وہ موت رکھ کے ہتھیلی پہ سوئے دار گیا
- تحریر ڈاکٹر عارف محمود کسانہ
- بدھ 10 / فروری / 2016
- 10864
“ میں اپنا خون دے کر ثابت کروں گا کہ میں کس مقصد کے لیے جدوجہد کررہاہوں “۔ مقبول بٹ نے 11 فروری 1984 کو تہاڑ جیل دہلی میں تختہ دار پر آزادی کا نعرہ بلند کرکے اُن عناصر کا منہ بند کردیا جو حد متارکہ کے ایک طرف انہیں پاکستان کا ایجنٹ کہتے تھے اور کچھ انہیں بھارت کا ایجنٹ قرار دیتے تھے۔ انہوں نے پھانسی کے پھندے کو چومتے ہوئے دنیا کو بتا دیا کہ کشمیری موت سے نہیں ڈرتے اور وہ صرف اور صرف کشمیری قوم کے ایجنٹ ہیں ۔ اُن کی جدوجہد کی طویل داستان خود اُن کی زبانی کچھ یوں ہے:
ہزار دشت پڑے لاکھ آفتاب ابھرے
جبیں پہ گرد پلک میں نمی نہیں آئی
کہاں کہاں نہ لُٹا قافلہ فقیروں کا
متاع درد میں لیکن کمی نہیں آئی
تاریخ انسانی میں بہت بہادر اور نڈرانسان گذرے ہیں لیکن مقبول بٹ جیسا جری اوربہادر انسان شاید ہی تاریخ انسانی میں ملے۔ یہ ایک محض جذباتی جملہ نہیں بلکہ واضع حقیقت ہے کہ اگر کسی کوپھانسی کی سزا سُنائی گئی ہو، جہاں کی حکومت بھی اُس کی جانی دشمن ہو اور وہ پھانسی کی کوٹھڑی توڑ کر دشمن کی قید سے باہر نکلا ہو اور سب نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے پھر ایک بار موت کی طرف واپس جانے کی ہمت کرے وہ مقبول بٹ ہی ہوسکتا ہے اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ مقبول بٹ کو اگر ذرا بھی موت کا خوف ہوتا تو وہ کبھی بھی سزائے موت کے فیصلہ کے ہوتے ہوئے دوبارہ وادی کشمیر میں نہ جاتے۔ انہیں پھانسی دے کر غاصب قوتوں نے یہ سمجھا ہو گا کہ اب تحریک آزادی ختم ہوجائے گی اور کشمیری قوم خاموش ہو کر بیٹھ جائے گی مگر یہ اُن کی خام خیالی ثابت ہؤا اور شہید کے خون سے جلنے والے چراغ کی لو سے وادئ کشمیر روشن ہونے لگی اور عوامی بیداری کی وہ لہر اٹھی کہ 1988 کے بعد سے کشمیری قوم نے یک زبان ہو کر کہا کہ ہم صرف آزادی چاہتے ہیں۔ ہم نہ ہی ریاست جموں کشمیر کی تقسیم چاہتے ہیں اور نہ ہی غیر ملکی تسلط تسلیم کریں گے۔ مقبول بٹ نے کشمیری نوجوانوں میں آزادی کی روح پھونک دی اور علامہ اقبال کے پیغام کو درست ثابت کردیا:
جس خاک کے خمیر میں ہو آتش چنار
ممکن نہیں کہ سرد ہو وہ خاکِ ارجمند
انہوں نے سیالکوٹ جموں کی سرحد پر واقع سوچیت گڑھ کے مقام پر مادروطن کی مٹی کو ہاتھ میں لےکر جو حلف اٹھایا تھا اُسے سچ کردکھایا۔ اقوام متحدہ کی بے عملی اور مسئلہ کشمیر کے حل میں ناکامی اور تاخیری حربوں سے کشمیری قوم بیزار ہورہی تھی۔ دنیا کے منصفوں کو کشمیرکی وادی میں بہتے ہوئے لہو کا جب شور سُنائی نہیں دے رہاتھا تو مقبول بٹ نے اپنی قوم کو بتا دیا کہ آزادی مانگنے سے نہیں چھیننے سے ملتی ہے۔ غلامی کے اندھیروں کو اپنے خون کے چراغ جلاکر ہی روشن کیا جاسکتا ہے اور دوسروں پر تکیہ کرکے آزادی کے خواب دیکھنا محض خوش فہمی ہوگا۔ انہوں نے کشمیری نوجوانوں پر واضح کردیا کہ:
مغرب کے سیاستدانوں سے امید نہ رکھ آزادی کی
طاقت سے کشمیر چھڑا یا آرزوئے کشمیر نہ کر
