دوسری سرد جنگ کا آغاز

سرد جنگ کی اصطلاح دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد اس وقت عالمی سیاست میں سننے کو ملی جب ہٹلر کے جرمنی کو شکست اور یورپ میں نظریاتی تقسیم ابھرکرسامنے آئی، جب سرمایہ دار دنیا جس کا سرخیل امریکہ، اور سوشلسٹ دنیا جس کی نظریاتی قیادت سابق سوویت یونین کرنے لگا۔ سرد جنگ نے دنیا پر منفی اور مثبت اثرات مرتب کئے۔

جب دیوارِ برلن گری تو مشرقی یورپ جو سوویت یونین کے زیراثر تھا وہاں سے سوشلسٹ حکومتوں کے خاتمے کا آغاز شروع ہوا اور اس کی حتمی منزل سابق سوویت یونین کے بکھر جانے کے بعد مکمل ہوئی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد سرد جنگ کا ذمہ دار کون ہے، اس حوالے سے سرمایہ دار دنیا نے الزام سابق سوویت یونین پر لگایا۔ لیکن اگر ہم گہرائی سے حقائق کو تلاش کریں تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ امریکہ کی سرپرستی میں روس، یورپ کشمکش کو ہوا دے کر سرد جنگ کا آغاز سرمایہ دار دنیا نے کیا جس کی قیادت امریکہ کرنے لگا۔ امریکہ نے یورپ امریکہ تعلقات کا ایک نیا دورشروع کیا، یعنی Pacifc-Atlantic Relations اور اس کے لئے امریکہ نے NATO قائم کی۔

شروع شروع میں سابق سوویت یونین نے سرمایہ دار دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اس کو بھی نیٹو میں شامل کر لیا جائے۔ لیکن عالمی سیاست کی چالبازیاں سرمایہ دار دنیا کے ہاتھوں میں تھیں۔ سابق سوویت یونین کی نیٹو میں شمولیت کو روکا گیا تو سابق سوویت یونین نے وارسا پیکٹ قائم کرلیا جو نیٹو کا ردِعمل اور یورپ کی ان مشرقی ریاستوں کا عسکری اتحاد تھا جو سابق سوویت یونین کے زیراثر تھیں۔ جب مشرقی یورپ اور سابق سوویت یونین میں سوشلسٹ نظام تحلیل ہوا تو دنیا کے سیاسی تجزیہ نگار نیٹو کے وجود کو غیر اہم قرار دینے لگے، جب کہ سرمایہ دار دنیا کے مفکرین نے اس کو End of History قرار دیا۔ لیکن اگر آپ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد دیکھیں تو آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سرد جنگ مسلط کرنے کی حقیقی ذمہ دار، یعنی سرمایہ دار دنیا نے کیسے دنیا کو جنگوں میں داخل کیا۔ جیساکہ خلیج کی پہلی جنگ، سربیا پر نیٹو اتحاد کی مسلط کردہ جنگ، خلیج یا عراق کی دوسری جنگ، افغانستان میں نیٹو اور اس سے متعلقہ طاقتوں کی جنگ، لیبیا میں جنگ اور اب شام میں جنگ۔ یہ سب ان طاقتوں کا جنگی کھیل ہے، جو سابق سوویت یونین کو سرد جنگ کا ذمہ دارقرار دیتے تھے اور ان کا کہنا بلکہ پراپیگنڈا تھا کہ یورپ اور دنیا بھر میں سرد جنگ کے سبب ہروقت جنگ کے بادل منڈلاتے رہتے ہیں۔ لیکن آج سرد جنگ کے خاتمے کے بعد ہم نظر دوڑائیں تو دنیا ایک بار پھر اسی مقام پر کھڑی نظر آرہی ہے، جہاں 1989ء سے پہلے تھی۔ اب اس میں نظریاتی کشمکش غالب نہیں لیکن علاقائی تنازعات میں وہی شدت پسندی ہے جو سرد جنگ میں غالب رہی تھی۔

شام میں برپا جنگ نے اس سیاسی منظرنامے کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے اور اب دنیا ایک بار پھر اسی جانب گامزن ہے، جہاں سے اس کو بدلتی دنیا قرار دیا گیا۔ شام کے تنازع میں علاقائی ممالک کے علاوہ روسی فیڈریشن اور امریکہ ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے نظر آرہے ہیں اور سرد جنگ کی اصل روح بھی، یعنی یورپ کی ایک بار پھر سیاسی تقسیم۔ روسی وزیراعظم دمتری میدوف نے گزشتہ ہفتے جرمنی میں سکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ لگتا ہے عالمی سیاست میں ایک بار پھر پچاس اور ساٹھ کی دہائی کی زبان استعمال کی جارہی ہے، مغرب اسی نہج پر چل نکلا ہے جس پر وہ پہلے گامزن تھا۔‘‘

