نیویارک کا باوا آدم

کہتے ہیں کہ نیویارک کا باوا آدم نرالا ہے۔ ہم اس پر ایمان کی حد تک یقین رکھتے ہیں۔ اور ساتھ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ نیویارک کے کئی باوآدم ہیں۔ لیکن سب سے طاقتور اور معتبر باوا آدم ” ڈالر“ ہے۔ جس کی دن رات پرستش کی جاتی ہے۔ جس کے سامنے خودی اور اَنا کو بالائے طاق رکھا جاتا ہے۔ جس کے سامنے خویش و درویش سارے ہیچ۔ جس کے سامنے سارے کج کلاہ سجدہ ریز، لوگ تو اپنی دہلیزوں پر چھپ چھپ کر گھی کے دیئے جلاتے ہیں لیکن وہ معتبر باوا آدم اک نگاہِ غلط انداز سے بھی نہ دیکھے۔ لیکن بے چارے گاتے جائیں ”کب ہوں گے درشن تیرے“۔ لیکن اس سب کے باوجود نیویارک ملک کے غنی شہروں میں شمار کیا جاتا ہے۔

نیویارک میں بے بہا دولت ہے۔ ایسی دولت جو علی بابا کی پرپیچ غار میں بھی نہ ہو۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ نیویارک بڑا غریب پرور شہر ہے۔ ضرور ہو گا کیونکہ اس شہر پرہنگام میں ملازمتوں کی بھی یلغار ہے۔ لیکن ملازمت کیسی؟ ایسی کہ جس میں دو وقت کی روٹی پوری نہ ہو۔ مزدور کار ایک دن میں دو دو جگہوں پر کام کرتے ہیں اور دوسری ملازمت کے لئے آنکھیں وا رکھتے ہیں، جہاں کہیں ایک ڈالر کی زیادہ ملازمت دیکھتے ہیں دوڑ پڑتے ہیں۔ بجلی، گیس، پانی، انکم ٹیکس، کرایہ، سب وے، ان کی تنخواہوں کو یوں کھا جاتا ہے جس طرح لکڑی کو آگ۔

ہم بالخصوص تارکین وطن کی بات کر رہے ہیں۔ جو کرہ ارض کے چاروں کونوں بسیار مشکلات کے بعد عرس البلاد نیویارک کسی نہ کسی طرح پہنچ جاتے ہیں اور یہاں ان کا سنگین ترین مسئلہ یہ ہوتا ہے ” ہم نے مانا کہ رہیں دلی میں، پر کھائیں گے کیا “ دوسری مشکل زبان کا مسئلہ ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ تارکین وطن چار چار پانچ پانچ سال سے امریکہ کی مختلف ریاستوں میں مقیم ہیں لیکن زبان سے سراسر ناآشنا ہیں۔ اس بات کا تجربہ ہمیں کیلی فورنیا میں بطور خاص ہؤا ہے۔ کیلی کورفیا کی سٹیٹ واقعی سونا اگلتی ہے اور اس کے حصول کے لئے تارکین وطن اس طرف کا رخ کرتے ہیں جن میں بطور خاص میکسیکو سے آئے ہوئے تارکین وطن کی کثرت ہے۔ وہ سخت سے سخت مشقت کرنے سے گریزاں نہیں، ایک ایک کمرے میں چار چار لوگ رہتے ہیں۔ وہ کھیتوں میں بارہ بارہ چودہ چودہ گھنٹے سٹرابری، مالٹے، انگور وغیرہ اتارتے ہیں۔

زمیندار کی لاری میں گھر سے کھیت لائے جاتے ہیں اور کھیت سے واپس گھر، نہ جانے ان کو معلوم بھی ہے کہ وہ کہاں ہیں؟ ان کے سامنے ٹنوں کے حساب سے سونا بکھرا ہؤا ہے لیکن ان کے حصہ میں صرف پسینہ کی بوندیں ہیں، اسی لئے مقامی لوگ میکسیکو کے مزدوروں کو Net Back کہتے ہیں:

تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات

ہم واپس نیویارک کی طرف آتے ہیں۔ نیویارک میں ملازمت آسانی سے اس لئے مل جاتی ہے کہ دوسرے بڑے شہروں کی طرح یا ان سے بھی زیادہ روزگار کے مواقع وافر ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے نیویارک دن رات جاگتا رہتا ہے۔ شہر کی دکانیں، کاروبار دن رات کھلے رہتے ہیں۔ ہر بزنس سات دن کھلا رہتا ہے۔ جسے انگریزی زبان میں Twenty Four Seven یعنی (ساتوں دن چوبیس گھنٹے) کہا جاتا ہے۔

