عرب و عجم جنگ اور پاکستانی کردار
- تحریر محی الدین عباسی
- جمعہ 29 / جنوری / 2016
- 7029
عرب و عجم کی جنگ تو صدیوں پرانی ہے۔ اسلامی تاریخ اس کی گواہ ہے ۔خلافت اولیٰ کے تیسرے دور کے بعد سے شیعہ و سنی اختلافات پیدا ہوئے جو ایک لمبی تاریخ ہے ۔ فی الحال موجودہ حالات کے پیش نظر اور کچھ پرانے قصوں کو بیان کر دیتا ہوں ۔ پچھلے دنوں سعودی عرب کے دو اہم وزرأ ۔ وزیر دفاع اور وزیر خارجہ اسلام آباد تشریف لائے ۔ یہ پہلا موقع تھا دو اہم شخصیات پاکستان آئیں چونکہ ان دونوں ممالک سعودی عرب اور ایران میں ایک سرد جنگ شروع ہو گئی تھی اور اس میں شدت تیزی اس وقت پیدا ہوئی جب سعودی عرب نے 47 افراد کو پھانسی دی جن میں ایک عالم شیعہ اہم مذہبی رہنما شیخ نمر باقر النمر کو بھی پھانسی کی سزا دی گئی۔ اس کے بعد سعودی شاہی خاندان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ شیخ نمر سعودی عر ب کے علاوہ بحرین ، شام اور ایران میں شیعہ عوام میں بہت مقبول تھے اور یہ سلفی مکتبہ ء فکر کے حکمرانوں کے شدید ناقد تھے۔
مسلم امہ (OIC)اور عرب لیگ کو چاہئے تھا کہ وہ اس تنازعہ کو حل کروانے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ چونکہ ان اداروں میں باہمی اتحاد اور یک جہتی کا فقدان ہے اسی وجہ سے یہ تنظیمیں فعال نہیں ۔ البتہ سعودی عرب نے اسلامی ملکوں کا ایک فوجی اتحاد بنا کر اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایسے فوجی اتحاد پچھلی دہائیوں میں بھی بنتے رہے ہیں جس نے تباہی اور بربادی کے علاوہ کچھ نہیں دیا ۔ بلکہ مسلمان آج تک ان کا خمیازہ بھگت رہے ہیں ۔ان کے نتیجے میں القاعدہ ۔ طالبان اور داعش جیسی تنظیمیں پیدا ہو ئیں۔ جہاں تک معاملہ اسرائیل بمقابلہ عرب تھا تو پاکستان جیسے ممالک کے لئے دوست دشمن کی تمیز آسان تھی ۔ 1980میں جب عراق نے ایران پر حملہ کیا اور سعودی عرب اور کویت سمیت خلیجی ممالک نے کھل کر صدام حسین کا ساتھ دیا، اس وقت پاکستان کے لئے بہت بڑا مسئلہ تھا کہ وہ کیا کرے۔ چونکہ پاکستان کی مشرقی سرحد پر بھارت کی موجود تھا۔ مغربی سرحد پر افغانستان میں سوویٹ یونین روس بیٹھا تھا۔ جنوب مغرب میں عراق ایران سے الجھا ہؤا تھا اور لاکھوں پاکستانی خلیجی ممالک میں روزگار کے لئے مقیم تھے۔ خود پاکستان میں شیعہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ہے ۔عراق ایران جنگ پر اقوام متحدہ نے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا ۔ اس میں پاکستان نے تجویز دی کہ صدر پاکستان ضیا ء الحق جنگ بند کرانے کے لئے تہران اور بغداد جانے کو تیار ہیں، جسے منظور کر لیا گیا۔اس مصالحتی مشن میں PLOکے سربراہ یاسر عرفات بھی شامل ہو گئے ۔
حالیہ دنوں میں سعودی عرب کی پیشکش پر وزیر اعظم نواز شریف اور آرمی چیف راحیل شریف نے خیر سگالی کے طور پر دونوں ممالک سعودی عرب اور ایران کا دورہ کیا وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ امت مسلمہ کا اتحاد وقت کی ضرورت ہے ۔ ہم خطہ میں امن چاہتے ہیں۔ اور یہی پاکستان کا کردار ہونا چاہئے یعنی ثالثی اور مصالحت کے لئے راہ ہموار کرنا۔ پاکستان کو کسی بھی فوجی اتحاد سے باہر رہنا چاہئے چونکہ آج بھی اس کی سرحدیں غیر محفوظ ہیں اور دشمن اور دہشت گرد وں میں ہمارا ملک گھرا ہؤا ہے ۔ پاکستان جنگ کی کیفیت سے دوچار ہے۔
