صحافت کوئی جرم تو نہیں ہے
- تحریر منور علی شاہد
- اتوار 07 / فروری / 2016
- 6096
انٹر نیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کی سالانہ رپورٹ جار ی کی گئی ہے جس میں دنیا کے ممالک میں صحافت سے متعلق حالات و واقعات بیان کرنے کے ساتھ ساتھ ہلاک و زخمی کئے جانے والے صحافیوں کے اعدادوشمار بھی بتائے گئے ہیں ۔آئی ایف جے کے صدر نے اس موقع پر بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ سالانہ رپورٹوں کا مقصد محض یہ نہیں کہ ہم قتل کئے جانے والے ساتھیوں کی تعداد کو ہی ریکارڈ کر رہے ہیں بلکہ یہ ان کے عزم و ہمت اور قربانی کو سلام پیش کرنا بھی ہے۔ انہوں نے عوام تک معلومات کی فراہمی کے لئے اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے اپنی جان کی قربانی دی۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ پچیس برسوں میں دنیا بھر میں 2297 صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو قتل کیا جا چکا ہے۔1990کے بعد سے اب تک سب سے زیادہ ہلاکتیں عراق میں ہوئیں ہیں جبکہ گزشتہ برس دنیا بھر میں ہلاک کئے جانے صحافیوں کی تعداد112ہے۔آئی ایف جے کی رپورٹ کے مطابق ایک سال میں سب ے زیادہ ہلاکتیں2006میں ہوئیں تھیں جن کی تعداد155 تھی ۔ رپورٹ میں بیان کردہ تفصیل کے مطابق 1990کے بعد اب تک عراق میں ہلاک ہونے والے صحافیوں کی تعداد309ہے ۔ اس کے بعد فلپائن کا نمبر ہے جہاں146صحافی ہلاک کئے گئے۔ تیسرے نمبر پر میکسیکو رہا جہاں ہلاک کئے جانے والے صحافیوں کی تعداد120تھی۔ پاکستان کا نمبر چوتھا ہے جہاں1990کے بعداب تک کل115صحافی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔109کے ساتھ روس پانچویں نمبر پر رہا۔ رپورٹ کے اندر علاقائی ترتیب کے لحاظ سے بھی ایک جائزہ پیش کیا گیا ہے ۔اس کے مطابق سب سے زیادہ صحافی ایشیا پیسیفک میں ہلاک ہوئے اس کے بعد مشرق وسطی کا نمبر آتا ہے اور تیسرے نمبر پر امریکی براعظم کے ممالک شامل ہیں۔
صحافت کوئی جرم نہیں ہے اور نہ ہی اس سے وابستہ ہونا کسی قانون کی خلاف ورزی ہے لیکن اس کے باوجود اس پیشہ سے وابستہ لوگوں کے بارے میں ریاستی اور حکومتی پالیسیوں سے واضح ہوتا ہے گویا صحافت ایک جرم ہے۔ ایک صحافی وہی کچھ عوام کے سامنے لاتا ہے جو وہ دیکھتا ہے اور وہی کچھ لکھتا ہے جو سچ ہوتا ہے اور بعض صورتوں میں اس کی سزا موت کی صورت میں دی جاتی ہے ۔پاکستان جیسا ملک جہاں کبھی بھی سیاسی استحکام نہ رہا ہواور نہ ہی وہاں جمہوری اصولوں کی روایات کو پنپنے دیاگیا ہو، وہاں آزادی اظہار کا تحفظ بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں بیک وقت بہت سے ایسے عوامل پروان چڑھتے رہے جنہوں نے پاکستان کو بدنامی کے اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے جس کے آگے صرف اب گہری کھائی ہی باقی رہ جاتی ہے۔ قلم اور سوچ دونوں کو ہر دور میں بھاری قیمت چکانی پڑی ہے۔ فوجی حکومتوں میں تو ایسا ہی ہوتا ہے کہ لیکن مقام افسوس ہے کہ جمہوری حکومتوں میں بھی صحافت کے سنہری اصولوں کو روندا گیا اور روندا جا رہا ہے۔
