یورپ میں اسلام مخالف مظاہرے

یورپ کے کئی ممالک میں اسلام مخالف احتجاج کرنے والے لوگوں اور امیگریشن دوست گروہوں کی جھڑپوں میں کئی لوگ زخمی ہوگئے۔ جرمنی ہزاروں قوم پرستوں نے اسلام اور پناہ گزینوں  کے خلاف احتجاج کیا۔ اسے اپنی نوعیت کا یورپ کا سب سے بڑا احتجاج کہا جا رہا ہے۔اس گروپ کا نام (PEGIDA) پیگیڈا ہے جس کی بنیاد جرمنی کے (Dresden) دریسدین شہر میں 2014 میں رکھی گئی تھی۔  یہ گروپ مسلسل اسلام اور امیگریشن کے خلاف آواز اٹھا رہا ہے۔ حال ہی میں اس کی مقبولیت میں اضافہ بھی ہؤا ہے۔ اس کے علاوہ  فرانس، برطانیہ، پولینڈ، چیک ری پبلک اور ہالینڈ میں پیگیڈا کا احتجاج دیکھا گیا ۔ یہ گروپ ایشیا، افریقہ اور مشرق وسطیٰ سے آئے ہوئے ان لوگوں کے خلاف ہے جو وہاں کی خانہ جنگی سے تنگ آکر یورپ پہنچ رہے ہیں۔

ہفتہ کوچیک ری پبلک کی راجدھانی (Prague)پراگ اور (Brno) برنو شہر میں بڑے پیمانے پر ہزاروں کی تعداد میں اسلام مخالف پیگیڈا گروپ کے لوگوں نے مظاہرہ کیا ۔ اسلام مخالف تحریک کے لیڈر مارٹن کونویکا کا کہنا ہے کہ جس طرح سے یورپ میں مہاجرین کی مسلسل آمد ہو رہی ہے اس سے ہمارے ملک کی سلامتی اور امن کو شدید خطرہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم احتجاج کر رہے ہیں۔ دریں اثناء برمنگھم میں بھی لگ بھگ ایک سو پچاس پپیگیڈا کے حامیوں نے احتجاج کیا تو اس کی مخالفت میں لگ بھگ ساٹھ لوگوں نے بھی جوابی مظاہرہ کیا۔ (EDL-English Defence League) انگلش ڈیفنس لیگ کے سابق لیڈر ٹومی روبنسن نے اس احتجاج کی قیادت کی۔ وہ دو سو لوگوں کے پیگیڈا گروپ کے حامیوں کا جلوس لے کر  برمنگھم انٹر نیشنل اسٹیشن سے سیٹی سینٹر کے قریب پہنچے اور بزنس پارک پر اپنا احتجاج ختم کیا۔ ٹومی روبنسن اپنے دیگر حامیوں کے ساتھ ہاتھ میں ایک بینر تھامے ہوئے تھے جس پر لکھا تھا ’ آزادی کی حفاظت کرو اور نفرت کو مسترد کرو‘۔ اس کے بعد ٹومی روبنسن نے دو سو لوگوں کے گروپ کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ ہم لوگ (Islamisation)اسلامائیزیشن کی مخالفت صرف اپنے ملک میں نہیں کر رہے ہیں بلکہ اس کی مخالفت پورے یورپ میں ہورہی ہے۔ ہم لوگ یوروپین یونین میں شامل ہیں اس لئے اس کا اثر ہم پر بھی پڑیگا اور اس کی ذمہ دار جرمنی چانسلر انجیلا مارکیل ہے۔ جس نے مہاجرین کو یورپ میں لانے کا مشورہ دیا ہے۔ ہمارے ملک میں پہلے ہی سے مختلف نسل کے لوگ آباد ہیں اور میں نفرت کی تلقین نہیں کرتا ہوں بلکہ اس کی مخالفت کرتا ہوں ۔ میری ماں تارک وطن ہے اور میں بھی ایک تارک وطن ہوں ۔ میں اسلاما ئیزیشن کے خلاف ہوں اورمجھے اس بات کی پراوہ نہیں ہے کہ یہاں کون آرہا ہے۔ مگر ہمیں خوف ہے کہ یہ لوگ یہاں آکر ہمیں نقصان پہنچائیں گے۔ سوسائٹی پر اسلام کا اثر ورسوخ کا بڑھنا اچھی بات نہیں ہے۔ کیونکہ جتنا اسلام فروغ پائے گا اتنا ہی ہماری آزادی کم ہوگی جو کہ ایک سچائی ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں مسلمانوں کو جرمنی لانا غلط  تھا۔ اب یہ مسلم رفیوجی عورتوں کی عزت لوٹ رہے ہیں اور کہیں  لوگوں کی جان لے رہے ہیں۔‘

