نیویارک ۔ نیویارک

نیویارک ، نیویارک کے باسی نیویارک کے تیوروں سے آشنا ہیں لیکن انہیں بھول جانے کی عادت بھی ہے۔ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ یہاں موسم کیا کیا کرشمے دکھاتا ہے۔ کیا کیا ادائیں دکھاتا ہے۔ ہمارے دوست احمد فراز کا ایک شعر یاد آ رہا ہے:

یوں ہی موسم کی ادا دیکھ کے یاد آتا ہے
کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جاناں
(یہ شعر نیویارک کے موسم کی ادا اور نیویارک کے باسیوں دونوں پر صادق آتا ہے)
 
امریکہ میں نیویارک سٹی کو دو بار نیویارک ، نیویارک لکھتے ہیں تا کہ سند رہے اور مسافروں کے کام آئے۔ اب سوال یہ ہے کہ نیویارک کو کون نہیں جانتا۔ جب ہم کوئیل یونیورسٹی میں تھے تو اپنے اپ کو اذیت میں مبتلا کر کے چند ڈالر پس انداز کرتے تھے تا کہ نیویارک جانے کا سبب بن جائے۔ ہماری یونیورسٹی بس سیدھی ٹائمز اسکوائر جاتی تھی۔ جو ہمارے رت جگے کا بسیرا تھا۔ ہمارا تجربہ ہے کہ نیویارک میں رہنے والے سارے کے سارے لوگ نیویارک پر نثار ہیں۔ کوئی بھی نیویارک بیزار نہیں، چاہے جس اذیت سے بھی گزریں۔ یہ شہر ہنگام ہے۔ سڑکیں اژدہام ہیں۔ دن مصروف کار ہیں۔ راتیں سرشار ہیں۔ یہ وہ شہر ہے جو دن رات جاگتا رہتا ہے۔ اندھیرے اجالے، سورج ستاروں میں تفریق نہیں۔ فرینک سناترا یہاں آ کر گایا کرتا تھا:
 
I want to wake up in the city that never sleeps 
 ”میں اس شہر میں جاگنا چاہتا ہوں جو کبھی نہیں سوتا“
 
ہم نیویارک کے موسم کو خبروں کے بعد پرکھ رہے تھے کہ عتیق جان کا سندیسہ آیا جو عجیب الخلقت تھا۔ ”فلاں دن ، فلاں وقت ، فلاں ائر پورٹ پر آپ کا منتظر ہوں گا“۔ ان کے تکلم میں ایسی کشش تھی کہ انکار کرنا گناہ کبیرہ کی سرحدوں کو چھوتا نظر آتا تھا۔ ہمارے سامنے صرف ایک ہی راہ تھی کہ ”لائن لگاﺅ، ٹکٹ کٹاﺅ، عتیق کے گھر جاﺅ“۔ عمل درآمد ہؤا، ہوائی جہاز بدلے، ائر پورٹ بدلے، آسماں بدلے ، بادلوں کے سمندر بدلے ، میلوں کا سفر کیا، لیکن کسی بھی ائر پورٹ پر مسافروں کے تیور بدلتے نہ دیکھے۔ بالآخر ”شہر دیدہ بے خواب“ کے قریب Scrontou کے ائر پورٹ پر اترے۔
 
یہ مضافاتی ائر پورٹ ہے۔ کبھی کبھی کوئی بھولی بھٹکی فلائٹ آ جاتی ہے تو ائر پورٹ جاگ اٹھتا ہے۔ ورنہ نیویارک کے دوسرے ہوائی اڈوں کے برعکس سویا رہتا ہے۔ ہم سرعت سے راہداری پر رواں تھے اور سامان اٹھائے والی عمارت پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ جہاں ہماری پراشتیاق نظریں عتیق جان کو ڈھونڈ رہی تھیں۔ کون اس یخ بستہ رات کے پچھلے پہر برستی برف میں ائر پورٹ آئے۔ اس وقت تو مے خانوں کے در بھی بند ہو چکے ہوں گے۔ لیکن ایک کونے میں ہمیں دو ٹھٹھرے ہوئے انسانی مجسمے نظر آئے جو لاتعلق ایستادہ تھے۔ یوں لگتا تھا وہ ازبکستان کے باسی ہوں۔ سر سے پاﺅں تک بھاری چادروں میں ڈھانپے ہوئے۔ اونچی ٹوپی کو کانوں کے اوپر کھینچے ہوئے۔ اس جبہ و دستار سے ایک دستانے والا ہاتھ رونما ہوا۔ ہاتھ لہرایا۔ یہ عتیق جان اور ناصر علی سید تھے۔ دھڑلے سے پشاوری لگے۔ کہنے لگے۔ ” ٹوپی ہے، دستانے ہیں، مفلر ہے۔ کیونکہ باہر کا موسم اس وقت جدا ہے“۔ 
 
