سویڈن میں فاشسٹ دہشت گردی

گزشتہ جمعہ کو سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہولم کے مرکزی ریلوے اسٹیشن پر دائیں بازو کے شدت پسندوں کے ایک جتھے نے مہاجربچوں اور نوجوانوں پر حملہ کردیا۔ اس نے ملک میں مہاجرین اور تارکین وطن کے خلاف ابھرتی ہوئی نفرت نے خوف و ہراس کی فضا پیدا کردی ہے۔ پولیس کی اعلیٰ قیادت نے متنبہ کیا ہے کہ مہاجرین اور غیر ملکی شہر میں اکیلے جانے، گھومنے پھرنے سے اجتناب کریں۔ اس حملہ میں ملوث ایک سو کے قریب دائیں بازو کے شدت پسندوں نے سیاہ نقاب پہن رکھے تھے ۔

اسکینڈے نیویا کے اس ملک میں مہاجر بچوں اور نوجوانوں پر اِس طرح کے منظم حملوں کو مبصرین ’’ کلاسک فاشسٹ دہشت گردی‘‘ کی ایک بدترین مثال  قرار دیتے ہیں۔  ان کا کہنا ہے کہ انتہا پسندی کی حد ہو گئی ہے اور اب شدت پسند نقاب پوش جتھوں کی صورت میں سڑکوں پر نکل کر معصوم و بے گناہ اور مدد کے متلاشی مہاجرین کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ عمل الفرڈ نوبیل کے ملک کے چہرے پر سیاہی ملنے کے مترادف ہے۔ مبصرین کے مطابق اگرچہ یہ مٹھی بھر شر پسند شدت پسندوں کی کارروائی ہے لیکن یہ سب کچھ سویڈن کے لئے باعث شرم ہے۔ اور یہ حملے کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہیں ۔

اِس سے پہلے سویڈن کے مختلف مقامات پر مہاجرین کے لئے قائم کئے گئے 30 کیمپوں اور دیگر رہائشی جگہوں کو اس قسم کے حملوں میں نزر آتش کیا جا چکا ہے۔  سٹاک ہولم مرکزی ریلوے اسٹیشن پر مہاجر بچوں اور نوجوانوں پر نقاب پوش جتھے کا حملہ ایک طرح سے وارننگ ہے اور اسے ویک اپ کال Wake Up Call سمجھنا چاہئے۔ 1930 اور اس کے بعد میں اسی طرح کے حملوں سے نازیوں نے خوف و ہراس پھیلایا تھا۔  ایک مخصوص طبقے کے لوگوں کو گلیوں میں نشانہ بنانا اور ان کی املاک کو نذر آتش کرنے کا  قابل نفرت عمل شروع کیا تھا۔ طاقت کے استعمال سے لاکھوں نہتے، بیگناہ اور معصوم عورتوں، مردوں، بوڑھوں اور بچوں کی جانیں لے لی گئی تھیں ۔

ایک ماہ قبل جرمنی کے شہر کولون میں بھی اسی طرح کے واقعات پیش آچکے ہیں۔ لیکن یہاں یہ بھی دیکھنے میں آیا تھا کہ   کئی دوسرے عناصر کے ساتھ بعض غیر ملکی نوجوانوں نے جرمن  نوجوان لڑکیوں کو بے  آبرو کیا اور پھر اس کے رد عمل میں مہاجرین کے مراکز پر خطرے کے پیش نظر جرمن حکام کو حفاظتی اقدامات لینے پڑے ۔ ایسے واقعات نے نہ صرف جرمنی اور سویڈن میں مہاجرین کے خلاف نفرت کی آگ بھرکانے میں معاونت کی بلکہ اب کم و بیش سارا یورپ اِس کی تپش محسوس کر رہا ہے۔ افغانستان، عراق ، لبنان اور شام سے آنے والے مہاجرین کے ساتھ  یورپ میں پچھلی نصف صدی سے رہنے والے تارکین وطن بھی اس نفرت کی زد میں آتے دکھائی دیتے ہیں ۔ اسے مزید بھڑکانے کے لئے یورپ میں نئے آنے والے مہاجرین اور پہلے سے رہنے والے تارکین وطن کے متعلق بحث مباحثے جاری ہیں۔  یورپی میڈیا ان مباحث کی کوریج کے نام پر جلتی پر تیل گرانے کا کام کر رہا ہے ۔

