مغرب کی ترکی دشمن پالیسیاں

سلطان  عبدالحمید خان ثانی، سلطنت عثمانی کےآخری  عہد کے قابل، باصلاحیت، نڈر اور ایک خارجہ  پالیسی  اور وژن رکھنے والے واحد بادشاہ تھے۔ جب  عبدالحمید خان ثانی 31 اگست 1876ء میں تخت  پرفائز ہوئے تو اُس وقت ملک مختلف اندرونی مسائل، بیرونی مداخلت اور عثمانی ارکان حکومت کی باہمی چپقلشوں میں گرفتار تھا۔  عبد الحمید خان نے ابھی عنان اقتدار ہاتھ میں تھامی بھی  نہیں تھی کہ روس نے ترک فوج کو کمزور دیکھ کر برطانیہ اور آسٹریا ۔ ہنگری ایمپائر کی درپردہ تائید سے ترکی کے بلقانی مقبوضات پر حملہ کیا اور ترکی اور روس کی جنگ شروع ہوئی۔

جیسا کہ وہ عثمانی مآخذ میں یاد کئے جاتے ہیں وہ امیرالمؤمنین، امام المسلمین، خلیفۂ رسول الثقلین، خادم الحرمین الشریفین، ظل اللہ فی عالم وبادشاہ اُمم، شوکت رکھنے والے، قدرت نصاب، مرحمت انتساب، السلطان ابن السلطان ابن السلطان السلطان الغازی عبدالحمید خان ثانی تھے۔ مگر اِس کے باوجود وہ ترک تاریخ کی متنازعہ ہستیوں میں سے ایک تھے۔ کیوں کہ مختلف گروہوں کی اپنی اپنی رائے اور مطمح نظر کے مطابق ایک جانب  وہ ترکی اور عالم اسلام کے مختلف خطّوں میں اسلام کے علم بردار، اتحاد بین المسلمین کے حامی، مسلمانان اسلام کے محافظ اور سردار جنگ اور خلفیہ تھے تو دوسری جانب وہ مستبد، غدار، حقوق انسانی کے قاتل، مفاد پرست اور عیسائیت دشمن ترک سلطان!!!

سلطان عبدالحمید خان ثانی کے بارے میں یہ جو متضاد افکار اور خیالات کا تصادم ہے وہ ترکی میں بھی سیکولر اور مذہبی طبقوں کے مابین ایک رسہ کشی کی صورت میں جاری رہا۔ کیوں کہ دونوں فریقین تاریخی واقعات اور علمی شعور کو ایک طرف کرکے صرف اپنی سیاسی اور سماجی آرا اور مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے عبدالحمید خان کو اپنا وسیلہ بنانے میں لگے ہوئے تھے۔ ایک طرف مذہب سے لگاؤ رکھنے والے لوگ تھے جو ترکی کے آخری بااقتدار اور باصلاحیت سلطان اور خلیفہ عبدالحمید کو اپنا پرچم بنائے پھرتے تھے تو دوسری طرف سیکولر لوگ تھے جو انور پاشا اور طلعت پاشا اور اُن کی پارٹی اتحاد و ترقی جن کو وہ سیکولرازم کے علم بردار سمجھتے تھے، کو اپنی تلوار اور عبدالحمید ثانی کو اسلام اور مذہب کی ڈھال کی حیثیت سے دیکھتے تھے۔ ویسے بھی انگریز اور تمام مغربی مصنفوں کا کہنا بھی یہی تھا ۔ نتیجتاً ہوا یہ کہ عبدالحمید خان ثانی کی حقیقی شخصیت، اصلی کردار، سیاسی اور سماجی یہاں تک کہ ملک کے نظم و نسق سے متعلق اُن کی سرگرمیوں پر ایک کالا کہرا چھایا رہا اور چوں کہ ترکی میں سیکولرازم کے حامیوں کا دور دورہ تھا لہٰذا ہمیں سالوں تک یہ سکھایا گیا کہ عبدالحمید ثانی ایک مستبد اور ظالم سلطان تھے بلکہ جیسا کہ انگریز کہتے تھے عبدالحمید خان کے ہاتھوں سے مظلوم عیسائیوں کا خون ٹپکتا تھا اور وہ  ایک ''سرخ سلطان'' تھے۔ سو عبدالحمید خان کے بارے میں کوئی اگر کچھ کہے، خواہ وہ دانش ور یا تحقیق کار ہی کیوں نہ ہو، سیکولرازم کا مخالف سمجھاجاتا تھا۔ در اصل اِس موضوع کا نہ مذہبیت سے، نہ ہی سیکولرازم سے کوئی تعلق تھا اورمعاملہ اقتدار کی لگام سنبھالنے اور ملک کی سیاست پرحاوی ہونے کا تھا۔

