منکہ اصلی ادیب !
اصلی گھی اصلی ہوتا ہے اور نقلی گھی نقلی۔ یعنی بناسپتی۔
بھلے وقتوں کے سفید پوش یہ بناسپتی گھی تکیے کے غلافوں یا پٹ سن کے تھیلوں میں چھپا کر گھر لاتے تھے کہ کہیں کوئی دیکھ نہ لے۔
چھٹانک آدھ چھٹانک خالص گھی البتہ گھر میں ضرور رکھا جاتا کہ میرزا ظاہر دار بیگ کے ہاں اگر کوئی مہمان آ جائے تو دال پر اسکا بگھار لگا کر محلے میں چرچا کیا جا سکے۔
اوپر کی آمدن تو تھی نہیں اور نہ ہی فضل ربی کی ایسی برسات جو آج ہے۔ بیچارے مجبور تھے۔ کیا کرتے!
پھر کچھ پیشے ایسے بھی تھے ، ارذلوں کو جن سے دور ہی رکھا جاتا۔
تانگہ چلانے والے تانگے چلاتے۔ کمہار لوٹے بناتے۔ رنگساز رنگ کرتے اور مفت بر مصاحبت۔
اب ان کا شعر و ادب سے کیا تعلق !
یہ شوق تو امراء اور رؤسا کے تھے، یا انکے نک چڑھے استادوں کے۔
ایسے میں اگر کوئی کمہار لوہار یا تانگے والا شاعری کرنے لگتا تو خلقت تھو تھو کرتی، کہ کم بخت اشراف کی ریس کرتا ہے۔
بس سبھی اپنی جگہ خوش تھے اور لشتم پشتم زندگی گزارے جاتے تھے۔ پر برا ہو زمانے کا ۔ بدل گیا۔
اب چھوٹے چھوٹے لوگ اپنی حیثیت جانے بغیر شاعری کرنے لگے۔ کمہاروں نے چائنا کراکری کی دکانیں کھول لیں ۔ لوہار شیشے کے گھروں میں رہنے لگے۔ حجام ، ہیئر ڈریسر بن کرگنجے سروں پر لہراتے، شرافت کے اکا دکا بال کی کھال نکالنے لگے۔ تانگے والے تانگے چھوڑ، ٹیکسیاں چلاتے آگے نکل گئے۔ آگے کیا نکلے، ملک سے ہی نکل گئے۔ پیچھے رہ جانے والوں کی شرافت کے لباد ے تارہونے لگے تو وہ ان کے پیچھے چلتے چلتے حدود وقت سے ہی باہر نکل گئے۔ نئی چراگاہوں میں یہ ان ٹیکسی والوں کے تانگوں میں جُتنے لگے ، جنکی گردنوں پر کل تک یہ اپنا جوا رکھتے تھے۔
جب باہر نکل جانے والوں کے گھروں میں خوشحالی بھنگڑے ڈالنے لگی تو انہیں گزرے ہوئے زمانے اور چمن کی ڈالیوں پر جھولتے آشیانے یاد آنے لگے۔
طلسماتی چوکھٹوں پر وہ گم گشتہ آشیانوں میں بھاری بھرکم بلبلوں کو چہچہاتے دیکھتے تو انکی خواہش ہوتی کہ وہ بھی چہچہائیں۔ پر انہیں چہچہانا تو آتا ہی نہ تھا۔ کبھی چہچہاتے تو بھاری بھرکم بلبل ہنسنے لگتے، کہ کمبخت پشتنی بلبلوں کے منہ آتا ہے۔
پر کچھ زاغ ، کہ زمانہ شناس تھے اورنواب صاحب کی بٹیروں کو صف شکن بنانے کا گرجانتے تھے ، بلبلوں کے لبادے اوڑھ لمبی لمبی اڑانے بھرتے دور دیسوں میں جا پہنچنے اورفاختاؤں اور سونے کی چڑیوں کے انڈے کھانے لگے۔
انڈے کھا لیتے تو انہیں بلبلوں کی طرح چہچہانا سکھاتے۔ سونے کی چڑیاں ان سے سیکھے ہوئے راگوں میں چہچہاتیں توبھاری بھرکم بلبل منہ چھپا کر ہنسنے لگتے۔ انڈے کھانے والے استادوں سے شکایت کرتیں تو وہ تسلی دلاتے کہ یہی تو نئے لہجے کا چہچہانا ہے جو تمہیں منفرد بناتا ہے۔ کوئی جلتا ہے تو جلے۔
بس اب تو طوطے چڑیاں سبھی چہچہانے لگے۔ کوئی اس ڈال پر۔ کوئی اُس ڈال پر۔ کوئی اس لہجے میں ۔ کوئی اُس لہجے میں۔ اور بلبل تھے کہ ان کو دیکھ کر منہ چھپائے ہنسے ہی جاتے تھے۔