شاید یہی وجہ ہے کہ اب فاشسٹ قوتیں جو صرف موقعے کی تلاش میں تھیں اب باہر نکل آئی ہیں اور انہوں نے اپنے سے ’’ مختلف و جدا ‘‘ دکھائی دینے والوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے ۔ یورپ کے بیشتر ملکوں میں فاشسٹوں کی اس پیش رفت نے غیر ملکیوں کے خلاف نفرت و حقارت کی فضا پیدا کردی ہے اور اس زہر آلود فضا کو سیاست دان اور میڈیا مزید پراگندہ کر رہا ہے ۔ یہ فاشسٹ قوتیں، دائیں بازو کی قومیت پرست تنظیمیں اور انتہا پسند عناصر کے علاوہ سیاست دان بھی عام لوگوں کو یہ تاثر دینے میں پیش پیش ہیں کہ  سویڈن ہو یا ڈنمارک یا پھر جرمنی، یہ غیر یورپی، غیر ملکی اور لاکھوں کی تعداد میں در آنے والے مہاجرین پورے یورپ کے ’’ فلاحی نظام ‘‘ کو تہس نہس کردیں گے ۔

یورپی عوام اور انسان دوست حلقوں کو  ایسے فاشسٹوں، سیات دانوں اور میڈیا کی یاوہگوئی پر کان نہیں دھرنے چاہئیں اور نہ ہی ان قوتوں کو یہ موقع فراہم کرنا چاہیے کہ وہ ہمیں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کر سکیں ۔   یہ معاملہ صرف سویڈن اور ڈنمارک تک محدود نہیں،  بلکہ  موجودہ صورت حال میں مہاجرین اور  سویڈش و ڈینش اور دیگر یورپی باشندوں کے درمیان  یکجہتی ہی وہ واحد راستہ ہے جو ممکنہ شورش و بد امنی  کو روک سکتی ہے ۔

سویڈن و ڈینش اور دیگر یورپی ممالک کی  پارلیمان میں مہاجرین کے متعلق بیان بازی اور تند و تیز تقاریر اور پھر میڈیا میں اِن کی تشہیر ایک طرح سے نازیوں کے بربریت آمیز ظلم و ستم کو جائز قرار دینے بلکہ اُن کو نظر انداز کر دینے کے مترادف ہے۔ کیونکہ یہ قوتیں یہی تاثر دے رہی ہیں کہ مہاجرین یا غیر ملکیوں کے متعلق جو رویہ  پھیل رہا ہے وہ ایک فطری امر ہے ۔ لوگ خود محسوس کر رہے ہیں کہ یورپ کی وسعت سے کہیں زیادہ تعداد میں مہاجرین یہاں آرہے ہیں جو ان کے نظام فلاح و بہبود سے ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ پچھلے دنوں جو کچھ جرمنی میں ہوا اور جس طرح مہاجرین کے مراکز  نذر آتش کرنے کی کوششیں کی گئیں، ان کے پیچھے بھی نئے جرمن نازیوں کے ساتھ  دوسری انتہا پسند تنظیموں اور شدت پسند سیاسی عناصر ہی کا ہاتھ تھا۔ 

اس صورت حال کو دھماکہ خیز بننے سے پہلے ہی ختم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ڈنمارک، سویڈن اور یورپ کے دوسرے ملکوں میں سب اکٹھے کھڑے ہوں۔ اور فاشسٹوں کی جانب سے گلیوں بازاروں ، ریلوے اسٹیشنوں اور دوسری عوامی جگہوں پر  مہاجرین اور غیر ملکیوں پر کئے جانے والے حملوں کا دفاع کریں ۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو  اِس کے تباہ کن نتائج برآمد ہو سکتے ہیں ۔

(نصر ملک کوپن ہیگن سے شائع ہونے والے انٹرنیٹ اخبار  www.urduhamasr.dk کے ایڈیٹر ہیں)