پاک چین اقتصادی راہداری پر مذاکرہ
- تحریر فرخ سہیل گوئندی
- منگل 26 / جنوری / 2016
- 4493
گزشتہ ہفتے لاہور میں یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی (UMT) اور پائنا کے زیراہتمام پاک چین اقتصادی راہداری پر ایک قومی سیمینار منعقد ہوا۔ اس حوالے سے یہ واقعی ایک بھرپور سیمینار تھا کہ اس میں ملک کے ممتاز دانشوروں، صحافیوں اور اہل فکر لوگوں نے شرکت کی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی ریٹائرڈ جسٹس اعجاز چودھری تھے جبکہ وفاقی وزیر جناب احسن اقبال نے اس تقریب میں پاک چین راہداری پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
احسن اقبال نے اس اقتصادی راہداری کے حوالے سے پاکستان کے بدلتے ہوئے کردار پر ایک اہم نکتہ اٹھایا کہ پاکستان کو اب Geo-Strategic پر فوکس ہونے کی بجائے، Geo-Economics پر زور اور توجہ دینی چاہئے۔ ان کے اس ایک جملے میں درحقیقت ان غلطیوں کا بھی ازالہ ہے جن کا ہمارے پالیسی ساز اور حکمران پچھلی سات دہائیوں سے شکار رہے کہ اپنی سیاسی جغرافیائی اہمیت کے بَل بوتے پر اپنی اور عالمی طاقتوں کی پیدا کردہ جنگوں میں شرکت کی جائے۔ اس طرح پاکستان کے قومی مفادات کی تکمیل کی بجائے پاکستان کو علاقائی جغرافیائی دلدل میں پھنسنے کے سوا کچھ نہیں حاصل نہیں ہؤا۔ پاکستان پچاس کی دہائی سے اپنی جیو سٹرٹیجک اہمیت پر جس طرح متحرک رہا ہے، اس سے پوری قوم آگاہ ہے جس میں نام نہاد افغان جہاد سرفہرست ہے۔ اس کے جس قدر منفی اثرات ہوئے اور اس کے سبب ٹوٹ پھوٹ کا جو عمل شروع ہوا، وہ ابھی تک رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ ہمارے فوجی اور سول حکمران پاکستان کی جیوسٹرٹیجک طاقت کے بل بوتے پر پاکستان کی قسمت بدلنا چاہتے تھے۔ لیکن اب جاکر متعلقہ لوگوں کو احساس ہؤا کہ ترقی کی بنیاد امن سے ہے جنگ سے نہیں۔
عوامی جمہوریہ چین کے بڑھتے ہوئے عالمی اور تجارتی مفادات میں پاکستان کی ایک اہمیت ہے۔ اس میں پاک چین دوستی کی روایت اس عالمی اقتصادی مفادات میں طاقت بن سکتی ہے۔ چین یقیناًعالمی منڈیوں کو تیز رفتاری سے اپنی گرفت میں لانا چاہتا ہے۔ چین کی معیشت Surplus Production پر بڑھتی جارہی ہے، ایسے میں چین یقیناًچاہے گا کہ اپنی مصنوعات کی تیز رفتار ترسیل کا عالمی نیٹ ورک قائم کیا جائے۔ اس اقتصادی منصوبہ بندی میں چین راہداری کے حصول اور گوادر پورٹ کی سہولیات فراہم کرنے کا عمل شروع کر چکا ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ چین کے مفادات اگر پاکستان کے مفادات سے جڑتے ہیں تو اس سے پاکستان کی معیشت کو لاتعداد فوائد حاصل ہوں گے۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کو بھی اس عمل میں صرف راہداری دینے تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ پاکستان اپنی معیشت کو جدید بنیادوں پر استوار کرے، ایک تیز رفتار صنعت کاری Industrialization کا آغاز کرے، جدید ٹیکنالوجی پر عبور حاصل کرے اور اپنی افرادہ قوت Man Power کو زیادہ سے زیادہ ترقی یافتہ کرے۔ تب کہیں پاکستان عالمی اقتصادی منصوبوں میں ایک حصہ دار کے طور پر زیادہ سے زیادہ مفادات حاصل کر سکتا ہے۔
