فیصلہ دیں، دلائل نہ دیں!

وطن عزیز اور ” دیار غیر“ میں سات ہفتوں کی خاک چھاننے کے بعد تھکن سے جو سب کا حال ہوتا ہے میرا اس سے کچھ سوا ہی ہوا ہے۔ ان سات ہفتوں کا آنکھوں دیکھا حال اور کانوں سنی حکایتیں آئندہ کیلئے اٹھا رکھتے ہیں۔ آج میں آپ سے ہلکی پھلکی باتیں کرنا چاہتا ہوں کہ میں پھر سے اپنی جون میں آ سکوں۔ ان ہلکی پھلکی باتوں میں بھی آنکھ والوں کیلئے عبرت کے لاکھوں درس ہیں اور جو عبرت نہ پکڑنا چاہیں ان کا ہاتھ اللہ پکڑے!

ایک ملک کے صدر صاحب اپنے فیصلے منوانے کیلئے الٹے سیدھے دلائل دیا کرتے تھے۔ ایک دن ان کے مشیر نے آخر ان سے کہہ ہی دیا۔

”جناب صدر مملکت! آپ اپنا فیصلہ دیا کریں اس کے حق میں دلائل نہ دیا کریں“۔

”کیوں“؟ انہوں نے پوچھا۔

”آپ کا فیصلہ مان لیا جاتا ہے لیکن آپ کے دلائل سن کر سب ہنس پڑتے ہیں“۔

لاہور کا ایک شاعر جو ملازمت کی وجہ سے دور کسی شہر میں اکیلا رہتا تھا۔ ایک روز اسے لاہور سے ایک دوست کا خط ملا جس میں شاعر کو اطلاع دی گئی تھی کہ تمہاری بیوی ایک ہفتے سے لاپتہ ہے۔ شاعر نے فوراً اپنے دوست کو خط کے جواب میں لکھا: ” مجھے بواپسی ڈاک اطلاع دو کہ میری بیوی واقعی لاپتہ ہو گئی ہے یا تم نے میرا دل خوش کرنے کیلئے لکھ دیا ہے“۔

لاہور کا ایک ادیب کسی نفسیاتی بیماری میں مبتلا تھا۔ دوستوں کے اصرار پر آخر ایک روز وہ ماہر نفسیات کے پاس پہنچا اور کہا ”میں نے اتنے گناہ کئے ہیں کہ میرا ضمیر مجھے لعنت ملامت کرتا رہتا ہے، میں بہت پریشان ہوں، میری مدد کیجئے“۔ ماہر نفسیات نے پوچھا ”آپ یہ چاہتے ہیں کہ گناہ ترک کرنے کیلئے آپ کی قوت ارادی مضبوط ہو جائے؟“۔

ادیب نے کہا ” نہیں، میں چاہتا ہوں کہ میرا ضمیر کمزور ہو جائے“!

پاک ٹی ہاﺅس میں ایک معروف شاعر بتا رہا تھا: ” دوسرے بچے کی پیدائش سے چند روز پہلے میں نے اپنے چھ سالہ بیٹے سے کہا گھر میں تمہارا جی بہلانے کیلئے ایک بچہ آنے والا ہے، چند روز میں تمہاری ممی ہسپتال جائے گی اور اسے وہاں سے لے آئے گی“۔

بیٹے نے باپ کو دیکھتے ہوئے کہا: ”ممی ٹھیک کہتی ہیں کہ آپ کو بالکل عقل نہیں ہے، بچہ تو کئی ماہ سے ممی کے پیٹ میں پل رہا ہے“۔

بمبئی کے ایک مشہور و معروف رائٹر ڈائریکٹر سے میری ملاقات دہلی میں ہوئی، باتوں باتوں میں اچھے انسان کی تعریف کرتے ہوئے کہنے لگا: ” اس میں دوسری خوبیوں کے علاوہ شرافت بہرحال ہونی چاہئے“۔ اس سلسلے میں اس نے خود اپنی مثال پیش کرتے ہوئے کہا: ” ایک بار بمبئی کے ایک فائیواسٹار ہوٹل میں اپنے وقتوں کی نمبرون مشہور و معروف ہیروئن سے ملنے گیا، اسے اپنے کمرے میں نہ پا کر میں نے غلطی سے باتھ روم کا دروازہ کھول دیا جس میں وہ ہیروئن نہا رہی تھی۔ میں نے فوراً اسے بتایا کہ میں نے یہ دروازہ غلطی سے کھولا ہے اور چونک میں ایک شریف آدمی تھا اس لئے وہاں پورے دس منٹ تک کھڑا اپنی غلطی کی معافی مانگتا رہا “۔

کراچی کا ایک شاعر جو اپنی شکل و صورت کے ساتھ ساتھ عجیب و غریب عادتوں کی وجہ سے مشہورہے، ٹی ہاﺅس میں مجھے کافی دیر سے اپنی فضول باتوں سے بور کر رہا تھا۔ باتوں کے دوران اپنے خاندانی قصے سناتے ہوئے اس سے کہا:

” کراچی میں خدا نے میری ماں کے ساتھ بڑا عجیب مذاق کیا “!

