رواداری کی تحریک
- تحریر منور علی شاہد
- اتوار 14 / فروری / 2016
- 5553
بہت ہفتوں سے سوشل میڈیا پر رواداری تحریک کی مسلسل ایسی پوسٹس دیکھنے کو مل رہی تھیں جس میں لعگ لاہور پنجاب سمیت پاکستان کے دیگر صوبوں میں امن اور رواداری کے فروغ کے لئے کاوش کرتے دکھائی دیتے تھے۔ ان میں اٹھائے گئے پلے کارڈز پر درج نعرے اور مطالبات ایسی نوعیت کے تھے کہ ان کومزید نظر انداز کرنا ممکن نہ تھا۔ یہ محب وطب کو فکری دعوت دیتے تھے۔
گیارہ فروری کو بیک وقت پنجاب و دیگر صوبوں میں ایک ہی دن اور وقت میں کی جانے والی علامتی بھوک ہڑتال اور پھر میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں نے سنجیدگی کے ساتھ اس تحریک کی طرف سب کومتوجہ کیا۔خاموش طبقوں کو کو بھی مجبور کردیا ہے کہ وہ بھی چپ کا روزہ توڑیں اور پاکستان کی سالمیت، اس کی بقا اور آزادی کے تحفظ کے لئے اس رواداری تحریک کا حصہ بنیں۔ کیونکہ یہ رواداری کی تحریک کسی فرد واحد طبقہ، کمیونٹی، جماعت، فرقہ یا جماعت کے لئے نہیں بلکہ پوری قوم و ملک کے عوام کے مفاد کے لئے ہے۔علامتی بھوک ہڑتال کے کیمپوں میں پلے کارڈز پر درج مطالبات بھی حقتقت میں وہی مسائل تھے جنہوں نے آج پاکستان کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے کہ جس کے بعد آگے گہری کھائی ہی باقی رہ جاتی ہے۔
اس سے بچنے کے لئے اس رواداری تحریک کا ساتھ دینا اب ناگزیر ہے۔ درج شدہ نعروں میں چند ایک یہ ہیں: پاکستان کو انتہا پسندوں اور دہشت گردوں سے پاک کیا جائے، مذہب کے نام پر قتل و غارت نا منظور، نفرت انگیز تحریر و تقریر، نشرو اشاعت کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے، نفرتیں پھیلانا بند کرو، وغیرہ وغیرہ۔۔ یہ سب محض مطالبے ہی نہیں بلکہ حقیقت میں اصل مسائل اور وجوہات ہیں جن سے ماضی میں چشم پوشی کی جاتی رہی اور ابھی بھی کی جا رہی ہے۔ اسی کا نتیجہ اب تعلیمی اداروں پر حملوں کی شکل میں سامنے آیا ہے۔ اسی لئے رواداری ایک سال کی تحریک کے دوران یہ مطالبہ بھی بار بار اٹھایا گیا کہ نیشنل ایکشن پلان کو من و عن بلا تاخیر پاکستان بھر میں نافذ کیا جائے۔ دوسری طرف پاکستان مخالف قوتیں اور بیرونی سازشی عناصر اندرونی کالی بھیڑوں اور سہولت کاروں کی مدد سے مسلسل وطن عزیز کے خلاف سازشیں تیز کرتے جا رہے ہیں۔ جس کا ثبوت انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جنرل کی اس رپورٹ سے واضع ہو رہا ہے جو انہوں نے سینٹ کمیٹی کی رپورٹ کو پیش کی ہے۔
رواداری تحریک 2014 میں لاہور سے شروع ہوئی تھی اور محض ایک سال کے اندر ہی اس کو جو مقبولیت ملی اس کا اندازہ اس کی تیز رفتار تنظیم سازی سے ہوتا ہے۔ فروری2016 تک پنجاب، خیبر پختونخوا اور سندھ میں اس کی تنظیم سازی مکمل ہو چکی ہے جبکہ بلوچستان میں جاری ہے۔ اس وقت اس رواداری تحریک میں550 سے زائد تنظیمیں جن میں وکلا، ڈاکٹرز، انجینئرز، علما، اقلیتیں وغیرہ شامل ہیں، اس میں شمولیت اختیار کر چکی ہیں۔ انفرادی ممبرز کی تعداد دس ہزار سے زائد ہو چکی ہے۔ مرکزی قیادت چئیرمین، مرکزی صدر، جنرل سیکرٹری وغیرہ پر مشتمل ہے۔ جبکہ صوبائی قیادتیں بھی مکمل ہوکر اب صوبوں میں روداری گروپس کے لئے کام کیا جا رہا ہے۔ تاکہ روٹ لیول پر جا کر عام پشہریوں کو شامل کرکے پاکستان کی بقا کے لئے تحریک کو مزید مضبوط اور فعال کیا جا سکے۔ جلال الدین رومی نے کہا تھا کہ اگر تم عظمت کی بلندیوں کو چھونا چاہتے ہو تو اپنے دل میں انسانیت کے لئے نفرت کی بجائے محبت پیدا کرو۔ حقیقت میں یہی کام رواداری تحریک کر رہی ہے۔ مسلمانوں کی اکثریت والے ملک میں ان کے تحفظ کے لئے یہ تحریک، تحریک آزادی سے کم نہیں۔ تحریک آزادی کے دوران بھی قیام پاکستان کی مخالفت کی گئی تھی اور اب بھی اسی تحریک کی مخالفت وہ جماعتیں ہی کریں گی جو استحکام پاکستان کی مخالف ہیں۔
ایک دانشور نے کہا تھا کہ دنیا بدترین ہوتی جائے گی برے لوگوں کی وجہ سے نہیں، اچھے لوگوں کی خاموشی کی وجہ سے۔ رواداری کی یہ تحریک اچھے لوگوں کی خاموشی کو توڑنے کا سبب بن رہی ہے۔ رواداری تحریک کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر فی الفور اور بھرپور بلاتاخیر عمل درآمد کیا جائے۔ پاکستان میں انتہا پسندی، نفرت سمیت دیگر منفی رویوں کا سبب بننے والے تمام ذرائع اور اسباب پر پابندی لگائی جائے، نصاب تعلیم کو پاکستان کی بقا، سالمیت اور اس کی مضبوطی کا ضامن بنایا جائے اور دوسرے مذاہب کے خلاف اشتعال انگیز بیان بازی پر پابندی لگائی جائے۔ان تمام مطالبات کا رواداری کی سوچ کے ساتھ جائزہ لیا جائے توکچھ نیا نہیں ہے۔ بلکہ یہ ہر حکومت و ریاست کے بنیادی فرائض میں شامل ہوتا ہے۔ بانئ پاکستان بھی یہی فرماتے رہے ہیں۔
کسی دانشور نے بہت خوبصورت بات کہی تھی کہ اگرراستہ خوبصورت ہے تو معلوم کرو کہ کس منزل کو جاتا ہے لیکن اگر منزل خوبصورت ہے تو راستہ کی پرواہ نہ کرو۔ حقیقت میں رواداری تحریک کی منزل بہت ہی خوبصورت ہے اور وہ منزل ہے جس کی قوم کو گزشتہ68 برسوں سے تلاش ہے۔ اس لئے اب اس میں شامل ہونے والوں کو کسی راستے کی کوئی پرواہ نہیں کیونکہ اس کی منزل بہت خوبصورت ہے۔