یہ نیویارک ہے۔ برف گر رہی ہے۔ یخ بستہ موسموں کی یلغار ہے۔ ہم نے یہاں مولانا ناصر علی سید کو خداحافظ کہا۔ ہمارا پروگرام تو تھا کہ مل کر دھمال مچائیں گے۔ یا وا توتی کریں گے۔ لیکن مولانا ناصر علی سید کو مشاعروں کا چسکا پڑ چکا تھا۔ اس لئے وہ نیویارک سے ہیوسٹن مشاعرہ بازی کیلئے تشریف لے گئے۔ اور ہم مسافروں کی طرح ہوٹل چل دیئے۔ اگلے دن عین صدیقی صاحب نے اعلان کر دیا کہ ناشتہ مقامی پاکستانی/انڈین ریسٹورنٹ میں کریں گے جس سے وہ بخوبی واقف ہیں۔ اور ہوٹل سے زیادہ دور بھی نہیں۔ ریسٹورنٹ واقعی کمال کا تھا۔ حلوہ پوری اور چھولے سے لے کر پائے اور نہاری تک اور بالوشاہی سے رس ملائی تک سبھی دعوت نظر دے رہے تھے۔ متین جان نے چپکے سے آرڈر دے دیا اور ہماری میز پر پائے کا طشت نازل ہو گیا۔ خانسامہ نے کہا یہ پائے کل سے ہلکی آنچ پر پک رہے ہیں۔ آپ مایوس نہ ہوں گے۔ بالکل تازہ ہیں، ذرا چکھ کر دیکھیں۔ لیکن ہم نے چکھنے تک اپنے آپ کو محدود نہ رکھا۔ غالب کی روایت کو زندہ رکھا ” پائے ہوں، لذیذ ہوں اور بہت ہوں“ اب دوپہر ہونے کو تھی ہم نے واپس بنگ ہمیٹن (ایک سٹیٹ) جانا تھا جو چار گھنٹے کی مسافت پر تھی۔ برف بدستور گر رہی تھی۔ درجہ حرارت انجماد پر تھا۔ سڑکیں بدستور جل تھل تھیں۔ لوگ باگ بے نیازیوں سے جادہ پیما تھے۔ ہم بھی مقالے کے مطابق Do in Rome as Roman's do ہم بھی دیوانوں کے ہجوم میں عازم منزل ہوئے۔

تیر الزام بھی سنگ دشنام بھی!
صبح ناشاد بھی، روز ناکام بھی!
رخت دل باندھ، دل فگارو چلو!!

جوں جوں نیویارک سے دور ہوتے جا رہے تھے برف کی یلغار میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ لیکن سڑکیں صاف تھیں۔ جابجا سڑکیں صاف کرنے والی گاڑیاں مستعد تھیں۔

کوئی دو گھنٹے کی مشکل ڈرائیونگ کے بعد عتیق جان نے دونوں آنکھیں ساری کھول کر میرے چہرے کے قریب ہو کر کہا ” مجھے سخت نیند آ رہی ہے“۔ ہم سمجھ گئے کہ یہ خمار پا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اس وقت مشرق وسطیٰ میں قیلولہ کا وقت تھا اور جنوبی امریکہ میں Siesta کا وقت بھی تھا۔ ہم ریسٹ شاپ پر رک گئے۔ عتیق جان نے اپنی سیٹ کو سیدھا کیا تکیہ پر سر رکھتے ہی ان کی سانسوں میں ”خمار پا“ گواہی آنے لگی۔ یہ ریسٹ سٹاپ بھی نیویارک کی طرح نرالا تھا۔ اندر کل جہاں آباد تھا۔ نوادرات کی دکانیں تھیں، ریسٹورنٹ اور کافی شاپ تھیں، پوسٹ آفس تھا، پولیس اسٹیشن تھا، فائر اسٹیشن تھا، انٹرنیٹ کنیکشن تھے، اونی ٹوپیاں، دستانے، مفلر خوب بک رہے تھے۔ آدھ گھنٹہ نیند کے بعد عتیق جان مسکراتے ہوئے بشاش نمودار ہوئے۔ کافی شاپ کی اندرونی دھند نے کھڑکیوں کو کہرآلود کر رکھا تھا۔ گرم کافی شاپ اور گرم کافی نے بڑا مزہ دیا۔ عتیق جان کہنے لگے ”اب میں بالکل بشاش ہوں، اب صرف دو گھنٹے کی ڈرائیو رہ گئی ہے“۔ برف گرتی رہی۔ یخ بستہ ہوائیں چلتی رہیں۔ اندھیری رات مزید اندھیری ہوتی رہی۔ یہ سارا پہاڑی علاقہ تھا۔ دعاکر رہے تھے کہ راہ میں کوئی مصائب نہ ہوں۔ ٹریفک کم تھی۔ اندھیرے زیادہ تھے۔ دور روشنیاں نظر آئیں تو عتیق جان کہنے لگے ”اس شہر کی کافی بے حد لذیذ ہے، وہاں ٹھہریں گے۔ نیند آنے والی ہے“۔ ہم نے پوچھا آپ نے یہاں کافی پی ہے۔ کہنے لگے ”ہرگز نہیں لیکن روشنیاں تو ہیں“۔

تیرگی تو بہرحال چھوٹ جائے گی
نہ آئی راس ہمیں روشنی تو کیا ہو گا؟

(باقی اگلی ملاقات پر)