آج مقبول بٹ کا نام ایک تحریک کا نام بن گیا ہے۔ کشمیری نوجوان خواہ کسی بھی جماعت سے تعلق رکھتا ہو وہ شہیدِ کشمیر کی جلائی ہوئی شمع کی روشنی میں آزادی کے لئے مصروف جدوجہد ہے۔ مقبول بٹ نے جب یہ دیکھا کہ کشمیری عوام کو اعتماد میں لئے بغیر اور ناقص منصوبہ بندی کے باعث آپریشن جبرالٹر کی ناکامی، 1965 کی پاک بھارت جنگ اور معاہدہ تاشقند کے بعد مسئلہ کشمیر کو سرد خانے میں ڈالا جارہا ہے تو انہوں نے مسلح جدوجہد کا راستہ اپنایا۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے اپنے ساتھی میجر امان اللہ کے ہمراہ بھارتی زیر قبضہ کشمیر میں جاکر کشمیری نوجوانوں کو تربیت دینا شروع کی۔ ایک مقابلہ میں بھارتی آفیسر امرچند کی کشمیری مجاہدین کے ہاتھوں قتل کے بعد مقبول بٹ گرفتار ہوئے اور اُن پر مقدمہ چلاکر انہیں پھانسی کی سزا سُنائی گئی۔ جج نے جب اپنا فیصلہ سنایا تو مقبول بٹ نے بڑی دلیری سے جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ابھی وہ پھندا نہیں بنا جس سے مقبول بٹ کو پھانسی دی جاسکے۔ اور انہوں نے یہ اس وقت سچ کردکھایا جب وہ دسمبر 1969 کو اپنے ساتھیوں کے ہمراہ سری نگر جیل توڑ کر مظفر آباد پہنچے۔ لیکن یہاں آکر بھی اُن پر ظلم و ستم کا دور جاری رہا اور بلیک فورٹ میں انہیں پابندِ سلال کردیا گیا۔ کچھ عرصہ بعد رہائی ملنے پر وہ پھر متحرک ہوگئے۔اُس وقت مسئلہ کشمیر جمود کا شکار ہورہاتھا۔ کشمیری سیاستدان مظفر آباد اور سری نگر کی کرسی کے پجاری بننے لگے اور حصول اقتدار کی خاطر وہ آزادی کو بھول چکے تھے۔
دوسری جانب عالمی سطح پر بھی مسئلہ کشمیر کو دنیا بھول رہی تھی کہ انہوں نے فلسطینی مجاہدہ لیلیٰ خالد کی پیروی کرتے ہوئے کشمیری حریت پسندوں ہاشم قریشی اور اشرف قریشی(مرحوم) کے ہاتھوں بھارتی جہاز گنگا کو اغواہ کرواکے پوری دنیا کی توجہ ایک بار پھر مسئلہ کشمیر کی جانب مبذول کروا دی۔ لاہور کے ہوائی اڈہ پر ذوالفقار علی بھٹو خود گئے اور ہاشم قریشی سے ملاقات کی۔ جہاز کے جلائے جانے کے بعد یحییٰ خان کی حکومت نے انہیں بھارتی ایجنٹ قرار دے کر مقدمہ چلایا۔ لیکن پاکستان کی سپریم کورٹ نے مقبول بٹ اور اُن کے ساتھیوں کو محب وطن قرار دے کر باعزت بری کردیا۔ گنگا طیارہ ہائی جیک کرنے والے اشرف قریشی پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ کشمیریات میں راقم کے استاد تھے۔ وہ بہت محب وطن اور اعلیٰ اوصاف کے حامل انسان تھے۔ اللہ رب العزت انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔
1971 کی جنگ اور مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کے بعد شیخ عبداللہ مایوس ہوگئے اور انہوں نے اندرا گاندھی سے معاہدہ کرلیا جبکہ دوسری جانب بھٹو اور اندرا معاہدہ کے بعد پاکستان اور بھارت نے عملاً تقسیم کشمیر کو تسلیم کرتے ہوئے سیز فائر لائن کو کنٹرول لائن قرار دے دیا ۔ مقبول بٹ نے ایک بار پھر جدوجہد شروع کرنے کا فیصلہ کیا اور ایک بار پھر بھارتی زیر قبضہ کشمیر میں اپنے دو ساتھیوں ریاض ڈار اور حمید بٹ کے ساتھ 1976 میں داخل ہوگئے۔ یہ کوئی آّ سان فیصلہ نہ تھا۔ یہ جانتے ہوئے کہ وہاں ان کے لئے سزائے موت کا فیصلہ موجود ہے پھر بھی وہ بے پناہ بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہاں چلے گئے۔ وہ سمجھتے تھے کہ اس کے بغیر تحریک آزادی کو متحرک نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کشمیر کی آزادی کے نام پر کشمیر فروشی کا راستہ نہ اپنایا۔
