سوئے واشنگٹن

رات گئے گھر پہنچے۔ شانت نیند سوئے۔ نیویارک کے ہاﺅ ہو کے بعد عتیق صدیقی صاحب کا گھر باعث تسکین تھا۔ دو منزلہ مکان وسیع تہ خانہ، سوئمنگ پول سے آراستہ وسیع سبزہ زار جو کنواری برف کی ردا اوڑھے پرسکون تھا اور مزید برآں بھابی ذکیہ کا شاندار ناشتہ بلکہ خوانچہ نما ناشتہ سبحان اللہ سبحان اللہ۔ ان کا خوان دعوت ہمارے ذوق لذت سے بھی سبقت لے گیا۔

عتیق جان بولے ”آپ نے بالٹی مور دیکھا ہے“۔ ہم نے عرض کی کہ ہم نے بالٹی بھی دیکھی ہے اور مور بھی لیکن بالٹی مور دیکھنے کا اتفاق نہیں ہؤا۔ اور بات بھی خدا لگتی ہے کہ ”بالٹی میں مور ناچا کس نے دیکھا“

آج کا پروگرام یہ تھا کہ ناشتہ کے فوراً بعد ہم نے گروجی جناب سب ڈاکٹر ستیہ پال آنند کے درشن کرنے تھے جو واشنگٹن (DC) کے آس پاس رہتے تھے۔ لیکن عتیق جان کی دفتری مصروفیات اور کارجہاں نے ہمیں روکے رکھے۔ صبح موسم اچھا تھا یعنی برف باری نہیں ہو رہی تھی۔ لیکن ہونے والی تھی۔ لیکن عتیق جان کا کارجہاں برف باری کو زیادہ دیر نہ روک سکا۔ ہم گرتی برف میں عازم منزل ہوئے۔ ہم نے ان سے کہا راستے میں کافی ضرور پئیں گے لیکن ہائے کو درگزر کریںگے۔ کہنے لگے آپ کے ساتھ تو نعمتوں سے محرومی بھی مقدر رہے گی۔ برف کی رفتار بڑھتی جا رہی تھی اور SUV کی رفتار گھٹتی جا رہی تھی سڑک کے کنارے سڑکیں صاف کرنے والے عاجز اور شکست خوردہ نظر آ رہے تھے۔ برف باری اب ان پہ سبقت لے جا رہی تھی۔

سڑک کے دونوں طرف اونچے اونچے درخت کہر کا لبادہ اوڑھ رہے تھے SUV رینگ رہی تھی کوئی ڈیڑھ گھنٹہ کی پر مشقت ڈرائیونگ کے بعد ”نوبت بہ کافی رسید“ امریکہ کا کمال یہ ہے کہ ملک کے طول، عرض میں Franchise کا جال بچھا ہؤا ہے۔ ہماری جانی پہچانی کافی شاپ ہر شہر میں دعوت نظارہ دیتی ہے۔ کافی شاپ جو نیو میکسیکو میں ہے وہی کافی شاپ امریکہ کے ہر شہر میں موجود ہے، اجنبیت کا احساس نہیں ہوتا۔

نہ جانے یہ کون سا شہر تھا لیکن امریکی مضافاتی شہر کی ساری خاصیتوں کا علم بردار تھا۔ فٹ پاتھ خالی تھے۔ دکانیں اندر سے روشن تھیں کبھی کبھار کوئی گاڑی گزر جاتی تھی لیکن کافی شاپ میں خوب گہماگہمی تھی۔ یوں لگتا تھا کہ یہاں کوئی قریب ski resort تھا۔ سردی سے لاپرواہ سرخ ناکوں اور گلابی چہروں والے مرد و زن کانوں تک اونی ٹوپیاں کسے ماحول کو قہقہوں سے گرما رہے تھے۔

کافی شاپ گرم تھی لیکن سفر لازم تھا۔ اور اب ہمیں یقین ہو چلا تھا کہ ہم بروقت گرو جی کے ہاں نہ پہنچ سکیں گے۔ عتیق جان کمال احتیاط سے 25-30 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گاڑی چلا رہے تھے ہم نے فون پر گروجی سے کہہ دیا کہ آپ کے ہاں بروقت نہ پہنچ سکیں گے۔ وہ مان گئے اور احتیاط اور مزید احتیاط سے گاڑی چلانے کی تلقین کی۔ سڑک کیا تھی برف کی سل تھی۔