جب سونے کے انڈوں کے ڈھیر اونچے ہونے لگے، تو انڈے کھانے والوں کی آبادی بڑھنے لگی۔ ان کی آبادی بڑھی تو انڈوں کی قلت ہو گئی ۔ تب یہ آپس میں لڑنے بھڑنے لگے۔ دور دیشوں کی سیر کیلئے طاقت پرواز تو سبھی کو چاہیئے تھی۔ اور یہ طاقت ملتی صرف سونے کے انڈوں سے ہی تھی۔ سو ، زاغوں کے لبادوں میں لپٹے بلبلوں میں ٹھن گئی۔ اصلی بلبل بیچارے ایک کونے میں بیٹھے پھڑپھڑاتے ہی رہ گئے۔
چلیئے چھوڑیئے اس فضول سی توتا کہانی کو۔ آئیے چلتے ہیں ملک صاحب کی نئی کتاب کی تقریب رونمائی میں ۔
ملک صاحب کو کون نہیں جانتا۔ لاکھوں میں کھیلتے ہیں۔ شہر کی معروف سماجی، کاروباری اور سیاسی شخصیت ہیں اور اب پچھلے چند برسوں سے مشہور ادبی شخصیت بھی۔ اب تک شاعری کے تین اور تجریدی افسانوں کے دو مجموعے شائع کروا چکے ہیں۔ برسوں سے دیار غیر میں مقیم ہیں اور وطن کا گہرا درد رکھتے ہیں۔ وطن سے آپ کی اس بے پایاں محبت کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ملک کے دو عظیم شاعر، ادیب، کالم نگار اور صحافی مع اہل و عیال ، ملک صاحب کی دعوت پر یوروپ تشریف لائے ہیں۔
ایک کی کمر کا مسئلہ تھا۔ دوسرے کے کولہے میں کچھ تکلیف۔ سو ملک صاحب نے بکمال مہربانی دونوں کو مع اہل وعیال بزنس کلاس کے ٹکٹ پیش کردیئے تھے۔ کچھ نذرانے اور ہدیے کی بشارت بھی دی تھی۔
پس دونوں اپنی بے پناہ مصروفیات میں سے وقت نکال کر صرف اردو کی خدمت اورملک صاحب کی محبت میں یہاں تشریف لائے ہیں۔ کچھ ملک صاحب کی اہلیہ یعنی بھابی جان کا اصرار بھی تھا۔
اب اردو کے ایسے بے لوث خدمتگاروں کے بیچ ہمارا کیا کام۔ انہیں باتیں کرنے دیں۔ ہم چائے پیتے ہیں۔
یار وہ جو جہاز پر لطیفہ سنایا تھا۔ ذرا پھر تو سنانا۔ میں انجن کے شور میں پوری طرح سن نہیں سکا۔
-- اوئے چھڈ لطیفے۔ دو چار تگڑی اسامیاں موجود ہیں۔ انہیں قابو کریں۔
-- دیکھ اب اس دفعہ ڈنڈی نہ ماریں۔ اچھی اسامیاں تو خود لے جاتا ہے۔ ہمیں صرف جھونگے پر ہی ٹر خا دیتا ہے۔
-- کیوں ! پچھلی دفعہ راجہ صاحب نہیں دیئے تھے تجھے۔ ’’ حلال گوشت کنگ ‘‘ مانے جاتے ہیں۔ دو سال پہلے ہی شاعر بنے ہیں۔ اب تو مشاعرے بھی کروانے لگے ہیں۔ سنا ہے یہاں کی سب سے بڑی سلاٹری بھی خرید لی ہے انہوں نے۔ پیسہ ہی پیسہ ہے۔
-- وہ تو ٹھیک ہے۔ لیکن ہاتھ ذرا سخت رکھتے ہیں۔ فی غزل جو رقم طے ہوئی تھی، اتنی تو میں آزاد نظم کی بھی نہیں لیتا۔ حالانکہ میں نے اپنے کالموں میں ان کے گھر، گاڑی حسب نسب ، بیوی کے بنائے ہوئے بدمزہ کھانوں اور جاہل اولاد کا ذکر بھی بڑی محبت سے کر دیا تھا۔
-- پھر تونے سودا ہی کیوں کیا۔
-- یار مجبوری تھی۔ تجھے پتہ تو ہے نیا مکان بنوا رہا ہوں۔
-- آگے ٹھیکہ کس کو دیا تھا۔
-- یار اسی بیچارے ’’ اداس بنجاروی ‘‘ کو۔ ایک تہائی سے زیادہ تو وہ لے گیا۔
-- ہاں شاعر تو اچھا ہے۔ ویسے بھی ضرورتمند ہے۔ تین بہنوں کی شادی کرنی ہے اس نے۔ روزگار وغیرہ کچھ ہے نہیں۔ بہرحال فکر نہ کر۔ اب اس سلاٹری کنگ کے منہ کوخون لگ گیا ہے۔ اگلا دیوان لکھوانے آئے تو کسر نکال لینا۔ کہیں نہیں جاتا اب یہ۔
