لاہور شہر کتاب و انقلاب
- تحریر فرخ سہیل گوئندی
- بدھ 10 / فروری / 2016
- 4748
انقلاب کی ایک تعریف یہ ہے کہ ’’انقلاب ایک مسلسل عمل ہے۔‘‘ یہ تھیوری ٹراٹسکی کے مارکسی فلسفے کو یوں بیان کرتی ہے کہ سماج ہروقت سماجی، اقتصادی، معاشی، سیاسی، ثقافتی ترقی کے ایسے عمل میں متحرک ہوتے ہیں کہ اگر آپ حال اور ماضی میں نظر دوڑائیں تو آپ کو ایک واضح فرق نظر آتا ہے۔
سماج کی بدلتی ہوئی پرتوں Permanent Revolution کے اس عمل کو کوئی نہیں روک سکتا۔ کبھی کبھار انقلابِ مسلسل کے دوران اتنے بڑے ابھار آتے ہیں کہ سماج کے اندر انقلابِ مسلسل کا عمل پھوٹ کر ایک بڑا انقلاب برپا کر دیتے ہیں۔ انقلابِ مسلسل یا یک دم انقلاب کا بڑا اظہار سماجی تبدیلیوں اور فکر کا مرہونِ منت ہوتا ہے۔ پاکستان میں 1973ء کے آئین تک پہنچتے پہنچتے نئی ریاست اور قوم کو 26 سال لگ گئے۔ قوم ایک آئین پر متفق ہوگئی۔ جمہوریت اور اسلام کے تصادم کی بحث یہیں ختم ہو جانی چاہیے تھی کہ آئین اسلامی بھی ہے اور جمہوری بھی اور دونوں فکر کے لوگ اس پر متفق ہوگئے تھے۔ وہ سیاسی اور مذہبی قوتیں جو ریاست کے آئین اور قوانین کو اسلامی بنا کر ریاست کو ایک مکمل اسلامی ریاست اور قوم کو ایک شان دار مسلمان قوم بنانے کی جدوجہد کر رہی تھیں، اُن کے لئے یہ ایک سنگ میل،ایک تاریخی موڑ تھاکہ آئین اور قوم اسلامی ہوگئے اور یہ کہ اب اسلام نافذ ہوگیا۔ اسی طرح جمہوری یا روشن خیال فکر کے لوگوں نے بھی یہ یقین کرلیا کہ اب آمریت اور بوناپارٹ ازم کا راستہ بند ہوگیا اور اب جمہور کا راج اور جمہوری نظام قائم ہوگیا۔ ریاست اور سماج جمہوری (Democratize) ہوگیا۔ لیکن ذرا غور کریں کہ آئین جس میں درج تھا کہ جو آئین ختم یا معطل کرے غدار قرار دیا جائے گا، اس جمہوری آئین کی دھجیاں اس کی تشکیل کے چند برس بعد ہی اڑا دی گئیں۔ آئین سے غداری پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل ضیاالحق نے کی اور 5جولائی 1977ء کو آئین معطل اور جمہوریت کی بساط لپیٹ دی گئی۔ اور اب اُن لوگوں نے جو ریاست کو ایک مکمل اسلامی ریاست بنانے کے خواہاں تھے، اپنا ہر خواب حقیقت بنتے دیکھا ۔ جنرل ضیا نے قوانین کو اسلامی کرنے کا اعلان اور آغاز کردیا اور مرتے دم تک ا (Islamization)کا عمل جاری رکھا۔
آج سوال یہ ہے کہ 5جولائی 1977ء سے 12اکتوبر 1999ء تک دو بار فوجی آمریت مسلط ہوئی تو پھر جمہوریت کہاں قائم ہوئی؟ اور اسی طرح کیا ریاست کا آئین اور قوانین اسلامی بنانے سے ریاست، سماج اور قوم ایک عظیم مسلمان قوم میں بدل گئے؟ جمہوریت کے اس سفر میں وہ سیاسی جماعتیں جو روشن خیال ، ترقی پسند اور ایک Democratize سماج کی علمبردار تھیں، اُن کے ہاں شکست کے رویے نے طاقت پکڑنا شروع کردی جبکہ اسلامی نظام کے علمبرداروں اور مختلف دعوے داروں نے بندوق اٹھا لی اور ریاست و سماج کو بندوق کی نوک اور دہشت و خوف سے بدلنے کا آغاز کردیا۔ لیکن ذرا غور کریں اس انقلابِ مسلسل پر جو سماج میں ان دونوں دھاروں کے متبادل کے طور پر برپا تھا اور ہے، یعنی بندوق کی نوک اور دہشت و خوف، اور اسی طرح اُن روشن خیال ترقی پسندوں کے جو سماج کو اپنی جدید فکر کی شکست دیکھ کر ہتھیار ڈال کر سامراج کو ڈونرز کے ذریعے بدلنے پر گامزن ہوگئے۔ اس وقت دونوں ہی غیراہم ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ جب سماج میں ایک لہر انقلابِ مسلسل کی چل رہی ہے ۔ پاکستان میں کتاب میلے، نئی کامیاب فلمیں، جدید لکھاری اور ہر شعبے میں تخلیق کاروں کی کامیاب کہانیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ اِن میں اگر آپ کتاب میلوں اور علمی میلوں (لٹریری فیسٹیولز) پر نظر دوڑائیں تو خوشی بھری حیرانی ہوتی ہے کہ یہ کون سا پاکستان ہے جو ایک لہر کے طور پر آگے بڑھ رہا ہے۔
