پناہگزین ایک تحفہ
ڈنمارک میں شرح پیدائش بتدریج کم ہو رہی ہے۔ روزگار کی منڈی میں افرادی قوت کی مانگ بڑھتی جا رہی ہے۔ بڑھاپے کی وجہ سے پنشن پر جانے والوں کی تعداد مستقبل میں بڑھنے کا امکان ہے۔ اس طرح معاشرے میں کام کرنے والے کارکنوں کی اشد ضرورت پڑنے والی ہے۔ ایسی صورت میں ، ڈینش صنعتی پیداوار بڑھانے اور عالمی منڈی میں مقابلہ بازی کے لئے ڈنمارک آنے والے مہاجرین ڈینش صنعتوں کے لئے ایک تحفہ کی حایثیت رکھتے ہیں۔
اس کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے ڈنمارک جیسا یکسانیت کا شکار معاشرہ کتنے مہاجرین کو آسانی سے قبول کرتے ہوئے اپنے ہاں ضم کر سکتا ہے ؟ بزنس و سیاست کے عالمی شہرت یافتہ، کوپن ہیگن بزنس سکول (سی بی ایس) کے بانی و پروفیسر اُوو کائے پیڈرسن نے کہا ہے کہ مہاجرین کی جس تعداد کا ہمیں سامنا ہے اسے ہم مقابلہ بازی اور سماج میں نئے خون کی آمد کے لیے ایک تحفہ سمجھ سکتے ہیں کیونکہ مستقبل قریب میں پنشن پر جانے والوں کی تعداد بڑھ جائے گی اور کام کاج کے قابل عمر والوں کی تعداد بہت کم ہوجائے گی۔ اس کمی کو اِن مہاجرین سے پورا کیا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے اسی موضوع پر اپنی تازہ ترین کتاب میں بھی لکھا ہے کہ یہ مہاجرین ڈنمارک کے لئے ایک تحفے سے کم نہیں ہیں ۔
انہوں نے بڑی باریک بینی سے ڈینش روزگار کی منڈی، افرادی قوت اور مستقبل میں شرح پیدائش وغیرہ کا تجزیہ کرتے ہوئے مہاجرین کے حوالے سے لکھا ہے کہ رضاکارانہ طور پر اتنی بڑی تعداد میں افرادی قوت کا مل جانا، در اصل ایک بہت بڑا تحفہ ہے ۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ چند ایک سالوں میں ہمیں افرادی قوت کی شدید ضرورت ہوگی۔ ہمارے ہاں شرح پیدائش بہت ہی کم ہو چکی ہے۔ اور اِس میں اضافے کی کوئی آثار نہیں ہیں ۔ اور کم و بیش یہی صورت حال پورے یورپ میں دکھائی دیتی ہے۔ لہٰذا یہ مہاجرین افرادی قوت کی کمی کو پورا کرنے کے لے ایک تحفہ ثابت ہو سکتے ہیں ۔ انہوں نے جرمنی کی مثال دیتے ہوئے لکھا ہے کہ وہاں افرادی قوت کی تعداد فی الوقت 54 ملین کے قریب ہے اور اگلے دو تین عشروں میں یہ گر کر 36 ملین رہ جائے گی۔ اس طرح جرمنی کو افرادی قوت کی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے کم از کم 18 ملین کارکنوں کی ضرورت ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ جرمن چانسلر انجیلا مرکل جب یہ کہتی ہیں کہ ’’ جرمنی کو اپنے ہاں زیادہ مہاجرین کو قبول کرنا چاہیے‘‘ تو وہ ملک میں روزگار کی صورت حال کے حوالے سے بات کرہی ہوتی ہیں۔
ڈنمارک میں سنہ2006 میں کئے گئے ایک حکومتی تجزیئے میں بتایا گیا تھا کہ بیس سے ساٹھ سال کی عمر والے ڈینش باشندوں کی تعداد سنہ 2040ء میں تین ملین سے گر کر 2عشاریہ چھ ملین ہو جائے گی جب کہ ساٹھ سال سے زیادہ کی عمر والے ڈینش شہریوں کی تعداد اسی عرصے میں ایک عشاریہ ایک ملین سے بڑھ کر ایک عشاریہ پانچ ملین تک پہنچ جائے گی ۔ مستقبل میں ڈنمارک کی یہ صورت حال عالمی تجارتی منڈیوں میں مقابلہ بازی کے لئے بہتر شگون نہیں اور پروفیسر اُوو کائے پیڈرسن کے بقول مہاجرین کی موجودہ صورت حال سے فائدہ اٹھانے کو ایک بہترین موقع ہے ۔ اُن کا کہنا ہے کہ افرادی قوت کی کمی اقتصادیات کو تہس نہس کر سکتی ہے ۔ اس لئے یہاں آنے والے مہاجرین کو کھلے دل سے خوش آمدید کہا جانا چاہیے۔ کیونکہ وہ نوجوان ہیں، مرد ہیں اور ان میں سے بیشتر پہلے ہی کسی نا کسی شعبہ میں مہارت رکھتے ہیں۔ کام کاج کے لئے عمر کے بہترین حصے میں ہیں ۔ انھیں مزید تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت آسان طریقے سے دی جا سکتی ہے۔
