گلگت بلتستان کے بارے میں ایک اخلاقی سوال
اس حقیقت کے باوجود کے گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ روز اول سے ہی غیر انسانی سلوک روا رکھا گیا، وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں کہ وہ اور ان کی سیاسی قیادت آج بھی خود کو جموں کشمیر کا حصہ تصور کرتے ہیں۔ پاکستان کے فوجی صدر جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں گلگت کے ملک مسکین اور حاجی میر جان نے ہائی کورٹ میں گلگت بلتسستان کی آئینی حیثیت کے تعین بارے ایک رٹ دائر کی تھی جس پر ہائی کورٹ چیف جسٹس جناب عبدالمجید ملک نے فیصلہ دیا تھا کہ گلگت بلتسستان جموں کشمیر کا حصہ ہیں۔
ملک مسکین بعد میں گلگت بلتستان اسمبلی کے سپیکر اور میر جان رکن اسمبلی بھی بنے تھے۔ اب جب پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی قیادت میں پاک ۔ چین اقتصادی کوریڈور کے باعث اس اہم خطے کی آئینی حیثیت بارے ایک بار پھر بحث شروع ہو ئی تو میں نے فیصلہ کیا کہ کچھ وقت تک انتطار کر کے تمام متعلقین کا موقف سن لینے کے بعد قلم اٹھایا جائے۔ گلگت بلتستان کے وزیر اعلی حافظ حفیظ الرحمن ان دنوں برطانیہ کے دورہ پر ہیں جہاں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سفارتی شعبہ کے سربراہ راجہ ظفر خان کی قیادت میں ایک وفد نے ان کے ساتھ تفصیلی بات کی ۔ راجہ ظفر خان ، صابر گل اور تحسین گیلانی کے مطابق وزیر اعلی گلگت بلتسستان نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان ہر لحاظ سے جموں کشمیر کا حصہ ہیں۔ لیکن ان کو بنیادی انسانی حقوق ملنے چائیے۔ ہمارا موقف ہے کہ ان کو یہ حقوق بہت پہلے مل جانے چائیے تھے۔ انہوں نے اس خطے کو کرنل حسن مرزا کی قیادت میں اپنی مدد آپ کے تحت آزاد کروا کر مہاراجہ کے خلاف بغاوت کے نتیجے میں قائم ہونے والی ریاست آزاد جموں کشمیر میں شامل کیا تھا جو اس بات کاثبوت تھا کہ وہ اس وقت بھی خود کو جموں کشمیر کا حصہ تصور کرتے تھے۔
گلگت بلتستان میں نافذ ہونے والے جنگل کے قانون کے خلاف ہم اندون و بیرون کشمیر جد و جہد کرتے رہے ہیں لیکن بد قسمتی سے آزاد کشمیر کے اقتدار پرست ٹولے اور پاکستان کے بعض ناسمجھ عناصر نے گلگت بلتستان کے حق میں آواز بلند کرنے والے ایسے کشمیریوں کو بھارت نواز قرار دے کر ایسی آوازوں کو دبانے کی کوشش کی۔ حالانکہ میں نے اپنی جوانی کے 22 سال بھارتی سفارتکار مہاترے قتل کیس میں سازش کے الزام میں ماورائے عدالت جیل میں گزار دئیے۔ ہمارے ہزاروں ساتھی شہید بھی ہو چکے ہیں۔ ہمارا پہلا شہید گلگت کا عظیم سپوت اورنگزیب تھا۔ گلگت بلتستان کے وزیر اعلی سے منسوب ظفر خان کے بیان کی تصدیق کے لئے میں نے گلگت کے کچھ ساتھیوں کو بھی فون کیا۔ لبریشن فرنٹ کے نائب صدر عابد شکور گلگتی نے بھی اضافی معلومات حاصل کیں۔ لبریشن فرنٹ کے سرپرست اعلی امان اﷲ خان کی قیادت میں ایک چار رکنی وفد بھی اس وقت دس دن کے طویل دورے پر گلگت بلتستان گیا ہوا ہے جہاں ان کی ہر مکتبہ فکر کے لوگوں سے ملاقاتیں جاری ہیں۔ جناب محمد نواز خان ناجی دوسری بار رکن اسمبلی گلگت بلتستان منتخب ہوئے ہیں۔ ان کے ساتھ میری طویل ملاقاتیں رہیں۔ دو دن اپنے گھر کھوئیرٹہ آزاد کشمیر مجھے ان کی میزبانی کا شرف بھی حاصل ہوا تھا۔ ان کا بھی یہی کہنا تھا کہ گلگت بلتسستان جموں کشمیر کا حصہ ہیں لیکن حقوق ملنے چائیے۔