جنوری 1981میں جب سعودی عرب میں تیسری اسلامی سربراہ کانفرنس منعقد ہوئی تو ایران نے اس کا بائیکاٹ کیا ۔ پھر چھ اسلامی ممالک کی امن کمیٹی قائم ہوئی جس میں پاکستان بھی شامل تھا ۔ گنی کے صدر کی قیادت میں اسلامی ممالک کے دورے کئے گئے اور آٹھ سال کی جدوجہد کے بعد ایران اور عراق کو قیام امن کے لئے تیار کیا گیا، جس کے بعد 1988میں اقوام متحدہ کی کوششوں سے جنگ بندی عمل میں آئی اور اس طرح پاکستان نے سکھ کا سانس لیا ۔ پھر 1999میں عراق نے کویت پر قبضہ کر لیا اس میں سعودی عرب کی کوشش تھی کہ عراق کے صدر صدام حسین دشمن اتحاد میں پاکستان کو شامل کیا جائے۔ اس وقت کے آرمی چیف اسلم بیگ کی صدام حسین کی طرف جھکاؤ کی وجہ سے خلیجی ممالک میں بد مزگی پیدا ہوئی ۔ 2003میں عراق پر امریکی اتحاد کے حملے کے کی وجہ سے پاکستان عرب دباؤ سے محفوظ رہا ۔پاکستان کا مؤقف تھا کہ وہ خود دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں الجھا ہؤا ہے۔ مارچ 2015میں سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے جب یمن پر حملہ کیا تو پاکستان پر اس جنگ میں شمولیت کے لئے دباؤ ڈالا گیا ۔لیکن پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے اپنے علاقائی حالات کے پیش نظر انکار کر دیا۔ فوجی قیادت کی طرف سے جمہوری حکومت کو کہا گیا کہ وہ قومی اسمبلی سے یمن کے بارے میں فیصلہ لے۔ جس پر قومی اسمبلی نے اتفاق رائے سے یہ فیصلہ دیا کہ پاکستان کو غیر جانبدار رہنا چاہئے۔
اسی طرح کی حکمت عملی پاکستان نے اب تک شام کے بحران میں اختیار کی ہوئی ہے جو کہ احسن اقدام ہیں۔پاکستان نے اگرچہ عرب و عجم کی لڑائی میں کسی فریق کا آج تک کھل کر ساتھ نہیں دیالیکن پاکستان کو اپنی اسلامی و علاقائی مروت کی یہ قیمت ادا کرنی پڑی کہ عرب و عجم پچھلے 35 سالوں سے ا پنی پراکسی لڑائی پاکستان میں لڑتے آرہے ہیں۔ آج پاکستان میں انتہا پسندی اور فرقہ واریت کا جو سیلاب آیا ہؤا ہے اس میں پاکستان کے دونوں روائتی اسلامی برادر ممالک برابر کے شریک ہیں ۔ ان دونوں ممالک کی طرف سے پاکستانی مدارس اور مذہبی تنظیموں کو بھاری امداد ملتی ہے جس کو پاکستان منی لانڈرنگ سے تشبیہ دیتا ہے۔ اس کی وجہ سے نیشنل ایکشن پلان بھی متأثر ہو رہا ہے ۔ اس تنازعہ میں پاکستان کو چاہئے ان دونوں ممالک سے اپنے تعلقات اچھے رکھے اور دونوں ممالک کو اس سرد جنگ سے جو اصل جنگ کا پیش خیمہ بنتی جارہی ہے ، سے دور رکھے۔ ورنہ پاکستان بھی اس کی لپیٹ میں آسکتا ہے ۔
پچھلی جنگوں کی وجہ تیل کی دولت تھی اور آج بھی یہی وجہ ہے ۔ سعودی عرب مغرب سے اربوں ڈالر کا فوجی ساز و سامان ٰخرید رہا ہے، جس پر سوالیہ نشان ہے۔ اس سال سعودی بجٹ خسارے میں جا رہا ہے او عوام کی ر کئی قسم کی مراعات ختم کردی گئی ہیں۔ عوام پر مزید ٹیکس کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بہت گر چکی ہیں جس کی وجہ سے سعودی عرب کو خسارہ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کے بالمقابل ایران پر سے تجارتی پابندیاں اٹھائے جانے کی وجہ سے ایران کی معیشت مستحکم اور عالمی منڈی میں اس کے تیل کی رسائی شروع ہوجائے گی۔ اس پر سعودی عرب کو تشویش لاحق ہے۔انہی حالات کے پیش نظر آئندہ کے حالات اس خطے میں حالات کا تعین کریں گے کہ یہاں امن قائم ہوتا ہے یا جنگ شروع ہوگی؟ تاہم عدل و انصاف کے نتیجے میں ہی اس خطے میں قیام امن ممکن ہے ۔