ہمیں یہاں یہ بات ہر صورت یاد رکھنی چاہئے کہ اقتصادی مفادات کے ساتھ عالمی معیشتوں کے سٹرٹیجک مفادات از خود جڑ جاتے ہیں۔ اپنی منڈیوں کے تحفظ کے لئے اور جیواکنامک مفادات کے لیے اگر چین منصوبہ بندی کرتا ہے تو اس کے تحفظ کے لئے جیوسٹرٹیجک منصوبہ بندی اس کا لازمی عنصر ہو گا۔ پاکستان، پاک چین اقتصادی راہداری پر عمل کرتے ہوئے یقیناً یہ بات ذہن میں رکھے کہ پاکستان ایک وفاق ہے اور اس منصوبہ بندی میں وفاقی اکائیوں کے مفادات کو کسی طور پر بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے۔ اس میں بلوچستان، خیبرپختونخوااور صوبہ سندھ کے بنیادی حقوق کو نظراندازکرنا، پاکستان کے مفادات کو نظر انداز کرنا ہی سمجھا جائے گا۔ اسی لئے پنجاب کے علاوہ ان صوبوں کے مختلف اعتراضات ہیں، جس پر مختلف سیاسی جماعتوں کے اعتراضات بھی سامنے آئے ہیں اور یہ ایک صحت مند رجحان ہے۔ حکومت بھی ان اعتراضات کو سن رہی ہے۔
اس مثبت بحث میں الطاف حسن قریشی نے بروقت قدم اٹھا کر لاہور میں اس موضوع پر جس قدر جان دار تقریب کا اہتمام کیا وہ وقت کی ضرورت تھی۔ اس میں بلوچستان حکومت کے ترجمان انوارالحق کاکڑ نے بھرپور حصہ لیا اور بلوچستان کے مقدمے کو پاکستان کے مقدمے کے ساتھ جوڑا۔ الطاف حسن قریشی نے اپنی تنظیم پائنا کے تحت اس قومی بحث میں ایک ایسے وقت میں اپنا حصہ ڈالا جب مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے اعتراضات اور ان میں ابہام کی خبریں آرہی ہیں۔ اس تقریب میں وفاقی وزیر احسن اقبال کی شرکت کے ساتھ متعدد اہل فکر کو شامل کرکے بحث کو مثبت اور منطقی انجام تک پہنچانے کی کوشش کی گئی۔اور اس کا اہتمام پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ہونا ایک بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ تین صوبوں کے لوگوں کی آواز لاہور میں اٹھائی گئی اور اس محفل میں یہ بھی کہا گیا کہ گوادر کی ترقی کا سب سے پہلے اور بڑا Beneficiary گوادر اور اس صوبے کو ہونا چاہئے جہاں پر اس منصوبے کا گیٹ وے (گوادرپورٹ) قائم کی جارہی ہے۔
تقریب میں احسن اقبال نے جس تفصیل کے ساتھ پاک چین و اقتصادی راہداری اور اس کے اردگرد منصوبوں پر روشنی ڈالی، یقیناًیہ ایک خوش آئند بات ہے۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ ہمارے وہ لوگ جو جنگوں سے کامیابیاں، کامرانیاں اور منزلیں ڈھونڈتے تھے، آج وہ لوگ بھی معیشت اور انسانی ترقی سے پاکستان کے مستقل کی خواہش رکھتے ہیں۔ راقم نے بھی اس تقریب میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے عرض کیا کہ معاشی ترقی Sustain تب ہی کر سکتی ہے، اگر معاشی ترقی کے عمل میں اپنا کردار اور راہداری فراہم کرنے تک محددو رکھنے کی بجائے معاشی ترقی میں شریک کار بنا جائے اور اس کے لئے پاکستان تعلیمی اور ثقافتی حوالے سے ہی عوامی جمہوریہ کے ساتھ شامل ہو۔ وہاں کی تعلیمی ترقی، سائنسی علوم، سماجی علوم اور دیگر علمی فکری شعبوں سے استفادہ کرے۔ آج کوئی قوم تب تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک سائنس کے شعبے میں عبور نہ حاصل کیا جائے اور اب وقت آگیا ہے کہ جنگوں کے جنون سے نکل کرعلم، معیشت اور اقتصادیات کے میدان میں اپنا کردار ادا کیا جائے۔
تقریب سے مسقط میں مقیم پاکستان کے معروف تاجرجاوید نواز نے بھی خطاب کیا اور اس حوالے سے ریاست اومان، گوادر اور علاقائی اکنامک خطوں پر روشنی ڈالی کہ پاکستان، گوادر کو خطے کا ایک بڑا اکنامک Hub بنا سکتا ہے۔ یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی (UMT) اور پائنا کی اس تقریب کے منتظمین میں ڈاکٹر عمرانہ مشتاق اور کامران قریشی نے بڑا متحرک کردار اداکیا اور تقریب میں لاہور میں عوامی جمہوریہ چین کے کونسل جنرل کی شرکت سے وہ سب نکتہ ہائے نظر ہمارے دوست اور پڑوسی ملک کے پالیسی سازوں تک یقیناً پہنچیں گے جو اس تقریب میں اٹھائے گئے۔