اگر آپ نیٹو اور اس سے متعلق ممالک کی جنگی سرگرمیوں پر غور کریں تو حقائق بے نقاب ہوتے ہیں کہ یورپ ایک بار پھر روس کے خلاف گھیرا تنگ کر رہا ہے اور اس کے ردِعمل میں روس نے کریمیا اور شام کے مسئلے پر اس جنگی تھیٹر میں اپنا دفاع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور آئے روز یہ کشیدگی بڑھتی جارہی ہے۔ یورپ کے کمزور ممالک، جن میں پھر مشرقی ریاستیں شامل ہیں اس سرد جنگ میں سینڈوچ بنتی جارہی ہیں۔ سرمایہ دار دنیا کے سرخیل اور پالیسی میکرزتو یہاں تک الزام لگا رہے ہیں کہ روسی صدر پیوٹن یورپی یونین کو توڑنے میں مصروف ہیں۔ روسی وزیراعظم نے جرمنی کے شہر میونخ میں سکیورٹی کے موضوع پر اپنے خطاب میں کہا ہے:
NATO's policy with regard to Russia has remained unfriendly and opaque. One could go as far as to say that we have slid back to a new Cold War," Medvedev said. "Almost on an everyday basis we are called one of the most terrible threats either to NATO as a whole or to Europe, or to the United States.
جبکہ نیٹو کے سپریم کمانڈر جنرل فلپ بریڈلوو نے روسی وزیراعظم کے اس بیان کو مسترد کیا ہے کہ سرد جنگ کا دوباررہ آغاز ہورہا ہے اور نیٹو روس کے خلاف جنگ کا گھیرا تنگ کر رہا ہے۔ انہوں نے روسی وزیراعظم کے جواب میں کہا ہے کہ
"We at NATO do not want to see a Cold War," he said in an interview. "We do not talk about it. It's not what we want to happen or anticipate to happen... We're a defensive alliance who are arraying ourselves to face a challenge ... [from] a nation that has once again decided it will use force to change internationally recognized borders and so we take those appropriate actions to be able to assure, defend and deter."

انہی بیانات کی روشنی میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا کہ روس شام میں غیر قانونی طور پر ملوث ہے۔ ذرا تضاد دیکھیں کہ امریکہ کس منطق کے تحت شام اور اس سے پہلے عراق، لیبیا اور افغانستان میں حملہ آور ہوا۔ لیکن حقائق اور واقعات اس طرف کھلا اشارہ دے رہے ہیں کہ امریکہ روس کے اثرورسوخ کو ہر ممکن طور پر مٹانے کے درپے ہے اور اس کے لئے صدیوں پرانی یورپ روس کشمکش آج بھی نئی شکل میں موجود ہے۔ لیکن اس سرد جنگ کی شدت اور نئے بنتے عسکری و سیاسی الائنس پر تحقیق کریں تو عوامی جمہوریہ چین بھی بڑے محتاط اور منظم انداز سے اپنا کردار ادا کررہا  ہے۔ ایک طرف وہ نئی منڈیوں کی تلاش میں سرگرداں ہے تو دوسری طرف روس کے عسکری مددگار کے طور پر امریکہ کے خلاف ایک عالمی حصار قائم کر رہا ہے۔ یوں یہ بات طے ہوتی جارہی ہے کہ عملی طورپر ایک نئی اور باقاعدہ سرد جنگ کا آغاز ہو چکا ہے۔

مصدقہ اطلاعات کے مطابق ، چین کے پانچ ہزار سے زائد جوان دمشق حکومت کے استحکام کے لئے شام جا چکے ہیں۔ چند چینی پالیسی سازوں نے گو اس الزام کی تردید کی ہے، لیکن یہ ضرور تسلیم کیا ہے کہ چین کے یہ جوان امدادی کاموں میں شامل ہیں۔ اگر یہی صورتِ حال برقرار رہی تو سرد جنگ کے اس منظرنامے میں نئے سیاسی و عسکری الائنس معرضِ وجود میں آئیں گے اور اس بات کا بھی امکان بڑھتا جارہا ہے کہ یورپ ایک بار پھر روس مخالف اور روس کی حمایت میں تقسیم ہو سکتا ہے۔