بہرکیف آخری پندرہ بیس سالوں سے ترکی میں تحقیقی اور تدقیقی میدان میں جو وسعت پیدا ہوئی اور اِس دوران عبدالحمید ثانی پر کی ہوئی تحقیقی کاوشوں میں اضافہ ہؤا تو پہلے علمی دنیا کو اور پھر تمام رائے عامہ کو یہ علم ہؤا کہ عبدالحمید ثانی کے خلاف لکھی جانے والی تحریروں اور پیدا کئے جانے والے منفی تصورات کے برعکس وہ اپنے ملک اور قوم سے محبت کرنے والے اور سلطنت عثمانیہ کو منہدم ہونے سے بچانے کی دن رات کوشش کرنے والے اور اتحاد اسلامی کے دلدادہ ''بااقتدار اور باصلاحیت'' حکمران تھے۔ ظاہر ہے کہ جس طرح سے آج کی استعماری طاقتوں سے برداشت نہیں ہو سکتا ہے، اُس وقت بھی مغربی طاقتیں بالخصوص اُس زمانے کے سپرپاور برطانیہ، فرانس اورروس سے اسلامی دنیا میں ایک ''بااقتداراور باصلاحیت'' حکمران کا سر بلند ہونا برداشت نہیں ہوسکتا تھا۔  کیوں کہ یہ اُن کے عزائم میں رکاوٹ پیدا کرتا تھا۔ واقعتاً مغربی طاقتیں جو سلطنت عثمانی کو یعنی عالم اسلامی کے آخری آزاد حصّے کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے نگلنے میں مصروف تھیں، اُن کے حلق میں عبدالحمید خان ثانی کا دَورِ اقتدار ایک کانٹے کی طرح تھا۔ پھر برطانیہ کی سرکردگی میں مغربی میڈیا میں عبدالحمید خان کے خلاف پروپیگنڈا کا طوفان اُمڈنے لگا۔ مغربی اخباروں اور کارٹونز میں کبھی وہ منہ میں خون ٹپکتی چُھری پکڑے ایک قصائی کی صورت میں اور کبھی عزرائیل کو گلے لگائے ایک دوست کی صورت میں دکھائی دیتے تھے۔

اِس منفی پروپیگنڈا کے اثرات اتنے گہرے تھے کہ نہ صرف ملک سے باہر بلکہ ملک کے اندر بھی اپنے آپ کو آزادی پسند اور سیکولر کہنے اور سمجھنے والے لوگ تاریخی حقیقتوں کو مد نظر رکھے بغیر اور مغربی مصنفوں کی جانب دارانہ اور الزامات پر مشتمل تحریروں پر یقین کرکے من و عن اِس پروپیگنڈا کے بہاؤ میں آ گئے۔ درحقیقت اتحاد و ترقی پارٹی کے طرف داروں اور اُن مغربی طاقتوں کے منفی پروپیگنڈا نے اُن کے خلاف اِس قدر زبردست مہم چلائی تھی کہ اُن کے اثرات نے ابھی تک تاریخ کے مطلع کو ابرآلود رکھا ہؤا تھا۔ دس پندرہ سال سے اُن کے اور اُن کے عہد کے بارے میں جوغیرجانب دارانہ تحقیقات جاری ہیں اُن کے ذریعے یہ مطلع صاف ہونے لگا ہے کہ اُنہوں نے کیا عظیم الشان سیاست کی تھی اور اپنے ملک و ملت کو تمام خطرات سے محفوظ رکھا تھا اور اتحادِ اسلام کے لئے کیا کیا کوششیں کی تھیں۔