آدھی رات سر پر تھی۔ عتیق جان اس ہوٹل سے بخوبی واقف تھے۔ لابی سنسان تھی۔ آتش داں دہک رہا تھا۔ کاﺅنٹر کے پیچھے ایک خوش نوا، خوش ادا، زہد شکن خاتون نے استقبال کیا۔ عتیق جان نے سرگوشی کی، وہ زور سے ہنس دیں۔ یوں لگا جیسے لابی میں چراغاں ہو گیا۔ وہ عتیق جان کی آشنا نکلیں۔ انہوں نے عتیق جان کو مخصوص کمرہ دیا۔ کمرہ بہت آرام دہ تھا۔

صبح جاگنے کا وقت درج کروایا اور ڈرتے ڈررتے پوچھا ”کہ جان من وہ کاﺅنٹر پر سرگوشیاں کیا ہو رہی تھیں“۔ انہوں نے سر جھکا کر کہا

زحال مسکیں مکن تغافل ورائے نیاں بنائے بتیاں
کہ تاب ہجراں ندارم اے جان نہ لہیو کا ہے لگائے چھتیاں

صبح جاگنے کی گھنٹی بجی، عتیق جان بدستور کسی سہانے خیال کو گلے لگائے سو رہے تھے۔ ہم تیار ہو گئے۔ کہنے لگے جا کر ناشتہ کریں میں ابھی آیا۔ ہم لابی میں داخل ہوئے۔ وہی خوش نوا، خوش ادا، زہد شکن خاتون استادہ تھیں۔ کہنے لگیں ”السلام علیکم“ ہم ششدر رہ گئے۔ ”ہمیں معلوم ہے کہ آپ پاکستان سے ہیں، میں بھی فیصل آباد سے ہوں، آپ کے ساتھی کہاں ہیں، ناشتہ ختم ہونے والا ہے انہیں بلائیں“۔

”دیکھیں آپ رات کو بھی یہیں تھیں اور اب صبح صبح، لگتا ہے آپ ہوٹل کی مالک ہیں“۔ وہ کھلکھلا کر ہنس دیں۔ ویٹرز بوفے لائن سمیٹنے لگے۔ ہم نے ویٹر سے عرض کہ کہ ایک پلیٹ بنا کر لے آئیں میرے ساتھی آنے والے ہیں۔ میرے ساتھی لابی میں داخل ہوئے اور سیدھا کاﺅنٹر کی طرف بڑھے۔ ہمیں ان کی گفتگو کی آواز تو نہیں آ رہی تھی لیکن پھلجھڑیاں ضرور دور سے نظر آ رہی تھیں اور میرے ساتھی کی سکنات سے یوں لگ رہا تھا

رات کٹی ہے میری اک اک تارا جانے ہے

آج عتیق جان ترنگ سے گاڑی چلا رہے تھے۔ گنگنا رہے تھے۔ برف باری بھی نہیں تھی۔ ہم واشنگٹن کے قریب ہو رہے تھے۔ بڑے شہروں کی ٹریفک صرف شہروں میں ہی نہیں بلکہ شہروں سے میلوں پہلے سڑکوں پر یلغار کر دیتی ہے۔ اچانک عتیق جان خوش الحانی سے گانے لگے۔

شبان ہجراں دراز چوں زلف دراز وصلت چوں عمر کوتاہ
سکھی پیار کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں

ہمیں معلوم ہے کہ ان کا مزاج لڑکپن سے ویسا ہی ہے اور ہم سوچ رہے تھے کہ ان کو اس عارضی وارفتگی سے کیسے نکالا جائے۔ پھر دل کو تسلی دی کہ گروجی کے ہاں پہنچ کر ان کا دل کسی گیان دھیان میں لگ جائے گا۔ وہ گاتے گاتے رک گئے اور کہنے لگے ”واپسی پر اسی ہوٹل میں ٹھہریں گے“۔

اٹھنا تیری چوکھٹ سے اور سوچ کے پھر رکنا
جائیں تو جائیں کہاں، پچھتا کے پھر آنا ہے