” کراچی میں؟“ میں نے جھلاتے ہوئے کہا۔

” ہاں کراچی میں“۔

” میں سمجھتا رہا ہوں کہ تم لاہور میں پیدا ہوئے تھے“۔

لاہور کے ایک شاعر نے حال ہی میں اپنی سترویں سالگرہ منائی ہے۔ وہ بتا رہا تھا گزشتہ دنوں میرے ایک دوست کی بیوی انتقال کر گئی۔ جنازے کے دن میری بیوی مجھ سے کہنے لگی آپ اپنے دوست کی بیوی کے جنازے کیلئے کیوں تیار نہیں ہو رہے؟ ”میں نہیں جاﺅں گا “۔ میں نے کہا۔ ”ارے کیوں؟“ میری بیوی نے حیران ہو کر پوچھا۔ ” وہ آپ کا اتنا گہر ااور پرانا دوست ہے“۔

” کیا یہ اچھا لگتا ہے کہ وہ مجھے چوتھی بیوی کے جنازے پر بلا رہا ہے جبکہ میں اسے ابھی تک ایک بار بھی نہیں بلا سکا “۔

امریکہ سے آئی ہوئی ایک پاکستانی افسانہ نگار خاتون نے ٹی ہاﺅس میں کافی کا آرڈر دینے سے پہلے ویٹر الٰہی بخش سے پوچھا۔ ” کیا یہاں پر کافی اچھی ہوتی ہے؟“۔ ” یقینا محترمہ“ ویٹر الٰہی بخش نے شیخی بگھارتے ہوئے کہا۔ ” ہماری کافی آپ کے خوابوں کے شہزادے کی طرح عمدہ ہوتی ہے“۔

افسانہ نگار خاتون نے چند لمحے غور کیا پھر آہستہ سے بولی: ” میرے لئے چائے لے آﺅ “!

حلقہ ارباب ذوق میں لاہور کا ایک نوجوان افسانہ نویس اپنا طویل افسانہ ختم کرنے کے بعد سامعین سے مخاطب ہو کر کہنے لگا: ”حضرات افسانہ سنانے سے پہلے میرا سر سخت درد کر رہا تھا لیکن آپ کی وجہ اور آپ کے اشتیاق کی وجہ سے اب بالکل ختم ہو گیا ہے“۔

دوسرے افسانہ نگار نے یہ سن کر کہا: ”ختم کہاں ہو گیا ہے جناب! آپ کے سر سے ہمارے سروں میں منتقل ہو گیا ہے“۔

لاہور کے ایک 74 سالہ شاعر کے پوتے نے ایک بار حتی الامکان کوشش کی کہ دادا جان کو نمائش دیکھنے کیلئے راضی کر لے مگر وہ نام نہاد شریف آدمی مسلسل انکار کرتا رہا۔ بالآخر پوتے کے دماغ میں ایک ترکیب آئی ۔ اس نے کہیں پڑھ رکھا تھا کہ بقول فرائڈ گہوارے سے لے کر قبر تک ہر شخص جنس مخالف میں دلچسپی لیتا ہے۔ چنانچہ اس نے شاعر سے کہا: ” دادا جان نمائش میں ایک سرکس بھی آیا ہؤا ہے اس میں ایک لڑکی صرف اپنے لمبے لمبے بالوں سے لباس کا کام لیتے ہوئے ہر قسم کے لباس سے بے نیاز ایک براق جیسے سفید گھوڑے پر سوار ہو کر اسٹیج پر آتی ہے اور گھوڑے پر کبھی لیٹ کر کبھی کھڑی ہو کر اور کبھی بیٹھ کر طرح طرح کے کمالات دکھاتی ہے“۔

شاعر نے کہا: ” توبہ توبہ کیسا خراب زمانہ آ گیا ہے۔ ویسے میں نے پچھلے بیس سال سے براق جیسا سفید گھوڑا نہیں دیکھا۔ میرا خیال ہے اس سفید گھوڑے کو ایک نظر دیکھنے کیلئے میں تمہارے ساتھ نمائش میں چل سکتا ہوں“۔