ٹوٹی ہوئی کمر بمقابلہ ایک پیج
باچا خان یونیورسٹی پر حملہ سانحہ آرمی پبلک اسکول جیسا ہی ایک حادثہ تھا مگر خوش قسمتی سے جانی نقصان کم ہوا۔ حملے کے وقت ملک کے سربراہ میاں نواز شریف ( آپ انہیں شہنشاہ معظم بھی کہہ سکتے ہیں اور امیر المومنین بھی۔۔۔ یہ آپ کی فہم پر منحصر ہے) ملک سے غائب تھے اور انہوں واپسی میں بھی کسی قسم کی جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اسی طرح ملک کے داخلی امور کے ذمہ دار چوہدری نثار نے بھی کوئی سلیمانی ٹوپی ( آپ اسے وگ کا نام بھی دے سکتے ہیں) پہن رکھی تھی اور وہ کسی کو نظر نہیں آئے اور نہ ہی انہوں نے کوئی بیان جاری فرمایا۔ بالآخر چوہدری نثار کی طبیعت سازگار ہوئی اور چارسدہ حملے کے ایک ہفتے بعد انہوں نے رخ زیبا کے جلوے بکھیرے۔
وزیر داخلہ نے سانحہ چارسدہ کے بعد پہلی پریس کانفرنس کی مگر اس پریس کانفرنس میں سانحہ کے اسباب ، حکومت اور انٹیلی جنس کی ناکامی، ذمہ داروں کا تعین ، شہدا کی روحوں اور ان کے ورثا سے اظہار شرمندگی کا کوئی تاثر نہیں ملا۔ انہوں نے سارا زور حکومت کی ناکامیوں کی نشاندہی کرنے والوں کو ملامت کرنے پر لگایا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان پر وہ حضرات بھی تنقید کر رہے ہیں جنہوں نے اسے پڑھا تک نہیں۔ اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکیاں دینے والوں سے پوچھوں گا کہ انہوں نے اپنے 5 سال میں دہشتگردی کے خلاف کون سی کامیابیاں حاصل کی تھیں۔ یعنی سابق صدر مسٹر ٹین پرسنٹ عرف آصف علی زرداری۔
البتہ اپنی پریس کانفرنس میں ایک بات انہوں نے درست فرمائی ( اس بات کو بھی حب علی اور بغض معاویہ کے مترادف سمجھا جا رہا ہے) کہ میں نے تو کہا تھا کہ اسکول بند نہ کریں۔ اس کے نتیجے میں ملک کے عام شہری مزید عدم تحفظ کا شکار ہوں گے۔ اسکولوں کی سکیورٹی بہتر بنانے کا کام انہیں کھلا رکھ کر بھی ہو سکتا ہے۔ ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا۔
وزیر داخلہ کا یہ بھی فرمانا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف بندوق کی جنگ تو ہم ہی جیت رہے ہیں مگر تنقید کرنے والے کی وجہ سے نفسیاتی جنگ ہار رہے ہیں۔ اسے ناکامی کا اعتراف سمجھا جائے یا ملبہ کسی اور پر ڈالنا، فیصلہ عوام خود کر لیں۔ چوہدری صاحب نے ناکامی کا اعتراف تو بڑی آسانی سے کر لیا مگر نہ ہی اس کے اسباب بتائے نہ ہی سدباب کا طریقہ۔ اس حکومتی پالیسی سے عوام میں پھیلی ہوئی مایوسی اور خوف کی کیفیت مزید بڑھے گی۔ پاکستان کے طرز سیاست میں وہ یہی سمجھ رہے ہیں کہ اس اعتراف کے ساتھ ہی انہوں نے اپنے منصب سے عہدہ برآ ہونے کا حق ادا کر دیا ہے۔ شاید وہ نہیں جانتے کہ تنقید کوئی بھی کرے، سازشی کوئی بھی ہو، پیٹھ پر چھرا کسی نے بھی گھونپا ہو، آخر کار ذمہ داری حکومت کی ہی ہوتی ہے۔ بیماری کا بہانہ کر کے ایک خوفناک سانحہ سے راہ فرار اختیار کرنا کسی بھی اعلیٰ حکومتی شخصیت کو زیب نہیں دیتا۔
جنرل راحیل شریف اگرچہ ریٹائرمنٹ کی تاریخ کا اعلان کر چکے ہیں۔ وجوہات کچھ بھی ہوں مگر انہیں یکسوئی کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملے گا اور توسیع کیلئے بلیک میلنگ کا تاثر بھی زائل ہو چکا ہے۔ اس کے باوجود سال نو میں تواتر سے دہشتگرد حملے ہو رہے ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیاسی قیادت بیک فٹ پر ہے اور سارا بوجھ فوج پر ڈال دیا گیا ہے جسے وہ نبھانے کی کوشش تو کر رہی ہے لیکن متعدد عوامل اس کی راہ میں حائل ہیں۔ فوج میں اب بھی متعدد ایسے کردار موجود ہیں جو دہشت گردی کے جنگ کی کامیابی میں رکاوٹ ہیں۔ سانحہ چارسدہ سکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس کی ناکامی کی واضح مثال ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کہتے نہیں تھکتے کہ دہشتگردوں کی کمر توڑ دی ہے اور وہ ٹوٹی کمر کے ساتھ بھاگتے پھر رہے ہیں۔ فوج ، وفاق اور پنجاب حکومت دہشت گردوں کے تعاقب میں ہیں مگر انہی کے خوف سے تعلیمی ادارے بند بھی کر دیتے ہیں۔ وزیراعظم کو بیرون ملک یاترا سے فرصت نہیں اور وفاقی وزیرداخلہ دہشتگردی کے خطرے کو چھوٹا موٹا قرار دیتے ہوئے اسکول کھولنے کا مطالبہ کرتے ہیں جبکہ اپوزیشن لیڈر اس تمام جھگڑے سے بے نیاز اپنی پارٹی کی کرپشن امپائر بچانے میں مصروف ہیں۔ جینے کی جنگ لڑتے عوام اسپتالوں ، نادرا دفاتر، پاسپورٹ سینٹرز اور یوٹیلٹی اسٹورز پر قطار بنائے اپنی قسمت اور حکمرانوں کو کوس رہے ہیں۔ پھر بھی تمام وزیر، مشیر اور لکھاری بے ضمیر یہ دعویٰ کرتے نہ ہی تھکتے ہیں اور نہ ہی شرماتے ہیں کہ ’’ فوج اور سیاسی قیادت ایک پیج پر ہے ‘‘۔ مگرلگتا ہے اس ’’ ایک پیج ‘‘ سے مراد نا اہلی کا وہ صفحہ ہے جسے پلٹنے کی کسی میں تاب نہیں اور اگر یہ صفحہ پلٹ دیں تو کبھی ڈاکٹر عاصم کا باب کھلتا ہے تو کبھی نندی پور کا، کبھی اینٹ سے اینٹ بجانے والوں کے فرار کی کہانیاں سامنے آتی ہیں تو کبھی اقتصادی راہدری میں کرپشن کی ہوشربا داستانیں۔ کوئی شریفوں کی جنگ میں سویلین شریف کے ساتھ کھڑا ہے تو کوئی فوجی شریف کی تصویر اٹھائے انتخابی مہم چلاتا ہے۔ اس کنفیوژن میں عوام کو یہ ’’ایک پیج‘‘ ریزہ ریزہ ہوا ردی کی ٹوکری میں بھی نظر نہیں آ رہا۔