نیٹو سیاستدانوں کا جھوٹ
نیٹو کے رکن ممالک کے سیاستدانوں کا یہ دعویٰ سراسر جھوٹ اور لغو ہے کہ یہ روس ہی ہے جس کی شام میں بمباری سے مجبور ہو کر نیٹو کو اپنے اتحاد کے بکھرنے کا خدشہ لاحق ہے اور اس خطرے کے پیش نظر اب لازم ہے کہ نیٹو کی سالمیت و تحفظ کے لئے روس کی سرحدوں کے قریب نیٹو کے کمانڈو سنٹر اور دوسرے عسکری اڈّے قائم کیے جائیں ۔ اِن مذموم ارادوں کی تکمیل کے لئے نیٹو کے سیاستدان روس کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے بڑی بے شرمی سے جھوٹ بولتے اور اپنے عوام کو دھوکا دیتے ہیں ۔
حقیقت یہ ہے کہ شام میں روس کی مداخلت سے کہیں پہلے 1990 میں ہی نیٹو نے روس کی طرف مشرق میں توسیع کے لئے پاؤں پھیلانے شروع کر دئے تھے اور وہاں اپنے ٹھکانے اور کمانڈو سنٹرز قائم کرنے کے لئے کوششیں شروع کردی تھیں ۔ اِن توسیعی اقدامات کے تحت روس کی مشرقی سرحدوں کے نزدیک نیٹو نے اپنے عسکری اڈّوں سے ’’ خفیہ میزائیلوں‘‘ اور جنگی طیاروں کے ذریعے روس کو آنکھیں دکھانا شروع کردی تھیں۔ پھر شام میں خانہ جنگی کے آغاز ہی سے نیٹو کچھ مخصوص مقاصد کے حصول کے لئے روس کو شام میں مداخلت سے دور رہنے کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ انتباہ بھی دیا گیا کہ اگر ایسا نہ ہؤا تو خود روس کو اپنے ہاں اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔
روس شام میں حکومت کے باغیوں کی سرکوبی کے لئے بحیرہ روم کے نزدیک واقع اپنے واحد اڈّے کو استعمال کرتا ہے اور یہی وہ اڈّہ ہے جو نیٹو کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے۔ اب بیس سال ہونے کو ہیں کہ نیٹو روس کی مشرقی سرحدوں کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے کافی فاصلہ طے کرچکا ہے اور اسی بنا پر اب روس بھی اپنے دفاع کی خاطر نیٹو کے اِن جارحانہ اقدامات کے خلاف اقدامات لینے اور نیٹو کو جواب دینے کی کوششیں کر رہا ہے ۔ روس کے اپنے اِن پیشگی دفاعی اقدامات کو بہانہ بنا کر نیٹو نے اپنی وسعت میں مزید توسیع کرنے کے لئے اپنی کوششوں کو تیز دیا ہے۔ روس کے خلاف پروپیگنڈا مہم تیز تر کردی گئی ہے ۔ اور مشرق کی جانب غیر اعلانیہ ایسے اقدامات لینے شروع کئے ہیں کہ روس مشکل میں پڑ سکے ۔ مقصد صرف یہ ہے کہ روس کوایک نئی قوت کے طور پر ابھرنے سے روکا جائے۔ شام میں اس کی عملداری کو ختم کروایا جائے ۔
گزشتہ چھ ماہ کے دوران نیٹو نے روس کی پڑوسی ریاستوں استونیا، لیٹویا اور لتھواینا کے علاوہ پولینڈ، رومانیہ اور بلغاریہ میں اپنے چھ جدید ترین کمانڈو سنٹر قائم کئے ہیں ۔ لیٹویا میں نیٹو کے کمانڈو سنٹر میں فی الوقت چالیس آفیسر تعینات ہیں جن میں بیس کا تعلق لیٹویا سے ہے، باقی بیس نیٹو کے آٹھ دوسرے ممالک سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ان کمانڈو سنٹرز میں جدید ترین اسلحہ کے ذخائر بھی موجود ہیں۔ اِن دنوں نیٹو کے وزرائے دفاع برسلز میں ملاقات کر رہے ہیں اور عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ وزرائے دفاع ہنگری اور جمہوریہ سلواکیہ میں بھی اپنے کمانڈو سنٹر قائم کرنے کی منظوری دینے والے ہیں ۔
ناروے سے تعلق رکھنے والے نیٹو کے جنرل سیکریٹری ینس ستولنبرگ نے کہا ہے کہ ’’ سرد جنگ کے خاتمے کی بعد ( ان کمانڈو سنٹرز کا قیام ) نیٹو کا یہ ایک بہت بڑا کارنامہ ہوگا۔‘‘ انہوں نے بڑے کھلے اور واشگاف الفاظ میں یہ بھی کہا کہ ’’ نیٹو جارجیا کی ہر ممکن مدد کرے گی اور اُسے نیٹو میں شمولیت کے لئے کھلے دل سے دعوت دے گی۔ یہ فیصلہ بھی کیا جا چکا ہے کہ کسی نئی ممکنہ سرد جنگ کو روکا جائے گا۔ ‘‘ نیٹو کے یہ عسکری توسیع پسندانہ اقدامات روس کو مشتعل کرنے کے مترادف سمجھے جا رہے ہیں۔ تبھی تو امریکہ کی حکمت عملی کے تحت نیٹو مشرقی یورپ میں اڈّے قائم کر رہی ہے۔ جدید ترین میزائل دفاعی سسٹم نصب کیا جا رہا ہے اور امریکی فوجی پہلے ہی جارجیا میں بھیجے جا چکے ہوئے ہیں۔ اِن اقدامات سے نیٹو کو یقین ہے کہ وہ روس پر دباؤ ڈال سکتی ہے کہ وہ شام میں کارروائیاں روک دے یا انہیں یوں محدود کردے کہ شام کے صدر کو اقتدار میں رکھنے کے لئے معاون ثابت نہ ہوں ۔
حالانکہ نیٹو واقعی میں کسی نئی ممکنہ سرد جنگ کو روکنا ہی چاہتی ہے تو نیٹو کسی متبادل ذریعے سے کام لیتی لیکن نیٹو کا تو یہ مقصد ہی نہیں اور نہ ہی کبھی ایسا رہا ہے ۔ مشرق وسطیٰ میں اپنے جغرافیائی و سیاسی اور اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لئے اوردن بدن بڑھتے ہوئے موجودہ یورپی اقتصادی بحران پر قابو پانے کے لئے نیٹو کے نزدیک شاید ایک ہی طریقہ رہ گیا ہے کہ اپنے جنگی اڈّوں، عسکری کمانڈو سنٹرز کو وسیع کیا جائے، اسلحہ کے انبار لگا دئے جائیں اور پھر اقتصادی بحران کے حل کی راہ میں جو کوئی بھی آئے اسے کچل دیا جائے، بیشک وہ روس ہو یا کوئی اور۔
نیٹو کی یہ سوچ اور اقتصادی بحران کے حل کے لئے عسکری توسیع پسندانہ عزائم کی ہرگز مناسب نہیں ہیں۔ ان کہ بہر صورت مذمت ہونی چاہئے ۔
(نصر ملک ڈنمارک سے شائع ہونے والے اُرود ہمعصر ڈاٹ ڈی کے ، ایڈیٹر انچیف ہیں)