موجودہ صورت حال میں نئی افرادی قوت کے لئے ’’ مثبت اظہار خیال کرنا بڑا مشکل ہے‘‘ لیکن حقیقت یہی ہے جس کا وہ اظہار کر رہے ہیں۔‘‘ پروفیسر اُوو کائے پیڈرسن کے بقول یہ مہاجرین ڈینش سماج و بازار روزگار میں کیسے انٹگریٹ ہو سکیں گے اِس کا دارومدار تنخواہوں سے متعلق اگلے سہ فریقی مذاکرات پر ہو گا۔ ٹریڈ یونینوں نے ابھی سے مہاجرین کو کم اجرتوں پر بازار روزگار میں کام مہیا کیے جانے کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ان مہاجرین کی خدمات سے فائدہ نہیں اٹھایا جائے گا ۔ سماج میں انٹگریٹ ہونے کے لئے روزگار کا ہونا ایک طرح سے پہلی شرط ہے جو کسی کو کسی ٹریڈ یونین کی رکنیت حاصل کرنے کا اہل بنا دیتی ہے ۔ اور جب کوئی کسی ٹریڈ یونین کا باقاعدہ رکن بن جاتا ہے تو وہ خود کو بازار روزگار میں محفوظ سمجھتا ہے اور اس کا یہ احساس تحفظ اسے مزید آگے بڑھنے کے لیے حوصلہ دیتا ہے ۔
پروفیسر اُوو کائے پیڈرسن نے کہا کہ کئی لوگ صرف وقتی صورت حال کو دیکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ مہاجرین پر اٹھنے والے اخراجات معاشرے اور خزانے پر ایک بھاری بوجھ بنتے جا رہے ہیں لیکن یہ لوگ مستقبل قریب میں، دس بارہ سال کے بعد جو صور ت حال ہوگی اس کا اندازہ نہیں لگا سکتے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود کئی ایسے ہسپتالوں میں گئے ہیں جہاں انہوں نے دیکھا ہے کہ نسلی اقلیتیوں سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر بڑی کامیابی سے سماج میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں ۔
اُوو کائے پیڈرسن یہ تسلیم کرتے ہیں کہ انٹگریشن سسٹم کیکچھ مجبوریاں ہیں اوراس کی بھی حد ہے کہ ایک ڈینش سماج کتنے اجنبیوں کو بیک وقت اپنے ہاں کھپا سکتا ہے کہ اس کا اپنا معاشرتی تشخص متاثر نہ ہو۔ ہم ایک زبان بولتے ہیں، کم و بیش سبھی گرجا گھروں سے تعلق رکھتے ہیں، ایک ہی نسل سے ہیں ، ہماری تاریخ مشترکہ ہے۔ یہ سب باتیں کسی قوم یا ملکی آبادی کا روشن پہلو ہے۔ مہاجرین یا تارکین وطن کو اس سے دور نہیں رکھنا چاہیئے ۔ پروفیسر اُوو کائے پیڈرسن نے سویڈن اور جرمنی میں مہاجرین کی صورت حال اور اس سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات اور ان اقدامات پرمختلف عوامی حلقوں کے رد عمل کا ڈنمارک کی صورت حال سے موازنہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈنمارک میں صورت حال بہت مختلف ہے۔ یہاں حکومت اور اس کی حمایتی ڈینش پیپلز پارٹی امیگریشن پالیسیوں کو سخت بنا دینے پر تلی ہوئی ہیں اور اس روش پر دنیا بھر میں ڈنمارک کے خالف آواز سنائی دیتی ہے۔ خود ڈینش لوگ بھی متضاد رائے رکھتے اور بٹے ہوئے ہیں ۔
عوامی حلقوں، میڈیا، حکومت اور پارلیمنٹ میں جاری مباحث سے لگتا ہے کہ یہ ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے ۔ پروفیسر اُوو کائے پیڈرسن کی خواہش ہے کہ ان مباحث میں سیاستدان صرف یکسانیت کے نام پر تند و تیز لہجے میں اعتدال سے کام لیں اور سماج میں ہرطبقے کے تحفظ کے لئے آواز اٹھانی چاہیئے۔ انہیں مشترکہ مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا چاہیئے۔
(نصر ملک کوپن ہیگن سے شائع ہونے والے انٹرنیٹ اخبار www.urduhamasr.dk کے ایڈیٹر ہیں)