اب سوچئے کہ ایک سلطان جو برسر اقتدار آتے ہی، نہ چاہنے کے باوجود  12 اپریل 1877 میں معروف مدحت پاشا، داماد محمود پاشا، ردیف پاشا کے اصرار سے اپنی سخت مخالفت کے باوجود روس کے خلاف جنگ کا اعلان کرنے پر مجبور ہو، جس کے نتیجے میں مشرق میں ارض روم تک اور مغرب میں بلغاریہ سے استنبول کے نزدیک تک روسی فوج پہنچی تھی اور آخرکار سربیا، بلغاریہ، رومانیہ کو آزادی اور بوسنیا اور البانیہ کو نیم خودمختاری دی گئی۔ اُسی سلطان نے اِس دردناک شکست کے بعد اپنی فوج اور ملک کو سنبھال کر اپنی زیرک اور دُور اندیش پالیسیوں کے ذریعے آرمینین قوم پرستوں کی ترکی کے مختلف علاقوں میں بغاوتوں، (جن کی پشت پناہی یورپ کی عظیم طاقتیں جن میں بالخصوص برطانیہ موجود تھا) کی آگ کو بجھا دیا تھا ۔ پھر یونان کی طرف سے عثمانی سرحدوں پر اچانک حملہ ہؤا تو اُن کی دُور اندیشی اور قابلیت کی بنا پر یونانیوں کو شکست دی گئی۔ اُنہوں نے اِس طرح سے انتظامی اور اصلاحی تدابیر کی تھیں کہ اُن کے عہد حکومت کے خاتمے یعنی تینتیس سال تک عثمانی سلطنت کو محفوظ رکھا اور اُسے نئی شکست سے بچایا۔

اتحاد و ترقی پارٹی، یورپ سے مدد لے کر اور ارمانین، یونان، بلغاریہ کے قوم پرستوں کی مدد سے جو کہ مملکتِ عثمانیہ کی تقسیم پر تلے ہوئے تھے، کام یاب ہو کر برسر اقتدار آئی۔ اور سلطان عبدالحمید کو 27اپریل 1909ء میں تخت سے دست بردار کردیا گیا اوراتحاد و ترقی کے رہنماؤں، جن میں طلعت پاشا اور انور پاشا اوّل اوّل شامل تھے وہ 1909ء سے لے کر 1918ء تک اپنے نو سالہ اقتدار میں اِس عظیم ملک کو ٹکڑے ٹکڑے ہونے سے نہیں بچا سکے تھے۔ اوپر سے اُنہوں نے اپنے مخالفوں کو نیست و نابود کرنے کے لئے جو اقدامات کئے تھے، اُن کی وجہ سے خود اتحاد و ترقی کے حامی اور کارکن بھی سہمے ہوئے تھے اور سلطان عبدالحمید کے عہد کو حسرت سے یاد کرنے لگے تھے۔ اُن میں سے ایک معروف مفکر اور شاعر سلیمان نظیف تھے۔ وہ عبدالحمید کے دَورِ سلطنت کو یاد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
اے میرے بادشاہ کبھی اِس بات کا خیال تک نہیں کرتے تھے لیکن اب ہم
مدد مانگنے کے لئے تیرے حضور میں حاضر ہوئے ہیں
اگر فریاد کریں تو موجودہ حکومت قتل کرتی ہے ہمیں
حسرت بھری نظروں سے ہم آپ کے عہدِ اقتدار کی تلاش میں ہیں

ترک تو ترک اجنبی سیاست دان بھی عبدالحمید ثانی کی اہلیت اور سیاسی دُور اندیشی کے معترف تھے۔ معروف جرمن سیاست دان اور جرمنی کے اتحاد کے بانی بس مارک (Bismarck) نے اُن کے بارے میں کہا تھا: '' اگر ساری دنیا میں سو گرام عقل ہے تو اِس کا نوے فی صد، عبدالحمید خان کے دماغ میں، پانچ فی صد میرے دماغ میں اور پانچ فی صد دنیا کے باقی سیاست دانوں میں ہے۔''

