمے چلائے جا رہے ہیں، یہ نہیں ہیں کہ وہ جنگ ہار گئے ہیں بلکہ یہ ہے کہ انہوں نے جنگ چھیڑی تھی۔  ہمیں جنگ کے اسباب کے بکھیڑوں میں نہیں پڑنا چاہئے کہ کوئی بھی شکایت، زیادتی، ظلم یا پالیسی جنگ (دہشت گردی) کو حق بجانب قرار نہیں دیتی۔ یہ انتہائی قابل مذمت اور متروک فعل ہے“۔

بات سے بات نکلتی چلی جا رہی ہے اور سچ تو یہ ہے کہ جب بات کہنے اور سننے کے بارے میں سنجیدگی کا رویہ ترک کر دیا جائے گا تو پھر بہت سی ایسی باتیں یاد آنے لگتی ہیں جو اگرچہ ثانوی حیثیت رکھتی ہیں لیکن ان کی اہمیت ایسے لمحوں میں بڑھ جاتی ہے اور ہم اپنی اپنی انا کے طلسم کے میں اسیر اپنوں کو بھی غیر سمجھنے لگتے ہیں۔  اور یوں مکالمے کی وہی صورت بن جاتی ہے کہ غیروں سے کہا سنا جاتا ہے۔ ہزاروں میل کی دوری کو سترہ میل کی نزدیکی پر ترجیح دی جاتی ہے اور براہ راست بات کرنے کا مفہوم یہ لیا جاتا ہے کہ اس طرح ہماری نام نہاد برتری پر ضرب لگے گی۔ آخر ہم نظریاتی اختلاف کو غیریت اور دشمنی کیوں سمجھ لیتے ہیں؟ ہم سب پاکستانی ہیں، ہم سب کا ایک وطن ہے، ہم سب اس مٹی کے وفادار ہیں، اس کی بہتری چاہتے ہیں اس کے عوام کی بہتری چاہتے ہیں۔ جب یہ عقیدہ ہو تو پھر بعض اوقات حیرت ہوتی ہے کہ کہنے والا اپنی ہی بات پر کیوں مصر ہے، وہ اپنی ہی بات کو حرف آخر کیوں قرار دیتا ہے؟ وہ خود کو عقل کل کیوں سمجھتا ہے۔

کیا محض اس لئے کہ اس کے ہاتھ میں بندوق ہے اسے تو دانا جنگل کا قانون کہتے ہیں۔ کہنے والے کی نسبت سے سننے والے کی حیثیت بہرحال کچھ مختلف ہوتی ہے۔ ایک وقت ایسا ہوتا ہے کہ جب کہنے والے کی ہر بات پر سننے والا اعتبار اور یقین کر لیتا ہے۔ کہنے والے اکثر ایک غلطی کر بیٹھتے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ سننے والا ہماری کہی ہوئی ہر بات سے ہی مطمئن ہو جاتا ہے اس لئے ” کچھ کرنے“ کی کیا ضرورت ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سننے والے کا کہنے والے کی باتوں پر سے یقین اور اعتماد اٹھتا چلا جاتا ہے۔ وہ بار بار کہی جانے والی باتوں کو جب عمل کی صوررت میں نہیں دیکھتا تو اپنے کان بند کر لیتا ہے۔ ہمارے ہاں اب ایسی ہی صورت حال پیدا ہو چکی ہے۔ لیکن سننے والوں کیلئے اب کہنے والوں کی باتوں پر توجہ دینا کچھ اور مشکل ہو گیا ہے۔ سننے والے تو اب دوٹوک بات سننا چاہتے ہیں اب کہنے والوں کو بھی چاہئے کہ وہ مکالمہ کا اہتمام جلدی کریں وقت ہاتھ سے تیزی سے پھسلتا جا رہا ہے۔

دشمن دشمنی کا راگ اور راگنی کا الاپ بند کریں اور دوستی کا ہاتھ بڑھائیں۔ میرے اس اختلاف رائے کو ملک دشمنی یا غیریت نہ سمجھا جائے کہ میں ابھی ابھی ”دشمنوں“ سے مل کر آ رہا ہوں اگر آپ مجھے اختلاف کرنے کی اجازت نہ دیں تو کیا اس کے معنی یہ نہیں ہوں گے کہ آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ کی ہر بات سے محض اور محض اتفاق کروں؟ اختلاف کا حق حاصل نہ ہو تو کیا اتفاق کے معنی محض حکم کی بجاآوری، تابعداری اور غلامی نہیں ہوتے؟ آپ حاکم اور میں محکوم۔ سوال یہ ہے کہ یہ حاکم اور محکوم کا چکر کب تک چلے گا جیسا کہ کسی عارف نے کہا ہے ”آپ آقا ہیں اور میں غلام اور نہ آپ انسان بن پا رہے ہیں اور نہ میں“۔ میں نے ملک شادباد میں یہ دیکھا ہے کہ اس وقت وہاں سیاست اور حکومت کی ایسی فضا پیدا ہو چکی ہے جیسی کہ تاریخ کے ایک دور میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے وقت تھی۔ یہ ” کمپنی بہادر“ بھی کہلاتی تھی۔ دارالحکومت سے جو فرمان جاری ہوتے ہیں ان میں لکھاہوتا تھا ’ملک خدا کا، حکومت بادشاہ سلامت کی، اور حکم کمپنی بہادر کا‘۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ایک مخصوص سوچ، طریقہ، سلیقہ، قرینہ، علم اور عمل کی وجہ سے کشور حسین شاد باد میں ویسے ہی حالات پیدا ہو چکے ہیں کہ یہاں بھی کمپنی بہادر والی حکومت ہے جو کہ چاروں طرف سے خطرات میں گھری ہوئی ہے:

میں دشمن کی طرفداری کی خاطر
بسااوقات خود سے بھی لڑا ہوں