مونگ پھلی والا

چھوٹے قصبات اور دیہات کی زندگی، بڑے شہروں سے بہت مختلف ہوتی ہے۔ وہاں ایک دوسرے سے شناسائی زندگی کا خوبصورت ترین پہلو ہے۔ بڑے شہروں میں رہنے والے ایسی کئی قدروں سے آگاہ ہی نہیں جو چھوٹے قصبات اور دیہات کی زندگی کا بنیادی حصہ ہیں۔

بڑے شہر کے باسی ان لوگوں سے بھی آگاہ نہیں ہوتے جن سے ان کا روز کا واسطہ ہوتا ہے۔ رویے میں لاتعلقی کا عنصر بڑے شہر کے باسیوں میں باعث فخر سمجھا جاتا ہے۔  ہم روز مرہ زندگی میں کئی لوگوں سے متواتر ملتے ہیں، لیکن ان سے تعلق، تعارف قائم نہ کرنا ایک عادت ہے، جب کہ چھوٹے دیہات، قصبات یا چھوٹے شہروں میں یہ ممکن نہیں۔ مجھے ایک چھوٹے شہر میں رہنے کا بھی تجربہ رہا ہے۔ یہ شہر جب ایک لاکھ کی آبادی سے بھی کم تھا، لوگ ایک دوسرے کو نہ صرف جانتے تھے، بلکہ ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت کرنا بھی حق سمجھتے تھے۔ آج یہ شہر (سرگودھا) بھی لاکھوں کی آبادی کا شہر بن گیا اور لوگ تقسیم ہو گئے، ہجوم میں خلیج پیدا ہو گئی۔ یہ ہے وہ فرق جو بڑے شہروں کی زندگی میں ہوتا ہے۔ مجھے یاد ہے اسّی کی دہائی میں، میں ذوالفقار علی بھٹو کے خاندان کے Roots جاننے کے لئے ہریانہ کے ایک گاؤں میں داخل ہؤا تو سارے گاؤں کی نگاہیں اس اجنبی پر تھیں جو گاؤں میں نووارد تھا۔ ایسے ہی یورپی زندگی جس کو ہم مغربیت قرار دے کر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہاں نفسانفسی کا ہی عالم ہو گا، وہاں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ اپنے فرانسیسی اور ہسپانوی دوستوں کا جب فرانس اور سپین کے دیہات میں مہمان ہونے کا تجربہ ہؤا تو اسی صورتِ حال کا سامنا ہؤا جو مشرق میں، یعنی گاؤں میں وارد ہونے والے کے بارے میں تجسس۔

کیا کبھی ہم نے اپنے شہر لاہور میں داخل ہونے والے عارضی لوگوں کے اندر جھانکنے کی کوشش کی ہے یا کبھی یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ یہ پردیسی کون تھا۔ کبھی میں ان خانہ بدوشوں پر تفصیل سے لکھوں گا جو صدیوں سے ایک مخصوص Route پر چلتے آئے ہیں، حتیٰ کہ ان کے صدیوں پرانے راستوں پر لاہور کی جدید آبادیاں قائم ہو گئیں۔ دھرتی کے اصل مالک ان خانہ بدوشوں سے کہیں ہم Invaders جیسا برتاؤ تو نہیں کرتے۔ لیکن ہمارے شہر لاہور میں موسم سرما کے آغاز میں ایسے سینکڑوں لوگوں کی آمد ہوتی ہے جو ہماری موسم سرما کی زندگی میں نہایت اہم کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ لوگ اس پُرہجوم شہر میں آتے ہیں تو مجھے لگتا ہے سردی کے خوبصورت دنوں، خصوصاً خوبصورت راتوں کا احساس  ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ کبھی غور کریں ہر سال کی نومبر کی 2 تاریخ کو شہر کے کونے کونے، ہر گلی، ہر محلے میں مونگ پھلی فروش پھیل جاتے ہیں۔ یہ سب مونگ پھلی فروش جنت نظیر کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں، خصوصاً کشمیر کے ضلع باغ سے۔ پہلے یہ مونگ پھلی فروش یعنی بھنائی مونگ پھلی ریڑھیوں پر فروخت کرتے تھے۔ چند برسوں سے انہوں نے موقع پر بھوننے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ ان مونگ پھلی فروشوں نے ڈرائی فروٹ کے روایتی خوشحال دکانداروں کی اجارہ داری بھی ختم کر دی ہے۔ یہ آپ کو آپ کے گلی محلے میں سستی اور لذیذ مونگ پھلی فراہم کررہے ہیں۔ ان کا انداز نہایت پروفیشنل ہے۔ سال کی ایک مخصوص تاریخ 2نومبر کو آمد اور فروری کے وسط میں یہ واپس اپنے علاقوں میں چلے جاتے ہیں۔