اس کے علاوہ پولینڈ کے دارالحکومت وارسا  اور آسٹریا کے شہر گراز میں بھی اسی طرح کے احتجاج اور اس کے خلاف مظاہرے ہوئے۔ ہالینڈ کے شہر ایمسٹرڈم میں پہلی بار ایسا مظاہرہ ہؤا اور پیگیڈا کے حامیوں اور پولیس میں جھڑپ بھی ہوئی۔  اس احتجاج میں پیگیڈا کے صرف دو سو حامیوں نے حصہّ لیا جبکہ با ئیں بازو کے حامیوں نے ان کے خلاف مظاہرہ کیا۔ وہ نعرے لگا رہے تھے کہ ’ رفیوجیوں کا استقبال ہے فاشسٹ کا نہیں‘۔ اس احتجاج اور اس کے خلاف مظاہرے کے دوران گھوڑ سوار پولیس نے کئی لوگوں کو گرفتار بھی کیا۔
فرانس کے کالیس شہر میں  پیگیڈا کے مظاہرے پر پابندی لگا دی گئی تھی، اس کے باوجود جب پیگیڈا کے حامیوں نے احتجاج کرنا چاہا تو پولیس نے ان لوگوں کو روکنے کے لئے سخت قدم اٹھائے۔ واضح رہے کہ  لگ بھگ پانچ ہزار مہاجرین  کالیس میں کھلے آسمان تلے سو رہے ہیں اور ان کا کوئی پر سانِ حال نہیں ہے۔ پیگیڈا کے حامی ان کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے  نعرے لگا رہے تھے کہ ’ یہ ہمارا گھر ہے تارکین وطن واپس جاؤ‘۔

اسی مہم جوئی کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ  اتوار کو برطانیہ میں لگ بھگ نوے مساجد نے اپنے دروازے غیر مسلموں کے لئے کھولے تا کہ وہ مساجد میں آکر لوگوں سے ملیں اور جانیں کہ آخر مسلمان مسجد میں کیا کرتے ہیں۔  برطانیہ کی مساجد کو دوسری مرتبہ دیگر مذاہب کے لوگوں کے لئے دروازہ کھولا گیا تھا۔ مسلم کونسل آف بریٹین نے اس موقعہ پر کہا کہ انہیں امید ہے کہ اس سے مذاہب کے درمیان جو تناؤ پایا جا رہا ہے اس سے کمی آئیگی۔ اس سال مساجد کا دروازہ کھولنے میں ذیادہ مساجد نے حصہّ لیا ہے جس کی تعریف کی جارہی  ہے۔ برطانیہ میں تین میلین مسلمان ہیں جو کہ ملک کی کُل آبادی کی نصف  فی صد ہے جبکہ یہاں 1,750مساجد ہیں۔
مساجد کے دورے کا اہتمام (The Visit My Mosque Day) یورپ میں پیگیڈا احتجاج کے ٹھیک ایک دن بعد ہؤا۔ لندن کے (Regents Park) ریجینٹس پارک کا اسلامک کلچر سنٹر ہرے بھرے درختوں سے گھرا اپنی  ہے اور یہ اپنے مینار کی خوبصورتی کے سبب ایک شاندار مسجد  ہے ۔ اس کے خوبصورت فانوس کو دیگر مذاہب کے لوگ دور سے دیکھتے تھے۔ لیکن آج ان لوگوں کو اس عالیشان مسجد کا اندر آنے کی دعوت دی گئی تا کہ وہ ان مینار اور فانوس کے علاوہ اس بات سے بھی روشناس ہوں کہ آخر مسلمان مسجد میں کیا کرتے ہیں اور ان کا حسنِ سلوک کیسا ہے۔