عبدالحمید خان ثانی کی کامیابی کا کمال صرف ملک کو بٹوارے سے بچانے میں پوشیدہ نہیں تھا۔ انہوں نے  سماجی، تعلیمی اور اقتصادی میدانوں میں بھی عثمانی سلطنت کو مضبوط بنانے کے لئے ہرممکن جدوجہد کی تھی۔  اُن کے عہد میں مغرب سے لے کر مشرق تک حمیدیہ اسکول کھل گئے اور اُن کے عہد میں جدید تعلیم دینے والی درس گاہیں اتنی کثرت سے قائم ہوئی تھیں کہ ترکی جمہوریت کے زمانے میں 1950ء تک اُس تعداد تک پہنچنا ممکن نہیں ہؤا تھا۔ عبدالحمید ثانی کا ایک اور اہم پہلو یہ بھی تھا کہ وہ لڑکیوں کی تعلیم کو بے حد اہمیت دیتے تھے۔ جب عبدالطیف صبحی پاشا نے لڑکیوں کے لئے ایک اسکول کھولنے کا ارادہ کر لیا لیکن پھر وہ کسی بنا پر تذبذب میں پڑ گئے تو عبدالحمید خان نے اُن سے فرمایا کہ '' تم اسکول شروع کرا دو اور اُس کے بعد جو بھی ہو، میں برداشت کر لوں گا ''۔  اِسی طرح سے ترکی میں لڑکیوں کی تعلیم کے لئے بھی اوّلین اسکول اُنیی کے عہد میں کھلا۔ اُن کے عہد میں یورپ سے استنبول تک پہنچنے والی ریلوے کو استنبول سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ تک پہنچایا گیا، جسے ''حجاز ریلوے'' کہتے تھے۔ اِس ریلوے کے اسٹیشن آج بھی شام سے لے کر مدینۂ منورہ تک جگہ جگہ موجود ہیں۔ اُن کے عہد میں غریب اور بے کس عمر رسیدہ لوگوں کے لیے ''دارالعجیزہ'' نامی ادارے کا قیام عمل میں لایا گیا جس میں بلا تفریق مذہب کے، ایسے تمام  عمر رسیدہ افراد امداد پاتے تھے،  جن کا کوئی بچہ یا نگران نہ رہا ہو۔ اِس عمارت کے اندر ایک مسجد، ایک گرجا گھر اور ایک یہودی عبادت گاہ موجود تھی تاکہ اِس پناہ گاہ کے مکین اپنے اپنے مذہب کے مطابق عبادت کر سکیں۔ اور یہ تھے اپنے اقتدار کے لئے مظلوموں کا خون بہانے والے عیسائیت دشمن بادشاہ!

پھرجب اتحاد و ترقی پارٹی کی استبدادی کارروائیوں کی وجہ سے استنبول میں اُن کے خلاف بغاوت شروع ہوئی اور اتحاد و ترقی پارٹی کے سربراہ انور پاشا کی سربراہی میں استنبول پر فوج کشی کرنے لگے جس میں عیسائی سپاہی بھی کافی تعداد میں موجود تھے تو عبدالحمید نے اپنے لشکر خاصہ کو مسلمان بھائیوں کو ایک دوسرے سے قتل نہ کرانے کے لئے آنے والی اتحاد و ترقی کی فوج سے لڑنے کی اجازت نہیں دی ۔ حالاں کہ عبدالحمید کو معلوم تھا کہ آنے والے لوگ اُن کے ساتھ کیا سلوک کریں گے اور اُن کے لشکر خاصہ کے سپاہی تجربہ کار تھے اور بہ آسانی آنے والی اتحاد پارٹی کی فوج کو شکست بھی دے سکتے تھے۔کیا  یہ بادشاہ  ظالم، حریت دشمن اور اپنے عزائم کے لئے اسلام اور اتحاد اسلامی کا غلط استعمال کرنے والے مفادپرست تھے؟

بہر صورت عثمانی سلطنت کے اِس باصلاحیت اور تجربہ کار بادشاہ کوروس کی فوجی کارروائیاں، یورپ کی سازشیں اور اُن کی پشت پناہی میں سلطنت کے طول و عرض میں خون خرابہ کے ماحول پیدا  کرنے والی عیسائی آبادی کی بغاوتوں نے نہیں مگر اُن کے خود تعلیم حاصل کرنے کے لئے یورپ بھیجے ہوئے، جدید فوجی اسکولوں میں پڑھے ہوئے "مغربی طرز کے جدید خیالات" کے مالک نوجوان ترک افسروں نے تخت سے دستبردار کرواکے جلاوطن کردیا۔  اور صرف نو سال میں اِن باصلاحیت اور باکمال جوان اور نڈر {؟؟؟} کمانڈرجن میں انور پاشا، طلعت پاشا اور جمال پاشا بھی شامل تھے  ملک کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کے تماشائی بن گئے۔ یہ وہ جوان کمانڈر تھے جو مغربی طاقتوں کے تعاون اور آرمینی اور دیگر عیسائی سہولت کاروں اور مددگاروں کے توسط سے بر سر اقتدار آئے اور نو سال بعد پہلی جنگ عظیم کے خاتمہ پر اُنہی مغربی طاقتوں کی فوجوں کے ہاتھ اپنا ملک چھوڑکر اور عیسائیوں اور بالخصوص آرمینیوں کے قاتل ٹھہرائے گئے اور ملک سے فرار ہوگئے اور پھر قتل بھی ہوئے۔

