اردوآن اور پیوٹن، تقابلی جائزہ
- تحریر فرخ سہیل گوئندی
- منگل 02 / فروری / 2016
- 4460
ترکی روس تنازعہ شدت اختیار کررہا ہے۔ دونوں ممالک کے رہنما، طیب اردوآن اور ولادی میر پیوٹن مردِ آہن کہلاتے ہیں اور دونوں رہنماؤں کی اپنے اپنے ملک میں مقبولیت ایک طے شدہ حقیقت ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اقتدار کے لئے ایک جیسا ہی سفر طے کیا۔ اگر ہم باریک بینی سے طیب اردوآن کے وزارتِ عظمیٰ سے صدارت تک اقتدار کا جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ طیب اردوآن کسی نہ کسی طرح صدر پیوٹن کو ہی آئیڈیلائز کرتے ہیں۔
وزارتِ عظمیٰ سے صدارت تک کا سفر اور جمہوریت کے کھلے پن رجحان سے شخصی اقتدار کی تقویت کا سفر۔ اور اب دونوں رہنما شام کے حوالے سے بھی سخت موقف اپناتے ہوئے ایک جیسا رویہ ظاہر کر رہے ہیں۔ ترکی میں گو پارلیمانی نظام ہے، لیکن جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے بانی کے طور پر طاقت کا مرکز وزارتِ عظمیٰ کی بجائے صدارتی محل ہے۔ روس کا طیارہ گرائے جانے پر صدر طیب اردوآن نے ابھی تک لچک دار موقف اپنانے کی بجائے اپنے موقف میں سخت گیری کا مظاہرہ کیا ہے اور اسی طرح ترکی کے مطابق روسی جنگی طیارے اس کی سرحدوں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ دوروز قبل صدر طیب اردوآن نے لاطینی امریکہ کے دورے پر روانگی کے وقت ایک بار پھر روس کو تنبیہ کی ہے کہ وہ ترکی کی سرحدوں کی خلاف ورزیوں کا مرتکب ہو رہا ہے اور اس کے جنگی طیارے مسلسل ترکی کے صبر کو چیلنج کر رہے ہیں۔ اب ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ صدر پیوٹن اور صدر طیب اردوآن دونوں کو اپنے اپنے ملک، علاقے اور عالمی سیاست میں کتنی حمایت یا سیاسی طاقت حاصل ہے۔
صدر پیوٹن دائیں بازو کی جماعت یونائٹیڈ رشیا پارٹی کی حمایت سے اقتدار میں ہیں۔ مین اپوزیشن پارٹی، کمیونسٹ پارٹی آف ریشین فیڈریشن اور دیگر دو جماعتیں LDPR (روسی قوم پرست، پان سلاوازم اور امپیریلسٹ رجحانات رکھنے والے جماعت) اور A Just Russia (سوشل ڈیمو کریٹک/ ڈیمو کریٹک سوشلزم پر یقین رکھنے والی جماعت) ہیں۔ یہ تمام جماعتیں صدر پیوٹن کو شام کے مسئلے پر مکمل سپورٹ کرتی ہیں۔ صدر پیوٹن عوام میں 70فیصد سے زائد مقبول رہنما ہیں۔ روسی فیڈریشن کے علاوہ صدر پیوٹن کو اپنے علاقائی موقف پر وسطی ایشیا اور کاکیشیائی ریاستوں کی بھی حمایت حاصل ہے۔ خطے میں ایران اور چین جیسی ابھرتی ہوئی عالمی طاقتیں صدر پیوٹن کے شام کے موقف پر ساتھ کھڑی ہیں۔ عرب ممالک میں کسی حد تک عراق اور لبنان، صدر پیوٹن کے مشرقِ وسطی کے موقف سے متفق ہیں اور اسی طرح روسی فیڈریشن کی مسلح افواج صدر پیوٹن کے اس عوامی تصور کی دل و جان سے حمایتی ہیں، جس کے تحت روسی عوام صدر پیوٹن کو زارِاعظم کے تناظر میں ایک عظیم روس کا Revival کرتے دیکھ رہے ہیں۔
روس ایک مکمل صنعتی معیشت ہے اور اسی طرح دنیا کا جدید ترین اسلحہ ساز ملک ہونے کے علاوہ دنیا کی دوسری بڑی ایٹمی طاقت ہے۔ مشرقی یورپ میں بڑھتے ہوئے امریکی اثر اور نیٹو کے کنٹرول پر اور مشرقی یورپ میں مغربی یورپ کی سیاسی و عسکری بالادستی کے حوالے سے ایک خوف اپنی جگہ موجود ہے۔ چند مشرقی یورپی ممالک اس خوف میں امید کی ایک کرن روسی فیڈریشن ہی میں دیکھتے ہیں اور اس طرح روس ایک بار پھر یورپی سیاست میں سرد جنگ کے بعد توازن قائم کرنے ہر ممکن کوشش کر رہاہے۔ اس سارے تناظر میں ہم دیکھتے ہیں کہ روس اور صدر پیوٹن کو اندرونی، علاقائی اور عالمی سطح پر واضح سیاسی طاقت حاصل ہے۔