لاہور، کراچی، فیصل آباد، پشاور، اندرونِ سندھ، کوئٹہ، گلگت، بلتستان، سرگودھا، ملتان، گجرات، کسی شہر کا نام لیں، وہاں کتاب میلے برپا ہورہے ہیں۔ یہ کس پاکستان کی نوید دے رہے ہیں؟ جہاں نئے لکھنے والے، نئے مترجمین، نئے اشاعتی ادارے، نئی کتابیں، نئے موضوعات، نئے پڑھنے والے، ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں شرکت کررہے ہیں۔ اس وقت کہ جب کہا جا رہا ہے کہ ’’الیکٹرانک میڈیا آزاد ہوگیا‘‘ اور یہ کہ ’’الیکٹرانک میڈیا پاکستان کی قسمت بدل دے گا‘‘ اِن دعوؤں میں یہ لاکھوں لوگ اِن کتاب میلوں میں کیوں امڈ آتے ہیں جو یہ یقین رکھتے ہیں کہ کتابیں سماج بدل دیتی ہیں، کتابیں انقلاب برپا کر دیتی ہیں۔ کتابیں پڑھنے والی آج کی یہ نسل اس انقلابِ مسلسل کا ہراول دستہ ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ علم اور فکر، نظریہ اور تحقیق اور شعور کا جو اثر تحریر اور تحقیق رکھتی ہے، وہ اثر آئین نافذ کرنے، قوانین بنانے، بندوق اٹھانے، دہشت پھیلانے، الیکٹرانک میڈیا میں شور مچانے اور سامراج کے مختلف اداروں کے فراہم کردہ فنڈز کے ذریعے قائم نہیں ہوسکتا۔ ایک امریکی یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق، دنیا میں اگلے سو سال میں پرنٹ میڈیا اور کتاب کا اہم کردار ہے اور اس حوالے سے پاکستان اُن سات سرفہرست ممالک میں شامل ہے جہاں پرنٹ میڈیا اور کتاب اپنا اثر قائم کرے گی۔
لاہور جسے برصغیر کی سیاسی، عملی،، فکری، ادبی اور سماجی تحریکوں کا مرکز کہا جاتا ہے۔ اسی لاہور کی ایک شناخت یہ بھی ہے کہ برصغیر پاک و ہند میں لاہور، کلکتہ کے بعد اشاعت کاری کا بڑا مرکز بنا اور آج بھی پاکستان میں اشاعت کاری کا بڑا مرکز یہی شہر لاہور ہے۔ اس شہر میں بڑے ادیب، دانشور، محقق، علمائے کرام رہنے بسنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ اسی شہر میں آج بھی پاکستان کے بڑے ادیب، دانشور، محقق، علمائے کرام کی کتابیں شائع ہوتی ہیں اور اسی طرح دنیا کے ہمعصر ادیبوں، دانشوروں، رہنماؤں کی کتابوں کے تراجم بھی اسی شہر سے شائع ہوئے ہیں ۔ علم و فکر، شعور و آگہی کے اس سفر میں لاہور ایک انقلابِ مسلسل میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
ہمارے ملک میں زیادہ تراشاعتی مواد آج بھی اسی شہر سے شائع ہوتا ہے۔ اسی شہر سے کتاب میلوں کا آغاز ہؤا اور آج پورا ملک اسی شہر کے کتاب میلوں کے نقشِ قدم پر چل رہا ہے۔ ایک متبادل پاکستان جہاں انقلابِ مسلسل رواں دواں ہے جو علم و فکر، تحقیق و مطالعے، شعوروآگہی سے پاکستان بدلنا چاہتا ہے۔ ایسے پاکستان کا سرچشمہ پاکستان کے دل لاہور سے پھوٹتا ہے۔ لاہور میں جاری تیسواں لاہور انٹرنیشنل بُک فیئر اس روایت کا بانی ہے جس کا آغاز تیس سال قبل ہؤا اور کراچی نے جس روایت کو آگے بڑھایا۔ آج اس طرح کے سرچشمے وطن عزیز کے ہرشہر میں پھوٹ رہے ہیں۔ کتاب لکھنے، شائع کرنے اور پڑھنے والے یہ لوگ پاکستان کو آئین اور قوانین، بندوق اور دہشت سے نہیں بلکہ اپنے علم، فکر اور نظریے سے بدلنا چاہتے ہیں۔ 4 سے 8 فروری تک جاری لاہور انٹرنیشنل بُک فیئر اس روایت کا بانی ہے جسے کتاب دوستی قرار دیا جاتا ہے۔
لاہور کے باسیوں نے جس سفر کا آغاز ایک چھوٹے سے کارواں سے کیا تھا آج یہ کارواں ہرسو نظر آتا ہے۔ کتاب کا کارواں، انقلابِ مسلسل کا کارواں، علم و شعور، نظریے وفکر کا کارواں۔ پاکستان کو ایک جدید، پُرامن، خوش حال اورترقی یافتہ ملک بنانے کا کارواں۔ اپنے آپ کو بدلنے کا کارواں۔ تخلیق کاروں اور علم دوستوں کا کارواں۔