گلگت بلتستان کا سوال
1947 میں تقسیم سے پہلے ریاست جموں کشمیر و تبت ہا عمومی طور پر چار انتظامی اکائیوں پر مشتمل تھی ۔ وادی کشمیر، جموں , لداخ اور گلگت ایجنسی ۔ اندرونی طور پر ریاست کے مختلف خطوں میں صورت حال مختلف تھی لیکن انگریزی علاقے یعنی برطانوی ہند کے حوالے سے ریاست کا چوراسی ہزار چار سو چوہتر مربع میل کا رقبہ برٹش انڈیا کا حصہ نہیں تھا، بلکہ ایک الگ انتظامی و سیاسی اکائی تھی ۔ میرے خیال میں اس تاریخی حقیقت سے کسی کو انکار نہیں ہو گا؟
1947 میں برطانوی ہند کی تقسیم اور بھارت و پاکستان کی قومی ریاستوں کے وجود میں آنے کے عمل کے دوران بھارت و پاکستان کے نئے حکمران نوآبادیاتی راج سے آزادی کے بعد نوآبادی بن بیٹھے ۔ یعنی خود برطانوی راج سے آزادی کے بعد کشمیر کو غلام بنا نے نکل پڑے اور اس عمل کے دوران کشمیر کی ریاست بھی تقسیم ہو گئی۔ ریاست کی اس تقسیم کے نتیجے میں تین انتظامی یونٹ وجود میں آئے۔
1۔ جموں اینڈ کشمیر ( بھارتی زیر انتظام یا مقبوضہ کشمیر)
2۔ آزاد کشمیر ( پاکستانی زیر انتظام یا مقبوضہ جنوبی کشمیر)
3۔ گلگت وزارت اور ایجنسی ( پاکستانی زیر انتظام مقبوضہ شمالی کشمیر)
یہ بھی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے۔ تاہم یہاں سے آگے مختلف نقطہ ہائے نظر پائے جاتے ہیں۔
ان تینوں خطوں میں انتظام و قبضے کی نوعیت اور شدت اور اثرات مختلف رہے ہیں لیکن بہرحال تینوں میں منفرد سیاسی جغرافیائی و سیاسی و معاشی و ثقافتی یعنی معاشرتی حدود spacek ارتقا پذیر ہوئی ہیں۔ تینوں خطوں میں ارتقاء کا یہ عمل جہاں کچھ پہلوؤں میں ماضی کے خطوط پر آگے بڑھا ہے وہاں کچھ معاملات میں نئے حالات کے تقاضوں کے مطابق نئی شکلیں پیدا اور ارتقاء پذیر ہوئی ہیں۔ سب سے بڑی تبدیلی جو گذشتہ سات عشروں کے دوران گلگت بلتستان ، لداخ اور جموں میں سامنے آئی ہے وہ مقامی تشخص کے فروغ اور کشمیری تشخص سے وابستگی میں واضح کمی ہے ۔ تقسیم سے پہلے کشمیری تشخص پوری ریاست کی قومی سیاسی شناخت کے طور پر ارتقاء پذیر تھا۔ اگر ریاست تقسیم ہو کر بھارت و پاکستان کے قبضے میں نہ جاتی بلکہ ایک خود مختار ملک ( قومی ریاست) کے طور پر وجود میں آ جاتی تو اب تک کشمیری اس ریاست کا قومی سیاسی تشخص ہوتا جس طرح کہ پاکستانی پاکستان کا اور بھارتی بھارت کا ہے ۔
تاہم تقسیم کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ وادی اور 'آزاد' کشمیر میں کشمیری تشخص کا ارتقاء جاری رہا ہے اور آج ان خطوں اور 'آزاد' کشمیری تارکین وطن میں کشمیری تشخص سے واضح وابستگی پائی جاتی ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ میرے خیال میں یہ ہے کہ تقسیم سے پہلے ان خطوں میں عوامی سیاست دوسرے خطوں کے مقابلے میں مقبول و زیادہ متحرک تھی اور کشمیری تشخص عوامی سطح پر اس عوامی سیاست کے ذریعے ہی فروغ پذیر تھا۔