اب آئیں ذرا غور کریں کہ ترکی کے صدر جناب طیب اردوآن اندرونی، علاقائی اور عالمی سطح پر کس قدر سیاسی طاقت کے مالک ہیں۔ جناب طیب اردوآن آئینی طور پر چیف ایگزیکٹو نہیں، مروجہ آئین کے مطابق اقتدار کا آئینی مرکز وزارت عظمیٰ کے پاس ہے جس کا قلمدان پروفیسر احمت دعوت اولو کے پاس ہیں جن کا چناؤ جناب طیب اردوآن نے ان کو وزارت خارجہ کی ذمہ داری دیتے ہوئے کیا۔ اور یوں احمت دعوت اولو عملی سیاست میں صدر طیب اردوآن کے مرہون منت ہیں، جہاں سے ترقی کرتے ہوئے، طیب اردوآن نے ان کو وزارت عظمیٰ کی کرسی تک رسائی فراہم کی کہ وہ صدر طیب اردوآن کے وفادار ساتھی ہیں۔ صدر طیب اردوآن کی سابق پارٹی (AKP) کی قیادت احمت دعوت اولو کے پاس ہے، جب کہ حکومت کے اہم اور تمام بڑے فیصلے وزارتِ عظمیٰ کے دفتر کی بجائے صدارتی محل سے ہو رہے ہیں۔ اس طریقہ کی سابق پارٹی (AKP) میں اس قدر پذیرائی نہیں جیسے ان کو وزارتِ عظمیٰ کے دوران حاصل تھی۔ اطلاعات کے مطابق احمت دعوت اولو بحیثیت وزیراعظم ایک بھرپور اور مکمل اختیارات اور وزارت عظمیٰ کا قلم استعمال کرنے کے خواہاں ہیں، جب کہ AKP کے بانیوں میں طیب اردوآن کے علاوہ بلند ایرنجی اہم ترین شخصیت ہیں۔ پارٹی اور حکومت کے سیاسی فیصلوں میں وہ صدارتی محل کی مداخلت پر کئی بار اپنی رائے کا اظہار کر چکے ہیں اور بحیثیت بانی AKP ان کی کوشش ہے کہ AKP اپنے طور پر فیصلے کرے نہ کہ صدارتی محل کی ہدایات پر۔
اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ صدر طیب اردوآن کو اپنی سابقہ پارٹی میں کس قدر قلبی حمایت حاصل ہے۔ اپوزیشن کی تینوں جماعتیں جمہوری خلق پارٹی، ملی حرکت پارٹی اور پیپلزڈیمو کریٹک پارٹی جو کہ عملی طور پر ترکی کے 60 فیصد ووٹوں پر مشتمل ہیں ، نہ صرف صدر طیب اردوآن کی ناقد ہیں بلکہ ان کو صدارتی محل میں دیکھنے کے خواہاں بھی نہیں اور یہ تینوں پارٹیاں صدر ترکی کی ملکی، علاقائی بشمول شام کے مسئلے اور مشرقِ وسطیٰ میں ترکی کے کردار پر سخت موقف رکھتی ہیں۔ یہ جماعتیں اور ان کے حمایت یافتہ ووٹرز صدر ترکی کے علاقائی کردار کے سخت ناقد اور مخالف ہیں اور ترکی کی عوام کی اکثریت علاقائی معاملات میں ترکی کی مداخلت کو اپنے ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔ جب کہ ترک میڈیا پر سخت پابندیوں نے صدرِ ترکی کے امیج کو نہ صرف متاثر کیا ہے، بلکہ اپنی آزادیاں سلب ہونے اور زیر عتاب ہونے پر نالاں بھی ہیں۔
ترک آبادی کا 20فیصد کُردوں پر مشتمل ہے۔ شام اور عراق تک پھیلے تنازعے میں کُردوں کو عالمی طاقتیں اپنے علاقائی جنگی تھیٹر میں شامل کرکے جو نقصان ترکی کو پہنچا سکتی ہیں، اس کا اندازہ ہی نہیں کیا جا سکتا۔ ترکی سے ایران، عراق، آرمینیا، شام اور عراق تک پھیلے کُرد، جمہوریہ ترکیہ کے لئے جغرافیائی توڑ پھوڑ میں آلہ کار کے طورپر استعمال ہو سکتے ہیں۔ اس کے لئے امریکہ اور روس دونوں ہی ترکی کے اس مسئلے میں اپنے انداز میں مداخلت کر سکتے ہیں۔ ترک مسلح افواج کوترک عوام میں ایک خاص مقام حاصل ہے اور اس طرح مسلح افواج کو آئین میں بھی مقام حاصل ہے۔ یہ ایک اہم سوال ہے کہ کیا اس ساری صورتِ حال میں ترک مسلح افواج، صدر طیب اردوآن سے مکمل متفق ہیں؟ اور کیا وہ کسی علاقائی جنگ میں شامل ہونے کے لئے تیار ہیں؟
اس سوال کا جواب ترک تاریخ سے آسانی سے مل جاتا ہے کہ ترک مسلح افواج آئینی طور پر اندرونی اور بیرونی معاملات میں ریاست ترکیہ کی محافظ قرار دی جاتی ہیں۔ عرب بہار کے بعد بحیثیت وزیراعظم طیب اردوآن نے کوشش کی کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کے معاملات میں اپنا اثرورسوخ بحال یا قائم کریں۔ لیکن آج اگر جائزہ لیں تو آسانی سے یہ بات سمجھ آجاتی ہے کہ ترکی مشرق وسطیٰ میں اثرورسوخ قائم کرنے کی بجائے تنہائی کا شکار ہے۔ اس سارے منظرنامے کے تجزیے کے بعد آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پیوٹن اور ان کا روس، طیب اردوآن اور ان کا ترکی، اپنے اپنے حوالے سے کس قدر طاقت رکھتا ہے اور یہ بھی کہ دونوں مردِ آہن میں سے کون حقیقی مردِ آہن کی طاقت برقرار رکھنے میں کامیاب ہے۔