-- لیکن اب تو اور بہت سے ’’اصلی ادیب شاعر ‘‘ ادھر آنے لگے ہیں۔ کچھ مارکیٹ ان کے قبضے میں بھی تو جا سکتی ہے۔
-- تو فکر ہی نہ کر۔ یہ سیکٹر ہمارا ہے۔ انہوں نے ادھر آکر ہاتھ مارنے کی کوشش کی تو ہم ادھر جا کر ان کی ساری مارکیٹ پر قبضہ کر لیں گے۔ جانتے ہیں وہ یہ بات ۔
-- اچھا وہ خاتون دیکھ رہا ہے لمبی سی۔ جس نے جین اور ٹینس شوز پہن رکھے ہیں۔ اوس تخلص کرتی ہے۔۔ اس کے ساتھ جو ناٹا کھڑا ہے گپلو مپلو سا۔ اسکا شوہر ہے۔ فروزن فوڈ کا کاروبار ہے ان کا۔ بہت بڑا بزنس ہے۔ دونوں ہی آگے پیچھے شاعر بنے ہیں۔ پچھلے سال میرے پاس آئی تھی اپنی انقلابی نظمیں لے کر۔ اصلاح کے لئے۔
-- کیسی تھیں۔
-- تیرا کیا خیال ہے کیسی ہوں گی۔ میں نے کہا بی بی اس میں قافیہ ردیف وزن وغیرہ تو ہے نہیں، اورتم کہنا کیا چاہتی ہو۔ یہ بھی میری سمجھ میں نہیں آ رہا۔
-- پھر ناراض ہوئی ہو گی۔
-- نہیں۔ کہنے لگی اب مجھے کاروبار سے اتنی فرصت ہی کہاں ملتی ہے کہ وزن کرتی پھروں۔ آپ اتنے بڑے رائٹر ہیں ۔ اس میں یہ جو قافیہ ردیف وزن وغیرہ ہوتا ہے ، ڈال دیں ناں۔ خرچے کی پرواہ نہ کریں۔ جو بھی ہؤا ، دے دوں گی۔
-- پھر تو نے خو ب مال پانی بنایا ہو گا۔
-- چل اب تو بنا لے۔ دوسرا مجموعہ بھی تیار کر چکی ہے۔ اب تو بڑی بڑی ادبی کانفرنسوں میں بھی جانے لگی ہے۔ دیکھ ادھر ہی آ رہی ہے۔ ضرور اصلاح کی بات کرے گی۔ فوراٌ ہی ہاں نہ کر دینا۔ ورنہ بندہ تھلے لگ جاتا ہے۔
-- اوہ ! میرے استاد مکرم یہاں چھپے ہوئے ہیں۔ اور میں آپ کو ادھر لان میں ڈھونڈ رہی تھی۔
-- ارے اوس بی بی ! بڑی عمر ہے تمہاری۔ انہیں تو تم جانتی ہو گی۔ ملک کے بہت بڑے شاعر، ادیب، کالم نگار، مفکر، دانشور اور نجانے کیا کیا ہیں۔ ان سے میں تمہارا ہی ذکر کر رہا تھا۔ میں انہیں بتا رہا تھا کہ کیا کمال کی شاعری کرتی ہے ہماری اوس۔ بالکل نیا لہجہ۔ بہت مختصر عرصے میں اپنی حیثیت منوا لی ہے اس نے۔
-- انہیں کون نہیں جانتا استاد جی۔ جیسے تصویر میں نظر آتے ہیں۔ بالکل ویسے ہی گنجے۔ میں تو ان کی بہت بڑی فین ہوں۔ اچھا استاد جی وہ نئی کتاب تیار ہے۔ اصلاح کا انتظار کر رہی ہے۔ چاہتی ہوں اگلی بین الاقوامی کانفرنس سے پہلے ہی چھپ کر تیار ہو جائے۔
-- دیکھو اوس بی بی ! میرے پاس تو ان دنوں وقت ہے نہیں۔ ان سے بات کر لو اگر مان جائیں تو۔
-- آپ کیا ناراض ہیں۔ میں نے تو کہا تھا خرچے کی پرواہ نہ کریں۔ اب بھی جتنا اٹھے گا دوں گی۔
-- نہیں یہ بات نہیں۔ یہ اصلاح دیں گے تو تمہارے کلام میں ایک اور لہجہ شامل ہو جائے گا۔ خرچے کی بات تم خود کر لو۔
ایسے میں نجانے میزبانوں کو کیسے پتہ چل گیا کہ ہم وہاں بن بلائے موجود تھے اور چوری چوری مہمانوں کی باتیں سن رہے تھے۔
فوراٌ ہی دو ہٹے کٹے باکسرز نے اٹھا کرہمیں عمارت سے باہر پھینک دیا۔ شکر ہے چھترول نہیں ہوئی۔
تو صاحبو ! اس لئے ہم یہ تو نہیں جانتے کہ معاملہ کتنے پر طے ہؤا۔ ہاں دوسرے دانشور صاحب کا مکان وقت سے پہلے ضرور مکمل ہو گیا۔