پہلا سوال جو کیا گیا وہ تھا: آپ نے ناصر علی سید کو مولانا کہنا کیوں شروع کر دیا ہے۔
ہم نے عرض کی اس بدعت کی بنیاد ہم نے نہیں بلکہ اس بدعت کی بنیاد پشاور سے چلی ہے۔ ان کے شاگردان عزیز انہیں استاد محترم کہتے ہیں۔ تو ہم نہ تو ان کے شاگرد تھے۔ اور نہ ہی وہ ہمارے استاد محترم تھے اس لئے ہم نے میانہ روی اختیار کرتے ہوئے انہیں ”مولانا “ کہنا شروع کر دیا ہے تا کہ احترام اور محبت کی چلمن درمیان میں ٹکی رہے۔
 
ہم نے معذرت چاہی کہ وہ دیر سے ہمارے انتظار میں یخ بستہ سردی میں ایستادہ رہے۔ اس کی وجہ جہازی راہ میں تانے بانے تھے۔ عتیق جان جلد بول اٹھے: آپ تو تانوں بانوں میں بے خطر کود پڑتے ہیں۔ ہم نے استاد ذوق کا سہارا لیا:
کہے کیا ہائے زخم دل ہمارا
دہن پا یا لب گویا نہ پایا
 
ہم نے سوچا دیر تک سوئیں گے۔ لیکن ایسا نہ ہؤا۔ صبح صبح عتیق خان کی SUV نیویارک کی جل تھل پر رواں تھی۔ جہاں ایشیا ٹربیون ٹی وی پر ہمارے انٹرویو بزبان اردو اور بزبان پشتورکھے گئے تھے۔ یہ تو ہم جانتے تھے کہ مولانا پشتو کے ہی استاد محترم ہیں۔ لیکن عتیق خان زبان پشتو کے ماسٹر آف سرمیونی کے تعارف نے حیران کر دیا۔ دل عش عش کر اٹھا۔ کیا تکلم ، کیا لہجہ ، کیا ادائیگی۔ اس انٹرویو میں ڈھیروں باتیں ہوئیں، ڈھیروں باتیں کیں۔ باہمی زاویہ پر تبادلہ خیال ہؤا۔ مولانا نے اور ہم نے ایک غزل اور ایک نظم سنائی۔ محفل برخاست ہوئی اور پھر ہم اور وہی جل تھل نیویارک کی دشمن جاں سڑکیں۔ اب ہم نیوجرسی سے نیویارک سٹی بلکہ نیویارک کے دل جیکسن ہائٹس کی طرف رواں تھے۔ جہاں ڈاکٹر شفیق صاحب سے ملاقات طے تھی۔ عتیق جان تسلی اور اعتماد سے جادہ پیما تھے۔ کہا جاتا ہے کہ جب وہ نیویارک سٹی میں تھے تو شہر کے ٹیکسی ڈرائیور ان سے آ کر سبق لیتے تھے۔ وہ نیویارک سٹی کی راہوں سے اتنے ہی آشنا تھے جتنے اپنے ڈرائنگ روم سے۔
 
ڈاکٹر شفیق جیکسن ہائٹس کے پاکستانی ریسٹورنٹ میں مریدوں کے درمیان حلقہ بگوش تھے۔ ان کے گرد سارے پاکستانی نیویارکر تھے۔ ایک سے ایک باخبر۔ ایک سے ایک نکتہ دان۔ ایک سے ایک ہفت زبان۔ نظم ، غزل ، افسانے ، مشاعروں کے شیفتہ خواں۔ گفتگو کے شیریں اور طعام لذیذ کے ساتھ سماں باندھ دیا۔ گفتگو ادب سے نکل کر شخصیات پر آئی۔ پھر ”شخصیت ناپسندیدہ“ کی سمت پھسل گئی۔
 
ڈاکٹر شفیق بولتے رہے ہم ان ہونی سنتے رہے۔ جو ان پہ گزری اس سے ہم لاعلم تھے۔ لیکن بار بار ذہن میں یہ بات آئی کہ ایک شخص اپنے آپ کو راندہ بنانے کی کمال مہارت رکھتا ہے۔ گفتگو جاری رہی۔ درمیان میں پاکستانی نیویارکر پھلجھڑی چھوڑ دیتے۔ محفل چمک اٹھتی۔ ایک محترم بولے: ڈاکٹر شفیق بڑے بھولے ہیں۔ جب ایسے لوگوں کو بلا لیتے ہیں تو ان کو اپنا یہ شعر بھول جاتا ہے:
معمار آشیاں کے لئے ایک شرط ہے
معمار کوئی صاحب کردار دیکھتا
 
لیکن ڈاکٹر شفیق جو کہہ رہے تھے سچ کہہ رہے تھے۔
(باقی اگلی ملاقات پر)