بھارتی مقبوضہ کشمیر اسمبلی کو ایکٹ 370کے تحت خصوصی حیثیت حاصل ہے۔ آزاد کشمیر میں بھی ایک سیٹ اپ موجود ہے لہذا گلگت بلتستان کے ساتھ ناروا سلوک کیوں؟ نواز خان ناجی کی یہ بھی تجویز ہے کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے درمیان سڑکوں کی بہتر تعمیر کر کے روابط کو آسان بنایا جائے اور کوئی ایسی آئینی تبدیلی نہ لائی جائے جو جموں کشمیر کے حصے بخروں پر منتج ہو۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر سے لبریشن فرنٹ کے چئرمین یاسین ملک نے بھی وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف کو ایک مکتوب ارسال کیا جس میں کہا گیا کہ گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کی تبدیلی سے بھارت غلط فائدہ اٹھائے گا۔ دوسرے بھارت مخالف لیڈروں نے بھی اسی طرح کی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
جہاں تک آزاد کشمیر کے ساتھ شکووں کا تعلق ہے وہ باالکل درست ہیں۔ جموں کشمیر کے ان دونوں خطوں کے درمیان سیاسی رابطے اس وقت ختم ہوئے جب آزاد کشمیر اور پاکستانی حکومتوں کے درمیان اٹھائیس اپریل سن انچاس کو معائدہ کراچی طے پایا جس کے تحت گلگت بلتستان میں پاکستان کی فوج عارضی طور پر داخل ہوئی۔ گلگت بلتسستان کے عوام کا یہ الزام سو فی صد درست ہے کہ آزاد کشمیر کے لیڈروں نے خود غرضی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اقتدار کے مزے لینے کے لئے انہیں مکمل طور سے نظر انداز کیا۔ البتہ ان سیاسی بونوں نے صرف گلگت بلتستان ہی نہیں بلکہ آزاد کشمیر کے عوام کا بھی استحصال کیا۔ سات دہائیوں سے تعمیر و ترقی کے نام پر یہ زیادہ تر اپنا ہی پیٹ بھرتے آ رہے ہیں۔ آزاد کشمیر میں معیار زندگی میں اگر کوئی بہتری آئی ہے تو اسکی بڑی وجہ تارکین وطن ہیں۔ گلگت بلتستان کے عوام اگر آزاد کشمیر آ کر یہاں کی کرپشن، تعلیم، صحت اور سڑکوں کاحال دیکھیں تو ان کو اندازہ ہو جائے گا کہ آزاد کشمیر کے عوام پر بھی ان لیڈروں نے کوئی کم ظلم نہیں کیے۔ آزاد کشمیر پر بھی لینٹ افسران اور وزیر امور کشمیر کے ذریعے جمہوریت کے نام پر آمریت قائم ہے۔ آزاد کشمیر کا وزیر اعظم، صدر اور عدلیہ سب وزیر امور کشمیر کے آگے جواب دہ ہیں۔
پاکستان سے آنے والا ہر وزیر امور کشمیر یہاں آتے ہی غیر پارلیمانی بن جاتا ہے جس کی تازہ مثال یہ ہے کہ چند دن قبل وزیر امور کشمیر برجیس طاہر نے گرجتے ہوئے کہا کہ آزادکشمیر کا وزیر اعظم پہاڑی بکرا ہے جسے میں زبح کروں گا۔ پاکستان کے بیچارے اپنے عوام بھی کئی دہائیوں سے زبح ہی ہوتے آ رہے ہیں۔ پاکستانی عوام آئی ایم ایف کے غلام ہیں جس سے ملنے ولا قرض کا بڑا حصہ پاکستانی حکمران واپس بیرون ملک اپنے بنک اکاؤنٹس میں منتقل کروا دیتے ہیں اور بعد میں قرضے بھی معاف کروا لیتے ہیں۔
گلگت بلتستان کے عوام کا یہ شکوہ بھی جائز ہے کہ گلگت بلتستان کی وجہ سے ممکن ہونے والے چھیالیس بلین ڈالرز پاک ۔ چین اقتصادی منصوبے میں سے ایک پروجیکٹ بھی گلگت بلتستان کے لئے شامل نہیں کیا گیا۔ جبکہ اس منصوبے کی وجہ سے چھ سو کلو میٹر تنگ ویلی پر ماحولیاتی آلودگی کے انتہائی مضر اثرات کا کسی کو احساس تک نہیں۔ یہاں ایک اور اہم اخلاقی سوال یہ ہے کہ اگر بڑے ملکوں کے اقتصادی فائیدوں کے لئے چھوٹے اور محکوم ملکوں کے خاندانوں کی تقسیم جائز ہے تو پھر ہندوستان پر انگریزیوں کا قبضہ کیوں ناجائز تھا۔ اورامریکہ کو کن اصولوں کے تحت مشرق وسطی سے نکالا جائے گا؟ المختصر اقتصادی مفادات کی بنیاد پر کسی ملک اور اس کے خاندانوں کو تقسیم کرنا اخلاقی طور پر غلط ہے۔ اس کی ماضی میں بھی مخالفت ہوتی رہی ہے، اب بھی ہو رہی ہے اور آئندہ بھی ہونی چائیے۔