لیکن گلگت بلتستان ، جموں اور لداخ میں تقسیم سے پہلے عوامی سیاست میں شرکت اور سرگرمی میں وہ شدت نہیں پائی جاتی تھی۔ جس کی ایک وجہ یقیناً وادی اور موجودہ 'آزاد' کشمیر کے لیڈروں کی طرف سے لداخ اور گلگت بلتستان کے عوام تک پہنچنے میں ناکامی تھی۔ جموں کے مسلمانوں اور ترقی پسند حلقوں میں تو کشمیری سیاسی تشخص کے لئے خیر سگالی کے جذبات پیدا ہوئے لیکن عمومی طور پر جموں میں بھی مسلم کانفرنسی مسلمانوں کی طرح مذہبی بنیادوں پر ہندوستان سے وابستگی واضح تھی۔ تاہم یہ ایک الگ بحث ہے۔ یہاں یہ بتانا مقصود ہے کہ تقسیم کے بعد جموں، لداخ اور گلگت بلتستان میں کشمیری سیاسی تشخص سے دوری پیدا ہوئی اور کشمیری کو کاشری تشخص کے مترادف سمجھا جانے لگا۔ تاہم ریاست کی وحدت اور باشندہ ریاست سے وابستگی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ لداخ و جموں میں باشندہ ریاست آج بھی لاگو ہے اور اس کے خلاف کوئی تحریک موجود نہیں ہے۔ لیکن گلگت بلتستان میں باشندہ ریاست کو ختم کر دیا گیا تھا۔ کن حالات میں اور کیوں ختم کیا گیا تھا ؟ ان سوالوں کے جوابات اگر گلگت بلتستان کے دوست دیں تو بہتر رہے گا۔ تاہم گلگت بلتستان میں باشندہ ریاست کی بحالی کی ایک بڑی مانگ بہرحال موجود ہے۔
ریاست کے ان تین خطوں میں کشمیر سے جُڑے رہنے اور حقوق سے محروم رہنے کی بجائے بھارت اور پاکستان میں شامل ہو کر حقوق حاصل کرنے کی جدوجہد جاری رکھنے پر زور دیا جاتا ہے۔ اگرچہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی بنیاد پر یہ خطے مسئلہ کشمیر کے حل سے جُڑے ہوئے ہیں اور ریاست کے تمام باشندوں کی طرف سے اس مسئلے کے مستقبل کا فیصلہ ہونے تک ان کی حیثیت میں تبدیلی سے ان کی وسیع تر متنازعہ حیثیت میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ لیکن کشمیر کے آزادی پسندوں جن سے مراد وہ کشمیری ہیں جو پوری ریاست کی وحدت و خود مختاری کے لئے بر سرپیکار ہیں ، نے جو موقف اور رویہ اپنایا ہؤا ہے میرے خیال میں وہ گلگت بلتستان (اور جموں و لداخ) کے عوام کو کشمیر ( متحدہ خود مختار ریاست ) سے مزید دور کررہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کشمیری آزادی پسند ان خطوں کو ریاست کے مساوی حصے سمجھنے کی بجائے ان کو کشمیر (وادی کشمیر ) کا جزولاینفک قرار دے کر وہی زبان بولتے ہیں جو بھارت اور پاکستان کشمیر ( ریاست) کے بارے میں استعمال کرتے ہیں۔ جیسے کوئی مائی کا لال گلگت بلتستان کو کشمیر سے الگ نہیں کر سکتا۔ وغیرہ ۔ آزاد کشمیر حکومت کی طرف سے ایسے بیان کہ اگر کسی نے گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کی کوشش کی تو اسے صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے گا، انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور درحقیقت گلگت بلتستان کے نوجوانوں کو کشمیر سے مزید دور کرنے کا کام کر رہے ہیں۔ ایسے میں کشمیری آزادی پسندوں کا موقف یہ ہونا چاہیے کہ گلگت بلتستان اگرچہ مسئلہ کشمیر کا حصہ ہے لیکن اس مسئلے کے حل تک گلگت بلتستان میں اندرونی طور پر با اختیار جمہوری نظام حکومت عوام کے آزادانہ ووٹ سے قائم کیا جائے، جس میں ریاست کے ہر باشندے کو امیدوار اور ووٹر کی حیثیت سے حصہ لینے کا حق ہو نا چاہیے۔
جب بھی کشمیر اور ان علاقوں کے مستقبل کا جو بھی فیصلہ ہو اس اسمبلی کی اندرونی خود مختاری قائم رہنی چاہئے۔ لیکن یہ فیصلہ کرنے کا حق صرف گلگت و بلتستان میں بسنے والے ریاستی باشندوں کو ہونا چاہیے ۔ ریاست جموں کشمیر کے پانچوں خطوں کی آزادی ایک دوسرے سے جُڑی ہوئی ہے اور درحقیقت پورے جنوب ایشیا کے خطوں کی آزادی باہمی طور پر لازم و ملزوم ہے۔