میں عبدالحمید خان ثانی کے عہد کے بارے میں یہ طویل معلومات اِس لئے پیش کررہا ہوں کہ یورپ کی ترکی سے متعلق ماضی کی پالیسیوں کا ادراک کئے بغیر اُس کی ترکی سے متعلق  موجودہ پالیسیوں اور بلکہ مستقبل کی پالیسیوں کو سمجھنا ناممکن ہوتا ہے۔

اب سلطان عبدالحمید خان کی تخت سے دستبرداری کو ٹھیک ایک سو چھ سال گزر گئے۔ ترکی میں رجب طیب ایردوغان 2003ء میں برسر اقتدار آئے۔ اُس وقت ترکی کے اقتصادی حالات اُس قدر خراب تھے کہ اُس وقت کی ترک حکومت جس کے سربراہ بلند ایجیویت مرحوم تھے، کے پاس سرکاری ملازموں کی تنخواہیں ادا کرنے کے لئے رقم ہی موجود نہیں تھی۔ اُن کی حکومت عام لوگوں کے بینک اکاونٹس پر سود کے بدلے میں قبضہ کرکے سرکاری ملازموں کی تنخواہیں ادا کرنے کا سوچ رہی تھی۔  آئی ایم ایف ترکی کو قرضہ دینے کے لئے بہت سنگین شرائط پیش کررہا تھا اور افراط زر ایک سو پچاس فی صد تک پہنچ چکا تھا۔ رجب طیب ایردوغان، بر سر اقتدار آئے اوراُن کے گیارہ سالہ دور حکومت کے دوران ترکی تیزی سے ترقی کرنے لگا۔ افراط زر ایک سو پچاس فی صد سے آٹھ فی صد تک رہ گیا۔  ترکی نے آئی ایم ایف کو ترکی کا تمام تر قرضہ ادا کردیا۔ اب وہ خود  آئی ایم ایف کو ادھارپیسے دینے لگا۔ ترکی میں ہزاروں کلومیٹر کے نئے ہائی وے، سرعت کے ساتھ جانے والی ٹرینوں کی لائنیں بنیں۔ ترکی نے تیزی سے اپنے اسلحہ، جنگی جہاز، ٹینک اور میزائل بنانے کی قابلیت حاصل کرلی اور اسرائیل، امریکہ اور دیگر مغربی ممالک سے اسلحہ خریدنے کا سلسلہ کافی حد تک کم کردیا۔  ترک حکومت نے کُردوں کا نام لے کر ترکی میں دہشتگردی پھیلانے والی تنظیم پی کے کے کی سیاسی اور لیگل شاخ سے مذاکرات بھی شروع کئے، جس کا ہم پہلے سوچ ہی نہیں سکتے۔ اورجسے عام طور پر غداری اور ملک دشمنی سمجھتے تھے۔ یعنی آق پارٹی حکومت نے اِس مسئلہ کو ختم کرنے کے لئے یہ خطرہ بھی مول لیا۔

مزید بر آں ترک حکومت نے دیگر اسلامی ممالک کے ساتھ اپنے پرانے تعلقات کو پھر سے استوار کرنا شروع کیا جسے جمہوریت کے اعلان اور ترکی کے اپنے آپ کو بند کرنے کے بعد ختم کردیا گیا تھا۔ یعنی ترکی کے لئے عالم اسلام میں ایک اہم کردار ادا کرکے اِسی ذریعے سےمسلم ممالک میں ایک طرح کا اتحاد اور یک جہتی  کی پالیسی بنانے اور  بیرونی مداخلت روکنے کی امیدیں پیدا ہوئیں۔

