ویلنٹائین ڈے اور محبت کے مظاہر
- تحریر حسین شہادت
- جمعہ 12 / فروری / 2016
- 7862
انسان بنیادی طور پر جذبات کے مجموعے کا نام ہے ۔ جذبات کے اس جال کا تانا بانا مختلف جذبات سے مل کر بنا ہے ۔ ان میں کچھ جذبات خوبصورت اور کچھ بدصورت جبکہ کچھ جذبات پسندیدہ اور کچھ نا پسندیدہ بھی ہوتے ہیں ۔ ایسا ہی ایک جذبہ محبت بھی ہے۔
محبت کے حوالے سے بے شمار واقعات نے جنم لیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاید دنیا میں محبت سے بڑھ کر کوئی شے نہیں ۔ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں یہاں محبت مختلف زاویوں میں بٹ چکی ہے۔ والدین کی اولاد سے محبت ، بچوں کی ماں باپ سے محبت ، بہن بھائی اور بھائی بہن کی محبت ، دوستوں سے محبت ، میاں بیوی کی محبت وغیرہ۔ لیکن اس محبت میں سب زیادہ محبت نے شہرت حاصل کی ہے تو وہ صنفی محبت ہے جس کی بے شمار دستانیں رقم ہوچکی ہیں ۔ محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو انسان کے جوہر کو تبدیل کردیتا ہے اس کی ایک مثال برصغیر میں ملتی ہے۔ شہاب الدین محمد شاہجہان ہندستان کا ایک بادشاہ گزرا ہے۔ اس نے اپنی ملکہ ارجمند بانو جو بعد میں ممتاز محل کے نام سے مشہور ہوئی۔ سے بے انتہا محبت کی۔ یہ ملکہ 1630 میں برہان پور کی جنگی مہم کے دوران بادشاہ کا چودہواں بچہ ( بچی) جنم دیتے ہوئے انتقال کرگئی۔ بادشاہ نے اس کی موت کو محبت کی خاطر شہید کا رتبہ دیا اور ممتاز محل کو شہید محبت کا خطاب دے دیا ۔ بادشاہ کو ملکہ سے اس قدر محبت تھی کہ اس نے قسم کھائی کہ اب وہ ساری زندگی کسی اور عورت کو نہیں چھوئے گا اور اس محبت کی ایک ایسی نشانی دنیا میں چھوڑ جائے گا جسے دنیا والے ہمیشہ یاد رکھیں گے ۔ بادشاہ کی اس قسم کے نتیجے میں تاج محل نے جنم لیا ۔ اس یادگار کو تعمیر کرنے کے لئے 20 ہزار سے زائد مزدوروں اور کاریگروں نے 20 سال تک کام کیا۔ یہ ہندوستان کی پہلی عمارت تھی جس پر گنبد بنایا گیا اس سے قبل عمارتوں پر گنبد بنانے کی روایت نہیں تھی۔ کروڑوں روپے خرچ کئے گئے۔ اس طرح اسے محبت کی لازوال نشانی بنا دیا گیا جو شاہجہان کی محبت کا اظہار ہے ۔
محبت کا اظہار کرنے یا خوشیاں بانٹنے کیلئے عام طور پر کوئی دن ، کوئی پہر یا کوئی تہوار مقرر نہیں کیا جاسکتا۔ بلکہ یہ ان دیکھا جذبہ ہے جو کبھی بھی امڈ سکتا ہے۔ لیکن مغربی دنیا میں ویلنٹائین ڈے خوشیاں اور محبتیں بانٹنے کا دن تیسری صدی عیسوی سے منایا جارہا ہے ۔ ایک طبقے کی رائے ہے کہ اس دن خاوند اپنی بیوی یا بیوی اپنے سرتاج کو پھول پیش کرے اور محبت بھرے جذبات کا اظہار کردے تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔ امریکہ اور یورپ میں اس دن کو جوش وخروش سے منایا جاتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ ویلنٹائین کون تھا ۔ اس دن کو منانے کی حقیقت کیا ہے۔ اس سے متعلق ہمیں کئی روایات ملتی ہیں لیکن تمام کی تمام غیر مستند ہیں۔ البتہ ان سب میں ایک بات مشترک ہے کہ یہ دن محبت کرنے والوں کیلئے خاص اہمیت کا حامل ہے جسے عاشقوں کے تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ 14فروری کا دن یوم محبت سینٹ ویلنٹائین سے منسوب کرنے سے متعلق کوئی مستند روایت یا حوالہ نہیں ملتا البتہ ایک خیالی داستان کے مطابق تیسری صدی عیسوی میں ویلنٹائین نامی ایک پادری تھا جو ایک راہبہ (Nun)کی زلف کا اسیر ہوگیا۔ عسائیت میں راہبوں یا راہبات کیلئے نکاح ممنوع تھا۔ اس لئے یہ ناممکن تھا کہ وہ شادی یا ملاپ کرسکتے۔ تاہم جوش محبت میں 14 فروری کو تمام حدود سے گذر گئے۔ کلیسا نے روایت اور پابندی کی یوں دھجیاں اڑانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا۔ ان دونوں کو عبر کا نشان بنانے کے لئے قتل کردیا گیا۔ بعد ازاں لوگوں نے ویلنٹائین کو شہید محبت کے درجے پر فائز کردیا اور اس کی یا د میں یہ دن منایا جانے لگا۔
چرچ نے ہمیشہ اس اہتمام کی مذمت کی اور اسے جنسی بے راہ روی قرار دیا۔ پادریوں نے شروع میں اس دن کو منانے سے روکنے کے لئے عملی اقدامات کرنے کی کوشش بھی کی۔ پاکستان میں ویلنٹائین ڈے یا محبت کے اس دن کا تصور نوے کی دہائی کے آخر میں ریڈیواور ٹی وی کی نشریات کے ذریعہ سے ہؤا۔ ملک کی کئی مذہبی جماعتوں کی جانب سے اس کی بھر پور مذمت کی جاتی رہی ہے ۔
دنیا بھر میں اب ویلنٹائین ڈے بھرپور انداز میں محبت کرنے والوں کا تہوار بن گیا ہے۔ دنیا ایک گلوبل ویلج بنتی جارہی ہے ایسے میں کوئی تہوار علاقائی یا ذاتی نہیں رہا ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ پاکستان میں منائے جانے والے بہت سے تہوار اور رسومات ہماری اپنی نہیں بلکہ یہ ایک استعارہ ہیں جو صدیوں سے ہندوؤں کے ساتھ رہن سہن کے باعث ہم میں رچ بس گئی ہیں ۔ یعنی کہا جاسکتا ہے کہ دنیا جیسے جیسے قریب آرہی ہے ، تہوار بھی کندھے سے کندھا ملائے نظرآتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں ہماری ترجیحات یہ ہونی چائیں کہ ہم ان جذبات، احساسات اور رسوم کو اپنائیں جو ہماری تہذیب ، ثقافت اور تمدن سے متصادم نہ ہوں ۔
یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ محبت ایک لافانی اور کسی حد تک فطری جذبہ ہے۔ یہ کچھ دینے کا نام ہے نہ کہ ہم سمجھیں اس کی وجہ سے ہم بہت کچھ پالیں گے۔ اگر تصور میں محبت صرف پالینے کا ذریعہ سمجھ لیا جائے تو اسے ہوس کہا جاتا ہے ۔ محبت پابند نہیں بلکہ یہ فرد کو آزاد کرتی ہے۔ یہ ضرور ہے کہ محبت کرنے والا اپنے محبوب کے گرد دائرہ کھینچتا ہے تو خود کو بھی اس دائرہ سے باہر نہیں رکھتا۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ہر شے سے بے نیاز ہوگیا بلکہ اب وہ پہلے سے زیادہ محتاط انداز میں اقدام کرنے کا بھی پابند ہوگیا ہے۔ تاکہ معاشرے میں کوئی بگاڑ کی وجہ نہ بن جائے یا اس کی وجہ سے کوئی بگاڑ پیدا ہو۔ یہ محبت کا صحت مند تصور ہے ، اسی محبت کے بارے میں شاعر نے کہا ہے:
محبت بنادیتی ہے مشتِ خاک کو انسان
قوم آب و گل سے بھی کہیں انساں بنتے ہیں