پاکستان میں آزادی صحافت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ وہ نظریہ ہے جس کا حقیقت اور سچ سے دور کا بھی واسطہ نہیں اور نہ ہی کسی جمہوری ریاست میں اس کا تصور ممکن ہے لیکن پھر بھی اسی کی آڑ میں صحافیوں کو قتل کیا گیا، ان کو کوڑے مارے گئے اور ان کو جنگی قیدیوں کی مانند پابند سلاسل کیا گیا۔ دھمکیاں دی جاتی رہیں، اغواء کیا گیا اور بعض کے بچوں کو بھی قتل کیا گیا ہے۔ پاکستان کے اندر گزشتہ کئی دہائیوں کی جنگ اور دہشت گردی کی صورت حال کا سب سے زیادہ سامنا فاٹا اور خیبر پختونخواہ کے قبائلی علاقوں کو ہے۔ یہ علاقے اس وقت دنیا میں خطرناک ترین تصور کئے جاتے ہیں ۔ سب سے ذیادہ صحافی زیادہ تر انہی علاقوں میں قتل کئے گئے ہیں۔ یہ لوگ وہاں کی حالات و و اقعات کی رپورٹنگ کرتے تھے۔ ان علاقوں میں آج بھی بہت سے علاقے صحافیوں کے لئے نو گو ایریا بنے ہوئے ہیں۔ گو کہ اس وقت پاکستان میں ایک منتخب جمہوری حکومت کا دور ہے لیکن بد قسمتی سے جمہوری حکومتوں میں غیر جمہوری سوچ رکھنے والے جب خود ہی آزادئ اظہار کو قتل کرنے لگیں تو کس سے امید رکھی جائے۔ سینیٹ کے چئیرمین کی طرف سے ایک صحافی کے خلاف کاروائی کا حکم ایک ایسی ہی شرمناک مثال ہے۔ ایک صحافی کی اس لئے تنزلی کر دی گئی کہ اس نے ایک تقریب میں وفاقی وزیر سے ایک سوال پوچھ لیا تھا۔ یہ حال ہے ہماری سیاسی رواداری کا ہے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان میں کبھی بھی نہ تو صحافت آزاد رہی ہے اور نہ ہی صحافی محفوظ رہا ہے۔ اس وقت بھی بہت سے نیوز چینلز پر کرپشن کے خلاف پروگرام چل رہے ہیں اور اس پر سیاسی حکومتی افراد کی طرف سے طرح طرح کے دباؤ ڈالنے کی خبریں منظر عام پر آرہی ہیں۔12۔2011 کی بات ہے کہ میں لاہور پریس کلب میں بیٹھاتھا ۔ میرے ساتھ ایک بڑے انگریزی اخبار کا چیف رپورٹر تھا۔ ہم باتیں کر رہے تھے کہ کسی نے اچانک اس کے کان میں کچھ کہا جس کے بعد وہ کچھ پریشان دکھائی دینے لگا۔ اس وقت تو کچھ نہیں بتایا لیکن اگلے دن پتہ چلا کہ اسے رات کو اغواء کرنے کی کوشش کی گئی جو ناکام ہو گئی اور بعد میں جان بچانے کے لئے ملک سے ہی راہ فرار اختیار کرنا پڑی۔ایک اردوماہنامہ کے ایڈیٹر کو لمبا عرصہ تک دھمکیوں کا سامنا رہا جو ایک بڑی مذہبی جماعت کی طرف سے دی جارہی تھیں اور پھر توہین رسالتﷺ کے الزام کے باعث کئی ماہ تک روپوشی کے بعد بالآ خر اسے بھی ملک سے باہر ہی تحفظ ملا۔ ایک انگریزی اخبار کے رپورٹر کو بھی اقلیتوں کے ایشوز پر لکھنے کی وجہ سے دھمکیوں والے خط ملتے رہے۔ ایک مشہور ہفت روزہ انگریزی میگزین سے وابستہ صحافی پر قاتلانہ حملہ کیا گیا اور تحفظ نہ ملنے پر اسے بھی پاکستان کو خیرباد کہنا پڑا۔ حال ہی میں ایک نیوز چینل کو ایک اسلامی ملک کے خلاف خبر نشر کرنے پر کئی لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی گئی جو باعث حیرت ہے۔
پاکستان میں اس وقت صحافی بے بس بھی ہیں اور بے حس بھی یعنی کچھ کر نہیں سکتے اور کچھ کرنا بھی نہیں چاہتے ۔ صحافیوں کی تنظیموں کے اندر بھی تفرقہ ڈال کر ان کو کمزور کرنے کی سازشیں عروج پر نظر آتی ہیں۔ پاکستان کے آئین میں اسلام اور جمہوریت دونوں کا ذکرتو ملتا ہے لیکن عملی طور پر دونوں کی ہی نفی ہو رہی ہے۔ اس صورت حال کے باعث عالمی سطح پر پاکستان کی شہرت خراب ہو رہی ہے۔ اب کچھ بھی زیادہ دیر تک ڈھکا چھپا نہیں رہ سکتا ، اس لئے ارباب بست و کشاد اور صحافیوں کو لفظ کی حرمت کے لئے چوکنا رہنے اور مثبت رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