پھر وہی ہؤا جو عبدالحمید خان ثانی کے عہد میں ہؤا تھا۔ یعنی مغربی یا استعماری ممالک نے ترکی کے تیزی کے ساتھ سیاسی، اقتصادی اور عسکری میدانوں میں ترقی کرنے کو اپنی استعماری عزائم کے لئے خطرہ  سمجھ لیا اور اِس خطرے کو دُور کرنے کے لئے ہر طرح کے آپریشنز شروع کرائے۔ ترکی کی پالیسیاں، ترکی کے صدر رجب طیب ایردوغان اور اُس کی حکومت کے خلاف مغربی میڈیا میں منفی اور الزامات سے بھرپور پروپیگنڈا کے سیلاب کا آغاز ہؤا۔ بی بی سی، سی این این، نیو یارک ٹائمز، یہاں تک کہ "یاہو" کے اخباری حصے میں کوئی ایک ایسا دن نہیں گزرتا جب  ترکی اور ترکی کے صدر کے خلاف کوئی اوٹ  پٹانگ خبر شائع نہ ہو۔ اُن خبروں میں ایسی عجیب و غریب معلومات ہوتی ہیں جن پر یقین کرنا کسی بھی ذی شعور اور سمجھدار انسان کے لئے ناممکن ہے۔ شاید خود آرمینی لوگ نسل کشی کے بارے میں  اِس قدر مصر نہیں جتنے یاہو جیسے یورپین ایجنسیاں ہیں۔ 'یاہو' میں تقریباً ایک سال سے ہر آئے روز ایک تصویر لگتی ہے جس کے نیچےیہ مرقوم  ہےکہ : " کیوں ہمیں آرمینیوں کی نسل کشی کو نہیں بھلانا چاہئے"۔ اس خبر کی تصویر میں صلیب پر چڑھائے گئے کچھ لوگ دکھائی دیتے ہیں۔اِس تصویر کو وہاں لگانے والے یا جاہل ہیں یا ان کے درپردہ عزائم ہیں۔  کیونکہ مجرموں یا باغیوں کو صلیب پر چڑھاکر سزا دینے کا طریقہ مسلمانوں کا نہیں، خود روم سلطنت اور عیسائی دنیا کا طریقہ ہے۔ مگر وہ لوگ اپنے عیسائی قا رئین کے ذہنوں میں یہ تاثّر پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ معصوم اور بے گناہ آرمینی لوگ بھی حضرت عیسیٰ کی طرح ظالم کافروں کے ہاتھوں اپنی عیسائیت اور اپنے خدا سے محبت کی وجہ سے مارے گئے۔

یعنی یورپ کے بڑے بڑے میڈیا گروپس تسلسل کے ساتھ آزادی بیان کو بہانہ بناکر ترکی اور ترکوں کے خلاف یورپین  اور امریکی عیسائی ذہنوں کو بہ وقت ضرورت استعمال کرنے کے لیے ڈاٹا بھیجتے ہیں۔ در اصل یہ آزادئ خیال نہیں، نفرت اور دشمنی پھیلانے کا کام ہے۔ لیکن چونکہ وہ یورپین ہیں اور اُن کے اِس کام میں اُن کی حکومتوں کی "بادل نخواستہ" اجازت شامل ہے لہٰذا یہ آزادئ خیال اور حق بیانی کے شمار میں آتا ہے۔

پھر اِسی طرح ترک حکومت کےداعش کے ساتھ ناتہ جوڑنے کی کوشش کرکے بے بنیاد الزامات لگاتے رہتے ہیں اور اپنی حکومتوں اور خفیہ ایجنسیوں کے مبیّنہ تعلقات کی طرف  اشارہ ہی نہیں کرتے۔ اور اب داعش کو بہانہ بنا کر تمام بڑی طاقتوں نے علاقہ میں اپنا ٹھکانہ بنا لیا ہے اور روس، ایران، اسد کے فوجی ایک جانب سے اور داعش اور شام کے کُرد باغی جو دہشتگرد تنظیم پی کے کے کی شامی شاخ ہے سب مل کر  سنی عرب مخالفت اور ترکمن باغیوں کو نیست و نابود کررہے ہیں۔ ترکی کی پوری جنوبی سرحد پر روس اوراسد کی فوج قبضہ جما رہی ہے جس کا مقصد ترکی کا عرب علاقوں سے رابطہ بالکل منعقد کرنا ہے۔ اِس کام میں امریکہ بھی تین بندر کا رول ادا کرتا ہے کہ " میں نے نہیں دیکھا، نہیں سنا اور نہیں کہا۔"