ان کے ہاں گرم اور تازہ مونگ پھلی کی تین اقسام عام دستیاب ہیں۔ جن میں سرفہرست گوجر خان، چکوال نامی اور ایک تین دانوں والی شمالی علاقہ جات کی مونگ پھلی شامل ہیں۔ سردی کے موسم کی آمد کا اشارہ مجھے ان کی آمد سے ہوتا ہے اور ان کی روانگی مجھے اداس بھی کر دیتی ہے۔ گو ان پردیسیوں کی روانگی کے بعد موسم بہار کاآغاز ہو جاتا ہے، لیکن بہار کا عارضی موسم اور اس کے بعد طویل شدت انگیز گرمی کا خوف مجھ پر مسلط ہو جاتا ہے۔ ان مونگ پھلی فروشوں کے ساتھ میں ویسے ہی دوستی اور تعلق قائم کرتا ہوں جیسے دیہات کا کوئی شخص۔

مونگ پھلی فروشی عالمی سیاست میں اس وقت بڑی نمایاں رہی جب ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے انتالیسویں صدر جمی کارٹر کے زمانے میں افغانستان میں امریکی مداخلت کا آغاز ہؤا۔ جمی کارٹر کا خاندان دہائیوں سے امریکی ریاست جارجیا میں کپاس کے کاشت کار کے طور پر جانا جاتا تھا۔ ان کے والد اپنے گاؤں میں ایک چھوٹا سا جنرل سٹور چلاتے تھے، جب پیسے جمع ہو گئے تو کاشت کاری میں سرمایہ کاری شروع کر دی۔ جمی کارٹر سیاہ فام لوگوں  کے اکثریتی دیہات میں پلے بڑھے جو سب کے سب کاشتکار تھے۔ اپنے والد کے 360 ایکڑ رقبے میں جمی کارٹر کے والد نے ایک جدید مونگ پھلی کا فارم قائم کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جمی کارٹر کی سیاست میں پہچان ایک مونگ پھلی فروش کے طورپر ہوئی۔ اپنی صدارتی انتخابی مہم میں انہوں نے اس کو ایک شناخت کے طور پر استعمال کیا، جب کہ انہوں نے اپنی انتخابی مہم میں اس نکتہ کو تلاش کرکے فوکس کیا کہ تیسرے امریکی صدرتھامس جیفرسن جو بنیادی طور پر Botanist تھے۔ انہوں نے مونگ پھلی کی کاشت کاری کرکے شہرت حاصل کی۔

تحقیق کے مطابق، مونگ پھلی کا بیج ساڑھے سات ہزارسال پرانا ہے اور اس کی کاشت کاری کے قدیم آثار جنوبی امریکہ کے ممالک سے ملے ہیں۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کو عربی میں فستق عبید (نیگرو/ افریقی نٹ) کہتے ہیں، یعنی افریقیوں کا خشک پستہ۔ اسی طرح امریکہ میں بھی، چوں کہ گورے نو آبادی افریقہ خصوصاً کانگو کے ملک سے جن لوگوں کو اپنے ہاں غلام بنا کر لائے تھے، وہ مونگ پھلی اپنے ساتھ لائے، اس لئے اس کو امریکی سفید فاموں نے Nguba کا نام دیا۔ عالمی سیاست میں افغانستان میں امریکی مداخلت کے وقت جمی کارٹر امریکہ کے صدر تھے۔ انہوں نے افغانستان میں مداخلت کے وقت جب صلے کے طورپر چند ملین ڈالرز کی امداد بھیجی تو پاکستان نے اسے مونگ پھلی  قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔ اگر ان دنوں کے اخبارات دیکھیں تو معلوم ہو گا کہ پاکستان نے کیسے امریکی مونگ پھلی فروش صدر جمی کارٹر کی امداد کومونگ پھلی قرار دیا تھا۔