بیالیس سالہ بیریٹ ایس جو کہ پیشے سے لیکچرر ہیں ان کا کہنا ہے کہ ’ میں جب بھی اپنے بچوں کے ساتھ یہاں سے گزرتی تھی تو میرے بچے ہمیشہ اس عمارت کو دیکھتے اور باتیں کرتے تھے۔ لیکن آج وہ بچوں اور شوہر کے ساتھ مسجد میں داخل ہو کر اور لوگوں سے مل کر بے حد مسرت محسوس کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ ہم مذہب کو نہیں مانتے لیکن ہم لوگ مُتنّوع کمیونیٹی میں رہتے ہیں اور میں چاہتی ہوں کہ ہمارے بچے تمام مذاہب کے بارے میں جانیں جو کہ نہایت ضروری ہے۔ ہمارے لئے ا ہم چیز عقیدہ نہیں ہے بلکہ عزت ہے۔‘
ریجنٹس پارک مسجد میں آنے والی ایسی ہی ایک اور وزیٹر نادیہ فاتو تھی جو کہ مسلمان ہیں اور باقاعدہ اس پر عمل کرتی ہیں۔ آج وہ اپنی دوست بین چیپل جو کہ ایک غیر مسلم ہے کے ساتھ آئی تھیں۔ نادیہ کا کہنا ہے کہ وہ اکثر اسلام کی تعلیم اور اس کے متعلق غلط فہمیوں کا سامنا کرتی ہیں۔ نادیہ کو اگر حجاب پہنے تو انہیں اس کے متعلق باتیں بہانہ بنانا پڑتا ہے۔  تاہم یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پیرس حملوں کے بعد لندن میں مسلمانوں کے خلاف حملوں میں اضافہ ہؤا ہے۔ جس سے انتظامیہ اور پولیس دونوں پریشان ہیں۔ اس کے علاوہ حجاب پہننے والی لڑکیوں اور عورتوں پر بھی حملے بڑھ گئے ہیں۔ لندن ٹرانسپورٹ میں مسلمان عورتوں کو فحش گالیاں اور جسمانی حملے برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ اس کے تدارک کے لئے برٹش پولیس نے ٹرینیوں اور بسوں میں پولیس کا گشت بڑھا دیا ہے۔

اسلام کے خلاف زہر اگلنا چند لوگوں کی ایک ناپاک سازش ہے جو حضرت محمد ﷺ کے دور سے ہی جاری ہے لیکن ہمارے پیارے نبی نے  اس کا کوئی جواب نہیں دیا بلکہ انہوں نے اپنی خوش اخلاقی اور نیک سیرت سے ظلم کو برداشت کیا۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ آج اسلام حاسدوں کی نظر میں کھٹکتا  ہے۔ یہ لوگ اس مذہب کی سادگی اور اچھائیوں سے خوف زدہ ہیں ۔ البتہ میں اتنا ضرور کہنا چاہوں گا کہ اگر ہم اپنے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کے نقش قدم پر چلنے کی ٹھان لیں تو یہ مٹھی بھر لوگ جو اسلام کو برا بھلا کہہ رہے ہیں، ان کا رویہ تبدیل ہو جائے گا۔ کیونکہ مسئلہ مذہب کا نہیں ہے بلکہ اس کے چند ماننے والوں کا ہے جن کی غلط تشریحات، غلط فہمیوں اور روایتی مذہب پر عمل کرنے کی وجہ سے اسلام  کی بدنامی ہو رہی ہے۔