ترکی حکومت کے ساتھ مذاکرات میں تمام تر پیش رفت کے باوجود اچانک پی کے کے نے جنوبی ترکی کے شہروں میں ترک فوج اور پولیس پر قاتلانہ حملہ کرکے ترکی کے خلاف  ایک مرتبہ  پھرجنگ کا اعلان کردیا اور جنوبی ترکی کے شہروں میں جہاں کُرد آبادی کثرت میں ہے، وہاں اُن لوگوں نے جنگ کی صورت حال پیدا کردی ہے۔ اِس بار ترک حکومت اور فوج نے بر وقت انتظامات کرکے پی کے کے،  کے دہشتگردوں کے خلاف آپریشن شروع کرادیا ہے جس کی وجہ سے بہت سے دہشتگرد ہلاک کردیئے گئے ہیں۔ اِس کے بدلے میں پی کے کے، کے دہشتگرد جب تنگ آگئے تو سول کُرد آبادی، ایمبولینسوں اور حتیٰ کہ پرائمری اسکول اور مساجد تک پر حملہ کرنے لگے۔ رپی کے کے،  کے جلّادوں نے  ڈر کے مارے اسلحہ چھوڑ کر اپنے آپ کو ترک فوج کے حوالے کرنے کے خواہشمند  اپنے ہی گوریلوں کو ملک کے باہر سے آنے والے احکامات کے مطابق موت کی سزائیں  دیں۔ مشرقی علاقے میں ان حالات پر ترکی کے ایک ہزار سے زائد یونیورسٹی کےاساتذہ نے ترک حکومت اور فوج کے آپریشنز کے خلاف ایک میمورنڈم پر دستخط کئے کہ ترکی حکومت مشرق میں پی کے کے،  کے خلاف اپنے آپریشنز ختم کردے۔ اُن کے احتجاج کرتے ہوئے ہاتھوں میں یہ پلے کارڈ پکڑے ہوئے تصویریں بھی آئی ہیں جن میں لکھا ہؤا تھا کہ حکومت گوریلوں کو قتل نہ کرے۔ یعنی  اپنے آپ کو ماڈرن اور آزادئ خیال کے حامی گرداننے والے طبقوں میں ایک بہت عجیب سی کشمش اور ناقابل فہم بے چینی ہے۔ وہ کہتے ہیں دہشتگرد  ترکی فوج اور پولیس کے سپاہیوں کو اور عام شہریوں کو شہید تو کردیں اور اسکول اور مساجد کو چاہیں جلا بھی دیں مگر ترک حکومت اور فوج کچھ نہ کرے اور بس تماشائی بنی رہے۔ کیونکہ اپنے ملک اور شہریوں کی حفاظت کے لئے آپریشن کرکے  دہشتگردوں کو قتل کرنا  انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

الغرض عبدالحمید خان ثانی کے عہد سے آج تک مغرب کی ترکی پالیسیوں میں کوئی بھی تبدیلی نہیں آئی اور آنے والی بھی نہیں ہے۔ کیونکہ اُنہوں نے عبدالحمید کے عہد میں جو ذرائع استعمال کئے اورجن حربوں سے ترکی کو برباد کیا تھا، آج بھی اُنہیں حربوں کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ نہ صرف مغرب کی ترکی پالیسیوں میں بلکہ تمام مسلم ممالک کی اور بالخصوص پاکستان کی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ وہ لوگ جس مسلم ملک کو اپنے لئے خطرہ سمجھتے ہیں اُسی کو برباد کرنے میں کوئی وقت ضائع نہیں کرتے۔

میں ہمیشہ یہ کہاکرتا ہوں کہ میں مغربی طاقتوں پر نکتہ چین نہیں ہوں کیونکہ وہ اپنے ملکوں اور اپنی قوموں کے مفادات کے لئے جو ضروری سمجھتے ہیں وہی کرتے ہیں۔ میں مسلمانوں پر نکتہ چین ہوں اور اپنے لوگوں کی مذمت کرتا ہوں جو اپنے فرقے، سیاسی تصورات اور ذاتی مفادات کو اپنے ملک اور قوم کے مفادات سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور آپس میں بٹ کے دوسروں کے آلہ کار بنتے ہیں۔