وہ اعلٰی تعلیم یافتہ تھے اور پاکستان یا آزادکشمیر میں پرآسائش زندگی گذار سکتے تھے لیکن انہوں نے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جینا سیکھا تھا۔ کشمیری نوجوانوں کو ایک بار پھر تربیت دینے لگے تاکہ مادر وطن کی آزادی کے لیے مسلح جدوجہد کا راستہ اپنایا جائے۔ اسی دوران وہ ایک بار پھر بھارتی افواج کے ہاتھوں گرفتار ہوگئے اور انہیں تہاڑ جیل دہلی میں پابند سلال کردیا گیا۔ انہوں نے جیل سے بھی درس حریت جاری رکھا۔ آخر کار وہی ہؤا جو غاصب قوتیں آزادی کی جنگ لڑنے والوں کے ساتھ کرتی ہیں۔ موت ایک حقیقت ہے اور ایک دن سب کو اس کا سامنا کرنا ہے لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں موت بھی سلام پیش کرتی ہے مقبول بٹ بھی انہیں میں سے ایک تھے جنہیں موت نے تہاڑ جیل دہلی میں 11 فروری 1984 ء کو سلام پیش کیا:
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے اس جان کی کوئی بات نہیں
مقبول بٹ کی شہادت پر کشمیری قوم کا سر فخر سے بلند ہوگیا ہے۔ اُس کی جرات و بہادری اور جوش و جنوں کو شکست نہیں دی جاسکی۔ شہید کے بڑے بیٹے جاوید مقبول بٹ راقم کے ساتھ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں زیر تعلیم تھے اور اپنے باپ کی عظیم قربانی پر نازاں تھے۔ مقبول بٹ کی شہادت پر جہاں بھارتی سامراج کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں وہاں حکومت پاکستان بھی اس سے بری الذمہ نہیں ۔ قائد اعظم کے سابق سیکریٹری اور آزاد کشمیر کے سابق صدر کے ایچ خورشید نے مطالبہ کیا تھا کہ مقبول بٹ کو قیدیوں کے تبادلہ میں واپس لایا جائے مگر ارباب اقتدار نے اسے نظر انداز کردیا۔ مقبول بٹ کو ختم کرنے والی قوتوں نے سمجھا کہ اب کشمیر کی آزادی کی کوئی تحریک نہیں اٹھے گی اور کوئی اس کا نام لیوا نہ ہوگا۔ مگر یہ اُن کی خام خیالی تھی۔ یہ مقبول بٹ کا ہی لہو تھا جس کی روشنی میں کشمیری نوجوان اٹھے اور راہ آزادی پر چل پڑے۔ شہید کے ساتھی امان اللہ خان نے برطانیہ میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کی بنیاد رکھی اور پھر پاکستان اور آزادکشمیر میں کشمیری نوجوانوں کو منظم کرنا شروع کیا۔ 1988 میں یہ سلگتی ہوئے چنگاری ایک شعلہ بن گئی اور وادی میں آزادی کے متوالے مقبول بٹ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے لہو کے چراغ جلانے لگے۔ اشفاق مجید وانی، شیخ عبدالحمید، جمیل چوہدری، رضا، شبیر صدیقی اور ہزاروں شہیدوں نے لازوال داستان رقم کی ہے جس پرکشمیری قوم بلا شبہ فخر کرسکتی ہے۔
میں مقبول بٹ کو پھانسی دینے والوں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر اپنے مادر وطن کی آزادی کے لئے مسلح جدوجہد کرنا جُرم اور دہشت گردی ہے توکیا ہندوستان کی آزادی کے لئے مسلح جدوجہد کرنے والے سبھاش چندر بوس اور اُن کی آزاد ہند کے سپاہی بھی مجرم اور دہشت گرد تھے ۔ کیا اُن کا وکیل نہرو بھی اس جرم میں شریک نہیں تھا۔ حقیقت یہی ہے کہ آزادئ وطن کے لئے جدوجہد کرناکوئی جرم نہیں جسے اقوام متحدہ نے بھی اپنے چارٹر میں شامل کیا ہؤا ہے۔ میں یہ بھی پوچھنا چاہوں گا کہ وہ کون سا قانون ہے جس کے تحت پھانسی پانے والے کو سزائے موت سے قبل اس کے لواحقین سے نہ ملایا جائے اور پھانسی کے بعد اُس کی میت بھی اُن کے حوالے نہ کی جائے اور جبری طور پر دفن کردیا جائے۔ بھارت کا کون سا قانون اس کی اجازت دیتا ہے۔
شہید کی والدہ، بھائی اور اہل خانہ آج بھی شہید کے جسد خاکی کے منتظر ہیں اور سری نگر میں ان کی آخری آرام گاہ بھی شہید کو اپنے پہلو میں لینے کی منتظر ہے۔ مقبول بٹ نے کشمیری نوجوانوں کے قلوب میں آزادی کی جو شمع روشن کی ہے وہ اب ریاست جموں کشمیر کی آزادی پر ہی جا کر ختم ہوگی اور مقبول بٹ نے مادر وطن کی آزادی کا جو خواب دیکھا تھا وہ آخر کار ایک دن انشاء اللہ ضرور شرمندہ تعبیر ہوگا۔